سیاست کی ضرورت ہے ملک کومتوازن رکھنے کیلئے

لوک سبھا انتخابات آئندہ سال ہیں۔ابھی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ لوگوں کی نظر ہے ان انتخابات پر۔مودی جی کے کٹرحمایتی کہتے ہیں کہ بی جے پی سب جگہ جیتے گی۔ اپوزیشن کے لوگ کہتے ہیں کہ بی جے پی کی حالت پتلی ہے۔ میں بھی راجستھان سے ہوں اوروہاں سال میں دوچار بار جاتاہوں۔ وہاں بی جے پی کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ سوچ ہی نہیں سکتی ہے کہ اسے کتنی سیٹیں ملیں گی۔مدھیہ پردیش میں کسان ریاستی سرکار کے خلاف ہے۔ کسان جس کے خلاف ہے ، اس کا جیتنا مشکل ہے۔ چھتیس گڑھ میں مقابلہ سہ رخی ہے۔اجیت جوگی اور مایاوتی نے ایک فرنٹ بنایاہے۔ لیکن اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ تینوں ریاستوں میں ایک پیٹرن پر رزلٹ آئے گا یا تو محنت کرکے بی جے پی اپنے آپ کو بچالے گی یا اڑ جائے گی۔تلنگانہ میں تونہ کانگریس ہے نہ بی جے پی۔وہاں تلنگانہ راشٹر سمیتی(ٹی آرایس ) ہے۔
الیکشن میں کیا ہوتاہے، کیو ں ہوتاہے، یہ آج تک کوئی بتا نہیں پایا۔ ونسٹن چرچِل دوسری عالمی جنگ جیتنے کے بعد الیکشن ہارگئے۔ کیوں ہارگئے؟ پتہ نہیں۔ عوام کیا سوچتے ہیں، ان کی نفسیات کیاہے، کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔ 2014میں جس مقبولیت سے، جس اعتماد سے مودی اقتدار میں آئے تھے، اس کا توآج 40فیصد بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔ رافیل ڈیل کی چھینٹیں تو پڑیں گی ہی۔انگریزی میں ایک کہاوت ہے جس کا مطلب ہے کہایماندار دِکھنا بھی ضروری ہے۔ رافیل میں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ ہر بات چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 

 

 

 

اگر مودی جی نے امبانی کا نام دیا ہے تو سینہ ٹھونک کر کہنا چاہئے کہ میں نے دیا ہے، اس میں کیا غلط ہے۔ امبانی ہندوستان کے معروف صنعتکار ہیں۔کیا ملک میں کیرانہ دکاندار رافیل بنائے گا؟ہاں، یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ امبانی کو کیوں دیا، بڑلا کو کیوں نہیں دیا؟ سرکار کو فیصلہ لینا ہے، پھر ڈرتے کیوں ہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ کہیں کچھ گڑ بڑ ہے۔ سرکار کو لگ رہا ہے کہ ہم ایسا کچھ کر رہے ہیں جو صحیح نہیں کررہے ہیں۔ میں ان کا صلاح کار ہوتا تو کہتا ڈریئے مت آپ۔ انل امبانی کا نام ہم نے لیا، ہم سمجھتے تھے کہ وہ قابل ہیں ، ان کو لائسنس دیا ہے۔6 کمپنیوں کو دیا ،ان میں سے ایک وہ ہیں، اس میں خرابی کیا ہے۔
لیکن پرسیپشن چینج ہو گیا ہے۔ٹیکسی ڈرائیور سے، چھوٹے آدمی سے پوچھئے تو وہ کہے گا کہ مودی اتنے صاف نہیں ہیں جتنا دکھا ئی پڑرہے تھے۔ بدعنوانی تو اس سرکار نے بھی کر لئے۔ ہم جیسے لوگ ہمیشہ کہتے تھے کہ سب سرکاریں ویسی ہی ہوتی ہیں۔بی جے پی آخر خرچ کرنے کے لئے اتنا پیسہ کہاں سے لاتی ہے؟اس کے پاس نوٹ چھاپنے کی مشین تو نہیں ہے۔ پیسہ تو سرمایہ کاروں سے آتا ہے۔ غریب آدمی تو پیسہ دتیا نہیں ہے۔وی پی سنگھ واحد وزیر اعظم تھے، جنہوں نے کہا تھا کہ بدعنوانی کی بات ہم کو تب تک نہیں کرنی چاہئے جب تک ہم پالٹیکل فنڈنگ کا شفاف طریقہ نہ ڈھونڈ لیں۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ اس الیکشن میں کیا ہوگا؟مودی جی کے لئے سب سے خطرناک یہ ہے کہ ملک کی اقتصادی حالت چرمرا گئی ہے۔ 2014 میں جب مودی آئے تھے تب پٹرول کی قیمت کم ہو گئی تھی۔اس صورت حال کا استعمال کرنے کے بجائے سرکار نے گڈوِل بگاڑ لئے اور آج روپے سب سے کمزور حالت میں ہو گئے۔ نوکریاں مل نہیں رہی ہیں۔ نوکریاں تب ملیں گی جب فیکٹریاں لگیں گی۔فیکٹریاں لگ ہی نہیں رہی ہیں۔ خوف کا ماحول سرکار نے پیدا کردیاہے۔ کوئی کاروباری جیل نہیں جانا چاہتا ہے، بھلے فائن بھر دے۔ ہر ایک کی نیت میں تھوڑا ٹیکس کی چوری ہوتی ہے، تو کیا اس کے لئے آپ پھانسی چڑھا دیں گے اس کو، جیل میں ڈال دیں گے، یہ ذہنیت کمیونسٹوں کی تھی۔انہوں نے بھی چینج کر لیا۔ وہ سمجھ گئے کہ ان کے تعاون کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہے۔
میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ جو ٹیکس کی چوری کرے، اسے چھوٹ دے دو۔ لیکن کارروائی تو قانون کے حساب سے چلائیے۔ آپ کیا کررہے ہیں؟کیا آپ نے وجے مالیہ کی شکل دیکھ کر روپے دیا تھا یا کچھ اسیٹس گروی رکھ کر دیا تھا؟اگر ڈیفالٹ کیا تو پہلے وہ اسیٹ برآمد کرکے اپنا روپیہ برآمد کیجئے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس کو لائو، جیل میں ڈالو، یہ کون سی سرکار ہے۔ یہ جمہوری سرکار ہے یا کوئی افریقی قزاقوں کی سرکارہے۔ایک آدمی کو پکڑ لیا اور بولے کہ پیسہ دو تو چھوڑیں گے۔یہ وہ ہندوستان نہیں ہے جس کی آزادی کے لئے مہاتما گاندھی نے جدو جہد کی، قانون بنایا، سب کو شہری حقوق دیئے۔

 

 

 

 

چار سال میں مودی جی نے ٹھنڈے پانی میں رکھ کر اتنا گرم کردیا کہ سب لوگ نرم ہو گئے ہیں۔ کسی کو پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا ہو رہا ہے، لوگ ہر چیز قبول کئے جارہے ہیں۔ پٹرول 90 روپے ہے تو ٹھیک ہے، 100 روپے کا ہے تو ٹھیک ہے۔ بی جے پی والوں کی دلیل ہے کہ جس کے پاس کار خریدنے کے پیسے ہیں، اس کے پاس پٹرول کے پیسے بھی ہیں۔ مطلب جس نے ای ایم آئی میں کار لیا وہ پٹرول بھی ای ایم آئی میں لے گا۔ کیا کررہے ہیں آپ؟کیا کہہ رہے ہیں آپ؟
ایک ڈوبھال صاحب ہیں، نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ۔ ٹھیک ہیں ’را‘ میں ، آئی بی میں رہ چکے ہیں لیکن ان جیسے لوگوں سے ہی ملک چلتا تو پاکستان سب سے بہتر ملک ہوتا ۔سیاست کی کیا ضرورت ہے؟۔ ہم لوگ بھاڑے کی دکان بند کرکے جائیں گھر۔ سیاست کی ضرورت ہے ملک کو متوازن رکھنے کے لئے۔یونیفارم لوگ اپنا کام کرتے رہیں۔ اب یونیفارم لوگ بھی پالیسی بنائیںگے تو پاکستان و ہندوستان میں فرق کیا ہے۔ یہاں تو ساری پالیسی کااعلان کرتے ہیں ڈوبھال یا آرمی چیف بیپن راوت۔ سول گورنمنٹ کی ساکھ یہ لوگ گرا رہے ہیں۔ آپ کس طرح کی سرکار چاہتے ہیں؟ عوامی سرکار چاہتے ہیں جس میں آپ کی آواز ہو یا ایسی سرکار جہاں پولیس کے ڈنڈے ہوں، فوج کی بندوق ہو۔
بی جے پی والے ایمرجینسی کی تنقید کرتے ہیں، کام وہی کررہے ہیں جو ایمرجینسی میں ہوا تھا۔ اندرا گاندھی نے غلطی سمجھتے ہوئے اسے صحیح کر دیا لیکن ان کو صحیح کرنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ اب تو اگر مودی جی پھر منتخب ہوکر آتے ہیں تو ان کے سر پر گھڑا پھوٹ جائے گا۔ کیونکہ جو مصیبت انہوں نے پیدا کر لی ہیں، اسے سلجھا ہی نہیں پائیںگے۔ ان کے لئے بہتر یہ ہے کہ ایک بار ہار جائیں، دوسرا آکر تھوڑا سلجھا دے۔ پھر یہ پبلک میں معافی مانگ کر دوبارہ اقتدار میں آجائیں۔
موجودہ وزیر اعظم کا مزاج نہیں ہے صلاح مشورہ کرنے کا۔ یہ سمجھتے ہیں کہ میں بودھ بھگوان ہوں ، گرو نانک ہوں ، جیسس کرائسٹ ہوں۔ ایسے تو بات بنتی نہیں ہے۔ جمہوریت میں سب سے صلاح کرنی چاہئے۔ بی جے پی والے جواہر لعل نہرو کی تنقید کرتے ہیں۔ نہرو کی کابینہ میں تو بی آر امبیڈکر تھے، شیاما پرساد مکھرجی تھے، جو کانگریس سے نہیں تھے۔ نہرو میں اتنی طاقت تھی کہ وہ سب کو ساتھ میں لے کر سرکار چلا سکتے تھے۔ مودی تو اپنے گٹھ بندھن کے ساتھیوں کی بھی نہیں سنتے ہیں۔کوئی بھی اہم وزارت انہوں نے اپنے اتحادیوں کو نہیں دیا ہے۔ تمام اہم وزارتیں صرف بی جے پی کے پاس ہیں، چاہے وہ وزیر ردی ہو۔ ایک مثال دیتا ہوں۔ مہیش شرما وزیر ثقافت ہیں۔ ان سے ردی وزیر ملنا مشکل ہے۔لیکن ٹھیک ہے سنگھ کے چہیتے ہیں وہ، کوئی ان میں خوبی نہیں ہے۔
یہ ملک بہت بڑا ملک ہے۔ بہت پراناملک ہے۔ 125 کروڑ آبادی ہے۔ یہاں کی سوچ اتنی پرانی ہے کہ آپ کا دل بہت بڑا ہونا چاہئے اس سوچ کو سمونے کے لئے اور اس کے حساب سے ملک چلانے کے لئے۔ ان کی سوچ میونسپل لیول کی ہے۔ میونسپل لیول بھی اہم ہے۔ میں نہیں کہتا ہوں کہ سڑک کا نام بدل دو، یہ کر دو، مغل تاریخ کے صفحے مٹا دو ۔تاریخ کے صفحات مٹانے سے تاریخ کیسے مٹے گی؟الٰہ آباد کا نام پریاگ راج کر دو، یہ کیا بچپنا ہے۔ اورنگ زیب روڈ کا نام بدل دیا۔ تاریخ ایسے نہیں ہوتی ہے۔ نئی تاریخ بنائیے۔
اس سرکار نے اتنی بڑی بڑی باتیں کی۔ کچھ نہیں ہوا چار سال میں۔ دو چیزیں ہوئیں، ایل ای ڈی بلب اور لیٹرن۔دو چیزوں میں جزوی کامیابی ملی ہے اور بجلی ہر جگہ پہنچ گئی ہے،یہ صرف بولنے کی بات ہے۔ بجلی گائوں کے ہر گھر میں پہنچی نہیں ہے۔ موجودہ سرکار کا دور کار ختم ہونے کو آیا ہے۔ اب زیادہ کچھ کرنے کے امکانات ہیں نہیں ۔فی الحال اتنا ہی کرنا چاہئے تاکہ اقتصادیات اور نیچے نہ گرے۔ ایسا مت کیجئے کہ اگلی سرکار ، چاہے کسی بھی پارٹی کی ہو، کچھ کر ہی نہیں سکے۔ انگریزی میں ہم لوگ کہتے ہیں، ’ ڈانٹ لیو دی اکانومی اَن مینیجبل اینڈ دی کنٹری اَن گورنیبل ‘‘۔
Photo Modi

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *