اسرائیل کا انکشاف شام میں ایرانی اہداف پر 200 سے زائد حملے

اسرائیل نے اپنی’نو کمینٹ ‘کی پالیسی توڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس نے گذشتہ دو برسوں میں شام میں ایرانی اہداف پر دو سو سے زائد حملے کیے ہیں۔اس کے علاوہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے عراق شام میں 2013 کے بعد سے خفیہ طریقے سے کم از کم 12 شامی باغی تنظیموں کو مسلح کیا ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے لیے صحافی اور تجزیہ کار میثم بہروش کہتے ہیں کہ جب بشار الاسد کی حکومت نے گولان کی پہاڑیوں کے مشرقی حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا تو اسرائیل نے بھی شام میں اسلحے اور پیسے کی ترسیل بند کر دی۔
اسرائیل کی اس حکمتِ عملی کا نام ‘اچھا ہمسایہ آپریشن’ ہے جس کا مقصد ایران مخالف شامی تنظیموں کو تقویت دینا ہے تاکہ ایران نواز دھڑوں کو اسرائیل کی سرحدوں کے قریب اڈے بنانے کا موقع نہ مل سکے۔دوسری طرف اسرائیل شام کے اندر ایران اہداف پر فضائی حملوں میں تیزی کرکے اہداف کو جلد ازجلد پانے کی تگ و دو میں ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ یہ اسرائیلی پالیسی میں نمایاں تبدیلی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل شام میں ایرانی موجودگی کو کسی حد تک گوارا کرتا رہا تھا، لیکن اب اس نے’صفر برداشت کی حکمتِ عملی اختیار کرلی ہے۔
اسرائیل کے اس رویے سے خطے پر دور رس اور دیر پا اثرات مرتب ہوں گے۔اسرائیل کو ایک عرصے سے تشویش رہی ہے کہ اس کی سرحد کے قریب ایران سرگرم ہے اور وہ اسرائیل کے ازلی دشمن حزب اللہ کو جدید ترین ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔اس تشویش میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب دسمبر 2016 میں بشار الاسد نے روس اور ایران کی مدد سے حلب شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس سے دولتِ اسلامیہ کی جنگی صلاحیت کو سخت دھچکا پہنچا اور ایران کو اپنی توجہ شام کے دوسرے علاقوں پر مرکوز کرنے اور اسرائیلی سرحد کے قریب اپنے فوجی موجودگی بڑھانے کا موقع مل گیا۔اس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔ شامی میڈیا کی ایک خبر کے مطابق اسی اسرائیلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے حمص کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا ہے ۔اس حملے کے نتیجے میں مبینہ طور پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب ایک ڈرون یونٹ چلا رہے تھے۔اسرائیل کھلے عام کہتا ہے کہ شام میں کسی بھی جگہ ایران فوج کی موجودگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔صحافی اور تجزیہ کار میثم بہروش کے مطابق اسرائیل کے اس جارحانہ ایران مخالف پالیسی کے تین بنیادی نکات ہیں:

 

 

 

اول
اسرائیل کو نہ تو ٹرمپ انتظامیہ پر اعتماد ہے کہ وہ شام میں ایرانی موجودگی کے بارے میں کچھ کر سکے گی اور نہ ہی وہ روس سے امید رکھ سکتا ہے کہ وہ شام میں ایران کو روکنے میں کوئی کردار ادا کرے گا۔
ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ شام سے امریکی فوجوں کو جلد از جلد نکالنا چاہتے ہیں۔
دوم
شام میں ایرانی موجودگی سنی عرب ملکوں کے لیے بھی سخت تشویش کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شام کے مسئلے پر اسرائیل اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خیالات یکساں ہیں۔ یہ نئے تعلقات اسرائیل کے لیے بہت اہم ہیں اور انھیں نتن یاہو خوش آئند قرار دے چکے ہیں۔
سوم
اسرائیلی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ ایران کے عزائم توسیع پسندانہ ہیں اور وہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی چاہتا ہے۔ایران کی جانب سے اسرائیل کی’ مکمل تباہی‘ کے اعلانات اور ایرانی حمایت یافتہ کمانڈروں کے اسرائیل لبنان سرحد پر پریڈ سے ان خدشوں کو مزید ہوا ملی ہے۔
اس کے جواب میں ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے حالیہ مہینوں میں عراق میں شیعہ دھڑوں کو بیلسٹک میزائلوں سے لیس کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے ایک عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو اس کا ‘بیک اپ پلان’ ہے۔ البتہ ایران نے سرکاری طور پر اس کی تردید کی تھی۔
دوسری طرف امریکی پابندیوں کے بعد ایرانی معیشت کے مزید سکڑنے کا امکان ہے۔ اس ماحول میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی سے ایرانی حکمران ملکی معیشت کی بدحالی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عوامی بے چینی سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی بھی انتہاپسندانہ قدم اٹھا سکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر شام کا مسئلہ حل ہو بھی جائے تب بھی مشرقِ وسطیٰ پر چھائے کشیدگی کے بادل آسانی سے چھٹنے والے نہیں۔
بہر کیف اسرائیل کی ایران کے خلاف بڑھتی جارحیت اور شام میں حکومت مخالف طاقتوں کو شہہ دینے کے عمل کو مشرق وسطیٰ میں سنی عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا بھرپور تعاون حاصل ہے ۔ایسے میں اسرائیل کو نہ صرف ایران کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد مل رہی ہے بلکہ خطے میںاپنا قدم مضبوط کرنے میں بھی راہیں وا مل رہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *