اب توعدلیہ میں بھی کم ہوتے جارہے ہیں مسلمان

ملک کے مختلف تعلیمی اداروں اورسرکاری ملازمتوں میں تومسلم تعداد کم ہے ہی جس کا اعتراف ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی والی یوپی اے حکومت کے ذریعے تشکیل کی گئی سچر کمیٹی 2006میں کرچکی ہے۔ البتہ پرائیویٹ ٹیکنیکل تعلیمی اداروں کے گذشتہ 20-25برسوں میں کھلنے سے ان شعبوں میں مسلم تعداد بڑھی ہے جس کے سبب پرائیویٹ سیکٹر میں مختلف فرموں اورکمپنیوں میں اب پہلے کے مقابلے مسلمان کچھ زیادہ دیکھے جارہے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ مثبت اوراچھی خبرہے۔ مگریہ بری خبرہے کہ مجموعی طورپر عدلیہ میں مسلمان کم ہوتے جارہے ہیں۔
یہ بات تشویشناک ہے کہ حیدرآباد ہائی کورٹ اورجموں وکشمیر ہائی کورٹ کوچھوڑ کر 2010سے یعنی سچرکمیٹی رپورٹ کے آنے کے بعد بھی دیگرہائی کورٹوں کے ججوں میں مسلم نمائندگی مختلف ریاستوں میں مسلم آبادی کے تناسب میں انتہائی کم ہے اور مسلسل کم ہوتی بھی جارہی ہے۔
ریاست بنگال ،جہاں گذشتہ 20برسوں (1991سے 2011) میں مسلم آبادی 23.6فیصد سے 27فیصد ہوگئی ہے، میں1991میں 25فیصد کے مقابلے 2011میں مسلم ججز کل ججوں کے محض 8فیصد رہ گئے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسلم ججوں میں اس ریاست میں 17فیصد کمی ہوئی ہے۔اسی طرح ریاست کرناٹک، جہاں آدھی صدی (1961سے 2011) میں مسلم آبادی 9.87فیصد سے 12.9فیصد ہوگئی، میں 1961میں کرنا ٹک ہائی کورٹ میں 67فیصد مسلمان ہوا کرتے تھے جوکہ 2011میں کم ہوکر 2.9فیصد تک جاپہنچے۔اسی دوران جبل پور ہائی کورٹ کے ججز 14.3 فیصد سے گھٹ کر 2.9فیصد تک آگئے جبکہ مدھیہ پردیش میں مسلم آبادی اس بیچ 4فیصد سے 6.6فیصد بڑھی۔ یہی حال پٹنہ ہائی کورٹ کاہے جہاں 1951میں 25فیصد مسلم ججز ہواکرتے تھے، یہ 2011میں کم ہوکر محض 5.4فیصد رہ گئے۔ قابل ذکر ہے کہ اس دوران ریاست بہار کی مسلم آبادی 12.45فیصد سے بڑھ کر 16.9فیصد ہوگئی ۔

 

 

 

 

اب آئیے، ذرا ملک کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ کا حال دیکھتے ہیں۔1950کی دہائی میں سپریم کورٹ میں تقرر کئے گئے 24ججوں میں صرف 4یعنی 16.6فیصد مسلمان تھے جبکہ 1960کی دہائی میں نامزدگی سے تقررکئے گئے کل 16 ججوں میں ایک بھی مسلمان نہیں تھے۔ اسی طرح 1970کی دہائی میں نئے 26ججوں میں صرف 2مسلمان تھے جبکہ 1980کی دہائی میں تقررکردہ 33ججوں میں محض 4مسلمان تھے جس کا مطلب یہ ہواکہ تب مسلم نمائندگی 12فیصد ہوئی۔
اسی دوران سپریم کورٹ میں مسلم ججوں کی شرح 1980 کی دہائی کے بعد مستقل کم ہوتی رہی۔ اس کی ایک بڑی وجہ تھی ججوں میں عام نامزدگیوں کی تعداد کا بڑھنا۔قابل ذکرہے کہ 1990کی دہائی میں کل نامزدگی 40میں محض 3، 2000کی دہائی میں 49ججوں میں 2اور 2010سے 2018میں اب تک 40ججوں میں3مسلمان ہوئے ہیں۔ یہ تین ججز جسٹس ایم وائی اقبال اورجسٹس ایف ایم ابراہیم کلیف اللہ (2012) اورجسٹس ایس عبدالنظیر (2017) ہیں۔ مجموعی طورپر 2018سے قبل تک سپریم کورٹ میں تقرر کردہ کل 229ججوں میں 18مسلم ججز تھے جوکہ 8فیصد سے کچھ کم ہوئے جبکہ ملک کی مسلم آبادی کل آبادی کا 14.2فیصد ہے۔
ان حقائق سے یہ معلوم ہوتاہے کہ عدلیہ خصوصی طورپر ہائی کورٹس اورسپریم کورٹ ایسا انسٹی ٹیوشنز ہیں جہاں منتخب لوک سبھا ، منتخب ریاستی اسمبلیوں ، پولس ، فوج اور انتظامیہ کی مانند مسلمانوں کی نمائندگی بہت ہی کم ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ قوت یا اقتدار کے اداروں سے بڑی حد تک مسلمان غائب ہیں اوران اداروں میں ان کی مسلسل کم ہوتی ہوئی تعداد ان لوگوں کیلئے تشویشناک ہے جوکہ پبلک لائیف میں شمولیات یعنی انکلوژن اورشراکت داری کی فکر کرتے ہیں۔
مگراس کا مطلب یہ ہرگزنہیں نکالا جاسکتاہے کہ عدلیہ میںمسلم ججوں کی تعداد کے بڑھنے سے ہی مسلمانوں کوانصاف زیادہ مل سکے گا اورتبھی ان کا بھلا ہوگا۔ نیز ان کے مفادات کا تحفظ ہوپائے گا۔جہاں تک سپریم کورٹ اوربعض ہائی کورٹوں کا معاملہ ہے، یہاں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ عدلیہ میں مسلم ججوں کی کم یا عدم نمائندگی کے باوجودکم وبیش ہوتا رہاہے جنہیں مختلف عدالتی فیصلوں میں محسوس کیا جاسکتاہے۔ علاوہ ازیں اس سے کون واقف نہیں ہے کہ عدلیہ نے ہندوستان کے سیکولر کردار کے حق میں برابر کھڑاہے۔

 

 

 

 

ویسے کبھی کبھی کوئی فیصلہ ایسا بھی ہواہے جوکہ موضوع بحث بنا ہے۔ مثال کے طورپر جسٹس جے ایس ورما کے ذریعے ’ہندوتو‘ کونظام زندگی بتانے والا فیصلہ۔ اس سلسلے میں 25ستمبر 2018کو سی پی آئی کے رہنما آنجہانی اے بی وردھن کی یاد میں منعقد دوسرے میموریل لکچر ’سیکولرزم کادفاع اورآئین‘ کے دوران سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا ریمارک سپریم کورٹ کے جسٹس آنجہانی جے ایس ورما کے فیصلہ پرسوال کھڑاکرتاہے۔ سابق وزیراعظم نے کہہ دیاکہ ان کا فیصلہ ’مشہور‘ توہوا مگر’ متنازعہ فیہ‘ بھی بنا۔ ان کاکہناہے کہ عدلیہ کوایک انسٹی ٹیوشن کے طورپر آئین کی سیکولر روح کے تحفظ کے بنیادی فرض کو اداکر نے میں کبھی چوک نہیں کرنی چاہئے۔ سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ جسٹس ورما کے فیصلہ سے جو’پالیٹیکل سینیٹی ‘ (سیاستی سمجھداری)تباہ ہوگئی تھی، وہ بومئی فیصلہ کے حوالے سے ملک کے پالیٹیکل ڈسکورس میں بعد میں پھرسے بحال ہوگئی۔ان کے خیال میں جسٹس ورما کے فیصلہ سے ایک لاپ سائیڈیڈ پالیٹیکل ڈسکورس شروع ہوگیاتھا اوربہت سے لوگوں کا یہ خیال بناکہ اس فیصلہ کو’اوور رول‘ (منسوخ)کیاجانا چاہئے۔انہو ںنے یہ بھی یاددلایا کہ بومئی فیصلہ میں سپریم کورٹ کے 9ججوں کی بینچ نے پھرسے اعادہ کرنے کا موقع پایا کہ ’’سیکولرزم آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے‘‘۔
بہرحال عدلیہ میں کم ہوتی مسلم نمائندگی کی وجہ صرف کم مسلم ججوں کی تقرری ہی نہیں ہے۔کیونکہ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ مسلم بچوں اوربچیوں کا رجحان لاء ایجوکیشن کے تئیں بہت کم ہوتاجارہاہے جس کے سبب قانون کی تعلیم سے آراستہ مسلم افراد کم نکل پارہے ہیں اورمسلم وکلاء میں بھی یہ تعداد کم ہورہی ہے۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ مجموعی طور پر توجہ دی جائے، تبھی عدلیہ اورقانون کے شعبہ میں تعداد بڑھ سکتی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *