راہل شرما نامی ملزم کورہاکرنے کاحکم جاری،جمعیۃ علما ء نے انسانی بنیادوں پر ملزم کو قانونی امداد فراہم کی: گلزار اعظمی

Gulzar-Azmi
بچہ اغوا کرنے کے جرم میں سات سال قید بامشقت کی سزاء پانے والے ایک ملزم کو آج ممبئی ہائی کورٹ نے مشروط ضمانت پررہا کیئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس بدر کے سامنے آج ملزم کی سزاء کے خلاف اپیل اور ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت عمل میںآئی جس کے دوران ملزم کو انسانی بنیادوں پر قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو نچلی عدالت نے سات سال قید بامشقت کی سزاء سنائی ہے جبکہ ملزم ابتک چار سال جیل میں گذار چکا ہے لہذا اسے ضمانت پر رہا کیا جا چاہئے۔ حالانکہ سرکاری وکیل ایس وی گوندنے ملزم کی ضمانت عرضداشت کی مخالفت کرتے ہوئے اپیل پر سنوائی کیئے جانے کی گذارش کی۔جسٹس بدر نے دفاعی وکیل کی بحث سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم راہول اشوک شرما کو ۱۵؍ ہزار کے ذاتی مچلکہ پر ضمانت پر رہا کیئے جانیکے احکامات جاری کیئے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ اس مقدمہ کی دلچسپ حقیقت یہ ہیکہ ملزم راہول شرما کی گرفتاری کے بعد اسے ممبئی کی آرتھرروڈ جیل میں رکھا گیا تھا جہاں اس کی ملاقات دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیئے گئے چند ملزمین سے ہوئی جنہوں نے راہل شرما کے مقدمہ کے دستاویزات کا مطالعہ اور راہل شرما سے گفتگو کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ملزم کو جبراً پیسہ کے عوض بچہ اغوا کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد انہوں نے جیل سے جمعیۃ کے نام خط ارسال کرکے انہیں راہل شرما کو انسانی بنیادوں پر قانونی امد اد فراہم کیئے جانے کی گذارش کی تھی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم کی درخواست موصول ہونے کے بعد ایڈوکیٹ شریف شیخ کو ملزم کے مقدمہ کی پیروی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئیجنہوں نے سیشن عدالت کے سامنے ایسے حقائق پیش کیئے جس سے عدالت کو مطئین ہونا پڑا اورملزم کو عمر قید کی سزا سے بچا لیا گیا لیکن عدالت نے اسے سات سال کی سزاء سنائی تھی جس کے بعد اس کی اپیل ہائی کورٹ میں داخل کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم راہول شرما کو انسانی بنیادوں پر قانونی امداد فراہم کی گئی تھی ۔
واضح رہے کہ استغاثہ نے ملزم راہل شرما پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کو پانچ ہزار روپئے ادھار دیئے تھے اور پیسے واپس نہیں لوٹانے کی صورت میں اس نے اس کے لڑکے کو اسکول سے اغواہ کرلیا تھا اور بعد میں اسے ممبئی کے مختلف مقامات پر لے جاکر خاتون کو فون کرکے اس سے پیسہ کا مطالبہ کرہاتھا لیکن مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ عدالت میں ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا جس سے یہ ثابت ہوتا ہوکہ ملزم نے بچہ کو پیسہ کے وعوض اغواہ کیا تھا لیکن عدالت نے ملزم کو بچہ کو اس کے والدین کی اجازت کے بغیر اپنے قبضہ میں رکھنے کے الزامات کے تحت سزا دی تھی جس کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل زیر سماعت ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *