لڑائی مودی، راہل اور مایاوتی کے بیچ

مدھیہ پردیش میں بی جے پی اب تک کا سب سے مشکل الیکشن لڑنے جارہی ہے۔ 15 سال سے اقتدار پر جمی بی جے پی خود بھی اس انتخابی گھمسان سے ڈری ہوئی نظر آتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بی جے پی کے جس ’کاریہ کرتا مہا کنبھ ‘کو دنیا کا سب سے بڑا ’کاریہ کرتا مہا کنبھ ‘بتا کر مشتہر کیا جارہا تھا، اس کی حالت بہ مشکل ریاستی سطح کے پروگرام جتنی ہی رہ سکی

مدھیہ پردیش میں بی جے پی اب تک کا سب سے مشکل الیکشن لڑنے جارہی ہے۔ 15 سال سے اقتدار پر جمی بی جے پی خود بھی اس انتخابی گھمسان سے ڈری ہوئی نظر آتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بی جے پی کے جس ’کاریہ کرتا مہا کنبھ ‘کو دنیا کا سب سے بڑا ’کاریہ کرتا مہا کنبھ ‘بتا کر مشتہر کیا جارہا تھا، اس کی حالت بہ مشکل ریاستی سطح کے پروگرام جتنی ہی رہ سکی۔ نہ تو اس میں لاکھوں کی تعداد میں کارکن پہنچے اور نہ ہی ان میں ویسا جوش دکھائی دیا جو ملک کے وزیر اعظم کی موجودگی میں دکھائی دیناچاہئے تھا۔ الٹے بڑی تعداد میں کارکنان پی ایم مودی کی تقریر کے بیچ سے ہی اٹھ کر چلے گئے۔ ادھر مدھیہ پردیش میں سالوں سے جلا وطنی کی حالت میں رہ رہی کانگریس کے سینئر لیڈر کمل ناتھ نے آکسیجن دے کر کچھ دم خم لوٹانے کی کوشش تو کی ہے لیکن اب بھی وہاں کے سینئر لیڈروں کے درمیان چل رہی رسہ کشی کی وجہ سے کانگریس ریاست کے بجائے اپنی پارٹی کے اندر کی ہی سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔ جس حکومت مخالفت لہر کی وجہ سے کانگریس کو زیادہ مضبوطی سے ابھر کر آنا چاہئے تھا، اس کی کشتی بھی ڈگمگاتی ہی نظر آرہی ہے۔
ادھر بی جے پی کے اندر بھی اندرونی کشیدگی کم نہیں ہے لیکن فرق بس اتنا ہے کہ وہاں کے لیڈر سیدھے طور پر شیو راج سنگھ چوہان کی مخالفت نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان دونوں پارٹیوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کے لئے نئی اور چھوٹی پارٹیاں تیارہورہی ہیں۔دو مہینے پہلے وجود میں آئی ’سپاکس سماج پارٹی ‘ریاست کی سبھی 230 سیٹوں پر انتخاب لڑنے جارہی ہے تو اب تک مدھیہ پردیش میں ایک بھی سیٹ حاصل نہ کر سکی عام آدمی پارٹی بھی سبھی سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارنے کی تیاری میں ہے۔ ایسا ہی ماحول رہاتو 3 سے 4 فیصد ووٹ یہ چھوٹی پارٹیاں لے جائیںگی اور مدھیہ پردیش کی دونوں بڑی پارٹیوں کے انتخابی اتحاد کا خطرے میں آنا طے ہے۔ادھر مایاوتی نے مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کانگریس کے ساتھ نہ آنے کی بات کہہ کر انتخابات میں نیا رنگ ڈال دیا ہے۔
کیوں کم ہوئی شیو راج کی طاقت
ریاست کی حاملہ مائوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے لوگوں کے لئے ڈھیر سارے منصوبے لاکر وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے خود کو ریاست کے غریب طبقے کا دل جیتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، وہیں خود کو ریاست کی بیٹیوں کے ماما کے طور پر بھی اچھی طرح ثابت کرلیا ۔ ادھر کسانوں کے کھاتے میں سیدھے 3200 کروڑ روپے ڈال کر خود کو ان کا بھی سب سے بڑا ہمدرد ثابت کر دیاہے۔ پھر بھی کیا وجہ ہے کہ بی جے پی کو لے کر نہ تو مڈل کلاس خوش ہے، نہ کسان اور نہ ہی ہمیشہ سے بی جے پی کا روایتی ووٹر رہا اعلیٰ طبقہ۔ پروموشن میں ریزرویشن کا معاملہ ایسا اچھلا کہ جنرل ، پچھڑا اور اقلیتی طبقے نے سپاکس سماج نام سے پارٹی بنا کر ریاست کی تمام اسمبلی حلقوں پر انتخابات لڑنے کے لئے تال ٹھونک ڈالی ۔
سینئر صحافی شیو انوراگ پٹیریا کہتے ہیں کہ 65 فیصد لوگ ذات کی بنیاد پر ووٹ کرتے ہیں۔ اس میں بی جے پی ذات پر مذہب کا نشہ چڑھا دیتی ہے تاکہ وہ اس کا فائدہ لے سکے۔ کیونکہ جب بات ہندو اور مسلم کی ہوتی ہے تو بودھ، سکھ اور جین مذہب کے پیروکار ہندو مذہب کی ایک چھتری کے نیچے آکر بی جے پی کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔ لیکن اس بار شیو راج نے اس طبقے کو بہت ناراض کیا ہے۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں،جن میں بدعنوانی ، بے روزگاری اور مہنگی بجلی وغیرہ شامل ہیں۔ دہلی میں 200 یونٹ بجلی 550 روپے میں مل رہی ہے تو مدھیہ پردیش میں اتنی ہی بجلی کا بل تقریباً 1300 روپے کا آتا ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں سرپلس بجلی بن رہی ہے۔ متبادل توانائی سے بجلی پیداوار کی بات کریں تو 2016-17 میں مدھیہ پردیش میں 1,363 میگا یونٹ بجلی سولر سے ، 3,546 میگا یونٹ بجلی وِنڈ سے اور 159.11 میگا یونٹ بجلی چھوٹے ہائیڈرو پلانٹ سے بنی۔ اس طرح متبادل ذرائع سے بن رہی بجلی ، مدھیہ پردیش کل پاور جنریشن کیپسیٹی کا 19 فیصد ہے جو کہ بڑا عدد ہے، پھر بھی ریاست کے لوگوں کو مہنگی بجلی مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ مڈل کلاس اور اپر کلاس سے وصول کئے گئے ٹیکس کو شیو راج سرکار صرف غریبوں کے لئے اسکیمیں چلا کر ختم کر رہی ہے ۔مڈل کلاس کو اپنے لئے کچھ حاصل ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔
سماج کا پڑھا لکھا طبقہ اس بات سے بھی بری طرح ناراض ہے کہ شیو راج سرکار نے غریبوں کے لئے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کے لئے اتنی اسکیمیں بنا دی ہیں کہ وہ کلاس آلسی ہورہی ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔ تعلیم و صحت جیسی ضروری سہولیات دینا اپنی جگہ مناسب ہے لیکن ہر چیز کے لئے ان کے کھاتوں میں پیسے بانٹتے رہنا انہیں آلسی اور ست بنائے گا۔ ادھر غریب طبقہ کا ماننا ہے کہ انہیں سہولیات ملنی ہی چاہئیں۔ اس طرح دونوں اپنی جگہ صحیح ہیں۔پھر بھی تنازع تو ہے۔ کیونکہ غریب کون ہے، اس کا تعین جب تک شفافیت اور صحیح طریقے سے نہیں ہوگا ، صحیح آدمی کو اس کا حق نہیں ملے گا، اس کا فائدہ کوئی دوسرا اٹھائے گا۔ اس کے علاوہ ریاست میں بی جے پی کے ایم ایل ایز کے خلاف بھی ماحول ہے۔ کیونکہ انہوں نے کام ہی نہیں کئے۔ یہ ناراضگی کارکنوں کی بھی ہے اور عام لوگوں کی بھی۔ بی جے پی کارکنوں کو اپنی سرکار ہونے کے بعد بھی چھوٹے موٹے کام کرانے کے لئے بھٹکنا پڑتا ہے، وہیں عام آدمی کے کام تو بغیر رشوت کے ہو ہی نہیں رہے ہیں۔ ایسے میں صرف شیو راج سنگھ کی اسکیموں اور ان کی جذباتی تقریروں کے دم پر تو ہر طبقے کے لوگ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ظاہر ہے اس کا بڑا نقصان اس سال بی جے پی کو مدھیہ پردیش میں جھیلنا پڑ سکتاہے۔

 

 

 

 

 

خود اپنے ہی دشمن بنے شیوراج
اس بار مدھیہ پردیش میں سرکار مخالف لہر اسی طرح ہے جیسے دگ وجے سنگھ کے 10 سال کے دور کار کے بعد تھی۔ لیکن اس وقت کانگریس اور دگ وجے سنگھ دونوں کی ہی زبردست مخالفت تھی۔البتہ اس بار شیو راج کے چہرے کو ووٹ کرنے والا ایک الگ طبقہ ہے، جو سرکاری اسکیموں سے مستفید ہوا ہے ۔
سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ کئی معاملوں میں شیو راج نے اپنے ہی کام کرنے کے طریقے کو اپنا دشمن بنا لیاہے۔ ایک کانگریسی لیڈر تو یہاں تک کہتے ہیں کہ دگ وجے سنگھ نے دوسری بار سی ایم بننے کے بعد جو غلطیاں کی تھیں، وہی شیو راج دوہرا رہے ہیں۔ کارکنوں کی اندیکھی کرنا اس میں سب سے بڑی غلطی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ پوری ریاست میں کارکنوں سے لے کر وزیر تک زیادہ تر لوگ سی ایم سے ناراض ہیں۔ سی ایم سے خفا ایک بی جے پی لیڈر تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر وزیر گوپال بھارگو تک کی بات نہیں سنی جا رہی ہے تو سوچئے کہ کس کی سنی جارہی ہوگی۔ کارکنوں کی بے رخی اور بے اطمینانی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ’کاریہ کرتا مہا کنبھ استھل‘ جمبوری میدان میں پروگرام سے ایک دن پہلے بھی کارکنان کم اور سرکاری عملے زیادہ نظر آرہے تھے۔ کارکنوں میں ویسا جوش ہی نہیں تھا جیسا ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ ان کے کوئی کام ہی نہیں ہورہے ہیں۔ سمینار میں آئے ایک کارکن بتاتے ہیں کہ سیکنڈ کلاس کے تبادلے کی فائل بھی بھابی جی (سادھنا سنگھ ) خود دیکھ رہی ہیں۔ بغیر ان کے کہے ٹرانسفر کے معاملوں میں پتہ بھی نہیں ہلتا۔ اس پر بھی بغیر لین دین کئے تو کوئی کام ہوتا ہی نہیں ہے۔ کارکنوں کی یہ ناراضگی اور بری طرح حاوی بیوروکریسی شیو راج سنگھ کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
بی جے پی کے لئے اِدھر کنواں اُدھر کھائی
سپاکس اور اجاکس کے معاملے میں تو سرکار ادھر کنویں، ادھر کھائی کی حالت میں آگئی ہے۔ سماج میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ طبقہ ہوتا ہے جو صرف ووٹ دیتا ہے ، دوسرا طبقہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جو سماج کو انفلوئینس کرتے ہیں۔ برہمن ، چھتریہ ، جین اور بنیا ایسے ہی طبقے ہیں جو سماج کو انفلوئینس کرتے ہیں۔ ریاست میں 23فیصدجنرل کلاس ہے ۔اعلیٰ ذات کے لوگ کھل کر اپنی مخالفت جتا رہے ہیں۔ ہمیشہ سے بی جے پی کے لئے ووٹ بینک جٹانے میں مدد کرنے والے سادھو سنت بھی شیو راج سرکار سے ناراض چل رہے ہیں۔ کمپیوٹر بابا نے حال ہی میں وزیر مملکت کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ریاست میں ریزرویشن کی مخالفت اور ایٹروسٹی ایکٹ میں بدلائو کی مانگ کر رہی سپاکس سماج پوری ریاست میں اپنے امیدوار اتار رہی ہے۔ ظاہر ہے ناراض اعلیٰ ذاتوں کے لئے یہ پارٹی ایک متبادل کی طرح ہوگی، ورنہ نوٹا تو ہے ہی۔ خیر، اسے دوسری نظر سے دیکھیں تو اس سے کانگریس کو بھی نقصان ہوا ہے۔ کیونکہ کچھ دن پہلے دگ وجے سنگھ نے یہ کہہ کر نیا تنازع کھڑا کردیا کہ سپاکس سماج تو خود وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے ذریعہ کھڑی کی گئی پارٹی ہے، تاکہ اس کے ذریعہ وہ پٹرول ،ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں جیسے ایشوز سے عوام کا دھیان بانٹ سکیں۔ اس سے ایسے لوگ جو بی جے پی اور سپاکس دونوں کو چھوڑ کر تیسرے متبادل کے طور پر کانگریس کو ووٹ دینے کی اسکیم بنا رہے تھے، شاید اب وہ پیچھے ہٹ جائیںگے۔
اب ایک نظر سپاکس اور اجاکس کے ممبرس کی تعداد پر ڈالتے ہیں۔ سپاکس میں تقریباً4 لاکھ ممبرس ہیں۔جن میں سے ڈھائی لاکھ سرگرم ممبرز ہیں ۔سپاکس سماج تنظیم کے صدر اور ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر ہیرا لال ترویدی کہتے ہیںکہ ہماری لڑائی 2 سال سے چل رہی ہے اور ہمارا انتخاب سے کوئی لینا دینا بھی نہیںتھا۔ لیکن جب سرکار اجاکس کی حمایت میں سپریم کورٹ میں چلی گئی اور اسے انتخاب لڑنے کے لئے 4 کروڑ روپے تک دے دیئے تو ہمیں مجبوراً انتخاب میں اترنا پڑا۔ حکومت کے لئے سپاکس اور اجاکس دونوں برابر ہیں، وہ اس طرح جانبداری کیسے برت سکتی ہے۔ دو مہینے پہلے محض 8-10 لوگوں سے شروع ہوئی سپاکس سماج تنظیم کی طرف سے اب دستخطی مہم چلا کر ممبرز بنائے جارہے ہیں اور تنظیم کے صدر کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر کے ابتدائی دنوں میں ہی ان کے ممبروں کی تعداد پچاس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ ساتھ ہی 2 اکتوبر کو ادارے نے اپنی پارٹی کا اعلان کر کے انتخابی بگل بھی پھونک دیا ہے۔
کیا کسی پارٹی سے گٹھ بندھن کریں گے؟ اس سوال کے جواب پر ہیرا لال ترویدی کہتے ہیںکہ ہم نہ تو سیٹیں جیتنے کے لئے انتخاب لڑ رہے ہیںاور نہ ہی سرکار بنانے کے لئے۔ ہمارا مقصد تو اپنی مانگیں منوانا ہے۔ ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ ہماری مانگیں مناسب ہیں اور عوام ہمیں سپورٹ کریں گے۔ کوئی بھی پارٹی عوام کے ایشوز پر بات نہیں کر رہی ہے ۔ ہم صرف انہی ایشوز پر بات کرکے اپنی سرکار بنائیںگے۔ ہم ریاست کو خوف اور بدعنوانی سے پاک حکومت دیں گے۔ ویسے بھی کانگریس سے گٹھ بندھن کرنے کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا ہے،یہ تو پہلے سے ہی دوڑ میں نہیں، کانگریس پارٹی تو اپنی پرانی سیٹیں بچا لے، وہی کافی ہے۔ ادھر سپاکس کے کچھ لیڈروں نے یہ بھی کہا کہ سی ایم سپاکس سماج تنظیم سے بہت ڈرے ہوئے ہیں اور وزیر نروتم مشر کے ذریعہ بات چیت کے لئے بلایا بھی تھا۔
ادھر اجاکس والوں کا اپنا الگ راگ ہے۔ اجاکس کے جنرل سکریٹری ایس ایل سوریہ ونشی کہتے ہیںکہ ہمارے ایک لاکھ 90 ہزار ممبرز ہیں۔ سرکاری نوکری کررہے لوگوں کو ایس سی؍ ایس ٹی سماج میں آئیکون کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ اس کی بات بستی والے مانتے ہیں، ایسا اعلیٰ سماج کے آفیسر ،ملازمین کے ساتھ نہیں ہوتا ہے۔ ایسے میں ایس سی؍ ایس ٹی کا 80 فیصد ووٹ بینک ہمارے پاس ہے۔ مدھیہ پردیش میں ایس سی ؍ ایس ٹی ووٹر 40فیصد ہیں۔ چونکہ اجاکس اپنے امیدوار انتخابی میدان میں تو نہیں اتار رہی ہے اس لئے اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر وہ ووٹ کسے دیں گے؟اس بارے میں اجاکس کے جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ اگر سرکار ہماری مانگیں مان لیتی ہے تو ہم سرکار کو ووٹ دیں گے لیکن اگر نہیںمانی تو کسے ووٹ دیں گے ، اس کا فی الحال کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ کیا کانگریس کو یہ ووٹ دیں گے؟ اس پر سوریہ ونشی کہتے ہیںکہ اگر وہ اپنے مینی فیسٹو میں ہماری مانگیں شامل کرلے تو دیکھیں گے۔ مینی فیسٹو میں لکھی باتوں کو پارٹیاں کتنا پورا کرتی ہیں، یہ بتانے والی بات نہیں ہے۔ اجاکس کی 3 بنیادی مانگیں ہیں۔ سرکار سبھی پوسٹوں کا بیک لاگ بھرے ، پروموشن میں ریزرویشن کو جوں کا توں رکھے اور او بی سی کو بھی پروموشن میں ریزرویشن دے۔اب شیو راج سرکار اگر اجاکس کی مانگیں مانتی ہے تو سپاکس ناراض ہوگی اور اگر سپاکس کی حمایت کرتی ہے تو اجاکس کا غصہ جھیلنا پڑے گا۔

 

 

 

 

فلاپ شو ثابت ہوا بی جے پی کا کارکن مہا کنبھ
بی جے پی کے کارکن مہا کنبھ میں محض 90 ہزار کرسیاں لگیں اور اس میں بھی 10 فیصد سے زیادہ خالی رہیں۔ اگر کھانے کا پنڈال، پارکنگ سمیت باقی فلوٹنگ ورکس کو بھی جوڑ لیں تو اس مہا کنبھ میں حصہ لینے والوں کی تعداد دو ڈھائی لاکھ سے اوپر نہیں پہنچتی ۔ اس پر کارکنوں کا مودی کی تقریر کے درمیان اٹھ کر جانا اور بد نظمی پھیلانے کے معاملے بھی دیکھے گئے۔
دعویٰ کیا گیا کہ اس مہا کنبھ میں کارکنوں کو لانے کے لئے 8000 بسیں، 9000 گاڑیاں اور 7 ٹرینوں کا انتظام کیا گیا تھا لیکن تب بھی کارکنان نہیں پہنچے۔ اتنا ہی نہیں کئی جگہ تو بڑی بڑی بس میں بھی مشکل سے 4-5لوگ بیٹھے دیکھے گئے۔ اتنے بڑے پروگرام کو لے کر کارکنوں میں کوئی خاص جوش بھی نہیں دکھا۔ جاتے جاتے مودی نے، کارکنوں کو’ میرا بوتھ سب سے مضبوط ‘کا نعرہ تو دیا لیکن اب کارکن اس نعرے کو حقیقت میں اتارنے میں کتنا دم خم دکھاتے ہیں، یہ تو انتخاب کے نتیجے ہی بتائیں گے۔ اس کے علاوہ اس موقع پر’ نمو ایپ ‘بھی لانچ کیا گیا جس کے ذریعہ کارکنوں کو انتخاب سے متعلق جانکاریاں فراہم کرائی جائیںگی۔
اوما بھارتی کا تذکرہ
انتخابات سے جڑی اس خبر کے لکھنے کے دوران ایک کمال کا تجربہ یہ بھی رہا کہ چاہے بی جے پی ہو، کانگریس ہو یا پھر دیگر سیاسی ماہرین ،سبھی نے ایک نہ ایک بار اوما بھارتی کے نام کا ذکر ضرور کیا۔ بی جے پی کے پاس ریاست میں اگر ماس لیڈر کی شبیہ والا شیو راج سنگھ کے علاوہ کوئی دیگر چہرہ ہے تو وہ ہے اوما بھارتی۔ لوگ کہتے ہیں کہ آج بھی اگر وہ جنگل میںکھڑی ہو جائیں تو وہاں ان کے فالوور جمع ہو جاتے ہیں۔ لیکن اپنی بے یقینی بھرے رویے اورانتظامی صلاحیت میں کمزور پڑنے کی وجہ سے پارٹی نے ان کو کہیں بھی آگے نہیں کیا۔ اوما بھارتی کا یہ درد ’کاریہ کرتا مہا کنبھ ‘میں سامنے چھلک بھی پڑا۔ اپنی تقریر میں وہ بولیں کہ میں نے اس پروگرام میں آنے کا فیصلہ ایک دن پہلے ہی لیا۔ میں نے سی ایم شیوراج سنگھ چوہان کو فون کرکے پوچھا کہ اگر میرے آنے سے کوئی فائدہ ہوتا ہو تو میں آئوں ورنہ رہنے دوں۔ تب سی ایم نے انہیں خود ذاتی طور پر آنے کے لئے کہا ،اس لئے وہ اس پروگرام میں شامل ہوئیں۔ غور طلب ہے کہ مدھیہ پردیش میں تقریبا ً70سے 80 سیٹیں ایسی ہیں، جہاں لودھی ووٹ بینک زبردست ہے، وہ بھی خاص طور پر بندیل کھنڈ میں۔
چھوٹی پارٹیاں بی جے پی کو ہرانے کے لئے کمربستہ
بہو جن سماج پارٹی کے ریاستی صدر پردیپ اہِیروار کہتے ہیں کہ ہم بی جے پی کے خلاف انتخاب لڑیں گے۔ کسی بھی قیمت پر بی جے پی کو چوتھی بار سرکار نہیں بنانے دیں گے۔ ایسا ہی کچھ راگ عام آدمی پارٹی کا بھی ہے۔ تو اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ان سب کا مقصد بی جے پی کو ہرانے کا ہے تو کہیں ان کا ارادہ کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن کرکے سرکار میں آنے کا تو نہیں ہے۔ اس معاملے میں عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلیٰ عہدہ کے امیدوار آلوک اگروال کہتے ہیں کہ ہم کسی بھی قیمت پر کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن نہیں کریںگے۔ اگر دہلی کی طرح دوبارہ انتخاب کرانے کی حالت بنی تو بھی ہم انتخاب کو ہی چنیں گے نہ کہ گٹھ بندھن کو یا پھر مضبوط اپوزیشن کا کردار نبھائیںگے۔ حالانکہ بی ایس پی کے لیڈر کرناٹک اور اتر اکھنڈ کی طرح امید کر رہے ہیں ۔جہاں ایک دو سیٹیں ملنے پر بھی بی ایس پی کے ایم ایل ایز کو وزیر بننے کا موقع مل گیا۔ لیکن مایاوتی کے کانگریس کو دو ٹوک ’نہ ‘ کہنے کے بعد مدھیہ پردیش میں بی ایس پی کے لیڈروں کا یہ خواب بھی ٹوٹ گیا ہے۔ الٹے صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ پچھلی بار گٹھ بندھن کی وجہ سے جو چار سیٹیں بی ایس پی کو ملی تھیں، ان میں سے دو پربھی اس بار جیتنا مشکل ہو جائے گا۔اس سے کانگریس کو فائدہ ہی ہوگا۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ اب کانگریس جنتا دل (یو) ، جے آدیواسی یووا شکتی(جیس) اور گونڈوانہ جیسی پارٹیوں کو ساتھ لے کر مہاگٹھ بندھن کی طرف جاسکتی ہے۔
کیوں خفا خفا ہیں مودی ،شیو سے
پی ایم نریندر مودی ، مدھیہ پردیش کے سی ایم شیو راج سنگھ چوہان سے خفا ہیں، یہ ان فوٹوزسے اشارہ ملتا ہے جو پچھلے کچھ دنوں میں سوشل میڈیا میں جم کر وائرل ہوئے۔یہ بات تو طے ہے کہ پچھلی ملاقاتوں میں مودی نے شیو راج کے تئیں اپنی ناراضگی اپنے چہرے کے ہائو بھائو اور باڈی لنگویج سے بخوبی ظاہر کی۔ ایسا ہی نظارہ ’کاریہ کرتا مہا کنبھ ‘میں بھی نظر آیا ۔تقریبا ً ڈیڑھ گھنٹے تک بغل میں بیٹھے مودی نے شیو راج سے ایک بار بھی نہ تو بات کی اور نہ ہی استقبال کے دوران ان سے ملنے میں کوئی گرمجوشی دکھائی ۔ بی جے پی کے لیڈر اس کے پیچھے دو بنیادی سبب بتاتے ہیں۔ پہلا شیو راج نے اس وقت تک انتخابات کے لئے کوئی کام نہیں کیاجب تک کہ ان کا نام ہائی کمان نے سی ایم کنڈیڈیٹ کے طور پر اعلان نہیں کردیا تھا۔ اس بات کو لے کر سی ایم نے بھاری دبائو بنایا تھا۔ اتنا ہی نہیں، پانچوں سال انتخابی موڈ میں رہنے والے شیو راج سنگھ 2018 کے انتخابات کے لئے صرف کچھ مہینے پہلے جولائی میں ہی سرگرم ہوئے اور 14جولائی سے ’جن آشیرواد یاترا‘ پر نکلے جبکہ اس سے پہلے ہر انتخاب میں ایک سال پہلے ہی انتخابی بگل پھونک دینے کی ان کی روایت رہی ہے۔ دوسرا سبب ہے بی جے پی ریاستی صدر عہدہ پر راکیش سنگھ کو لانے کے لئے اپنا استعفیٰ تک دینے کی دھمکی دینا۔ پہلے اس عہدہ کے لئے کیلاش وجے ورگیہ اور نروتم مشرا کے ناموں پر سب کا اتفاق ہوا تھا لیکن سی ایم ان دونوں کو در کنار کرکے اپنے پسند کے لیڈر راکیش سنگھ کو اس عہدہ پر لے آئے۔
اتنا ہی نہیں پچھلے 13سالوں کے دوران شیو راج سنگھ نے مدھیہ پردیش میں اپنے برابر تو چھوڑیئے دوسری اور تیسری لائن تک کے لیڈروں کو نہیں ٹکنے دیا جس کے سبب بی جے پی کے لیڈر ان سے خاصے ناراض ہیں۔ ان کی ناراضگی جائز بھی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ بننے کے لئے آخر کب تک انتظار کریں۔ اس کے علاوہ 13سال سے اقتدار کے سنہاسن پر بیٹھے شیو راج سنگھ ہی ریاست میں اکلوتے ایسے لیڈر ہیں جو انتخابات کے لئے اتنا فنڈ لگا سکیں۔ ایسے حالات کے سبب بی جے پی کے پاس مدھیہ پردیش میں سی ایم عہدہ کے لئے شیو راج سنگھ کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل بھی نہیں تھا۔خیر’ کاریہ کرتا مہا کنبھ ‘میں مودی نے اپنی ناراضگی وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے سامنے ظاہر کرنے میں کوئی کمی بھی نہیں برتی ۔نہ تو وہ سی ایم سے ایک بار بھی بات کرتے نظر آئے اور نہ ہی ان کی باڈی لنگویج سے کوئی مثبت اشارے ملے۔ بلکہ سابق وزیراعلیٰ بابو لال گور سے ان کی گرمجوشی سے بھری ملاقات نے ضرور سی ایم سمیت کئی لیڈروں کے چہرے پر شکن لا دی۔

 

 

 

 

 

کانگریس کے پاس وزیر اعلیٰ کا چہرہ نہیں
مدھیہ پردیش کانگریس کے پاس جیوترادتیہ سندھیا کا مقبول نوجوان چہرہ ہے، تو کمل ناتھ کا مینجمنٹ اور دگ وجے سنگھ کی مضبوط عوامی حمایت ہے۔ انتخابات کے لئے سب سے اہم یہ تینوں چیزیں ہونے کے بعد بھی کانگریس مدھیہ پردیش میں کمزور حالت میں ہے۔ بی جے پی کے پاس شیو راج کا چہرہ ہے جس کی ایک خاص طبقے میں کرشمائی اہمیت بھی ہے لیکن کانگریس ایسے چہرے سے اب تک محروم ہے۔یہ محرومی اپنے آپ کو سی ایم کنڈیڈیٹ مان رہے تینوں لیڈروں کو تو ناقابل برداشت ہورہی ہے، کارکنوں اور عوام کے لحاظ سے بھی کھٹک رہی ہے کیونکہ انتخابات میں چہرے کا اپنا ووٹ بینک ہوتا ہے۔
اسی طرح کمل ناتھ کے آنے کے بعد ریاستی کانگریس دفتر میں کچھ دن تک تو ماحول ٹھیک رہا کیونکہ مدھیہ پردیش کانگریس میں ان کی شبیہ قابل قبول لیڈر کی رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کافی سینئر بھی ہیں۔ایک کانگریسی لیڈر مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب کمل ناتھ پہلی بار رکن پارلیمنٹ بنے تھے ،تب جیوترادتیہ 9 سال کے تھے۔ ایسے میں آپسی کشیدگی کا بری طرح سامنا کررہی کانگریس کوسمیٹنے کے لئے ان سے بہتر متبادل کوئی نہیں تھا، لہٰذا ان کے آتے ہی کچھ دن تو سب ٹھیک چلا لیکن بعد میںپھر جھگڑے شروع ہو گئے۔ حالانکہ ان کی سینئرٹی کی وجہ سے کئی کانگریسی لیڈر ان کے سامنے کھل کر تو اپنی ناراضگی نہیںجتا پارہے ہیں لیکن اپنی ناراضگی جتانے کے کئی دوسرے طریقے انھوں تلاش کرلیے ہیں۔ کئی لیڈروں نے تو پی سی سی آنا ہی بند کردیا ہے۔ ان میں ارون یادو، مانک اگروال وغیرہ لیڈروں کے نام شامل ہیں۔
کانگریس کے ایک سینئر تو کہتے ہیںکہ لوگ بی جے پی سے ناراض ہیںاور کانگریس کو ووٹ دینا چاہتے ہیں لیکن کانگریس اس کے لیے تیار ہی نہیںہے۔ سبھی لیڈر آپس میںبھڑے ہوئے ہیں۔ اس کے کچھ مزے دار قصے بھی ریاستی کانگریس کے دفتر میںاور اس کے باہر سننے کو ملے۔ ریاستی تنظیم کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد کمل ناتھ نے ایک پریس کانفرنس کی۔ اس کابل ساڑھے چھ لاکھ روپے آیاجو کہ پارٹی فنڈ سے دیا گیا لیکن جب سندھیا نے پریس کانفرنس کی تو اس کا ساڑھے چار لاکھ روپے کا بل یہ کہہ کر واپس کردیا گیا کہ وہ خود پیمنٹ کریں گے۔
جیوترادتیہ سندھیا چاہتے تھے کہ بطور سی ایم امیدوار ان کے نام کا اعلان کر دیا جائے لیکن ایسا نہیںہوا، جس سے وہ مطمئن نہیںہیں۔ انتخابی تشہیر کو لے کر بھی سندھیا کا عوام سے رابطہ اچھی طرح نہیںہو پارہا ہے، جس طرح وہ کارکنوں سے کر رہے ہیں۔ ادھر پنّا کے پاس پوئی میںسندھیا نے مکیش نائک کو امیدوار ڈکلیئر کردیا، جسے لے کر کمل ناتھ نے فوراً کہا کہ کوئی بھی لیڈر ایسا نہیںکر سکتا ہے، امیدوار کا انتخاب صرف اعلیٰ کمان کرے گی۔ اسی طرح 12 ستمبر کو دیپالپور میںسندھیا نے کارکنوںسے خطاب کیا، جس میںقریب 5000 لوگ پہنچے۔ اس پروگرام کو ابھی ہفتہ بھر بھی نہیںگزرا تھاکہ دیپالپور میںہی کمل ناتھ نے کسی دیگر کانگریسی کارکن کے لیے سبھا کردی اور اس میںسندھیا کی سبھا سے زیادہ لوگ پہنچ گئے۔ اس واقعے کے بعد تو دونوںلیڈروں کے بیچ کھینچ تان اور بڑھ گئی خیر، اس کا فائدہ ہوا اجے سنگھ راہل بھیا کو۔ کہا جاتا ہے کہ کمل ناتھ کی سندھیا کے ساتھ تناتنی بڑھنے کے بعد اب اجے سنگھ کو پی سی سی میںکافی بلایا جانے لگاہے۔ ورنہ اس سے پہلے تک پی سی سی سے بمشکل ایک فرلانگ کی دوری پر رہنے والے اجے سنگھ کبھی کبھار ہی پی سی سی میںدکھائی دیتے تھے۔
اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ کو بھی پارٹی ہائی کمان درکنار کرنے میںجٹی ہوئی ہے۔ راہل گاندھی کی بھوپال میںہوئی ’سنکلپ یاترا‘ کے استقبال میںلگے سبھی کانگریسی لیڈروں کے بڑے بڑے کٹ آؤٹس کے بیچ دگ وجے سنگھ کے کٹ آؤٹ کہیںنظر نہیںآئے۔ یہ معاملہ میڈیا نے خوب اچھالا، تب دگ وجے سنگھ نے یہ کہہ کر بات سنبھالی کہ انھوںنے خود ہی اپنے کٹ آؤٹس لگانے کے لیے منع کیا تھا۔ لیکن کانگریس کے ایک اور لیڈر کے کٹ آؤٹس بھی اس پروگرام سے غائب تھے اور یہ بات پارٹی ہائی کمان کو بھی ناگوار گزری۔ جنرل سکریٹری دیپک باوریا کے کٹ آؤٹ بھی اس یاترا کے استقبال میںکہیںنہیںدکھائی دیے۔ تب راہل گاندھی نے اس معاملے کی جانچ کرنے کے لیے دہلی سے ٹیم بھیجی، جس نے دہلی جاکر اصلیت بتائی کہ کسی نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔
اس ’سنکلپ یاترا‘ کے قصے یہیںختم نہیں ہوتے۔ اس یاترا کے مکمل انتظام کے لیے 5 کروڑ روپے روپے دیے گئے تھے اور ذمہ داری کمل ناتھ کے نزدیکی لیڈر سریش پچوری کو دی گئی تھی۔ سریش پچوری نے روڈ شو کی ذمہ داری اپنے پاس رکھی اور سبھا کی جگہ کی تیاری کا کام اپنے کچھ نزدیکی لوگوںکو دے دیا اور اس کے لیے 50 لاکھ روپے دیے۔ پروگرام کے دوران سریش پچوری کے لوگ اس طرح ہر جگہ چھائے رہے کہ کمل ناتھ کے نزدیکی لوگ بھی پکچر سے غائب ہوگئے۔ اس کے بعد تو کمل ناتھ اور پچوری کے حامیوں کے بیچ ہی تناتنی ہوگئی۔ اس کے بعد ایک دیگر کانگریسی لیڈرنے یہ کہہ کر بحث چھیڑ دی کہ جس کام کے لیے 50 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ،وہ تو 10 لاکھ روپے میںہوجاتا۔ خیر، ایسے تو کئی قصے پی سی سی میںآج کل عام ہیں۔
کانگریس کے لیے بھاری پڑ سکتی ہے دگ وجے سنگھ کی اندیکھی
اب بات کرتے ہیں دگ وجے سنگھ کی، جنھیں صرف کٹ آؤٹ سے ہی نہیںغائب کیا گیا بلکہ ریاستی کانگریس کی سیاست سے ہی پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے پیچھے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ ان کی دو بار کی وزیر اعلیٰ کی مدت میںمسٹر بنٹا دھار کی جو شبیہ بنی ہے، وہ ان کے خلاف جاتی ہے، لہٰذا انھیںفرنٹ پر نہ لانا ہی بہتر ہوگا۔ لیکن دگ وجے سنگھ کے معاملے میںایک بات سے کوئی انکار نہیں کر پارہا ہے کہ ریاست میںان کی جیسی حمایت والا کوئی لیڈر کانگریس میںنہیں ہے۔ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں جن کا مدھیہ پردیش کے کم سے کم 50 ہزار سے زیادہ گاؤں میںرابطہ ہے اور یہ رابطہ صرف نام کا نہیںہے بلکہ گہرے جڑاؤ والا ہے۔ اس معاملے میںایک بی جے پی لیڈر تک نے ایک بار کہا تھا کہ ریاست میںدگ وجے سنگھ ہی ایسے واحد لیڈر ہیں جو50 ہزار گاؤں میںکم سے کم 2 لوگوں کو ان کے پہلے نام سے جانتے ہیں۔ اتنی بڑی عوامی حمایت والے لیڈر کو درکنار کرنے کا خمیازہ ظاہر ہے کانگریس کو اٹھانا پڑے گا۔ 4 مہینے تک 120 سیٹوںمیںگھوم کر دگ وجے سنگھ نے جو نرمدا یاترا کی، اس کے نفع نقصان کو لے کر بات کرنا بھی ضروری ہے۔ اب اس یاتر امیںدگ وجے سنگھ نے اپنی بیوی امرتا رائے کے ساتھ جو سیکڑوں کلومیٹر کی خاک چھانی، اس کا کتنا فائدہ دگ وجے کو ہوا اور کتنا کانگریس کو ہوا؟ اس پر لوگوںکی الگ الگ رائے ہے۔ 45 سال سے پالیٹکل رپورٹنگ میںسرگرم اورانتخابی تجزیہ نگار گرجا شنکر کہتے ہیںکہ اگر اتنا بڑا لیڈر چار مہینے تک گاؤںگاؤں اور شہر شہر گھومتا ہے توا س کے پاس تو حکمراںپارٹی کے خلاف اب تک اتنے مدعے اکٹھے ہوجانے چاہئے تھے کہ کانگریس کے پاس اس یاتر اکے سوا دیگر کوئی موضوع ہی نہیںبچتا۔ لیکن اس یاترا کی نہ تو ایسی مارکیٹنگ کی گئی اور نہ ہی اس کے فائدے لیے گئے۔ وہیں دوسری طرف ایک سینئر کانگریسی لیڈر کا کہنا ہے کہ دگ وجے سنگھ نے اس یاترا سے اپنی بات چیت اور رابطے دونوں ہی دوبارہ زندہ کرلیے ہیں لیکن وہ اپنے پتے نہیںکھول رہے ہیں۔ ان کو انتظار ہے کہ اعلیٰ کمان ان کی اہمیت کو سمجھے اور انھیںبلائے۔ خیر، اب اعلیٰ کمان انھیںبلاتی ہے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن انتخابی ماہرین کی مانیںتو دگ وجے سنگھ کی اندیکھی کانگریس کی ہار میںبڑا رول نبھا سکتی ہے۔
مدھیہ پردیش میںاپنے عروج پر ہے بدعنوانی
ریاست کے ایک آئی پی ایس افسر بتاتے ہیںکہ ریاست میںبدعنوانی عروج پر ہے۔ اس سے زیادہ بدعنوانی پہلے کبھی نہیںہوئی۔ اس کے ساتھ ہی اب وہ سسٹمیٹائز بھی ہوگئی ہے۔ بدعنوانی اتنے منظم طریقے سے چل رہی ہے کہ سوچ کر ہی تعجب ہوتا ہے۔ ہر اسٹیپ پر بیٹھے لوگوں کا حصہ طے ہے اور وہ بر وقت ان تک پہنچ بھی جاتا ہے۔ ادھر عام لوگ اس بدعنوانی کی وجہ سے شیوراج سنگھ سے خار کھائے بیٹھے ہیں۔ ادھر کارکن الگ ناراض ہیں۔ دانشور طبقے کا کہنا ہے کہ ویسے بھی جمہوریت میںروٹیشن بنا رہنا چاہیے۔ ایک پارٹی کو 15 سال کا وقت د ینا کافی ہے۔ اب سرکار بدلنی چاہیے۔ اتنا ہی نہیں،اس سے نئی سرکار پر خود کو ثابت کرنے کا بھرپور دباؤ ہوگا، جس کا فائدہ عوام کے ہر طبقے کو ملے گا۔
حکومت مخالف لہر کے بھروسے ہے کانگریس
کانگریس جس طرح سے الیکشن کو لے کر ڈھیلا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، اسے دیکھتے ہوئے زیادہ تر لوگوںکا ماننا ہے کہ وہ صرف حکومت مخالف لہر کے بھروسے بیٹھی ہے۔ خیر، کچھ حد تک کانگریس کی یہ سوچ صحیح بھی ہے کیونکہ پچھلے انتخابات پر نظر ڈالیںتو کسے پتہ تھا کہ بی جے پی اکثریت سے اتنی زیادہ سیٹیںلے جائے گی۔ دگ وجے سنگھ کو ہراتے وقت بھی بی جے پی کے کھاتے میں173 سیٹیںآئی تھیں، جس میںسب سے بڑا تعاون حکومت مخالف لہر کا تھا۔ اس معاملے میں انتخابی تجزیہ کار گرجا شنکر کہتے ہیں کہ الیکشن پالیٹکل سائنس کا نہیں، بلکہ سوشل سائنس کا موضوع ہے کیونکہ لو گ کس طرح انتخابات میںاپنا ردعمل دیںگے، اس پر ہار جیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اب حکومت مخالف لہر کو ناپنے کا کوئی پیمانہ تو ہے نہیں، لہٰذا اس سے کانگریس کو کتنا فائدہ ہوگا، یہ اندازہ لگانا غلط ہے۔ بھلے ہی لوگ حکمراںپارٹی کے رکن اسمبلی سے لے کر کونسلر اور سرپنچ تک سے خوش نہ ہوں، لیکن شیور اج سنگھ کی بھلے آمی کی شبیہ ان کے حق میںجاتی ہے۔ وہ محنتی لیڈر ہیں اور مشکل کے وقت عوام کے پاس بھلے ہی سرکاری مشینری مدد کے لیے بعد میںپہنچے، لیکن شیوراج ضرور موقع پر لوگوںکے آنسو پونچھنے کے لیے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھیںتو حکمراںپارٹی کے خلاف جیت درج کرنے کی جو آگ اور بھوک کانگریس میںہونی چاہیے تھی ، وہ کہیںنظر نہیںآرہی ہے۔ ویاپم جیسے بڑے گھوٹالے کو کانگریس صحیح طریقے سے چھو بھی نہیںپائی، اسے مدعا بنانا تو دور کی بات ہے۔

 

 

 

 

 

یہ ہوں گے انتخابی مدعے
بی جے پی کے پاس سب سے بڑا انتخابی مدعا سرکار کے تین ٹرموںکا کام گنا نا ہے۔ ساری اسکیموں سے ملے فائدوں کو عوام تک پہنچانا ہے۔ وہیںکانگریس بے روزگاری، بدعنوانی اور کسانوںکے مسائل کو مدعا بنانے جارہی ہے۔ مندسور میںکسانوںکی موت کے بعد کسان کافی ناراض ہیں۔ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش سرکار کی امنگی ’بھاوانتر یوجنا‘ بھی بری طرح فلاپ رہی۔ کسانوں کے بیج پانے سے لے کر بجلی، فصلوںکے صحیح دام نہ ملنے جیسے ڈھیروں مسائل ہیں۔ شیوراج سنگھ نے کھیتی کو فائدے کا دھندہ بنانے کے خواب تو خوب دکھائے لیکن ان میںسے کوئی بھی خواب پورا نہیںکر پائے اور اس کی بھرپائی وہ کسانوں کے کھاتے میںپیسے ڈال کرکرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اتنے مسائل کے بعد بھی کسانوںکے پاس ووٹ دیتے وقت پہلے متبادل کے طور پر شیور اج سنگھ ہی نظر آتے ہیں۔ انھیںامید ہے کہ شاید مستقبل میںان کے کھاتوںمیںاور پیسے آئیں ۔ ویسے بھی شیوراج سنگھ کے پاس کسانوںکو خوش کرنے کے لیے اس کے علاوہ فی الحال کوئی دوسرا طریقہ ہے بھی نہیں۔
سپاکس اور اجاکس کے اپنے مدعے ہیں۔ وہیںبی ایس پی کا کہنا ہے کہ وہ بی جے پی کو ہرانے کے لیے کام کرے گی کیونکہ اس کی مدت کار میںدلتوں کے ساتھ برا سلوک ہوا۔ بے قصور دلتوں کو ماراگیا۔ عام آدمی پارٹی بھی بی جے پی کو ہرانے کے لیے دہلی میںکیے گئے کاموںکی دہائی دے گی۔ ا س کے علاوہ وہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری، کسان،غریبوںکے مسائل کو مدعا بنائے گی۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر آلو ک اگروال کہتے ہیںکہ دہلی میںالیکشن لڑتے وقت ہمارے سامنے جو مسائل تھے،وہ اب نہیںہیں۔ گاؤںگاؤں میںلوگ عام آدمی پارٹی ، اروند کجریوال اور ہمارے انتخابی نشان جھاڑو کو جانتے ہیں۔ ہمیں صرف اچھے فنڈ کی ضرورت ہے۔
انتخابی ریاضی
مدھیہ پردیش میںکل 5کروڑ 3 لاکھ ووٹرزہیں۔ اس میں8 فیصد ووٹر نئے جڑے ہیں۔ 2013 کے اسمبلی انتخابات میںبی جے پی کو 44.85 فیصد ووٹ ملے تھے، وہیں کانگریس کو 36.38 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بی ایس پی کا ووٹ شیئر 6.29 فیصد رہا تھا۔ وہیں سیٹوں کی بات کریںتو 2003 میں جب بی جے پی نے مدھیہ پردیش میںدس سال بعد واپسی کی تھی حکومت مخالف لہر اور اوما بھارتی کے چہرے کے چلتے 173 سیٹوںپر جیت درج کی تھی۔ اس کے بعد 2008 کے انتخابات میں143 سیٹیں آئیں اور لگاتار تیسری بار جب اقتدار میں آئی تو عوام نے 165 سیٹوںسے بی جے پی کو نوازا۔ آخری اسمبلی انتخابات میںقریب8 فیصد کا جو گیپ رہا ہے، اسے بھرنا اس بار کانگریس کے لیے کچھ خاص مشکل نہیںہوگا۔ کیونکہ بی ایس پی سے اس بار کئی دلت تنظیمیں ناراض ہیں اور وہ اپنا ووٹ ایسی پارٹی کو دینا چاہتی ہیں جو اقتدار میںآسکے۔ لہٰذا انتخابی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کانگریس اچھی طرح محنت کرے تو اس بار بی ایس پی کے آدھے وو ٹ آرام سے کانگریس کے کھاتے میںآسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کانگریس اجاکس کے ووٹ پانے میںبھی کامیاب رہی تو ا س کے لیے اقتدار کا سفر اور بھی آسان ہوجائے گا۔ عام آدمی پارٹی، سپاکس سماج جیسی پارٹیاں بھی 4 فیصد ووٹ شیئر کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت مخالف لہر تو ہے ہی۔ ان سب کو ملالیں تو کانگریس 8 فیصد ووٹ بینک کے گیپ کو ختم کرنے کی دوری پوری کر سکتی ہے۔
انتخابی مینجمنٹ کی بات کریں تو شیوراج سنگھ چوہان نے سرکاری مشینری، پارٹی، میڈیا سبھی کو مینج کرنے میںکوئی کور کسر نہیںچھوڑی ہے۔ اس طرح ان کی حالت تو ریاست میں’سرو ویاپی‘ جیسی ہے۔ وہیںپارٹی تنظیم پر بھی انھوںنے اپنا دباؤ بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔ البتہ مودی کی ناراضگی اور امیت شاہ کی چانکیہ عقل پر شیوراج کا کوئی بس نہیں ہے۔ ایسے میںٹکٹ ڈسٹری بیوشن میںشیو راج سنگھ کتنی مداخلت کر پاتے ہیں، یہ تو امیدواروں کی لسٹ ہی بتائے گی۔ بی جے پی کے لیڈروں کی ہی مانیںتو اراکین اسمبلی کے خلاف جس طرح کا ماحول ہے ، اس لحاظ سے جیت کے لیے کم سے کم 70 سے 100 سیٹوں پر امید وار بدلنا بہت ضروری ہے۔ اگر امیدوار بدلنے کے اعداد وشمار 50 سیٹوںتک بھی نہ پہنچ پائے تو بی جے پی کی ہار طے ہے۔
ایسی ہی صورت حال کانگریس کو لے کر بھی ہے۔ وہاںتو لیڈروں کے پسندیدہ لوگوں کو ٹکٹ بانٹنے کے دوران ترجیح دینے کا چلن پرانا ہے۔ اگر اس بار بھی مدھیہ پردیش میںسرگرم 3-4 لیڈوں کی پسند کو ہی ترجیح دی گئی تو کانگریس کی ایک بار پھر ہار یقینی ہے اور اس بار یہ ہار ایسی ہوگی جیسے کانگریس جیت کا سہرا خود بی جے پی کی جھولی میں ڈال دے کیونکہ ووٹر اس بار تبدیلی کی بیار چاہتے ہیں۔ یعنی کہ جس پارٹی میںبھی سیٹوںکی بندربانٹ ہوگی،اس کا بڑا فائدہ دوسری پارٹی کو ملے گا ۔
ویسے اس کی گنجائش کانگریس میںزیادہ ہے کیونکہ جب سی ایم امیدوار کا اعلان نہ ہو، مدعوںکو صحیح طریقے سے اٹھایا نہ گیا ہو،تو ایسے میںامیدوار ہی اہم ہو جاتا ہے۔ اس معاملے میںبی جے پی کی حالت ٹھیک ہے کیونکہ اس کے پاس کم سے کم سی ایم امیدوار تو طے ہے۔ جہاںتک بات راہل گاندھی کی ہے تو ان میں بھلے ہی پختگی بڑھی ہے لیکن اب بھی مدھیہ پردیش میںان کی شبیہ ایسی نہیںہے کہ ان کے کہنے پر لوگ کانگریس کو ووٹ دے دیں۔
میڈیا پر جم کو پیسہ بہا رہی ہے شیوراج سرکار
یہ تو جگ ظاہر ہے کہ شیوراج سنگھ نے گزشتہ 13 سالوں میںجم کر پیسہ بنایا اور اب چوتھی بار اقتدار میںآنے کے لیے اس کا بھر پور استعمال بھی کر ہے ہیں۔ خبریںمینج کرنے کے لیے میڈیا پر جم کر پیسہ لٹایا جارہا ہے۔ ریاست کے ایک اہم ہندی روزنامہ کو ہی اب تک قریب 60 کروڑ روپے کے اشتہار مل چکے ہیں۔ ظاہر ہے باقی ہندی ، انگریزی اخباروں کو بھی خوب اشتہار ملے ہوں گے۔ اس ریس میں ویب سائٹس بھی اخباروں سے پیچھے نہیںرہیں۔ انتخابات آتے ہی نئے اخبار -چینل آنے کا چلن ہمیشہ سے رہا ہے۔ اس بار اس دوڑ میںویب سائٹس بھی بڑی تعداد میںشامل ہوئی ہیں۔ ویسے پچھلے 3 سے 4 سالوں میںشیو راج سرکار نے ویب سائٹس کے لیے سرکاری اشتہار پانے کے قوانین میںکچھ ڈھیل بھی دی ہے۔ قریب دو سال قبل کچھ اَن اتھارائزڈ اور بیکار ویب سائٹس کو 14 کروڑروپے کے اشتہار دینے کے معاملے نے بھی زور پکڑا تھا۔ ان میں سے کئی ویب سائٹس صحافی، ریٹائرڈ آفیسرز اور لیڈرو ں کے متعلقین بھی چلا رہے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *