شفافیت سے بہت دورہے مودی حکومت

الیکشن نزدیک ہے۔یہ پہلی سرکار ہے، ساڑھے چار سال ہوگئے، لیکن یہ شفافیت لفظ میں یقین نہیں رکھتی ۔ پہلے جووزیراعظم بیرون ملک جاتے تھے، پریس کوساتھ میں لیکر جاتے تھے۔ مودی جی نے کہہ دیاکہ ہم پریس کو نہیں لے جائیں گے۔ ٹھیک ہے،آپ کی چوائس ہے۔ لیکن وہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ نمائندہ وفد میں کوئی سرمایہ کار تھا یانہیں؟ یعنی شفافیت لفظ سے ان کو مطلب ہی نہیں ہے۔ لیکن جوچھپ کرکیاجائے وہ گناہ ہے۔ رافیل ڈیل لے لیجئے۔ میں جوکہنے جارہاہوں وہ کسی پریس نے نہیں لکھاہے اورمجھ سے رضامند بھی نہیں ہوگا۔مان لیجئے فرانس سرکار نے حکومت ہندکوپوچھا کہ انڈیا کاکون صنعت کار ہے جس سے ہم بات کرسکیں۔حکومت ہندنے انل امبانی کا نام دیا۔غلط کیاہے اس میں،غلط یہ کہ من میں چوری ہے۔ ڈیفنس تو پبلک سیکٹرمیں ہے۔
سچ کیاہے؟
اس سرکار نے چھ نجی لوگوں کولائسنس دئیے۔ جب فرانس نے پوچھا توآپ نے چھ ان ناموں میں سے ایک نام کا اشارہ کردیا۔ ظاہرہے، آپ کوکسی نہ کسی صنعت کارکانام ہی دینا ہے، جس کے پاس وسائل ہو، قابلیت ہو، صلاحیت ہو۔ اب سرکار کہہ رہی ہے کہ ہم نے نام نہیں دیا۔پھر فرانس سے خبرآئی کہ حکومت ہندنے انل امبانی کا نام دیا۔اس پرحکومت ہند نے اعتراض کرنا شروع کردیا۔ کیوں؟ کیونکہ آپ کے من میں چورہے۔ آپ کے پاس خوداعتمادی نہیں ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ یہاں -وہاں کی بات کرکے دوبارہ اقتدار میں آجائیں گے۔یہ پبلک ہے، پبلک سب سمجھتی ہے۔
اب رافیل ڈیل میں انہوں نے رشوت دی کہ نہیں ، اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔لیکن ان کے برتاؤسے لگتاہے کہ انہوں نے رشوت لی ہے۔ مودی جی اورامیت شاہ جی سمجھ نہیں رہے ہیں۔بلی آنکھ بند کرکے دودھ پیتی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیادیکھ نہیں رہی ہے۔ آپ کا تو بھنڈاپھوڑہوچکاہے۔ رافیل ڈیل میں آپ نے پیسہ لیا یانہیں ، اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔لیکن بی جے پی بڑے پیمانے پر خرچ کررہی ہے، یہ تودکھائی دے رہاہے۔ جتنا خرچ بی جے پی نے 2014کے الیکشن کے بعد کئے ،وہ ہزاروں کروڑوں روپے کا خرچ ہے۔ کسی پارٹی نے آج تک اتنا خرچ نہیں کیا۔ بی جے پی نے ساڑھے چارسال میں آفشیلی جتنا خرچ کیاہے اس کا توحساب ہے ہی نہیں۔ وہ بنا چوری کے، بنا رشوت خوری کے، صنعت کاروں سے لئے بنا ہوہی نہیں سکتا۔

 

 

 

اگرآپ کہہ رہے کہ رافیل ڈیل صاف ہے توپھربتائیے روپے کہاں سے آیا۔ میں پرسنل الزام پرالزام کے خلاف ہوں۔ بوفورس کا جب معاملہ آیا تھاتب میں اپوزیشن میں تھا۔ میں نے کبھی نہیں کہاکہ راجیوگاندھی نے پیسے لئے ہیں۔ اس وقت اپوزیشن کہتاتھا کہ رشوت خوری ہوئی ہے۔ تب کانگریس کہتی تھی کہ ملک کوکمزورکرنے کی سازش ہے، بوفورس دنیا کا سب سے بڑا توپ ہے۔ آج بی جے پی کہہ رہی ہے کہ اپوزیشن پاکستان کی مدد کررہا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ فائٹر جیٹ نہیں خریدنا چاہئے۔ سوال پروسیس کانہیں ہے،سوال تورشوت خوری کاہے۔بی جے پی ویسے ہی دھیان بھٹکا دیتی دیتی ہے، جیسے کانگریس کرتی تھی۔
رافیل خرید کی سرگرمی یوپی اے سرکار نے شروع کی تھی، بی جے پی اسے جاری رکھ رہی ہے، اس میں جھگڑا کہاں ہے؟ جھگڑا ہے پیسے کا۔یوپی اے سرکار کہتی ہے کہ ہم نے اتنے میں لیا، بی جے پی اتنے میں لے رہی ہے۔نرملا ستیارمن کہتی ہیں کہ نیشنل سیکوریٹی ہے۔ بی جے پی راستہ سے بھٹک گئی ہیں۔ ان کے وزیرکہتے ہیں کہ راہل گاندھی پاکستان کی مدد کررہے ہیں۔ آپ کیا بات کررہے ہیں؟ کہیں تورکئے۔کچھ لگام تولگائیے۔ پاکستان کی مدد کون کرے گا انڈیا میں۔ نرملا سیتارمن کہتی ہیں کہ کچھ طاقتیں ہیں جے این یو میں جوملک کوتوڑنا چاہتی ہیں۔ اگرآپ اتنا کمزور ہے ہیں تو آپ لوگ گدّی سے ہٹئے۔ یہ ملک آپ کے بس کا نہیںہے۔ اگراسٹوڈنٹس کے نعرے بازی سے ملک کوخطرہ ہے تو آپ کو ملک کی سمجھ ہی نہیں ہے۔پیسہ کا حساب آپ کودینا پڑے گا۔ الیکشن آرہاہے۔ اگراسی پیمانے پر خرچ ہواتوجمہوریت ختم ہوجائے گی۔
انتخابات کے اخراجات
میں نہیں کہتاہوں کہ الیکشن فری ہونا چاہئے ۔ خرچ ہونا چاہئے ، لیکن ایک حد میں۔ آدمی کی ایمانداری خریدنے کیلئے پیسہ خرچ کرنا شروع ہوا تو وہ سرمایہ داری کی بھی گندی شکل ہوجائے گی،سامراجی ہوجائے گی۔یہ جمہوریت ہے۔آپ راجہ نہیں ہیں، آپ پرجا ہیں۔آپ خود کوپردھان سیوک بولتے ہیں۔ میں توپردھان منتری بولتاہوں۔ پردھان سیوک ’آڈمبر‘ لگتاہے مجھے۔ آپ پردھان منتری ہیں، منتری ہیں لیکن راجا نہیں ہیں۔ راجہ توعوام ہے ۔عوام نے پانچ سال کیلئے آپ کومنتخب کیاہے ۔ آپ بتائیے کہ آپ نے اب تک کیا کیا؟ لیکن یہاں تو سب کچھ راز ہے۔ آرٹی آئی میں آپ پوچھئے، جواب ملے گا کہ سیکوریٹی کا مسئلہ ہے۔پی ایم او میں کتنا خرچ ہوا، نہیں بتائیںگے۔کیوں نہیں بتائیں گے؟
میں سرکار میں بھی رہ چکاہے۔ میں مانتا ہوں کہ سرکارکواپنی گریما رکھنی چاہئے۔آج آپ بولتے ہے ںکہ کانگریس غیرجمہوری ہے۔ وہ تو آپ کی ہی ٹیکٹکس اپنا رہی ہے۔آپ کریں توصحیح ،وہ کریں توغلط، یہ تونہیں ہوسکتاہے۔ اتنی رازداری توکانگریس نے بھی نہیں رکھی کبھی۔اندراگاندھی کے وقت میں ایک کیس آ گیا، موہن رام ایم پی تھے۔ انہو ںنے شراب لائسنس کیلئے ایک ریکمینڈیشن کردیا۔ہلاہوگیا، اپوزیشن نے کہاکہ سرکار فائل دکھائے ہاؤس میں۔ اندرا گاندھی نے کہاکہ سرکار کی فائل ہاؤس کے ٹیبل پرنہیں رکھی جاسکتی۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا یہ بات ٹھیک ہے۔ یہ غلط رواج ہوجائے گا تو کیا ہو؟ یہ طے ہوا کہ اپوزیشن کے کچھ لیڈر کواسپیکر اپنے کمرے میں بلائے، وزیرلاکر ان کوفائل دکھائے، یہ جمہوریت ہے۔ آپ کی جمہوریت کیاہے؟ جاؤ کرلوجوتمہارے من میں ہے۔ ہم توایسے ہی چلیں گے۔یہ جمہوریت نہیں ہے۔یہ جمہوریت کا مکھوٹابھی نہیں ہے۔ یہ ایک بھدا مذاق ہے پبلک کے ساتھ۔

 

 

 

میں سمجھتا تھا کہ ارون جیٹلی ایک جانکار آدمی ہیں۔ لیکن ان سے فنانس منسٹری ٹھیک سے نہیں چلی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پی ایم او چلارہی تھی فنانس منسٹری۔آدمی امپورٹنٹ نہیں ہے۔ملک کی معیشت کوبربادی کی دہانے پرپہنچادیاگیاہے۔ امریکہ بہت خوش ہے کہ ہندوستان میں ازآف ڈوئنگ بزنس ہے۔لیکن، ازآف ڈوئنگ بزنس اورازآف کلوزنگ بزنس ہم ایک ساتھ نہیں چلاسکتے ہیں۔ ہمارے یہاں ایک کارخانہ بند ہوگیا تودوہزار آدمی نوکری سے ہٹ جائیں گے اوردس ہزار آدمی بھوکے مرنے لگیں گے۔
دوسری طرف ملک کوتوڑنے کا کام ہورہاہے۔ دومسلمان لڑکے کو سوپولیس والے گولی ماررہے ہیں۔ اس سے زیادہ گندی بات کیا ہوسکتی ہے؟ لیکن سرکار کے کان میںجوں تک نہیں رینگ رہی۔ یوپی میں یوگی سرکار جب سے آئی ہے 86لوگوں کوپولس نے گولی ماردیا۔ اگرپولس کی گولیوں سے کرائم رک جاتا ہے تو دنیامیں کرائم ہوتا ہی نہیں۔ کرائم روکنے کیلئے تجزیہ کرنا پڑے گا۔
میں بھی میڈیا کا حصہ رہاہوں ۔ میرے من میں فری پریس کیلئے بڑی عزت ہے۔ اس الیکشن کے بعد سب سے زیادہ حملہ ہوگا توپریس پرہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ ساڑھے چارسال میں پریس نے دکھا دیا کہ وہ بکاؤ نہیں ہے۔بہت کم قیمت میں بکاؤ ہے۔ایک اخبار لکھتا نہیں ہے، سارے اخبارنے لکھنا بند کردیاتو وائر، پرنٹ یہ سب نکلے ہیں آن لائن۔ جوکچھ ہمت دکھاتے ہیں ۔این ڈی ٹی وی کے خلاف انفورسمنٹ ، سی بی آئی لگادیا۔ اسی سب کیلئے گاندھی جی جیل گئے تھے کیا؟ یہی ہماری آزادی ہے؟ توبرٹش ہی ٹھیک تھے، وہ بھی یہی کرتے تھے۔ آپ نے ہرجگہ حدپارکردی، جمہوری حق ختم کردیا آپنے ۔آدھارکا ججمنٹ آیا، حالانکہ وہ ججمنٹ بہت اچھا نہیں ہے۔ لیکن جسٹس چندرچوڑ نے کہاکہ یہ ٹوٹلی الیگل ہے۔ وہ ججمنٹ تونہیں ہوگا، کیونکہ اکثریت کی چلے گی۔لیکن آپ نے جوسارے اسٹیپ لئے سب شک کے دائرے میں ہے۔ اس سرکار کا اقبال ختم ہوگیاہے، سرکار ختم نہیں ہوئی ہے۔
چوری انسان کی فطرت ہے۔ جب راہل گاندھی بول رہے ہیں کہ ملک کاچوکیدار چورہے توآبجکشن ہورہاہے۔ ارے آپ خود نہرو جن کی آخری رسومات 1964میں ہوگئی ہے، کوآج بھی گالی دے رہے ہیں۔ توآج آپ کوچور بولنے پرمرچی کیوں لگ رہی ہے؟ پتہ نہیں سرمائی اجلاس چلے گا یا نہیں؟ میری عقل تویہی کہتی ہے کہ آپ تین ریاستوں کے الیکشن کے ساتھ عام الیکشن بھی کروا لیجئے۔ آپ کی بھی جان چھُٹے، ملک کی بھی جان چھُٹے۔ چھ مہینے ملک اورچلانا بہت مشکل کام ہے اورپالیٹیکل ڈبیٹ کی سطح اورنیچے مت گرائیے، کافی نیچے گرچکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *