کلپیش یاگنک کی خودکشی سے ابھرے چند سوالات

کلپیش یاگنک ایک ایسے صحافی تھے جو خود اپنے آپ میںایک ادارہ تھے۔ کلپیش یاگنک نے یونیورسٹی کی خبروں سے زندگی شروع کی اور بھاسکر جیسے ہندی کے مشہور اخبار کے گروپ ایڈیٹر بنے۔ کلپیش یاگنک کی خودکشی نے نفسیاتی طور پر سوال تو کھڑے کیے ہی لیکن ادار ے کی بے رحمی پر بھی کئی سوال کھڑے کیے۔ اب جب کلپیش یاگنک ہمارے بیچ نہیںہیں تبھی ان لوگوں کا اصلی امتحان ہونا ہے، جنھوںنے کلپیش یاگنک سے کبھی سیکھا، جنھوں نے کلپیش یاگنک کی کبھی تعریف کی اور خاص طور سے اس ادارے کو آگے بڑھایا اور ادارے کو آگے بڑھانے کے علاوہ ادارے سے جتنا لیا، اس سے زیادہ ادارے کو دیا۔
کلپیش یاگنک کی خود کشی کی گتھی الجھی نہیں ہے۔ گتھی صرف اس شرط میںالجھی ہوئی ہے کہ کلپیش یاگنک پر کس نے ذہنی دباؤ ڈالا۔ کلپیش یاگنک کو خود کشی کی طرف لے جانے کی کن لوگوں نے کوشش کی، کن لوگوں نے کلپیش یاگنک کے سامنے خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ نہیںچھوڑا۔ ان ماسٹرمائنڈ لوگوں کو کیوں اندور پولیس نے بچایا اور کلپیش یاگنک کی موت کو کیوں میڈیا نے بغیر کوئی سوال اٹھائے دفن ہوجانے دیا؟ ان سوالوںکے جواب کبھی مل پائیںگے، پتہ نہیں۔ کیونکہ جب کوئی شخص ہمارے درمیان نہیںہوتا ہے تو اس کے دوست، ساتھی، پرستار یہاںتک کہ اس کا خاندان بھی ناخوشگواری سے بچنے کے لیے سوالوںکو کریدتا نہیںہے، انھیں ناپید ہوجانے دیتا ہے۔
آدتیہ چوکسے اور سلونی ارورہ ، ان دونوں میںصرف کیوںسلونی ارورہ چرچا میں آئی اور آدتیہ چوکسے کیوںچرچا میںنہیںآئے؟ انھیںمیڈیا نے کیوں اپنی کھوج کا موضوع نہیںبنایا؟ یہ سوال تو اس لیے میڈیا سے پوچھنا چاہیے یا کہیں کہ نہیںپوچھناچاہیے کیونکہ جس میڈیا نے کلپیش یاگنک کی خود کشی کو قتل نہیںعام خود کشی قرار دے کر چھوڑ دیااور ان سوالوں پر دھیان نہیںدیا جو ملک کے کسی بھی صحافی کی زندگی سے اکثر جڑ جاتے ہیں اور جڑنے کے بعد اسے اپنے جال میںسمیٹ لیتے ہیں۔ جب خود بھاسکر نے اپنے گروپ ایڈیٹر کی موت کو ایک عام موت میںبدل دیا تب پھر دوسروںسے شکایت کریںتو کیا کریں؟

 

 

 

بھاسکر کے مالک سدھیر اگروال سے ضرور ایک سوال ہے۔ اور میںیہ مانتا ہوں کہ سدھیر اگروال میںانسانیت ہے لیکن وہ انسانیت اس وقت کیوںان کے اندر نہیںجاگی جب ان ہی کے اخبار کے گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک ایک ایسی پریشانی سے گھر گئے تھے جو دراصل پریشانی تھی ہی نہیں۔ آج کے دور میںصرف اس لیے خود کشی کوئی کرلے کہ کسی لڑکی کے ساتھ کسی ایک دن کے بنے تعلق کو وہ لڑکی اس طریقے سے سامنے رکھے جیسے وہ شخص ملک کا سب سے بڑا بدکردار ہے۔ اور وہ شخص اس احساس جرم سے گھر جائے کہ اگر مجھے اس لڑکی نے ایک جھوٹے الزم کے ذریعہ لوگوںکے سامنے بدنام کیا تو لوگ مجھے صحیح نہیںمانیں گے،اس عورت کو صحیح مانیںگے اور وہ خود کشی کرلے۔ اس سے بڑا تضاد تو کوئی ہو ہی نہیںسکتا۔ اگر سدھیر اگروال اپنے گروپ ایڈیٹر کے ساتھ آدھا گھنٹہ بیٹھ کر چائے پی لیتے اور انھیںیہ یقین دلاتے کہ یہ مسئلہ کوئی مسئلہ ہی نہیںہے، ادارہ تمہارے ساتھ ہے، تو کلپیش یاگنک بھی خودکشی نہیںکرتے۔ سدھیر اگروال نے کیوںآخری دس دنوں میںکلپیش یاگنک سے بات نہیںکی یا بات کی تو کیا کی، اسے انھوںنے ابھی تک ظاہر نہیںکیا ہے۔ لیکن شاید انھوںنے بات نہیںکی اور یہی سبب کلپیش یاگنک کے لیے زندگی ترک کرنے کا ایک بڑا سبب بن گیا۔ جس شخص نے 18 سال ایک ہی ادارے کو دیے ہوں، جو مختلف لالچوں کے دیے جانے کے بعد بھی دوسری جگہ نہیں گیا ہو، اس شخص کے ساتھ بھاسکر جیسے ادارے کا یہ سلوک زیادہ انسانی نہیں لگتا ہے۔ سدھیر اگروال کے بہانے سبھی میڈیا اداروںسے یہ توقع تو کرنی ہی چاہیے کہ میڈیا میںیا میڈیا سے جڑے اداروںمیںکچھ تو انسانیت دکھائی دینی چاہیے۔
اداروںکو لے کر صحافیوں کو دو طرح کا خوف ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کبھی بھی نکالے جاسکتے ہیں، ہٹائے جاسکتے ہیں اوردوسرا یہ کہ وہ اگر کبھی پریشانی میںہوںگے تو ادارہ ان کا ساتھ دے گا یا نہیںدے گا۔ ہرادارے کو اپنے ایڈیٹر کے ساتھ اچھے اور برے دنوں میںکھڑے ہونے کی اخلاقی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ یہاں میں’آنند بازار پتریکا‘ کو یاد کرتا ہوں، میں’انڈین ایکسپریس گروپ‘ کو بھی یاد کرتا ہوں۔ جب اویک سرکار کے ہاتھ میںآنند بازار پتریکا تھی، ایس پی سنگھ اور ایم جے اکبر ایڈیٹر تھے۔ یہ ادارہ تب اپنے ایڈیٹروں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا تھا۔ یہ دونوںعظیم ایڈیٹر بھی اپنے صحافیوں کے ساتھ زیادہ دوگنی طاقت کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ تبھی آنند بازار پتریکا سے جڑے صحافیوں نے، خاص طور سے ’رویوار‘ اور ’سنڈے‘ کے نامہ نگاروںنے ملک میںتاریخ رقم کی۔ اسی طرح جب رام ناتھ گوئنکا ’انڈین ایکسپریس‘ کے مالک تھے، زندہ تھے، تو ان کے نامہ نگار سینہ تان کر اس ملک میںکہیںبھی رپورٹ کرتے تھے۔ میںجانتا ہوں کہ سدھیر اگروال نہ اویک سرکار ہیں نہ رام ناتھ گوئنکا ہیں لیکن وہ ایک ایسے ادارے کے مالک ہیں جو اس وقت ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ انھیںتھوڑا غوروفکر کرنا چاہیے۔

 

 

 

 

جب آدمی عروج پر ہوتا ہے تو بہت اکیلا ہوجاتا ہے۔ اس کے دوست ختم ہوجاتے ہیں۔ میںنے اپنے سابق ایڈیٹر ایس پی سنگھ صاحب کے ساتھ ایسا ہوتا دیکھا ہے۔ اکیلے ہوگئے تھے اور وہ اکیلاپن انھیںکھاگیا۔ ان کے سارے دوست ان سے دور چلے گئے تھے اور وہ چاہ کر بھی اپنے ان دوستوں کو دوبارہ واپس اپنے پاس نہیںلاپائے۔ کلپیش یاگنک بھی ٹاپ پر بیٹھے ہوئے بہت تنہا شخص تھے۔ دوست اس ادارے کا نام ہے جو کبھی نہ اس کی بیوی ہوسکتی ہے، نہ اس کا سگا بھائی اور نہ اس کا والد ہوسکتا ہے۔ جس کے دوست نہیںاس کی نیت یا تو خراب ہونا ہے یا خودکشی کرکے اس دنیا کو چھوڑناہے۔ کلپیش یاگنک کا کوئی دوست نہیںتھا۔ اسی لیے زندگی نے کلپیش یاگنک کو خود کشی کرنے کے لیے ایک ایسی جگہ لاکر چھوڑ دیا جہاںسے وہ آسانی سے واپس زندگی کی طرف لوٹ سکتے تھے۔ ہماری صحافتی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیںجو اکیلے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جو پریشان بھی ہیں۔ چاہے وہ پریشانی ان کے اپنے خاندان کی طرف سے ہو، ان کے ساتھ کام کرنے والوںکی طرف سے ہو یا کسی سازش کے تحت انھیں کسی کونے میںکھڑا کرکے انھیںاکیلا کردینے کی ہو۔
کلپیش یاگنک انھیںبہت یاد آئیںگے، جن کا کھانا پینا ، اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، چلنا پھرنا سب صحافت ہے۔ اب کوئی اور کلپیش یاگنک ہمارے بیچ سے نہ اٹھ جائے، اس کی فکر انھیںکرنی چاہیے جو زندہ ہیں۔ انھیںکم سے کم آس پاس کے لوگوںکے ساتھ دوستی کو بڑھانا چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ ہر شخص قصوروار نہیںہوتا لیکن حساس لوگوں کو دوستوںکی تلاش بند نہیں کرنی چاہیے۔ یہ دنیا اور ہماری اپنی زندگی ، ہمار ے لیے ہرقدم پر چیلنج لاتی ہے۔ ان چیلنجوں کا سامنا ہنس کر ، زندہ رہ کر کرنا چاہیے۔ جو جان دیتے ہیں، وہ بہت بہادر ہوتے ہیں لیکن ایسی بہادری سماج میںمثال نہیںبنتی۔ اگر مثال بننا ہے تو زندہ رہنا ہوگا۔اور یہی بات میں اپنے سبھی ساتھیوںسے کہہ رہا ہوں، جو صرف اور صرف صحافت کو اپنی زندگی کا بنیادی مقصد بنائے ہوئے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *