لاپتہ نجیب احمد کی ماں کی عرضی خارج،سی بی آئی داخل کرے گی کلوزررپورٹ

najeeb-ahmad
دہلی ہائی کورٹ نے جواہرلال نہرو یونیورسٹی(جے این یو) سے قریب دوسال پہلے لاپتہ ہوئے طالب علم نجیب احمدکے معاملے میں سی بی آئی کوکلوزر(بند)رپورٹ داخل کرنے کی اجازت پیرکودے دی۔ نجیب احمداکتوبر2016میں یونیورسٹی احاطے سے لاپتہ ہوگیاتھا۔جسٹس ایس مرلی دھر اورجسٹس ونودگوئل کی بنچ نے معاملے کی جانچ سے سی بی آئی کوہٹانے، جانچ کیلئے خصوصی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کرنے اورجانچ کی نگرانی کرنے کی درخواست کرنے والی ماں فاطمہ نفیس کی عرضی خارج کردیا۔جسٹس ایس مرلی اورجسٹس ونود گوئل کی بنچ نے نجیب کی ماں فاطمہ نفیس کورپورٹ کیلئے نچلی عدالت جانے کیلئے کہاہے۔عدالت نے کہاکہ فاطمہ نچلی عدالت کے سامنے اپنی شکایت کرسکتی ہیں۔
عدالت نے اس معاملے میں اپنا فیصلہ چارستمبرکومحفوظ رکھ لیاتھا۔سی بی آئی نجیب احمدکے لاپتہ ہونے کے معاملے کی جانچ 16مئی 2017سے کررہی ہے۔ایجنسی نے قریب ایک سال کی جانچ کے بعد کہاکہ اس نے سبھی پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کی اورپایاکہ لاپتہ طلبہ کے خلاف کوئی جرم نہیں ہوا ہے۔
14اکتوبر کی رات اے بی وی پی سے مبینہ طورسے جڑے کچھ طلباکے ساتھ کہاسنی کے بعد نجیب احمد 15اکتوبر2016کوجواہرلال نہرو یونیورسٹی کے ماہی مانڈوی ہاسٹل سے لاپتہ ہوگیاتھا۔نفیس کے وکیل نے عدالت کے سامنے دلیل دی تھی کہ یہ ایک ’سیاسی‘ معاملہ ہے اور’سی بی آئی‘ اپنے آقاؤں کے دباؤ میں جھک گئی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *