پنچایت نے سنایا تغلقی فرمان 

Titoli-village

پنچایت سماج کو جوڑنے کا کام کرتا ہے لیکن کبھی کبھی تعصب اور مذہبی جانبداریت آنکھوں پر پٹی لگا دیتی ہے اور پنچایت سے ایسے فیصلے سنائے جاتے ہیں جو کہ تغلقی فرمان ہوتے ہیں۔ایسا ہی ایک فیصلہ دہلی سے قریب روتک کے ایک گاؤں ٹٹولی میں سنایا گیا ہے۔

 

 

ٹٹولی کی کل آبادی تقریباً20 ہزار ہے جس میں تقریباً125خاندان مسلمانوں کے بھی ہیں۔پنچایتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گاؤں کے رہنے والے کسی بھی مسلمان کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ لمبی ڈاڑھی رکھیں اور نہ ہی انہیں عربی نام رکھنیکی اجازت ہوگی ، انہیں اپنے بچوں کا نام ہندی میں رکھنا ہوگا ، عوامی جگہ پرکوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی اور قبرستان کی جو زمین ہے اسے دھان کٹائی کے بعد پنچایت میں شامل کیا جائے گا اور قبرستان کے لئے پنچایت الگ سے کوئی جگہ فراہم کرائے گی۔

 

 

’’چوتھی دنیا‘‘ نے اپنے ذرائع سے گاؤں کے کچھ لوگوں سے رابطہ کیا اور صورتحال معلوم کرنی چاہی توجو لوگ گاؤں کے اندر ہیں وہ بولنے میں خوف محسوس کرتے ہیں ۔البتہ جو لوگ گاؤں چھوڑ کر چلے گئے ہیں،ان میں سے ایک امام الدین سے بات چیت کرنے پرانہوں نے کہا کہ میں داڑھی رکھتا ہوں اور اس فیصلے کے بعد میرے لئے وہاں رکنا مشکل تھا ۔اس لئے میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ گاؤں چھوڑ کر پانی پت آگیا ہوں۔ یہ پوچھنے پر کہ اس فیصلے پر مسلمان کس حد تک راضی ہیں تو انہوں نے کہا کہخوف اور ڈر کی وجہ سے کوئی فیصلے کے خلاف زبان نہیں کھول سکتاہے۔ٹٹولی کے ہی ایک مسلم باشندہ پھوپ نے کہا کہ گاؤں میں رہنا ہے تو اس فیصلے کو ماننا ہی پڑے گا۔البتہ پھوپ نے دیگر سوالوں کے جواب نہیں دیئے۔
اس سخت فیصلے کے پیچھے کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کے بارے میں الگ الگ باتیں کہی جارہی ہیں۔ اکثریتی طبقے کا کہنا ہے کہ عید الاضحی کے موقع پر یامین نام کے ایک آدمی نے ایک بچھڑی کو ذبح کیا تھا جبکہ بچھڑی کی قربانی قطعی ممنوع ہے لیکن دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ گاؤں میں کسی نے بھی بچھڑی کی قربانی نہیں کی بلکہ چوٹ لگنے کی وجہ سے اس بچھڑی کی موت ہوئی جس پر کچھ لوگوں نے ہنگامہ کیا اور کہا کہ اس کی قربانی دی گئی ہے۔

 

 

 

دراصل22 اگست2018 کو عید الاضحی کے دن یامین نامی شخص کی ڈھائی سال کی بھتیجی آنگن میں کھیل رہی تھی کہ ایک کھلی گھوم رہی بچھڑی نے اس ڈھائی سالہ بچی کو سینگ ماردیا۔بچی کی چیخ سن کر اس کا چچا یامین دوڑتا ہوا آیا اور گائے کو حملہ آور دیکھ بھگانے کے لئے اس کے سر پر ڈنڈا مارا۔کئی ڈنڈے لگنے کے بعد بچھڑی وہاں سے بھاگ گئی اور بچی بچ گئی لیکن بعد میں وہ بچھڑی مری ہوئی پائی گئی۔اسی کو لیکر پورے گاؤں میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یامین کو گھیر لیا گیا۔یامین نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اس کا ارادہ ہرگز گائے مارنے کا نہیں تھا بلکہ اس نے اپنی بھتیجی کو بچانے کی خاطر گائے کو بھگانے کے لئے ڈنڈا مارا تھا۔
حالانکہ یہ بھی تفتیش کا موضوع ہے کہ وہ بچھڑی کیسے مری؟کیوں کہ محض ڈنڈا مارنے سے کوئی جانور نہیں مرتا۔خیر اس وقت تو یامین کی معافی پر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا،لیکن کچھ ہی دیر کے بعد اشتعال انگیز نعرے بازی کرتے ہوئے کچھ شرپسندوں نے یامین اور آس پاس کے مسلم گھروں پر حملہ بول دیا اور گھروں میں جم کر توڑپھوڑ مچائی۔غنیمت یہ رہی کہ ان کے ہاتھ گھر والے نہیں لگے ورنہ جانیں بھی جاسکتی تھیں۔یہی نہیں وہاں کے مسلمان ایک برآمدے میں جمع ہوکر نماز ادا کرتے تھے، اس مقام کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مولانا سہیل قاسمی کا کہنا ہے کہ اس وقت کچھ شدت پسند عناصر ملک کی سا لمیت کے لئے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں اور یہ مختلف جگہوں پر مسلمانوں کو ہراساں کرتے رہتے ہیں۔ان کے خوف کی وجہ سے کوئی بھی زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ کسی ڈاڑھی والے کو بستی میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا ہے۔

 

 

بتایا جاتا ہے کہ اس گاؤں میں رہنے والے مسلمان انتہائی غریب لوگ ہیں۔ان کا گزر بسر دیگر طبقوں کے یہاں کام کرنے پر منحصر ہے۔ ان پر کچھ شدت پسند ہندو ؤں کا دباؤ بھی تھا۔ اس دباؤ کی وجہ سے وہ سب خوفزدہ تھے، لہٰذا ان کے سامنے اس فیصلے کو ماننے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں بچا۔ مسلم ایکتا منچ کے پریسڈنٹ شہزاد خان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ غیرآئینی ہے ۔مگر وہاں کے لوگ اس فیصلے کے خلاف بولنے سے ڈرتے ہیں۔ جس طرح اخباروں میں لکھا جارہا ہے ،معاملہ ویسا نہیں ہے، بلکہ ان کی رضامندی کے پیچھے ان کا خوف چھپا ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *