بہار میں جرائم کا بول بالا دارو اور بالو پر پابندی بنی ذمہ دار

یاد ہے ہمیںجب لالو -رابڑی کے لمبے دور حکومت کے خاتمے کے بعد 2005 میںنتیش کمار کی سرکار بنی تو بہار کے اخباروںنے درگا پوجا کے وقت سرخیاں بنائی تھیں،’ بھئے کا راون بھاگا، رات بھر پٹنہ جاگا‘۔ ما ںدرگا کے ایک بار پھر آنے کا وقت ہوگیا ہے۔ درگا پوجا کو لے کر پنڈال سجنے لگے ہیں لیکن اب ا خباروں کی سرخیاںکچھ اور ہی بیان کر رہی ہیں۔ دن دہاڑے قتل ، عصمت دری اور بینک لوٹ کے واقعات کی خبروںسے اخبار بھرے پڑے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ سرکار کے تحفظ میں بچیوں کی عصمت دری ہورہی ہے۔ عدالت کے احاطے اور راجدھانی پٹنہ کے پاش علاقوں میںاے کے 47 کی گولیوںسے سینہ چھلنی ہورہا ہے اور’سوشاسن‘ گڈ گورننس کی سرکار بس ایک خاموش تماشائی اور’یاچک‘ کے رول میںنظر آرہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی ہاتھ جوڑ کر مجرموںسے فی الحال جرم نہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ کہیے تو بہتر بہار کی تصویر خون کے دھبوں سے بدرنگ ہو رہی ہے۔ یہ کہنا ابھی جلد بازی ہوگی کہ جنگل راج لوٹ آیا ہے لیکن اُتنا کہنے سے پرہیز نہیںکیا جاسکتا ہے کہ اس کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے اور اگر گڈ گورننس اسی طرح لاچار اور خاموش رہا تو ایک بار پھر پرانے بہار کی طرح خون سے لت پت ریاست کی تصویر روزانہ ملک اور دنیا کے لوگ دیکھیںگے اور تھوتھو کریںگے۔
کس کی نظر لگ گئی؟
آخر بہار کو کس کی نظر لگ گئی؟ جس بہار کو لے کر ایک شبیہ بنی تھی کہ بہار میںکچھ ہو سکتا ہے،وہیںاب لوگ کہنے لگے ہیںکہ یہاںکچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ نومبر 2005 میںلالو – رابڑی حکومت کو ختم کرکے نتیش کمار ایک ہیرو کی طرح ابھرے اور چھا گئے۔ قانون کا ڈنڈا مجرموں پر ایسا چلا کہ یا تو وہ ریاست چھوڑ کر بھاگ گئے یا پھر سلاخوں کے پیچھے کر دیے گئے۔ دہائیوںسے بہار میںجڑ جماچکے منظم جرائم پر نتیش کمار نے ایسا قانونی بم گرایا کہ مجرموں کی جان پر آفت آگئی اور یہ ریاست دھیرے دھیرے چین کی سانس لینے لگی۔ نیتش کمار نے اپنی حکومت کو کھلی چھوٹ دے دی اور صاف کہہ دیا کہ جرائم اور بدعنوانی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ زیرو ٹالرینس کی پالیسی کو عمل میںلائیے اور بہار کو جرائم اور بدعنوانی جیسی بیماریوںسے نجات دلائیے۔نتیش کمار کے اس فرمان کا ایسا اثر ہوا کہ ملک اور دنیا میں بہار کی شبیہ بدلنے لگی۔ اپنے کو بہاری کہنے سے جھجکنے والے لوگ بھی اب سینہ تان کر خود کو بہاری کہنے لگے۔ ترقی کا ماحول بنا اور پوری ریاست میںبیسک انفراسٹرکچر کا ڈھانچہ کھڑا ہونے لگا۔ نئے اسکول اور اسپتال بنے اور سڑکوںکا جال بچھا دیا گیا۔ بڑے پلوں کی تعمیر اور چھوٹی چھوٹی پلیوں کو بنواکر نتیش کمار نے بہار کے لوگوں کی زندگی کی سطح کو سدھارنے کی کوشش کی۔ انھیںکامیابی بھی ملی اوریہ اسی کا نتیجہ تھا کہ ریاست کے عوام نے ایک بار پھر بھاری اکثریت سے انھیںبہار کا تاج پہنا دیا۔ نتیش کمار کی سرگرمیوں پر باریک نظر رکھنے والے بتاتے ہیںکہ اپنی دوسری پاری میںنتیش کمار پوری فارم میںنہیں تھے۔یہ فارم پوری طرح سے اس وقت خراب ہوا جب راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ساتھ مل کر نتیش کمار نے سرکار بنائی۔ بدعنوانی کے ایشو پر یہ اتحاد ٹوٹا اور بی جے پی کے ساتھ ایک نئی سرکار ریاست میںوجود میںآئی۔

 

 

 

 

 

بدعنوانی اور جرائم لازم و ملزوم
کہا جاتا ہے کہ بدعنوانی اور جرائم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جس سماج میں بدعنوانی زیادہ ہوگی، وہاں جرم بھی بڑھے گا۔ اسے ایسے بھی کہا جاسکتا ہے کہ تشدد یا جرائم کی پرورش بدعنوانی کے سہارے ہوتی ہے۔ ایسے میںاگر بہار کی بات کریں تو تمام کوششوں کے باوجود یہاں نہ تو جرائم کم ہوئے ہیں اور نہ ہی بدعنوانی رکنے کا نام لے رہی ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میںبدعنوانی کی لمبی سیریز اجاگر ہوئی ہے۔ ان میںسریجن نام کے این جی او سے جڑا دو ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ، شوچالیہ نرمان گھوٹالہ، مہادلت وکاس فنڈ گھوٹالہ وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح پچھلے چھ مہینے میں جرائم کے واقعات میںکہیںکوئی کمی نہیں آئی ہے۔
درجنون بینک لوٹ کے واقعات کے ساتھ ریاست میںجرائم کا گراف روزانہ بڑھ رہا ہے۔ لیکن پچھلے دو مہینے میںجرائم کے کچھ واقعات نے بہار کو شرمسار کرنا شروع کردیا ہے۔ مظفر پور گرلز ہوم کیس نے اچانک بہار کو جنگل راج والی سرخیوں میںلادیا۔کہا گیا کہ سرکار کی ناک کے نیچے لڑکیوںکی عصمت دری ہوتی رہی اور سب کچھ جانتے سمجھتے ہوئے سرکار سوئی رہی۔ ٹھیک اس کے بعد سیتا مڑھی کورٹ کے احاطے میںڈبل مرڈر کیس کا مجرم سنتوش جھا اے کے 47سے بھون دیا گیا۔ابھی یہ آگ بجھی بھی نہیںتھی کہ پورنیہ بال سدھار گرہ میںدو بچیوں کو قتل کردیا گیا۔ حدتو اس وقت ہوگئی جب انتہائی محفوظ علاقہ کوتوالی تھانہ پٹنہ کے پاس شہاب الدین کے شوٹر تبریز کو بھون دیا گیااور جب سابق میئر سمیر سنگھ کو مظفر پور میںاے کے 47سے چھلنی کردیا گیا توریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی مجرموں سے ہاتھ جوڑ کر یہ اپیل کرتے نظر آئے کہ فی الحال قتل کرنا چھوڑ دیجئے۔ گڈ گورننس کا دم بھرنے والی سرکار کی نمبر دو کی یہ اپیل بتاتی ہے کہ نتیش سرکار کا اقبال کتنا گھٹ گیا ہے۔
جرائم کا سیاسی سمیکرن
نتیش کمار کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے والے لوگوںکا کہنا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے بعد انتظامی فیصلوںمیںوزیر اعلیٰ کا دبدبہ گھٹا ہے۔ اسے نتیش کمار کی سیاسی مجبوری کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ اپنی اس نئی پاری میںنتیش کمار سب کچھ اپنی مرضی کے مطابق نہیںکر پارہے ہیں۔ نہ صرف بی جے پی بلکہ اپنی پارٹی کے کچھ لیڈروں کا بھی دباؤ نتیش کمار پر ہوتا ہے ، اپنے ایک دوست کے ساتھ غیر رسمی بات چیت میںنتیش کمار یہ کہہ رہے تھے کہ ارے کیا کریں، مونگیر میںکچھ بدلیے تو للن بابو کو دقت ہے اور مدھے پورہ میںکچھ کریے تو وجندر بابوکو۔ بہار میںکام کرنا اتنا آسان نہیںہے۔ سبھی جانتے ہیںکہ ڈی جی پی کا نام فائنل کرنے میںوزیر اعلیٰ کو بی جے پی کے بھاری دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی کے بڑے لیڈروں کے ضلعوں میںانتظامی افسروں کی تعیناتی میںنتیش کمار آزادانہ طور پر فیصلہ نہیںلے پارہے ہیں۔ اتحادی سرکار چلانے کی مجبوری نے نتیش کمار کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ اس کا کافی برا اثر ریاست کے لاء اینڈ آرڈر پر پڑ رہا ہے۔ لالو پرساد کہتے ہیں کہ سرکار ہنک سے چلتی ہے لیکن یہ سرکار تو ممیا رہی ہے، مجرموںکے آگے ہاتھ جوڑ رہی ہے۔ جہان آباد کے رکن پارلیمنٹ ارون سنگھ کہتے ہیںکہ سرکار کس منہ سے گڈ گورننس کی بات کرتی ہے۔ دن دہاڑے اے کے 47 سے گولیاں نکل رہی ہیں اور سرکار کہتی ہے کہ سب کچھ کنٹرول میںہے۔ دراصل نتیش کمار افسر کے چشمے سے بہار کو دیکھ رہے ہیں، جس دن وہ عوام کے چشمے سے بہار کو دیکھیںگے تو ان کو بہار کی حقیقت کا احساس ہو جائے گا۔ چرچا یہ بھی ہے کہ بی جے پی کو یہ لگتا ہے کہ نتیش کمار کی شبیہ کو جتنا دھکا لگے گا ،سیٹ شیئرنگ میںوہ اتنے ہی کنٹرول میںرہیںگے۔ لوک سبھا انتخابات چونکہ نریندر مودی کے نام پر لڑا جانا ہے، اس لیے نتیش کی شبیہ کا کوئی اثر انتخابی نتائج پر نہیںپڑے گا۔ الٹے نتیش کمار جی جان سے این ڈی اے کو فتح دلانے کی کوشش کر یںگے تاکہ اسمبلی انتخابات کے لیے زمین تیار کی جاسکے۔لاء اینڈ آرڈر بنائے رکھنے میںنتیش کمار کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، اسے اب زمین پر محسوس کیا جانے لگا ہے۔ افسروںپر ان کے احکامات کا ویسا اثر نہیںہورہا ہے جو کچھ سال قبل ہوا کرتا تھا۔ این ڈی اے میںرہنے کے باوجود کئی بار اوپیندر کشواہا بہار کے گرتے لاء اینڈ آرڈر پر سوالیہ نشان لگا چکے ہیں۔’ سورنوں‘ کے مارچ پر ہوئے لاٹھی چارج کے خلاف بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سی پی ٹھاکر انشن کرنے جارہے ہیں۔ کہا جائے تو این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں نے بھی نتیش کمار کو گھیرنے میںکوئی کمی نہیں کی ہے۔ حالانکہ جے ڈی یو کے لیڈر بار بار الزام لگا رہے ہیںکہ آر جے ڈی کے لوگ ایک سازش کے تحت جرائم کے واقعات کو انجام دے رہے ہیں۔ سابق رکن پارلیمنٹ رگھوونش سنگھ کہتے ہیں کہ نتیش کمار اپنی ناکامیوںکے لیے آر جے ڈی پر الزام لگا رہے ہیں۔ پولیس انتظامیہ اب ان کے بس میںنہیں ہے۔ انھیںفوری طور پر استعفیٰ دے کر نیا الیکشن کرانا چاہیے ۔ ظاہر ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کو لے کر نتیش کی جتنی فضیحت ہوگی ، اس کا سیدھا فائدہ خاص طور سے امیج بنانے میںاین ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں کو ملے گا۔ اوپیندر کشواہا کو سی ایم کے طور پر پروجیکٹ ہونا ہے ۔نتیش کمار کو ہٹنا ہوگا اور بی جے پی کو نتیش کمار کو قابو میںکرنا ہے تو ان کے گڈ گورننس کے دعوے کو کمزور دکھاناہوگا،بھلے ہی اس کے لیے ذمہ دار کوئی بھی ہو۔

 

 

 

 

 

دارواور بالو پر پابندی
یہ چرچا عام ہے کہ دارو اور بالو نے نتیش کمار کابھٹہ بٹھا دیا ہے۔ شراب بندی اور بالو بندی نے ریاست میںجرائم کو یقینی طور پر بڑھایا ہے۔ غور طلب ہے کہ شراب اور بالو کے کاروبار پر یادو سماج کا دبدبہ رہا ہے۔ دونوںہی کاروبار میںبے شمارکمائی کے کئی راستے ہیں، جن سے یہ سماج تیزی سے پھل پھول رہا تھا لیکن نتیش کمار نے دونوں ہی کاروبار پر تالا لگاکر اس سماج کے ایک بہت بڑے طبقے کو ناراض کردیا۔ خاص طو ر سے بالو پر روک کے سبب تعمیراتی کام سے جڑے دیگر سماج کے لوگ بھی نتیش کمار کو کوس رہے ہیں۔ ان دونوںکاروبار پر نچلی سطح سے جڑے لوگوںنے لاچاری میں ایک بار پھر جرائم کا راستہ چن لیا۔ ادھر ایس سی ، ایس ٹی ایکٹ میںہوئی ترمیم سے اونچی ذات کے نوجوانوں میں بھی ناراضگی ہے۔ سورنوں کی ریلی پر جس بے رحمی سے لاٹھی چارج ہوا ، اس سے اس سماج میں غصہ ہے۔ سی پی ٹھاکر تو اس معاملے کو لے کر انشن بھی کرنے والے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ نتیش کمار کو سماج کے سبھی جارح ذات کے گروپوں کی مخالفت جھیلنی پڑ رہی ہے، جس کی جھلک جرائم کے الگ الگ واقعات میں صاف دکھائی دے رہی ہے۔ نتیش کمار نے سبھی ڈی ایم اور ایس پی کیساتھ ہنگامی میٹنگ کرکے حالات کو کنٹرول کرنے کی ہدایت دی ہے۔ لیکن اس کے باوجود حالات بہت سدھرے ہوئے نہیںدکھائی دیتے ہیں۔ گڈ گورننس کے ساتھ ترقی کا نتیش کمار کا نعرہ حاشیے پر جارہا ہے اور اعلیٰ اقتدار پر بیٹھ کر وزیر اعلیٰ صرف نہار رہے ہیں۔ ان کی آنکھوںکے سامنے گڈ گورننس کا قتل ہورہا ہے اور وہ کچھ نہیںکر پارہے ہیں۔ ریاست کے سیاسی اور سماجی سمیکرن میںنتیش کمار ایسے الجھ گئے ہیں کہ گڈ گورننس ان کی بانہوں میںہی دم توڑ رہی ہے۔ بہار کو نتیش کمار سے ڈھیروںامیدیں ہیں، امید کی جانی چاہئے کہ وزیر اعلیٰ تمام رکاوٹوں کو دور کر کے 2005 والے تیور میںآئیں گے اور گڈ گورننس کے ساتھ ترقی والے اپنے ’ بنیادی منتر‘ کوبچا لے جائیںگے۔ اگرایسا نہ ہوا تو نہ بہار بچے گا اور نہ بہاری۔
سمیر ہلاکت سانحہ
اس بار مظفر پور میںگرجی اے کے 47کی تڑتڑاہٹ کی گونج بہت دور تک گئی ہے۔ سمیر کے خون کی چھینٹیں صرف قاتلوں کے چہرے پر ہی نہیںبلکہ سفید پوشوں کے کرتے پاجامے پر بھی پڑی ہیں۔ قتل کے بعد مقامی سیاسی حلقوں میںسناٹے کے پیچھے زبردست شور محسوس کیا جارہا ہے۔ یہ کسی طوفان کا بھی اشارہ ہوسکتا ہے اور سازش کرنے والوں کا رسوخ سمیر پر بھاری پڑ گیا تو ان کی موت کی گونج اس طوفان میںگم ہو سکتی ہے۔
سمیر کمار کا کئی ’پدناموں‘ سے تعارف دینا ضروری ہے کیونکہ قتل کے پیچھے کا راز ہر ’پد نام ‘کے ساتھ ڈھونڈا جارہا ہے۔ سمیر نے بطور میئر مظفر پور میںاپنی موجودگی درج کرائی تھی۔ وہ عام لوگوںکے درمیان اسی چہرے کے ساتھ جانا پسند کرتے تھے۔ سیاست اور مافیا دونوں کے میدان میںمظفر پور کے ’پرودھا‘ (باس )مانے جانے والے رگھو ناتھ پانڈے کے بعد نگر نگم کا تاج سمیر کمار کے ماتھے پر ہی سجا تھا۔ اس وقت نگر پریشد ہوا کرتا تھا اور رگھوناتھ پانڈے اس کے صدر ہوا کرتے تھے۔ 2002 میںمظفرپور نگر نگم بنا اور سمیر کمار اس کے پہلے میئر بنے۔ پچھلے 11 سال میںکسی سیاسی عہدے پر نہیںتھے۔ پہچان سابق میئر کی دی جاتی تھی مگر سمیر کمار اس کے متوازی کئی دیگر میدان میںاپنی جگہ بنانے کو بیتاب تھے۔ سیاسی موجودگی درج کراتے رہنے کے لیے بی ایس پی سے 2014 میںلوک سبھا الیکشن بھی لڑے۔ اس سے پہلے آزاد اسمبلی الیکشن بھی لڑے۔ پارٹی اور نتیجے دونوں اشارہ دے رہے تھے کہ انھیںدیگر میدان میںبنے رہنے کے لیے یہ سب کرنا ضروری ہے۔ ادھر شہر میںزمین کا کاروبارافیم کی طرح لوگوںکو مدمست کرتا جارہا تھا۔ سیاست کی کئی بڑی ہستیاںپراپرٹی ڈیلنگ میںگھستی چلی گئیں۔ سمیر کمار نے ایک کامیاب پالیسی ساز ہونے کی وجہ سے اس بڑے سنڈیکیٹ میںاپنی جگہ بنالی۔ میئر بننے سے پہلے متوازی ٹھیکیدار تھے۔ بعد میںاس میں بھی مضبوط ہاتھ آزمایا اور کامیاب بھی رہے۔ مگر سب سے زیادہ راس ان کو ریئل ایسٹیٹ کا دھندہ ہی آیا۔ اس طریقے سے وہ شہر میں سابق میئر ، ٹھیکیدار،لیڈر، کاروباری کولڈ اسٹوریج کے مالک اور پھر ریئل ایسٹیٹ کارو باری کے طور پر جانے جانے لگے۔ مظفر پور اور شمالی بہار ہی نہیں بلکہ پورے بہار میںہی 2000 کے بعد ریئل ایسٹیٹ کا دھندہ ون ٹو کا فور والا ہوگیااور سارے مافیاؤں کا رخ اس طرف ہونے لگا۔ بلیک کا وہائٹ کرنے کا یہ سب سے محفوظ ٹھکانہ یا سرمایہ کاری تھی۔ اس لیے اس میںسیاستداں اور بیوروکریٹ کا پیسہ جم کر لگنے لگا۔ ان کا پیسہ محفوظ رہے اور بڑھتا رہے،اس کے لیے ان کا تحفظ بھی ملتا رہا۔ اپوزیشن اور برسر اقتدار لیڈر اس مدعے پر ایک اسٹیج پر آگئے۔ مظفر پور میںحکمراں پارٹی کے بڑے لیڈروںنے شہر پر قبضہ جمانا شروع کیا۔ یہیںسے شروع ہوا لیڈروں ،زمین مافیاؤں اور مجرموں کا گٹھ جوڑ۔ اس کے ساتھ ہی شروع ہوگیا ز مین پر قبضہ جمانے کا سلسلہ۔
سمیر کمار کو دو بائیک سوار بدمعاشوں نے 23ستمبر کو شام سات بجے شہر کے بیچوںبیچ چندواڑہ کے لکڑی ڈھاہی محلے میںاے کے 47 سے بھون ڈالا۔ سمیر اس وقت اکھاڑہ گھاٹ میںواقع اپنے ہوٹل سے بیلا کے نند وہار کالونی میںواقع اپنی رہائش گاہ جارہے تھے۔ بدمعاشوںنے سمیر کے سر اور سینے میں16 گولیاں داغیں جبکہ ان کے ڈرائیور کو 11 گولیاںلگیں۔ کار کے سامنے کے شیشے پر 22 گولیوںکے نشان ملے۔ ایک ساتھ 49 گولیاں اتار دی گئیں۔ اس سے قاتل کے منشا کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ شمالی بہار میںاے کے 47 کا گرجنا اب بہت چونکاتا نہیںہے ۔ دو سال قبل 6 اپریل 2016 کو مظفر پور میںہی بڑے ٹھیکیدار اور رئیل ایسٹیٹ کے کاروباری اتل شاہی کو ان کے گھر کے سامنے اے کے 47 سے ہی بھون دیا گیا تھا۔ ایسے کئی اور معاملے ہیں۔ مگر سمیر کا قتل عام مجرمانہ ٹرینڈ سے الگ دکھائی دیتا ہے ۔ مظفر پور چھوٹن شکلا ،برج بہاری اشوک سمراٹ، سورج بھان، نریش سنگھ، اونکار سنگھ جیسے بدنام زمانہ مجرمین کی کرم بھومی (مجرمانہ زمین) رہی ہے ۔ ان میںسے تقریباً سبھی آمنے سامنے کی لڑائی لڑتے تھے۔ شاگرد تو ان کے بھی ہوتے تھے مگر انھیں بھاڑے کے شوٹر کی ضرورت نہیںپڑتی۔ شمالی بہار میںاس کے بعد سنتوش جھا شمبھو- منٹو انجنی ٹھاکر جیسے گروہ نے جگہ بنائی۔ سب نے کسی نہ کسی سیاستداں اور صاحب کو اپنا آقا بنایا اور جرم کی دنیا میںراج کرنا شروع کردیا۔
گزشتہ بیس سالوں میںمظفر پور میںبڑا سنڈیکیٹ تیار ہوا۔ اس سنڈیکیٹ کا اہم کام زمین کا کاروبارتھا۔ اس میںایک سیاستداں سب کے سرمور کے روپ میںسامنے آیا۔ ضلع پریشد سے لے نگر نگم تک کی سرکار میںکینگ میکر کا رول نبھانے لگا۔ ریاست میںان کی رسائی اقتدر سے لے کر اپوزیشن تک برابر سے ہے۔ اس سنڈیکیٹ میںکئی سابق اراکین اسمبلی اور کئی پارٹیوں سے الیکشن لڑ چکے لیڈر بھی شامل ہیں۔ مجرموںکے بغیر ان کا سکہ نہیںچل سکتا تھا، اس لیے مجرموں کو تحفظ دیتے رہے۔ سمیر اس سنڈیکیٹ کا حصہ بن گئے، جس کی زمین پسند آگئی ، اس پر اپنا کھونٹا ٹھوک دیا۔ اگر کسی نے نہ کہنے کی ہمت کی تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ نورونا اور کہنانی جیسے مشہور قتل زمین کے کاروبار کی کوکھ سے نکلے قتل ہی ہیں۔
اے کے 47 سے دہلتا رہا ہے مظفرپور
چندریشور سنگھ کا قتل
مظفرپور میں اشوک سمراٹ اور چندیشور سنگھ کا گروہ ٹھیکے پر قبضہ جمانے کے لیے ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا ہوا تھا۔ 1990 میںچندیشور سنگھ کو گولیوںسے بھون دیا گیا۔ چندیشور اپنے بیٹے کے تلک کی تقریب کی تیاری کر رہا تھا۔تب ترہت علاقے میںپہلی بار قتل کے لیے اے کے 47 کا استعمال ہوا۔ قتل کا الزام اشوک سمراٹ پر لگا تھا۔
ہیمنت شاہی کا قتل
مظفر پور کے رکن پارلیمنٹ رہے کانگریس کے سابق مرکزی وزیر ایل پی شاہی کے اکلوتے بیٹے اور ویشالی کے اس دور کے رکن اسمبلی ہیمنت شاہی کے قتل کو آج تک لوگ بھول نہیںسکے ہیں۔ مظفر پور سے سٹے ویشالی ضلع کے گورول بلاک آفس میں ایک میلے کے ٹینڈر تنازعہ میںان کا قتل ہوگیا تھا۔
چھوٹن شکلا کا قتل
چھوٹن شکلا نے 1995کے اسمبلی انتخاب میںآنند موہن کی پارٹی بی پی پا سے ٹکٹ حاصل کیا۔ وہ کیسریا سے انتخابی میدان میںاترے تھے۔ دسمبر 1994 میں چھوٹن شکلا اپنے ساتھیوں کے ساتھ انتخابی تشہیر کرکے لوٹ رہے تھے۔ تقریباً نو بجے رات میںسنجے سنیما کے پاس اوور بریج پر جیسے ہی ان کی گاڑی پہنچی، مجرمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ موقع پر ہی چھوٹن شکلا کی موت ہوگئی۔ اس قتل کا الزام برج بہاری پرساد پر لگا۔
برج بہاری پرساد کا قتل
چھوٹن شکلا کے قتل کے بعد برج بہاری پرساد پر موت کا سایہ منڈلانے لگا تھا۔ 1998 میںبرج بہار ی پرساد بہار سرکار میںوزیر تھے۔ میدھا گھوٹالہ میںملزم بنائے جانے کے بعد انھیںجیل بھیج دیا گیا تھا۔علاج کے نام پر برج بہار ی پرساد پٹنہ کے آئی جی ایم ایس میںبھرتی تھے۔ بھاری سیکورٹی کے باوجود 13 جون 1998 کو اسپتال کے احاطے میںبرج بہاری پرساد کو اے کے 47 سے بھون دیا گیا تھا۔

 

 

 

 

 

بی جے پی لیڈروںسے جڑے ہیں سمیر قتل کیس کے تار
یوںتو بہار اور جرائم کا رشتہ کافی پرانا ہے لیکن مظفر پور کے سابق میئر سمیر کمار کے 23 ستمبر کو ہوئے سنسنی خیز قتل نے بہار میںبڑھ رہے جرائم کی ایک نئی عبارت لکھ دی ہے۔ شہر کے بھیڑ بھاڑ والے بنارس بینک چوراہے پر بے خوف قاتلوں نے سمیر کے ساتھ ان کے ایک ساتھی کو بھی گولیوںسے چھلنی کردیا۔ سرشام ہوئے اس دل دہلانے والے واقعے کو انجام دینے والے مجرموں اور ان کے آقاؤں کے نام عام لوگوںکی زبان پر ہیں لیکن پولیس انھیں سیدھے طور پر دبوچنے کے بجائے طرح طرح کی کہانیاں گھڑنے میںجٹی ہوئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس قتل کیس کے تار بی جے پی کے کچھ با رسوخ لیڈروں سے بھی جڑے ہیں۔ بتاتے ہیںکہ اس قتل کیس کی جانچ کے لیے تشکیل ایس آئی ٹی کے ذریعہ اب تک گرفت میںلیے گئے چھ مشتبہ لوگوں نے بھی قتل کی سپاری دینے والے آقاؤں کے نام جانچ ایجنسی کے سامنے قبول کیے ہیں لیکن معاملہ بی جے پی لیڈروں سے جڑا ہونے کے سبب پولیس ابھی اصلی گناہگاروںپر ہاتھ ڈالنے سے کترارہی ہے۔
دراصل سابق میئر سمیر کمار کے قتل کا پس منظر آٹھ سال پرانے نوبرنا قتل کیس سے جڑاہوا ہے۔ پراسرار حالات میںہوئے ایک لڑکی کے قتل کے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کر رہی ہے۔ اس قتل کیس میںکئی بڑے اور بارسوخ نام شک کے دائرے میںہیں۔ شک کی سوئی پولیس کے اعلیٰ افسر پر بھی ہے۔ سابق میئر سمیر کمار اس قتل کیس میںاہم گواہ تھے۔ وہ 28 ستمبر کو اس کیس میںبطور گواہ عدالت میںپیش ہونے والے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس گواہی کو لے کر ایم ایل سی دنیش سنگھ خاصے پریشان تھے۔ چرچا ہے کہ اسی وجہ سے دنیش سنگھ نے سابق میئر کے سارے سیاسی اور کاروباری مخالفین کو متحد کیا اور پھر کوئی ڈیڑھ مہینہ پہلے سابق میئر سمیر کمار کے قتل کی اسکرپٹ لکھی گئی۔
سابق میئر کے قتل کے پیچھے پراپرٹی مافیاؤں کے بیچ چھڑی پرتشدد لڑائی بھی ایک خاص وجہ بتائی جارہی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ مظفر پور کا میئر بننے کے بعد سمیر شہ زور لوگوں کا ایک گروپ بناکر خود پراپرٹی کے کاروبار میںلگ گئے تھے۔ ان کے پراپرٹی کے دھندے میںسشیل، آشوتوش شاہی، ارون ٹھاکراور ادھو حصہ دار تھے۔ پچھلے دنوںانھوںنے سہارا گروپ کی ایک بڑی پراپرٹی خریدنے کی ’ڈیل ‘کی۔ اس’ ڈیل‘ میں دیگر لوگوںکے علاوہ شیام نندن مشرا نے بھی پیسہ لگایا تھالیکن کن ہی اسباب سے یہ لینڈ ڈیل رد ہوگئی۔ بعد میںجب شیام نندن نے اپنے ڈیڑھ کروڑ روپے واپس مانگے تو سابق میئر نے اپنے پالتو غنڈوں سے شیام نندن کی پٹائی کرادی۔ اتنا ہی نہیں،انھوںنے اپنی سیاسی رسائی اور دبدبے کے دم پر شیام نندن کو ایک جھوٹے مقدمے میںجیل بھی بھجوادیا ۔شیام نندن اس سے آگ بگولہ ہوگیا اور سمیر سے اپنی اس توہین کا بدلہ لینے کے لیے رات دن تڑپنے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ بدلے کی آگ میںجھلس رہے شیام نندن نے ہی سابق میئر سمیر کے قتل کی سپاری کے لیے پیسوںکا بندوبست کیا۔
سمیر قتل کیس کی جڑ میںایک اور وجہ بھی بتائی جارہی ہے۔ آج سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے سر سی پی این سنگھ کی ایک زمین کا سمیر گروپ سے سودا ہوا۔ اس بیش قیمت زمین کو حاصل کرنے میںدو اور دبنگ مافیاؤں شمبھو اور منٹو کی بھی دلچسپی تھی۔ جب یہ ڈیل آگے نہیںبڑھی تو منٹو اور گووند نام کے مجرمین نے مل کرجھگڑا کھڑا کردیا، جس سے یہ سودا بھی رد ہوگیا۔ منٹو کو پولیس نے گرفتار کر لیا جبکہ شمبھو نے پولیس کے سامنے سرینڈر کردیا۔ جیل سے باہر آنے کے بعد شمبھو اور منٹو کے بیچ کسی بات کو لے کر اختلاف ہو گیا۔ نتیجتاً شمبھو نے تو جرائم کی دنیا سے کنارہ کشی کرلی لیکن منٹو نے اپنا دھندہ جاری رکھا۔ اس نے گووند کے ساتھ مل کر نیا گروپ بنایا اور پراپرٹی کے بزنس میںزورو شور سے لگ گیا۔ منٹو سی پی ڈبلیو ڈی کے ٹھیکیداروںاور دوسرے پراپرٹی ڈیلروں کے اوپر اپنی دھونس جمانا چاہتا تھا۔ اس کی حسرت پراپرٹی کا شہنشاہ بننے کی تھی۔ اس پورے گورکھ دھندے میںگووند اس کا مکھوٹا تھا۔
بہرحال زمین کی خرید و فروخت کے دھندے میںجب مسابقت بڑھی تو سابق میئر سمیر کے خلاف ان کے سارے مخالفین متحد ہوگئے۔ انھیںمتحد کرنے میںاہم کردار نبھایا ایم ایل سی دنیش سنگھ نے۔ دنیش سنگھ اپنے سیاسی مستقبل کے لیے سب سے بڑا کانٹا سمیر کو ہی مانتے تھے۔ وہ نوبرنا قتل کیس میںسمیر کی گواہی کو اپنے خلاف اہم ثبوت مانتے تھے۔ دنیش سنگھ کو فکر یہ تھی کہ اگر سمیر نے ٹھوک کر گواہی دے دی تو نوبرنا کیس میںوہ ضرور نپ جائیںگے۔ سیاسی گلیاروں میںیہ بھی چرچا ہے کہ سمیر جلد ہی کانگریس میںشامل ہونے والے تھے کیونکہ سابق میئر کا ضلع کے سورن ووٹروںپر گہرا اثر تھا۔ اس لیے بھی وہ لگاتار دنیش سنگھ کی آنکھوں کی کرکری بنے ہوئے تھے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مفادات کے ٹکراؤ کی زد میں صرف اور صرف سابق میئر سمیر ہی تھے،لہٰذا انھیںراستے کا سب سے بڑا کانٹا مان کر ہٹانے کا تانا بانا بنا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل دنیش سنگھ کی سرپرستی میںپٹنہ کے ایک ہوٹل میںشیام نندن، جگنو اوجھا، گووند اور ایک دیگر مجرم کے بیچ سمیر کمار کو ٹھکانے لگانے کی سازش رچی گئی۔ اس کے لیے باقاعدہ قتل کی سپاری دی گئی۔ حملہ آور مجرموں کو ہتھیار ممکنہ طور پر اے کے 47 گووند نے مہیا کرائی جبکہ پیسوں کا انتظام شیام نندن نے کیا۔
واقعہ والے دن حملہ آوروں نے سابق میئر سمیر کا اکھاڑہ گھاٹ کے قریب بنے ان کے ہوٹل سے پیچھا کرنا شروع کیا۔ اس ہوٹل کے سامنے بنے ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم سے ان پر نظر رکھی جارہی تھی۔ سمیر کے ہر مومنٹ کی خبر بھاڑے کے قاتلوںکو کوئی اور نہیں بلکہ نرسنگ ہوم کا ایک کمپاؤنڈر دے رہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نرسنگ ہوم میںواقعہ سے کچھ دن قبل گووند کی بیوی نے اپنے بچے کو جنم دیا تھا۔
خبر تو یہ بھی ہے کہ قتل کو انجام دینے کے بعد حملہ آوروں نے اپنے ہتھیار جوہری بازار میںرکھے۔ بعد میںانھیںاصلی ٹھکانے پر پہنچانے کا کام ہنومان اور کرشنا نے کیا۔ ان میںہنومان فی الحال ایس آئی ٹی کی گرفت میںہے جبکہ کرشنا فرار بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ سمیر قتل کیس میںاستعمال کی گی اے کے 47 رائفل دراصل منٹو شرما کی ہے، جسے اس نے اپنے پارٹنر گووند کو دے رکھا تھا۔ ذرائع کے مطابق قتل میںاستعمال کیے گئے ہتھیا ر ابھی بھی گووند کے قریبی دوست وشال جوہری کے پاس ہیں، جس کی جوہری کوٹھی میںدکان ہے۔ پولیس اگر کرشنا، کمپاؤنڈر اور وشال جوہری کو پکڑ کر سختی سے پوچھ تاچھ کرے تو نہ صرف اس قتل کیس کی پرت در پرت سچائی کھل سکتی ہے بلکہ قتل کیس کے اصلی گناہگاروں کے چہرے بھی بے نقاب ہوجائیںگے۔ لوگوںکا یہ ماننا ہے کہ دنیش سنگھ کا کوئی سیاسی دین و ایمان نہیںہے۔ وہ سہولت اور تعلقات کی سیاست کرتے ہیں۔ تبھی تو ہ خود جے ڈی یو سے ایم ایل سی ہیں جبکہ ان کی بیوی ابھی بھی بی جے پی میں ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیںکہ دنیش سنگھ کے بہار پولیس ہیڈکوارٹر میںتعینات دو مشہور آئی پی ایس افسروں کے گھر اور دفتر میں بھی کافی آنا جانا ہے۔ قتل کیس کے ایک دیگر مشتبہ گووند سے بھی ان دونوںافسروںکے نزدیکی رشتے تھے اور وہ بھی اکثر پولیس ہیڈ کوارٹر آتا جاتا تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر پولیس ہیڈ کوارٹر میںلگے سی سی ٹی وی کی پچھلے دو مہینے کی فوٹیج کھنگالے گی تو سمیر قتل کیس میں سب کچھ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سمیر قتل کیس کے بعد بہار میںایک نئی ذات و برادری کی لڑائی کا بیک گراؤنڈ لکھنے کی تیاری چل رہی ہے۔ بے حد شاطرانہ انداز میںاسے سورن بنام پچھڑا کاروپ دینے کی کوششیںتیز ہوگئی ہیں۔ چونکہ سابق میئر سمیر اعلیٰ بھومیہار برادری کے ہیں، اس لیے ہوایہ پھیلائی جارہی ہے کہ نتیش سورنوںکے دشمن ہیں اور اسی لیے پورے بہا ر میںسورنوں کو ہی چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مظفر پور میںفی الحال سمیر قتل کیس ’ا علیٰ بنام پچھڑا‘ بنانے میںسب سے زیادہ دلچسپی بی جے پی کے ہی کچھ لیڈر لے رہے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ بی جے پی اسی بہانے نتیش کی سوشاسن بابو کی بچی کھچی ساکھ کو ختم کرکے انھیںسیاسی طور پر ٹھکانے لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ملک بھر میںسرخیاں بٹورنے والے اس قتل کیس کے اصلی گنہگاروںکو دبوچنے میںایس آئی ٹی اب تک ناکام کیوںہورہی ہے؟ حیرت اس بات کی بھی ہے کہ قتل میںجس طرح کے سافسٹیکیٹیڈ ویپن استعمال کیے گئے تھے ، وہ بغیر پولیس یا مرکزی ایجنسیوں کی ساز باز کے مونگیر کے سرکار ی کارخانے سے نکل کر مجرموںکے ہاتھوں تک کیسے پہنچ گئے؟ اسی لیے یہ سوال اٹھانا بھی لازمی ہے کہ کہیںسابق میئر سمیر کمار کے قتل کے تار بہار بی جے پی کے اثردار لیڈروںسے تو نہیںجڑے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *