رام مندر معاملے پر موہن بھاگوت کا بڑا بیان

Mohan-Bhagwat
2019عام انتخابات سے پہلے رام مندر کولیکر سیاست خوب ہورہی ہے۔شیوسینا کے بعد اب آرایس ایس نے کہاکہ رام مندرکیلئے سرکار کوقانون لانا چاہئے۔دراصل،وجی دشمی کے موقع پر ناگپور میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے سنگھ کے کارکنوں کو خطاب کیا۔اس موقع پر موہن بھاگوت نے سبریمالا مندر، ایس سی -ایس ٹی ، پاکستان اورسیکوریٹی سے لیکر رام مندرپر اپنی بے باک رائے رکھی۔
رشم باغ گراونڈ میں منعقد اس تقریب موہن بھاگوت نے کہاکہ ملک کی دفاعی قوتوں کو بااختیار بنانے اور پڑوسیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کے درمیان توازن کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔انہو ں نے پاکستان کا نام لئے بغیر یہ بھی کہاکہ وہاں نئی سرکار آجانے کے باوجود سرحد پرحملے بند نہیں ہوئے ہیں۔بھاگوت نے کہا کہ جو لوگ سرحد پر رہ رہے ہیں انہیں پاکستان کی طرف سے ہونے والی بمباری کی وجہ سے مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے کھیتوں اور جانوروں کا نقصان ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کے باوجود وہ وہاں سے ہٹنا نہیں چاہتے۔ انہیں تحفظ کی ضرورت ہے۔
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون بننا چاہئے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ آخر ان کی چنی ہوئی حکومت کے باوجود کیوں مندر کی تعمیر نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندر اب تک بن جانا چاہئے تھا لیکن سیاسی پارٹیاں اس پر سیاست کر رہی ہیں۔
ایس سی۔ ایس ٹی اسکیم کے نفاذ کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ اگر مدد وقت پر نہیں پہنچتی تو اسے مدد نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ایس سی اور ایس ٹی سے متعلق اسکیمیں ٹھیک ڈھنگ سے نافذ نہیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں ان اسکیموں کے پیسوں کو خرچ نہیں کیا جا رہا ہے۔رافیل سودے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی حفاظت کے لئے کسی پر منحصر نہیں رہنا چاہئے۔ ہمیں جس کسی چیز کی بھی ضرورت ہے اس کی پیداوار خود کرنی چاہئے۔ رشم باغ گراونڈ میں منعقد اس تقریب میں نوبل انعام یافتہ اور سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی بطور مہمان خصوصی شامل ہوئے۔
آپ کوبتادیں کہ ایودھیا کے رام مندر-بابری مسجد کامعاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔اپوزیشن پارٹیاں اوربی جے پی وقت -وقت پر سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہتی آرہی ہے کہ عدالت کے فیصلے کی بنیاد پرفیصلہ لیاجائے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *