دنیا میں60فیصد سے زائد افراد آلودگی کے سبب موت کا شکار ہوتے ہیں :پروفیسر اشوک کمار 

Prof-Ashok-Kumar
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے ذاکر حسین کالج برائے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سول انجینئرنگ شعبہ کے زیرِ اہتمام’’ آبی آلودگی اور تجربہ گاہ کی تکنیکی خصوصیات‘‘ موضوع پر ٹی ای کیو آئی پی سوئم کے تحت منعقدہ تین روزہ قلیل مدتی نصاب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ اگر بر وقت آبی آلودگی کے مسئلہ کے تدارک کی سمت میں مثبت اقدامات نہیں کئے گئے تو مستقبل میں یہ مسئلہ سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں لاکھوں افراد آلودگی کے سبب اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ہندوستان میں آبی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے اور شدید صورت اختیار کرکے زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی و گھریلو اسباب سے پانی مسلسل آلودہ ہوتا جا رہا ہے اور صاف پانی دستیاب نہ ہونے کے سبب ڈائریا و پیچش جیسے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پروفیسر منصور نے کہا کہ ہندوستان میں آبی آلودگی سب سے شدید ماحولیاتی خطرات میں سے ایک بن کر ابھر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبی آلودگی سے نبرد آزما ہونے کے لئے لوگوں کو تعلیم یافتہ و بیدار کیا جانا ضروری ہے۔وائس چانسلر نے توقع ظاہر کی کہ یہ قلیل مدتی پروگرام اساتذہ، شرکاء و ریسرچ اسکالرس کے لئے کافی مفید ثابت ہوگا۔
پروگرام کے اعزازی مہمان امریکہ کے بوسٹن میں واقع ہارورڈ میڈیکل اسکول میں وزیٹنگ پروفیسر اور آئی آئی ایم ٹی اے کے ایس یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر پروفیسر اشوک کمار نے کہا کہ دنیا میں60فیصد سے زائد افراد آلودگی کے سبب موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ اعداد و شمار ایڈس، ٹی بی اور ملیریا جیسے امراض سے موت کا شکار ہونے والوں سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں آلودگی سے مرنے والی92فیصد آبادی کم یا درمیانی آمدنی والے ممالک کی ہے اور آلودگی کے سبب ہی ان ممالک کی جی ڈی پی اضافہ کی شرح میں تنزلی درج کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کے سول انجینئرنگ شعبہ سمیت دیگر شعبے اپنی اپنی تکنیک و اپنے پروڈکٹ کو فروغ دے کر زیادہ آمدنی حاصل کرکے اپنے تعلیمی ڈھانچہ کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔پروفیسر اشوک کمار نے کہا کہ وہ اس ادارہ کے طالب علم رہ چکے ہیں جس پر انہیں فخر ہے۔
انجینئرنگ فیکلٹی کے ڈین پروفیسر بی ایچ خاں نے کہا کہ آبی آلودگی کے مسئلہ سے انسان تو متاثر ہوتے ہی ہیں، آبی جاندار اور چرند پرند بھی اس سے بڑی حد تک متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شفاف پانی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔انجینئرنگ کالج کے پرنسپل پروفیسر ایم ایم سفیان بیگ نے کہا کہ آبی آلودگی زمین پر زندگی کے لئے ہر طرح سے خطرناک ہے چاہے وہ زندگی انسانوں کی ہو، چرند، پرند ، درندیا پیڑ پودوں کی،اس لئے انسانوں، پیڑ پودوں اور دیگر جانداروں کی حفاظت کے لئے آبی آلودگی کا تدارک تلاش کرکے اس مسئلہ کو حل کیا جانا بے حد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سول انجینئرنگ شعبہ اس سمت میں جو تربیت مہیا کرا رہا ہے اس سے اس مسئلہ کے حل میں یقینی طور پر مدد ملے گی۔
مہمانان کا خیرمقدم کرتے ہوئے سول انجینئرنگ شعبہ کے سربراہ پروفیسر محمد مزمل نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی انسانوں کے ذریعہ انجام دی جانے والی سرگرمیوں اور ترقی کا نتیجہ ہوتی ہے جب مادّی ، حیاتیاتی اور کیمیائی عناصر آب و ہوا میں چھوڑے جاتے ہیں جو انسانی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ماحول کو خراب کردیتے ہیں۔آلودہ پانی سے پیدا ہونے والے امراض سے ہر سال تقریباً چار ملین لوگ موت کا شکار ہوجاتے ہیں جس میں زیادہ تر بچے ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ فضائی آلودگی دنیا میں سب سے زیادہ اموات کا باعث بنی ہوئی ہے اس سے ہر سال6.4ملین اموات ہوتی ہیں۔ ایڈس، ملیریا اور تپِ دق سے ہونے والی اموات سے یہ تین گنا زیادہ ہے۔ اس سمت میں ہمیں بہت کام کرنا ہے ،ٹیکنالوجی میں جیسے جیسے ترقی ہوگی ہم پانی کی سپلائی کی حفاظت کے طریقوں کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت ہم میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے۔
پروگرام کو آرڈینیٹرڈاکٹر سہیل ایوب نے کہا کہ یہ پروگرام آبی آلودگی اور اسے ناپنے کی تجربہ گاہ کی تکنیک کی تربیت اوراس کے بارے میں معلومات کو بہتر بنانے کے مقصد سے منعقد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں خاص کر ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں خراب ہوتے ماحولیات سے نپٹنے کے لئے کافی غور وخوض ہورہاہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کا صحیح حل تب ہی ممکن ہے جب ہمارے پاس درست جانچ کرنے کی معیاری تکنیک موجود ہو۔اس پروگرام کی ایک خاص بات اے ایم یو کیمپس میں موجود سوئنگس ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا دورہ ہے۔ یہ ایک بے حد جدید پلانٹ ہے جس میں گندے فاضل پانی کو قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔نظامت کے فرائض سول انجینئرنگ شعبہ کے اسسٹنٹ پروفیسر عمر مجتبےٰ خاں نے انجام دئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *