مالدیپ صدارتی انتخاب سیکولرمتحدہ محاذ ہواکامیاب

بحرالہند میں واقع جزیرہ مالدیپ کے 23ستمبر2018کوہوئے صدارتی الیکشن میں متحدہ اپوزیشن امیدوار اورمالدیپ ڈیموکریٹک پارٹی (ایم ڈی پی) رہنما ابراہیم محمدصلح نے تمام پیشین گوئیوں کوغلط ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ صدر یامین عبداللہ اپنی صدارت برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔مالدیپ الیکشن کمیشن نے24ستمبر مالدیپ ڈیموکریٹک پارٹی کے ابراہم محمد صلح کی جیت کا اعلان کرتے ہوئے بتایاہے کہ انہیں 38484 ووٹ ملے ہیں۔الیکشن پر کسی طرح کی دھاندلی کا الزام نہیں لگاہے۔ اس لئے یہ صاف، شفاف الیکشن رہاہے اور نتیجہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم یہ نتیجہ ابھی آفیشیل نہیں ہے۔
مالدیپ کے الیکشن قانون کے مطابق اگلے سات دنوں بعد آفیشیل نتائج کا اعلان ہوگا۔اس دوران تمام بیلٹ بوکس کی جانچ ہوگی جو الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر میں بھیجے گئے ہیں۔مالدیپ میں کل 4 لاکھ کی آباد ی ہے جس میں سے 2 لاکھ 50 ہزار ووٹ دینے کے اہل تھے۔ملک بھر میں 474 بیلٹ سینٹر قائم کئے گئے تھے۔
گذشتہ اتوار یعنی 23 ستمبر کو ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہوا اور صبح 8 بجے سے شام کے سات بجے تک سلسلہ جاری رہا ،ووٹنگ کا وقت پانچ بجے تک کا تھا تاہم قطار میں لگی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے تین گھنٹے کا اضافہ کیا۔مالدیپ کے متعدد نوجوانوں او رتجزیہ نگاروں کاکہنا کہ یہ نتیجہ خلاف توقع ہے ،اب تک تمام سروے میں یہی آرہاتھا کہ یامین عبد اللہ دوبارہ مالدیپ کے صدر بنیں گے لیکن جو نتیجہ آیاہے وہ چونکانے والا ہے۔
گذشتہ صدر یامین عبداللہ اسلام پسند مانے جاتے ہیں،ان کی پارٹی پروگروسیو پارٹی آف مالدیپ(پی پی ایم) اسلامی اقدار کی حامل ہے اور اسلام کی برتری پارٹی کا ایجنڈا ہے جبکہ مالدیپ ڈیموکریٹک پارٹی سیکولزم کے نظریہ پر عمل کرتی ہے ۔اس پارٹی کو پہلی مرتبہ 2008 میں کامیابی ملی تھی جب پارٹی کے بانی محمد نشید نے جیت حاصل کی تھی۔ تاہم مذہبی اقدار کے خلاف پالیسی اپنانے کی پاداش میں انہیں عوام کی شدید مخالفت کا سامنا کرناپڑا۔2013 میں وہاں دوبارہ صدارتی الیکشن ہواجس میں پی پی ایم کے صدر یامین عبد اللہ نے جیت حاصل کی تھی۔

 

 

 

 

مالدیپ کا یہ صدارتی الیکشن چین اور ہندوستان دونوں کیلئے کافی اہم تھا صدر یامین عبد اللہ اور ان کی پارٹی کو چین کی حمایت حاصل رہی ہے۔اپنی حکومت کے دوران یامین عبداللہ نے ہندوستان کی مداخلت کو کم کرکے چین کے ساتھ سرمایہ کاری کوترجیح دی اوردوسری طرف انہوں نے پاکستان سے بھی گہرے رابطے بنائے ۔ایم ڈی پی اور اس کے بانی محمد نشید سیاسی طور پر ہندوستان کے قریب مانے جاتے ہیں۔تجزیہ نگاروں کا مانناہے کہ اس الیکشن میں بھی ایم ڈی پی کو ہندوستان کی بھر پور حمایت حاصل تھی۔ایم ڈی پی کے سابق صدر محمد نشید کی گرفتاری کے موقع پر بھی ہندوستان نے کھل کر مخالفت کی تھی جس کے بعد صدر یامین عبد اللہ نے تلخ لہجہ اپناتے ہوئے کہاتھاکہ ہندوستان اپنی اوقات میں رہے، ہمارے اندورنی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ ہندوستان کے علاوہ امریکہ ،برطانیہ سمیت کئی ملکوں نے بھی مالدیپ کے صدارتی الیکشن میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تھی۔
واضح رہے کہ مالدیپ بحرالہند میں واقع ایک جزیرہ نماملک ہے جہاں کی مکمل آبادی مسلمانوں کی ہے ،بارہویں صدی میں وہاں کے بادشاہ نے پوری رعایاکے ساتھ اسلام قبول کیاتھا۔سیاحت اورمچھلی وہاں کی آمدنی کے اہم ترین ذرائع۔ہندوستان کی ریاست کیرالہ سے اس کی دوری صرف 700 کیلومیٹر ہے۔قابل ذکر ہے کہ برسراقتدار ہونے والے سہ رکنی سیکولر متحدہ محاذ میںمالدیپ ڈیموکریٹک پارٹی، جمہوری پارٹی اور عدالت پارٹی شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *