اب انتخابات اور نئے وعدوں کا وقت آگیا ہے

نتین گڈکری جی کے ذریعہ ایک مراٹھی ٹی وی چینل سے کی گئی مشہور بات چیت پورے ملک میں موضوع بحث بنی۔ اس بات چیت میں نتین گڈکری نے کہا ہے کہ ہمیں یہ بھروسہ نہیں تھا کہ ہم انتخابات جیتیں گے،اس لئے ہمیں یہ رائے ملی کہ جتنے طرح کے وعدے ہو سکتے ہیں، وہ وعدے ہم ملک کے عوام سے کریں۔ جب یہ بات چیت سب کے سامنے آئی تو اس کی تنقید شروع ہوئی اور اس پر بحث شروع ہوئی۔ اس کے بعد فورا ً نتین گڈکری کا ایک تردیدی بیان آیا کہ اس بات چیت کو معاملے سے الگ ہٹ کر دیکھا جارہا ہے۔اس کا کیا تناظر ہے، یہ ہم نے جاننے کی کوشش کی۔ نتین گڈکری ان لوگوں میں آتے ہیں جو حوصلہ بھی رکھتے ہیں، ہمت بھی رکھتے ہیں اور صاف صاف بولتے بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی وزارت کو چست درست بنایا ہے، تاکہ ملک کو لگے کہ اگر کوئی ایک وزارت کام کر رہی ہے تو وہ نتین گڈکری جی کی سڑک ٹرانسپورٹ اور ہائی وے کی وزارت ہے۔ اب وزیر اعظم نے انہیں گنگا صفائی کا بھی کام سونپ دیا ہے۔ اس کام میں وہ کتنا کامیاب ہو پائیں گے، یہ تو بعد میں پتہ چلے گا۔
لیکن انہوں نے صاف صاف بات کی اور یہ کہا کہ ان کی بات کو ان کے معاملے سے الگ کاٹ کر دیکھا جارہا ہے جو مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے اس کا ذکر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کا نام لے کر کیا۔ لیکن مہاراشٹر کے انتخابات تو لوک سبھا انتخابات کے بعد ہوئے تھے۔ سارے وعدے تو لوک سبھا انتخابات میں کئے گئے تھے، لوگوں کی توقعات لوک سبھا انتخابات سے جاگی تھیں۔چاہے وہ پاکستان سے متعلق بات چیت ہو، روزگار ، گنگا صفائی ، ڈیزل وپٹرول کی قیمتیں کم کرنے، دفعہ 370 ختم کرنے، رام مندر بنانے، گئو کشی روکنے، علاحدگی پسند لیڈروں کی سہولتیں بند کرنے ، جوانوں کے کھانے کے معیار کو سدھارنے، اویسی اور رابرٹ واڈرا کو جیل بھیجنے، ڈالر کے مقابلے روپے کے گرتے ہوئے ویلو کو روکنے، کالا دھن لانے، لوگوں کو 15لاکھ ورپے دینے، خواتین پر مظالم روکنے، دہشت گردی اور نکسلواد کی کمر توڑنے، کسانوں کی خود کشی روکنے، سب کو رہائش دینے، کامن سول کوڈ لاگو کرنے، لوک پال لاگو کرنے، ٹیکس سدھار کرنے، انسپیکٹرراج ختم کرنے، اسکول ، اسپتال اور کالج کھولنے، جیسے دیگر وعدوں کی بات ہو یا پھر اسٹارٹ اپ انڈیا، میک ان انڈیا، اسمارٹ سٹی، آدرش گرام جیسے خوابوں پر یقین کرنے کی بات ہو، ملک کے عوام نے بی جے پی کی جھولی میں اتنے ووٹ ڈال دیئے، جتنے انہوںنے خود بھی نہیں سوچے تھے۔
سرکار بننے کے بعد بی جے پی کا حوصلہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ انہوں نے ہر انتخاب میں ہرریاست سے کانگریس کو ہٹانے کی تیاری نہ صرف شروع کر دی، بلکہ کامیابی کے ساتھ کانگریس کو ہٹا بھی دیئے۔ انہوں نے کہا کہ جب دہلی میں ہماری سرکار ہے تو اگر ریاست میں بھی ہماری سرکاریں ہوں گی تو ترقی بہت اچھی ہوگی۔ وہ سارے وعدے جو مودی جی نے انتخابات میں کئے یا وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے جس طرح اپنا ایجنڈا بنایا، وہ تبھی لاگو ہو سکتا ہے جب ریاستوں میں بھی وزیر اعظم مودی کے نظریہ والی سرکاریں ہوں۔

 

 

 

کارکنان بھی پُرجوش تھے، لیڈر بھی پُرجوش تھے، ملک کے عوام بھی پُرجوش تھے اور انہوں نے وہ سب وزیراعظم مودی کی جھولی میں ڈالا جو انہوں نے چاہا۔ لیکن اب جب نتین گڈکری کہتے ہیں کہ میری بات معاملے سے ہٹ کر دیکھی جارہی ہے، تو نتین گڈکری غلط کہتے ہیں۔ نتین گڈکری دراصل ملک کو یہ بتا رہے تھے کہ ملک میں جتنی توقعات جاگی ہیں، وہ اس لئے جاگی ہیں کیونکہ ہم نے اتنے زیادہ وعدے کر لئے اور ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ مرکز میں ہماری سرکار بنے گی۔
مہاراشٹر کا الیکشن ملک کا مستقبل بدلنے والا الیکشن نہیں تھا۔ زبانوں کے اوپر لوگوں کو رجھانے کا الیکشن نہیںتھا۔ وہ 2014 کے عام انتخابات تھے جس سے مرکز میں سرکار بدلی ۔ اس لئے اب گڈکری جی کا یہ کہنا کہ میرے بیان کو معاملے سے الگ ہٹ کر دیکھا گیا، گلے نہیں اترتا۔ گلے صرف اتنا اترتا ہے کہ انہوں نے ایک سچائی بیان کی کہ ہم نے جب جیسا موقع پایا،ملک کے ہر آدمی سے ایسے وعدے کئے، جس سے وہ خوش ہو گیا۔ اچانک کئے گئے ان وعدوں سے ملک کے لوگوں نے انہیں ووٹ دے دیا اور ان کی سرکار بن گئی۔ جب سرکار بن گئی تو انہیں یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ سرکار چلائیں کیسے۔
اب نئے انتخابات آنے والے ہیں۔ ملک کو ایک بھی ایسا کل وقتی وزیر خزانہ نہیں ملا جو اپنے موضوع کو جانتاہو۔ قانون میںماہر ارون جیٹلی ملک کے وزیر خزانہ ہیں۔وزارت خزانہ کی حالت ہمارے سامنے ہے۔ ملک کو کوئی کل وقتی وزیر دفاع نہیں ملا۔ ابھی جو وزیر دفاع ہیں، وہ وزارت دفاع کے کم، وزیراعظم مودی یا بی جے پی کے بچائو میں زیادہ لگی رہتی ہیں۔ وزارت تعلیم کی تباہی انہوں نے کی جنہیں وزارت تعلیم کا اے بی سی ڈی بھی نہیں آتا۔ وزیر اعظم مودی کی سرکار میں بھی جو وزیر نہیں ہیں،بیوروکریٹ ہیں، ان میں اپنے اپنے موضوعات کے ماہرین کی تعداد بہت ناقابل یقین ہے اور شاید اسی لئے ملک دفاع، دہشت گردی، اقتصادیات ، ہر مورچے پر ہچکولے کھا رہا ہے۔ اگر اس کا ذرا بھی اندازہ بی جے پی کو انتخابات کے وقت ہوتا تو وہ ایسے لوگوں کی تلاش شرع کرتی جو ملک کو ترقی کے راستے پر لے جانے والے موضوعات کے ماہر ہیں۔
لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ اگر چنے ہوئے لوگ اس درجے میں نہیں آتے تو وزیر اعظم مودی نے باہر سے ماہرین کو اپنی ٹیم میں کیوں نہیں لیا؟ کوئی بھی ماہر نہیں ہوتا لیکن وہ ماہر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں اگر کار چلانی نہیں آتی تو ہم اچھا ڈرائیور رکھتے ہیں۔ جو جس موضوع کا جانکار ہو ، وہ جب اس موضوع کو دیکھتا ہے تو ملک کم ہچکولے لیتا ہے۔ لیکن ابھی تو پوری کابینہ ہی ان لوگوں سے بھری پڑی ہے، جو اس موضوع کے جاننے والے ہیں ہی نہیں ۔یہ سب دیکھنے پر نتین گڈکری کی بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہم نے بغیر تیاری کے وعدوں کی بنیاد پر سرکار تو بنا لی، لیکن اس کے بعد گاڑی ہچکولے کھانے لگی۔

 

 

 

اتنا ہی نہیں، وزیر اعظم دفتر میں ایسے لوگ بھرے ہوئے ہیں جو وزیر اعظم مودی کے لئے لکھی جانے والی تقریر یا انہیں دیئے جانے والے ٹاکنگ پوائنٹس کو بھی کراس چیک نہیں کرتے ہیں۔ اسی لئے وزیر اعظم کے منہ سے اتنے سارے عظیم سچ بلوائے جارہے ہیں، جس میں سب سے تازہ سچ یہ ہے کہ اس ملک کے 125 کروڑ لوگوں کو ان کے گھر کی چابی دے دی گئی ہے۔ یعنی اس ملک کے 125 کروڑ لوگوں کو چھت مل گئی ہے ، گھر مل گیا ہے۔ ایسا گھر مل گیا ہے، جس میں تالا لگایا جا سکے۔ باقی چیزوں کے بارے میں تو اس ملک کے لوگ آس پاس دیکھ ہی رہے ہیں، لیکن یہ ایک مثال بتاتی ہے کہ وزیر اعظم مودی کے ذریعہ ہرروز عوام کو عظیم سچ پیش کرنے والی ٹیم کتنی بامعنی ٹیم ہوگی۔ اتنا تو ضروری ہی ہوگا کہ ہر وزیر کے ساتھ سنگھ کے ایک نامزد آدمی کو ایسے جاسوس میں ڈھال دیا گیا ہے، جس سے نہ صرف وزیر ڈرتا ہے، بلکہ سکریٹری بھی ڈرتا ہے۔میں یہ ساری بات اس لئے لکھ رہا ہوں کیونکہ اب ترقی کا وقت گیا۔ انتخابات اور نئے وعدوں کا وقت آگیا ہے۔ اب یقینا دفعہ 370، پاکستان سے لڑنے اور رام جنم بھومی جیسے ایشوز کی بات ہوگی اور روزی روٹی، مہنگائی ، بدعنوانی اور بے روزگاری جیسے سوال چھو منتر ہو جائیںگے۔
وزیر اعظم یا بی جے پی کو یہ صورت حال اس لئے زیادہ راس آرہی ہے کہ اپوزیشن کے لوگ ان سے بھی زیادہ کوڑھ مغز ہیں۔وہ بھی ان سوالوں کو نہیں اٹھاتے ہیں جو اس ملک کے عوام کو چھوتے ہیں۔ انہیں لگ رہاہے کہ رافیل کا سوال بوفورس کی طرح لوگوں کو متھے گا۔ دو دن پہلے مجھ سے کچھ لوگ ملنے آئے جو بی جے پی سے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ رافیل ڈیل سے آپ کو ڈر نہیں لگتا؟لیکن پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ یہ بتائیے کہ رافیل ڈیل کہاں تک پہنچی ہے؟انہوں نے مسکراتے ہوئے ایک بات کہی کہ رافیل کبھی بوفورس بن ہی نہیں سکتا، کیونکہ بوفورس کو اٹھانے والا کون تھا اور رافیل کو اٹھانے والا کون ہے، یہ ذرا سوچ لیجئے، سمجھ لیجئے، دیکھ لیجئے۔ ان کی بات میں سچائی ہے یا نہیں ہے یہ تو قارئین جانیں لیکن لگتا ضرور ہے کہ سوال اٹھانے کے لئے جس ساکھ کی ضرورت ہوتی ہے، اس ساکھ کے لوگ اب اپوزیشن میں نہیں بچے ہیں۔
اب جو دور آیا ہے یا جو دور آرہا ہے، وہ کتنے امکانات لائے گا، پتہ نہیں لیکن نئے ڈر ضرور لائے گا۔ وہ ڈر برسراقتدار پارٹی کی طرف سے بھی ہوں گے اور اپوزیشن کی طرف سے بھی ہوں گے۔ ان دنوں جمہوریت کے نام پر جو روایات اور تشریحات بنائی جارہی ہیں یا سامنے رکھی جارہی ہیں ،وہ بتاتی ہیں کہ ہم میں راستہ دیکھنے کی طاقت سچ مچ نہیں بچی ہے۔ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے، اس کا کوئی پیمانہ اب ہمارے سامنے نہیں ہے۔ جتنی زیادہ تشہیر ، جتنا زیادہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کر لیں اور جو لوگ جس خبر کو صحیح مان لیں، وہی سچ ہے۔ بھلے ہی اس میں سچ کا اثر ذرہ برابر نہ ہو،اس لئے اب تو سچ اور جھوٹ دیکھنے کی نظر ، سچ اور جھوٹ کی تشریح اور سچ اور جھوٹ کو سمجھنے کی طاقت،ملک میں کتنی بچی ہے، یہ آنے والے وقت میں صرف ایک ہی طاقت طے کرے گی اور وہ ہے اس ملک کے عوام ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *