اب شیو پال کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا

شیو پال سنگھ یادو کے ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ نے اتر پردیش میں اپوزیشن سیاست کا سمیکرن گڈ مڈ کردیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کا مستقبل دیکھتے ہوئے بہو جن سماج پارـٹی لیڈر مایاوتی نے گٹھ بندھن کے مستقبل کو ہی کنارے پر رکھ دیا ہے۔مایاوتی اب اکیلے دم پر لوک سبھا انتخابات میں اترنے کا ذہن بنا رہی ہیں۔ حالانکہ گھبرائے اکھلیش یادو بہو جن سماج پارٹی کا پچھ لگوا بننے کو بھی تیار ہیں۔ انتخابی سمیکرن بگاڑنے کے لئے بھیم سینا کے چیف چندر شیکھر بھی میدان ِجنگ میں اتر آئے ہیں۔ اب چندر شیکھر بھی مایاوتی کو بوا کہنے لگے ہیں۔
مایاوتی کا پیغام
انتخابی سمیکرن میں دو لیڈروں کی بوا کی شکل میں مایاوتی فٹ نہیں بیٹھ رہی ہیں، اسے بھانپتے اورسمجھتے ہوئے مایاوتی نے صاف صاف کہہ دیا کہ سیاست میں ان کا کوئی بھائی بھتیجا نہیں ہے اور وہ کسی کی بوا نہیں ہیں۔ چھتیس گڑھ میں اجیت جوگی کی پارٹی ’جنتا کانگریس ‘کے ساتھ غیر متوقع گٹھ بندھن کرکے اور مدھیہ پردیش میں اکیلے انتخابات لڑنے کا اعلان کرکے مایاوتی نے کانگریس کو مستقبل کا پیغام دے دیا ہے۔ یہ پیغام یو پی میں اکھلیش یادو کے لئے بھی ہے۔
مایاوتی نے چھتیس گڑھ اعلان کے پہلے یو پی میں گٹھ بندھن کو لے کر جو بیان دیا تھا،اس سے گھبرائے اکھلیش یادو نے فوراً ہی یہ کہہ کر بات سنبھالنے کی کوشش کی تھی کہ سماج وادی پارٹی گٹھ بندھن کے لئے دو قدم پیچھے ہٹنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ چھتیس گڑھ ڈیولپمنٹ کے بعد اب اکھلیش کتنے قدم پیچھے ہٹیں گے، اس بارے میں ان کا بیان آنا ابھی باقی ہے۔ اکھلیش نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ بی جے پی جیسی فرقہ وارانہ پارٹی کو ہرانے کے لئے سبھی پارٹیوں کو ایک ساتھ آگے آنا چاہئے۔ اکھلیش یادو یہ بیان دے کر پھنس گئے کیونکہ فوراً ہی شیو پال نے کہہ دیا کہ فرقہ وارانہ طاقتوں کے خلاف لڑائی تبھی سچی مانی جاسکتی ہے جب گٹھ بندھن میں ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کو بھی شامل کیا جائے۔ سیٹوں کو لے کر سماج وادی پارٹی اور کانگریس میں کھینچا تانی چل ہی رہی تھی کہ مغربی اترپردیش میں زیادہ سیٹیں دینے کی ’راشٹریہ لوک دل‘ کی مانگ شامل ہو گئی۔ اس کے بعد اب ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کو بھی گٹھ بندھن میں شامل کرنے کی سیکولر اصولی -لازمیت پھانس بن گئی ہے۔
’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کے لیڈر شیو پال سنگھ یادو نے گٹھ بندھن کے تار پر اپنا کٹیا کنکشن یہ کہتے ہوئے پھنسا دیا کہ سماجوادی پارٹی ، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس وغیرہ حقیقت میں فرقہ وارانہ طاقتوں سے لڑنا چاہتی ہیں تو انہیں ’سماج وادی سیکولرمورچہ‘ کو بھی گٹھ بندھن میں شامل کرنا ہوگا۔ شیوپال نے اکھلیش سے بھی کہا کہ فرقہ وارانہ طاقتوں سے ان کی لڑائی مستند تبھی مانی جائے گی جب گٹھ بندھن میں مورچہ کو بھی شامل کرنے کے لئے وہ پہل کریں۔
شیو پال نے سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کو انتباہ بھی دے ڈالا کہ اگر’ سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کو گٹھ بندھن میں شامل نہیں کیا گیاتو مورچہ اپنے بل پر انتخابات لڑ کر ان سیٹوں کو تو جیت ہی لے گا جو تال میل میں سماج وادی پارٹی کے ذریعہ یا بہو جن سماج پارٹی کے ذریعہ چھوڑی جائے گی۔ گٹھ بندھن میںشامل کرنے کی تجویز اچھالنے والے شیو پال حالانکہ پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کا گٹھ بندھن اصولوں کا بھٹکائو ہے لیکن اب شیو پال کہہ رہے ہیں کہ اتر پردیش میں چاہے سماج وادی پارٹی – بہو جن سماج پارٹی گٹھ بندھن ہو یا کوئی دوسرا گٹھ بندھن ، اب مورچہ کو درکنار کر کے یا اس کو نظر انداز کرکے کوئی بھی پارٹی اس حیثیت میں نہیں ہے کہ وہ انتخابات لڑ سکے اور سرکار بناسکے ۔
گٹھ بندھن کو دبائو میں لانے کے لئے شیو پال نے ملک بھر میں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں سے بات چیت کرنے اور انہیں مورچہ کی طرف کرنے کی قواعد تیز کر دی ہے۔ اس کے لئے انہوں نے شرد یادو سمیت کئی سینئر لیڈروں سے بات چیت بھی کی اور بام سیف کے سمینار میں حصہ لینے فیض آباد بھی گئے۔ شیو پال بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس سے بھی بات کریں گے اور گٹھ بندھن میں مورچہ کو شامل کرنے کی سیکولر ،اصولی ، لازمیت بتائیں گے۔ شیو پال کہتے ہیں کہ پھر بھی اگر مورچہ کو گٹھ بندھن میں شامل کرنے سے وہ پرہیز کرتے ہیں، تو وہ نقصان جھیلنے کے لئے تیار رہیں۔ شیو پال دعویٰ کرتے ہیں کہ سماج وادی سیکولر مورچہ گٹھ بندھن میں شامل نہیں ہوا تو گٹھ بندھن کو 40سے 50 سیٹوں پر سیدھا نقصان پہنچے گا۔ شیو پال راجدھانی لکھنو میں جلد ہی مورچہ کا سمینار منعقد کرنے کی تیاری میں ہیں۔
شیوپال کی جدو جہد
شیو پال سیاست میں اپنی متاثر کن زمین تیار کرنے کی جدو جہد میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی دور اندیشی ہے کہ وہ ملائم سنگھ یادو کا چہرہ اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ شیو پال سماج میں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ بیٹا ہوتے ہوئے اکھلیش نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی والد ملائم سنگھ کو حاشئے پر رکھ دیا لیکن وہ بھائی ہوتے ہوئے ملائم کو اپنا رہنما بنا کر چلنا چاہتے ہیں۔ اسی ارادے سے سے شیو پال نے ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کا صدر عہدہ ملائم ؛سنگھ یاد وکے لئے برقرار رکھاہے۔ شیو پال خود کو ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کا کوآرڈینیٹر بتاتے ہیں اور صاف صاف کہتے ہیں کہ صدر کا عہدہ نیتا جی کے لئے ہے۔ شیو پال نے ملائم سنگھ یادو کے سامنے ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کے قومی صدر بننے کی تجویز رکھی ہے۔ شیو پال کا کہنا ہے کہ مورچہ کی تشکیل نیتا جی سے بات چیت کرنے اور ان کا آشرواد لینے کے بعد ہی کی گئی ۔
سیاسی پنڈتوں کا بھی ماننا ہے کہ شیو پال کا یہ قدم سیاسی نقطہ نظر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ اگر ملائم نے مورچہ کا قومی صدر بننا قبول کر لیا تو کھیل یکطرفہ ہو جائے گا۔ ملائم کے آتے ہی سماج وادی پارٹی میں بھگدڑ جیسی صورت حال ہو جائے گی۔ شیو پال بھی کہتے ہیں کہ نیتا جی اگر مان گئے تو سماج وادی پارٹی میں نظر انداز کئے ہوئے ناراض لیڈر اور کارکنان سب نیتا جی کے سائے میں مورچہ کے ساتھ چلے آئیں گے۔ شیو پال نے ملائم سنگھ یادو کو مورچہ کا امیدوار کے طور پر مین پوری لوک سبھا انتخاب میں اترنے کی بھی تجویز دے رکھی ہے۔ شیو پال نے کہاکہ نیتا جی مین پوری سے مورچہ کے امیدوار ہوں گے۔ ساتھ ہی شیو پال یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ سماج وادی پارٹی سے بھی انتخاب لڑتے ہیں تو مورچہ ان کی حمایت کرے گا اور ان کے خلاف کوئی امیدوار نہیں کھڑا کرے گا۔یہ سیاسی دور اندیشی ہی ہے کہ جہاں سماج وادی پارٹی کے پوسٹرو بینروں سے ملائم سنگھ کا چہرہ ہٹتا گیا، وہیں ’سماج وادی سیکولر مورچہ ‘کے جھنڈوں ، بینروں اور پوسٹروں پر ملائم کی تصویر اہمیت کیساتھ لگی ہے۔ شیو پال نے پچھلے دنوں اپنی نئی سیاسی پارٹی ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کا باضابطہ جھنڈا بھی جاری کیا۔ اس جھنڈے پر ایک طرف شیو پال ہیں تو دوسری طرف ملائم ۔ شیو پال اور ان کے حامیوں کی گاڑیوں پر اب ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کا جھنڈ الگ گیا ہے۔ سیاسی میدان میں شیو پال کی یہ نئی پاری تو ہے، لیکن انہوں نے ملائم کے ساتھ رہ کر سیاست کے دائوں پینچ سیکھے ہیں۔ اب شیو پال کے لئے اسے آزمانے اور پرکھنے کا وقت ہے۔
تھوڑی بہت سیاست سمجھنے والے لوگ بھی یہ جانتے ہیں کہ ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کا جنم کن وجوہات سے ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اکھلیش یادو نے شیو پال یادو کے ساتھ جیسا رویہ اختیار کیا اور جس طرح ان کا سیاسی مستقبل چوپٹ کرنے کی کوشش کی، اس سے اتنا تو ظاہر ہے کہ ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کوئی سماج وادی پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے نہیں بنا ہے۔ انتخابی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ مورچہ سیٹیں جیتے یا نہ جیتے، لیکن سماج وادی پارٹی کو نقصان تو پہنچائے گا ہی۔ اکھلیش یادو نے سماج وادی پارٹی کا خود ساختہ قومی صدر بنتے ہی جس طرح ملائم اور شیو پال حامیوں کو کنارے لگایا اور باہر کا راستہ دکھایا، وہ ناراض اور نظر انداز کی ہوئی جماعت آج شیو پال کے ساتھ کھڑی ہے اور یقینی طور پر وہ جماعت اپنا بدلا لے گی۔
ایسی ہی نظر اندازی سے پریشان ہوکر ملائم سنگھ یادو نے بھی لوک دل سے الگ ہوکر سماج وادی پارٹی بنائی تھی۔ اس وقت بھی ملائم کے سیاسی مستقبل پر لوگ سوال کھڑے کرنے لگے تھے اور تمام اندیشے جتانے لگے تھے لیکن ملائم کی قیادت میں سماج وادی پارٹی نے سیاسی کامیابیاں پائیں اور اپنی ٹھوس پہچان قائم کی۔ ملائم سنگھ سے جڑے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ آج شیو پال نے بھی مورچہ بنا کر ملائم کی ہی تقلید کی ہے۔

 

 

 

 

 

مورچہ کے اثرات
اس تربیت کا ہی اثر ہے کہ’ سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کے اعلانیہ میدان میں اترنے کے بعد سے سماج واد ی پارٹی میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ اکھلیش یہ دکھانے کی پوری کوشش کررہے ہیں کہ مورچہ سے سماج وادی پارٹی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا لیکن اصلیت یہی ہے کہ سماج وادی پارٹی بے چینی میں ہے۔ یہ دھیان میں رکھنا ضروری ہے کہ اترپردیش میں تقریباً 8 فیصد یادو ووٹرس ہیں اور پچھڑی ذات میں تقریباً 20 فیصد حصہ یادئوں کا ہے۔ مایاوتی اور اکھلیش، بوا -ببوا پالیسی یادو طبقے کو کبھی بھی راس نہیں آئی اور نہ روایتی یادو سماج نے بھتیجے کے ہاتھوں چاچا کی توہین کو ہی ہضم کیا۔ ملائم کو درکنار کرکے اکھلیش کا صدر بننا بھی یادو سماج کو گوارہ نہیں ہوا۔ ایسے میں شیو پال کے اس بیان میں دم ہے کہ ’سماج وادی سیکولر مورچہ ‘ کے تعاون کے بغیر ملک میں اگلی سرکار بنانا ممکن نہیں ہوگا۔
شیو پال نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کو کھڑا کرنے میں انہوں نے بھی بڑے مصائب جھیلے ہیں، بڑی محنت اور جدو جہد کی ہے، لیکن انہیں ہی لگاتار توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ 29اگست 2018 کو ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کی تشکیل کا باضابطہ اعلان ہونے کے بعد شیو پال کو ملتی بھاری عوامی حمایت سے اکھلیش یادو کو اپنی سیاسی زمین ہلتی محسوس ہوئی۔ اکھلیش نے ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کی تشکیل کو بی جے پی کی سازش کہنا شروع کر دیا، لیکن اکھلیش کے ایسے رد عمل کو کوئی ترجیح نہیں ملی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی یہ کہناہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں شیو پال یادو کے ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کا اہم کردار رہے گا۔ سماج وادی پارٹی میں شیو پال کی شبیہ م عوام میں مقبول لیڈر کی رہی ہے۔
سماج وادیوں پر ملائم کے بعد شیو پال کی ہی سب سے اچھی پکڑ ہے۔ اسی لئے مورچہ کی توسیع میں زیادہ مشکلیں پیش نہیں آرہی ہیں۔ سیاست کے جانکار بھی یہ ماننے لگے ہیں کہ ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ آئندہ انتخابات میں ہار جیت کے سمیکرنوں کو بدلے گا اور سماج وادی پارٹی کا مساوی متبادل بنے گا۔ ملائم سنگھ کے نزدیک رہ کر سیاسی دائو پینچ گہرائی سے سیکھ چکے شیو پال نے صحیح موقع پر مورچہ کا اعلان کیا اور مسلم ووٹروں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے بی جے پی میں جانے کی تجویز ٹھکرا دی۔ شیو پال کے اس قدم سے سیاسی دنیا میں یہ پیغام بھی گیا کہ’ سماج وادی سیکولر مورچہ‘ ملائم کے سکھائے راستے پر چل پڑا ہے اور مستقبل میں ملائم خود بھی سیکولر مورچہ سے جڑ سکتے ہیں۔
مورچہ سے بوکھلائی سماج وادی پارٹی
’سماج وادی سیکولر مورچہ ‘کے وجود میں آنے سے سماج وادی پارٹی اتنی بوکھلا گئی کہ اکھلیش یادو کے حامی شیو پال یادو پر گھٹیا الزامات پر اتر آئے ہیں۔ اکھلیش کے قریبی سابق وزیر پون پانڈے نے شیو پال پر بد عنوانی کے الزام لگائے اور تیکھا حملہ کیا۔ مورچہ نے اس کے جواب میں کہا کہ اکھلیش اور پون جیسے لیڈروں کے سبب ہی سماج وادی پارٹی کا یہ حشر ہو اہے۔ مورچہ کے ترجمان دیپک مشر اور ابھیشیک سنگھ آشو نے کہا کہ مورچہ بننے سے گھبرائی ہوئی سماج وادی پارٹی شیو پال سنگھ یادو کی شبیہ دھندلی کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مورچہ ترجمان کہتے ہیں کہ شیو پال یادو کی کوششوں سے ہی قومی سطح پر بی جے پی کو روکنے کے لئے مہا گٹھ بندھن بنا تھا ۔ اس میں سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑا، سابق رکن پارلیمنٹ شرد یادو، راشٹریہ جنتا دل لیڈر لالو یادو اور رالود لیڈر اجیت سنگھ جیسے لیڈروں نے بھی ملائم سنگھ یادو کو اپنا صدر مان لیا تھا۔ اس مہا گٹھ بندھن کو اکھلیش یادو اور ان کے گرو رام گوپال یادو نے محض اس لئے توڑ ڈالا کیونکہ وہ سب بدعنوانی میں سنے ہوئے تھے اور انہیں بی جے پی سے ڈر لگ رہا تھا۔ اگر اکھلیش اور رام گوپال مہا گٹھ بندھن کو نہیں توڑتے تو ملائم وزیر اعظم عہدہ کے لئے سب کے تسلیم شدہ لیڈر ہوتے۔ اس کا سہریٰ شیو پال یادو کو ہی ملتا۔ باپ نے بیٹے کو وزیر اعلیٰ بنایا لیکن بیٹے نے اسی باپ کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔
سماج وادی پارٹی چھوڑ کر ’سماج وادی سیکولر مورچہ ‘میں شامل ہوئے سماجوادی پارٹی کے اسٹیٹ ایگزیکٹیو اور سماج وادی یووجن سبھا کی نیشنل ایگزیکٹیو کے سابق ممبر اور لکھیم پور کھیری میں نگھاسن سے ضلع پنچایت ممبر راجیو گپتا نے کہا کہ سماج وادی پارٹی ڈاکٹر رام منوہر لوہیا جیسی عظیم شخصیت کے اصولوں پر چلنے والی پارٹی رہی ہے۔ لیکن اکھلیش یادو میں اس عظیم روایت کو سنبھالنے کی اہلیت نہیں تھی۔ جس ڈال پر وہ بیٹھے تھے اسے ہی کاٹ ڈالا اور پوری پارٹی کو برباد کر دیا۔ رام گوپال یادو کی شہہ پر اکھلیش نے اپنے باپ ملائم سنگھ یادو اور چچا شیو پال سنگھ یادو کی توہین کرنے کا غیر روایتی عمل کیا، جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ ریاست کے عوام اس سلوک کے لئے اکھلیش کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ راجیو گپتا کہتے ہیں کہ2017 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں نگھاسن اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑنے کے لئے سماج وادی پارٹی کا ٹکٹ ملا تھا، لیکن اکھلیش یادو نے ان کا ٹکٹ محض اس لئے کاٹ دیا کیونکہ وہ شیو پال یادو کے حامی تھے۔ اکھلیش نے جلن میں نگھاسن کی جیتی ہوئی سیٹ بھی گنوا دی۔ سیکولر مورچہ کے آنے سے ریاست میں پختہ سیاست کا نیا باب کھلے گا اور سماج کے سبھی طبقے کے لوگ شیو پال یادو کی قیادت میں متحد ہوں گے۔
مایاوتی نے دیا اکھلیش اور راہل کو پیغام
چھتیس گڑھ میں کانگریس کو چھوڑ کر اجیت جوگی کی پارٹی’ جنتا کانگریس‘ کے ساتھ گٹھ بندھن کرکے بہو جن سماج پارٹی لیڈر مایاوتی نے اترپردیش میں گٹھ بندھن کی امید لگائے اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کو 2019 کا اشارہ دے دیا ہے۔ مایاوتی نے یہ بھی کہ دیاکہ وہ گٹھ بندھن کے خلاف نہیں ہیں، لیکن دوسری پارٹیوں کو بھی اپنا دل بڑا کرنا ہوگا۔ مایاوتی نے مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات میں بھی کانگریس کا ہاتھ نہیں پکڑا ہے اور اکیلے دم پر انتخابات لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔یہ دونوں اعلانات خاص طور پر سماج ودی پارٹی کے لئے سخت جھٹکا ہیں، کیونکہ اکھلیش وادی سماج وادی پارٹی میں اپنے بوتے پر لوک سبھا انتخابات میں اترنے کا دم نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی کو گٹھ بندھن کا سہارا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اکھلیش یادو گٹھ بندھن کو لے کر کچھ زیادہ ہی سرگرم اور بے چین نظر آرہے ہیں۔ اکھلیش لگاتار یہ بیان دے رہے ہیں کہ وہ گٹھ بندھن کے لئے دو قدم پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں، سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ اکھلیش یادو کی یہ بے صبری سماج وادی پارٹی کے لئے بھاری پڑ سکتی ہے اور پارٹی کو ڈوبا بھی سکتی ہے۔ اکھلیش کے اس بچکانے پن کا فائدہ سیاسی تجربے کی پختگی سے بھری مایاوتی اٹھا لے جائیںگی اور اکھلیش دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔
چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں بہو جن سماج پارٹی کے فیصلے سے اکھلیش کا وہ دعویٰ بھی دھندلا ہو گیا ہے کہ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی ، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس مل کر گٹھ بندھن بنائیں گے۔ چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں مایاوتی نے جس طرح کانگریس کو اپنے سے دور کیا، اس سے کانگریس بری طرح نالاں ہے۔ چھتیس گڑھ کے انچارج کانگریس لیڈر اور یو پی کی اس وقت کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کے چیف سکریٹری رہے پی ایل پونیا نے بہو جن سماج پارٹی کے ایسے رویے پر تیکھے ریمارکس بھی کر ڈالا۔ لہٰذا سیاسی ناظرین مستقبل میں بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس کے یوپی میں ہاتھ ملانے کو لے کر تشویش ظاہر کررہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اب اکھلیش اور راہل ہی تال میل کی سائیکل چلاتے نظر آئیں گے، ایسا ہی امکان ہے۔ آپ یاد کریں راجیہ سبھا الیکشن کے دوران مایاوتی کہہ چکی ہیںکہ اکھلیش یادو کو سیاست کا کم تجربہ ہے۔ اگر میں ان کی جگہ ہوتی تو اپنے امیدوار کے بجائے بہو جن سما ج پارٹی امیدوار کو جتانے کی کوشش کرتی۔ راجیہ سبھا الیکشن میں سماج وادی پارٹی کے ایم ایل ایز کی کراس ووٹنگ کے سبب بہو جن سماج پارــٹی امیدوار نہیں جیت پایا تھا۔ جبکہ سماج وادی پارٹی کی حمایت کے بل پر ہی بہو جن سماج پارٹی نے اپنا ایک امیدوار کھڑا کیاتھا۔ لیکن اکھلیش یادو نے اپنا پورا دھیان جیا بچن کو جتانے پر لگا دیا تھا۔

ملائم مین پوری سے لڑیں گے، اعظم گڑھ شفٹ ہو ں گے تیجو
مین پوری کے موجودہ رکن پارلیمنٹ اور لالو یادو کے داماد تیج پرتاپ یادو اب مین پوری کے بجائے اعظم گڑھ سے انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ مین پوری سے ملائم سنگھ یادو خود انتخاب لڑیں گے۔ سماج وادی پارٹی کے فیصلہ کرنے والوں میں سے ایک کے کافی قریبی سماج وادی پارٹی لیڈر نے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے ملائم کو آرام کرنے کا مشورہ دے کر مین پوری سے تیج پرتاپ یادو کو ہی لڑانے کا ذہن بنا لیاتھا لیکن شیو پال نے ملائم کو مورچہ کے ٹکٹ پر مین پوری سے انتخاب لڑنے کی تجویز دے کر سماج وادی پارٹی کے فیصلہ کنندوں کو پائوں پیچھے کرنے پرمجبور کردیا۔ اب بدلی ہوئی صورت حال میں تیج پرتاپ یادو کو اعظم گڑھ شفٹ کیا جاسکتاہے۔
تیج پرتاپ نے اعظم گڑھ کا دورہ شروع بھی کردیا ہے اور ان کی بولی بھی بدلی ہوئی سامنے آ رہی ہے۔ اب تیج پرتاپ کھلے عام یہ بیان دے رہے ہیں کہ شیو پال یادو کے سماج وادی پارٹی سے الگ ہونے سے پارٹی کو کافی نقصان ہوگا۔ تیج پرتاپ کے اس بیان کے سیاسی معانی بھی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے لوگ ہی کہتے ہیں کہ تیج پرتاپ کے انتخاب لڑنے میں سماج وادی پارٹی نے حیل حوالہ کی تو وہ ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ میں شامل ہوکر انتخابی میدان میں اتر پڑیںگے۔ مورچہ کنوج میں اکھلیش یادو کے خلاف اور بدایوں میں دھرمیندر یادو کے خلاف بھی اپنے امیدوار اتارے گا۔ شیو پال نے راجیش یادو کو سماج وادی سیکولر مورچہ کا کنوج لوک سبھا کا انچارج مقرر کیا ہے۔ کنوج میں اکھلیش یادو کے خلاف سیکولر مورچہ طاقتور مسلم امیدوار کو میدان میں اتارنے کی تیاری کر رہا ہے۔ مورچہ نے کنوج کو ترجیحات میں رکھا ہے اور وہاں جلد ہی مورچہ کا ضلع صدر بھی مقرر کر دیا جائے گا۔

 

 

 

 

ملائم نے کی اکھلیش اور شیو پال کوملانے کی کوشش
آخری وقت میں ملائم نے اکھلیش اور شیو پال میں صلح کرانے کی کوشش کی تھی، لیکن شیو پال نے ملائم کا دائو ملائم کے ہی حوالے کردیا۔ شیو پال نے صلح کی شرط یہ رکھی تھی کہ ملائم کو قومی صدر اور انہیں ریاستی صدر بنایا جائے لیکن اکھلیش یادو نے یہ شرط نہیں مانی اور صلح کی بات فیل ہو گئی۔
ملائم سنگھ نے اپنی رہائش گاہ پر ہی اکھلیش اور شیو پال کی صلح میٹنگ بلائی تھی۔ پہلے تو خاندان کے ممبر ہی میٹنگ میں شامل تھے، لیکن تھوڑی دیر بعد ہی سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خاں اور اکھلیش وادی سماج وادی پارٹی کے خزانچیسنجے سیٹھ بھی وہاں پہنچ گئے۔ اکھلیش یادو شیو پال یادو کو سماج وای پارٹی کا ریاستی صدر بنانے کے لئے تیار تھے،لیکن ملائم کو قومی صدر بنانے کی شرط انہیں منظور نہیں ہوئی ۔ اکھلیش اپنے والد کو دوبارہ قومی صدر بنائے جانے کے لئے قطعی تیارنہیں تھے۔ نتیجتاً صلح میٹنگ بے نتیجہ ختم ہوگئی۔ بعد میں ملائم نے یہ کہتے ہوئے بات سنبھالی کہ وہ خود قومی صدر بننے کے لئے خواہش مند نہیں ہیں۔ میٹنگ میں اکھلیش نے شیو پال کو پارٹی سے نکالے جانے کی دھمکی بھی دی تھی لیکن اس دھمکی کا کوئی اثر نہیں دِکھا۔ شیو پال نے نئی پارٹی کا اعلان بھی کر دیا، لیکن اکھلیش اب تک شیو پال یادو کو سماج وادی پارٹی سے معطل نہیں کرپائے ہیں۔

نو رتنوں کے بعد شیو پال نے جوڑے پانچ پانڈو
’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کے کوآرڈینیٹر شیو پال سنگھ یادو نے مورچہ کا باضابطہ اعلان کرنے کے بعد ہی اپنے نو ترجمانوں کی نامزدگی کی لسٹ جاری کر دی تھی۔ 20ستمبر کو شیو پال نے پھر پانچ ترجمانوں کی نامزدگی کی اور 14 ترجمانوں کی فوج کھڑی کر لی۔مورچہ کی تشکیل کے بعد شیو پال نے سابق وزیر شاردا پرتاپ شکلا اور سابق وزیر شاداب فاطمہ کو مورچہ کا ترجمان نامزد کیا تھا ۔ا ن کے علاوہ دیپک مشر، نواب علی اکبر، سدھیر سنگھ، پروفیسر دلیپ یادو، ابھیشیک سنگھ آشو، محمد فرحت رئیس خاں اور اروند یادو بھی مورچہ کے ترجمان بنائے گئے تھے۔ ترجمانوں کی دوسری لسٹ میں محمد شاہد ، اروند ودروہی ، دیویندر سنگھ، راجیش یادو اور عرفان ملک کے نام شامل ہیں۔ اب ’سماج وادی سیکولر مورچہ‘ کے 14 ترجمان ہیں جو باضابطہ طور پر میڈیا کے سامنے پارٹی کا سائڈ رکھیں گے۔ سماج وادی پارٹی سے دو بار اٹاوہ کے رکن پارلیمنٹ رہ چکے رگھو راج سنگھ شاکیہ اور سابق ایم ایل اے ملک کمال یوسف جیسے سینئر لیڈر پہلے ہی مورچہ میں شامل ہو چکے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *