ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں انکشاف:فضائی آلودگی خطرناک سطح پر،جانیں سالانہ اموات کی تعداد

shocking-report-on-pollution
قومی راجدھانی دہلی اس وقت فضائی آلودگی کی زدمیں ہے۔آلودگی سے لوگوں کا براحال ہے۔وہیں عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ آئی ہے،جس کے مطابق،2016میں ہندوستان میں پانچ سال سے کم عمر کے قریب ایک لاکھ بچوں کی زہریلی ہوا کی موت ہوگئی ۔
وہیں عالمی ادارہ صحت نے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فضائی آلودگی کے سبب سالانہ چھ لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہر دس میں سے نو افراد آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں، فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں، پندرہ سال سے کم عمر 93 فی صد بچے زہریلی ہوا کے باعث سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔فضا میں شامل سلفیٹ اور بلیک کاربن پھیپھڑوں اور دل کے امراض کا سبب بنتے ہیں، غریب ممالک کے بچے اس صورتحال کا زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔
سال 2016 میں سانس میں انفیکشن کی وجہ سے چھ لاکھ بچوں کی موت ہوئی، آلودہ ماحول لاکھوں بچوں کے لیے زہر قاتل ثابت ہورہا ہے جبکہ فضائی آلودگی سے انتقال کرجانے والے بچوں میں ہر دس میں ایک بچہ پانچ سال سے کم عمر کا ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق متاثرہ ممالک میں افریقی اور ایشیائی ممالک سرفہرست ہیں۔
بہرکیف فضائی آلودگی اس وقت دنیا بھر میں ایک اہم مسئلہ ہے۔انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں شہری غیر معمولی گرد و غبار کے بادلوں سے فضائی آلودگی اور شدید موسم کا سامنا کر رہے ہیں۔شہریوں کی جانب سے سانس کی تکلیف کی شکایات کی گئی ہیں جبکہ بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ اب یہ شہر رہنے کے قابل نہیں رہا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *