کشمیر میں نئی نسل پشت بہ دیوار

11اکتوبر کو سرحدی ضلع کپوارہ کے شارٹ گنڈ قلم آباد گائوں میں فورسزنے کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں پی ایچ ڈی اسکالر منان بشیروانی کو اسکے ایک قریبی ساتھی سمیت مار گرایا۔منان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے تھے لیکن وہ اسی سال جنوری میں پی ایچ ڈی کے لئے اپنی ریسرچ ادھوری چھوڑ کروادی لوٹ آئے تھے اور یہاں جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوگئے تھے ۔جب پہلی بار سماجی رابطے کی ویب سائٹوں کے ذریعے منان کی وہ تصویر وائرل ہوگئی ، جس میں اسے ایک رائفل ہاتھوں میں لئے دیکھا جاسکتا تھا ، تو سنجیدہ فکر طبقات متفکر ہوگئے۔کیونکہ وادی میں پہلے ہی کم عمر نوجوانوں کا عسکریت کی جانب میلان میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
منان جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا عسکریت سے جڑ جانے سے یہ خدشات تقویت پانے لگے کہ کہیں دیکھا دیکھی میںاسٹوڈنٹس کا ملی ٹینٹ بن جانے کا رجحان بھی فروغ نہ پائے۔کیونکہ اس سے پہلے بھی پڑھے لکھے نوجوانوں کا جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوجانے کے کئی واقعات دیکھنے کو ملے ہیں۔اسی سال کشمیر یونیورسٹی کے ایک پی ایچ ڈی ا سکالر اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق بٹ نے بھی حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔ وہ جنوبی ضلع شوپیاں میںایک انکاؤنٹر کے دوران فورسز کے ہاتھوں مارے گئے ۔ ڈاکٹر رفیق نے نیشنل الی جبلٹی ٹیسٹ(NET) 2 بار کلیئر کیا تھا۔
ایسا نہیں ہے کہ ڈاکٹر رفیق اور منان وانی جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں کا عسکریت کی راہ اپنانا کوئی غیر معمولی واقعہ ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کی کئی مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ لیکن گزشتہ دو تین سال کے دوران تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ملی ٹنٹ بن جانے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ پولیس اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ گزشتہ سال یعنی 2017میں وادی کے جن 127نوجوانوں نے بندوق کی راہ اپنا لی ، اُن میں 49نوجوانوں گریجویشن کرچکے تھے ۔
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران وادی میں عسکریت سے متعلق صورتحال میں کافی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں ، جن کو دیکھ کر وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وادی میں نئی نسل اپنے جذبات کا اظہار انتہائی پر تشدد طریقہ کار سے کرنے لگی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کئی ویڈیو کلپس میں کشمیری نوجوانوں کو فورسز پر جس شدت کے ساتھ پتھرائو کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ،وہ ماضی میں کبھی دیکھنے کونہیں ملا جبکہ پتھرائو کشمیر میں ہمیشہ احتجاجی سیاست کا حصہ رہ چکا ہے ۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ نہ صرف پتھرائو کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ پتھرائو کرنے والے نوجوانوں کی تعداد بھی غیر معمولی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2016ء اور 2017ء میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پولیس نے پتھرائو کرنے کے الزام میں 11ہزار 290نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ، جن میں سے بھاری اکثریت بعدازاں رہا ہوگئی ۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردی اعداد و شمار کے مطابق وادی میں ان دو برسوں میں پتھرائو کرنے والوں کے خلاف 3ہزار 773ایف آئی آرز درج کئے گئے ہیں۔

 

 

 

اسکے علاوہ گزشتہ چند برسوں کے دوران وادی کے پر تشدد حالات میں جو نئی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں ، اُن میں عا م نوجوانوں کا انکاؤنٹر سائٹس پر جاکر محصور جنگجوئوں کو چھڑانے کی کوشش کرنا، مارے جانے والے جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں پر جوش انداز میں شرکت کرنا ، جیسی باتیں شامل ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کشمیری نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ رجحانات ایک تشویش ناک بات ہے کیونکہ اگرنئی نسل میں متشددانہ رویے یوں ہی پنپتے رہے تو اسکے اثرات پوری قوم کے مستقبل پر حاوی ہوجائیں گے ۔ تاہم ان مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی دلی نے کشمیرمسئلے کے پر امن حل کے لئے مذاکرات کے دروازوں کو بند کرکے کشمیریوں کی نئی نسل کو پشت بہ دیوار کردیا ہے۔
سینئر صحافی اور ایڈیٹر طاہر محی الدین کا ماننا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کے متشددانہ رجحانات میں اضافہ سال 2014ء میں نئی دہلی میں مودی سرکار کے قیام کے بعد دیکھنے کو ملا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک مفصل بات چیت میں کہا، ’’ مجھے لگتا ہے کہ آج وادی کشمیر میں جو حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں ، وہ نئی دہلی کی بی جے پی سرکار نے پیدا کئے ہیں ۔ اس حکومت نے صلح رحمی، مذاکرات اور افہام و تفہیم جیسی باتوں کی کوئی گنجائش نہیں رکھی ہے۔علاحدگی پسندلیڈروں کو ان کے گھروں تک محدود کردیا ہے ۔ یہاں ہر چیز پر پابندی عائد ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کشمیرکا موجودہ نوجوان طبقہ جو 1990ء کے بعد پیدا ہوا ہے، کا اشتعال انگیز ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔‘‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ نوجوانوں ہیں ، جنہوں نے پیدا ہونے کے بعد ہمیشہ یہاں بندوقیں ، وردی ، گولیاں ، نعرے بازی، تلاشیاں کارروائیاں وغیرہ جیسی چیزیں دیکھی اور سنیں ۔ انہوں نے کہا ، ’’یہ نفسیاتی اور جذباتی سطح پر حساس بچے ہیں ، لئے ان کا ردعمل بھی غیر معمولی ہے۔ ‘‘ طاہر محی الدین کا کہنا کہ سوشل میڈیا تک نوعمر لڑکوں کی رسائی بھی پر تشدد رجحانات کے پھیلائو میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا ، ’’اگر 1990ء میں، جب یہاں مسلح تحریک بپا ہوئی ،بھی سوشل میڈیا ہوتا تو شاید اُس وقت بھی تشدد کی شدت میں اضافہ دیکھنے کو ملتا۔ ‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی سرکار کی مسلم مخالف پالیسیوں کی وجہ سے بھی نئی نسل میں غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔

 

 

 

اس صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وادی کشمیر کے موجودہ حالات میں بہتری کے کیا امکانات ہیں؟ تجزیہ کار ریاض ملک کہتے ہیں، مودی سرکار اپنی حکومت کی معیاد کے آخری مرحلے پر اپنی کشمیر پالیسی میں ذرا سی بھی لچک لانے کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔ بلکہ الٹا اس بات کاامکان ہے کہ کشمیر کے تئیںبی جے پی سرکار مزید سخت لب و لہجے اور رویہ کا اظہار کرے گی ۔ ملک نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا، ’’سال 2014ء میں نئی دہلی میں اقتدار سنبھالتے ہی بی جے پی نے جو پالیساں اختیار کرلیں ، اُن کے نتیجے میں اس حکومت کی پاکستان مخالف ، کشمیری علاحدگی پسند مخالف اور عمومی طور پر مسلم مخالف امیج پیدا ہوگئی ہے۔ خود اس حکومت نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس امیج کو بدلنے کی کوشش نہیں کی۔ اب جبکہ آنے والے ہفتوں میں نئے انتخابات کی تیاریاں شروع ہوجائیں گی ، اس مرحلے پر مرکزی سرکار کشمیر کے تئیں کسی بھی نرم پالیسی کا مظاہرہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی کشمیر میں اعتماد سازی کا کوئی بڑا اقدام کرسکے گی ۔کیونکہ یہ حکومت دیگر محاذوں پر ویسے بھی اپنے رائے دہندگان کی اُمیدوں پر کھری نہیں اُتری ہے اور اب اگر اس نے کشمیر جیسے حساس معاملے میں اپنی سخت گیر پالیسی بھی تبدیل کی تواسکی رہی سہی کسر پوری ہوگی ۔
ظاہر ہے کہ اگر نئی دہلی فی الحال اپنی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی تو یہاں کے حالات میں کسی بھی مثبت تبدیلی کی اُمید بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کب تک اس طرح کے حالات سے جھوجھنے کا متحمل ہوسکتا ہے ؟ طاہر محی الدین کہتے ہیں ، ’’ میرے خیال سے اگر ہمارے یہاں حالات مزید چند سال تک ایسے ہی رہے اور ہماری نئی نسل اسی طرح غصے اور متشددانہ رجحان میں مبتلا رہی تو کشمیر میں شام جیسے حالات پیدا ہوجانا خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔‘‘
ایک جانب مرکزی سرکار کشمیر کو فوری طور پر کوئی سیاسی رعایت دینے یا پر امن ماحول کے قیام کے لئے سلسلہ میں کوشش شروع کرنے کے موڈ میں نہیں ہے اور دوسری جانب فوج کا ’’آپریشن آل آئوٹ ‘‘ بھی جاری ہے، جس کے تحت اب تک سینکڑوں کشمیری جنگجو مارے جاچکے ہیں۔ایسی صورتحال میں آنے والے دنوں یا ہفتوں میں وادی کے حالات میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ موجودہ حالات قائم رہنے کا ہی امکان ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *