محمدشہاب الدین کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، عمرقیدکی سزاقرار

mohd-shahabuddin
بہارکے بہوبلی لیڈر محمدشہاب الدین کوسپریم کورٹ سے بڑا جھٹکالگاہے۔ بہارکے سیوان میں دوبھائیوں کے قتل معاملے میں عمرقیدکی سزاکوسپریم کورٹ برقراررکھاہے۔سپریم کورٹ نے اس معاملے میں پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کوبرقراررکھتے ہوئے شہاب الدین کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل خارج کردی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے شہاب الدین کے وکیلوں سے کئی سوال پوچھے، لیکن ان کے جواب نہیں ملے۔بینچ نے پوچھا شہاب الدین کے خلاف گواہی دینے جارہے راجیون روشن کوکیوں مار دیا؟ اس کے قتل کے پیچھے کون تھا؟چیف جسٹس گوگوئی کے ساتھ جسٹس ایس کے کول اورکے ایم جوسف کی بینچ اس قتل پرسخت نظرآئے۔ شہاب الدین کی طرف سے سینئروکیلوں کی ٹیم نے جیسے ہی اس کے بچاو میں کچھ کہنا چاہا۔ بینچ نے کہا ان اپیلوں میں کچھ بھی نہیں رکھا ہے اورہم ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کریں گے۔
اگست 2004 میں سیوان کے دو بھائیوں ستیش اور گریش روشن کو اغوا کر ان کے اوپر تیزاب ڈال کر انہیں مار ڈالا گیا تھا۔ دونوں مقتولین کا تیسرا بھائی راجیو روشن جب ان ہلاکتوں کے معاملے میں شہاب الدین کے خلاف 6 جون 2014 کو گواہی دینے کورٹ جارہا تھا تو اس کا بھی قتل کر دیا گیا۔
اس معاملہ میں سیوان کے ٹرائل کورٹ نے 9 دسمبر 2015 کو شہاب الدین اور اس کے ساتھیوں کو اس قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف شہاب الدین نے پٹنہ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے گزشتہ 30 اگست کو ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر مہر لگائی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف شہاب الدین نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔اب سپریم کورٹ نے بھی نچلی عدالت اورہائی کورٹ کی سزا کوبرقراررکھاہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *