مدھیہ پردیش کتنا کامیاب ہوپائے گا کانگریس کا مذہبی اسٹروک

ملک کی سیاست اس وقت ہندوتو کے ابھار کے دور سے گزر رہی ہے۔ آج زیادہ تر پارٹیاں اپنے آپ کو ہندو دکھانے کی دوڑ میںشامل ہیں۔ مدھیہ پردیش بھی اس سے اچھوتا نہیںہے، جہاںاس سال کے آخیر میںالیکشن ہونے والے ہیں، گجرات کے بعد مدھیہ پردیش کو سنگھ کی دوسری تجربہ گاہ کہا جاسکتاہے۔ یہاں طویل عرصے سے بی جے پی اور سنگھ کا دبدبہ ہے۔ اس تجربہ گاہ میںسنگھ پریوار سے جڑی تنظیموںکی گہری رسائی ہے اور یہاں لگاتار تین بارسے بی جے پی کی سرکار ہے۔
گجرات کے بعد ایم پی میںکانگریس سرگرم
کانگریس اس سے قبل گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران ’نرم ہندوتو‘ کے راستے پر چلتے ہوئے بی جے پی کو ٹکر دے چکی ہے۔ اب وہ مدھیہ پردیش میں بھی یہی دوہرانا چاہتی ہے۔17 ستمبر کو راجدھانی بھوپال میںراہل گاندھی کے روڈ شو کے دوران کانگریس پوری طرح سے مذہب کے رنگ میںشرابور نظر آئی۔ بھوپال پہنچنے پر راہل گاندھی کا خیر مقدم 11 لڑکیوںکے تلک لگانے اور 21 برہمنوں کے ذریعہ کیے گئے ’سوستی واچن‘ سے کیا گیا۔ اس دوران پورے بھوپال کو راہل گاندھی اور ریاستی لیڈروںکے پوسٹروں سے پاٹ دیا گیاتھا۔ ان پوسٹروں میںراہل گاندھی کو شیو بھکت بتایا گیا تھا، جس میںکہیںوہ ٹیکہ اور ’اکشت‘ نشان کے ساتھ دکھائی دے رہے تھے تو کہیں کیلاش مانسروور کے بیک گراؤنڈ کے ساتھ شیولنگ پر جل چڑھاتے نظر آرہے تھے۔
گزشتہ دنوں ہی راہل گاندھی کیلاش مانسروور کی یاترا سے لوٹے ہیں، جس کے بعد انھوںنے انتخابی دورے کے لیے سب سے پہلے مدھیہ پردیش کو ہی منتخب کیا۔ دراصل گجرات کی طرح مدھیہ پردیش میںبھی اقلیتوں کی آبادی کم ہے، اس لیے یہاںبھی وہ ’ہندو چادر‘ اوڑھ کر الیکشن میںاترنے کی تیاری میںہیں۔ راہل کے اس روڈ شو کو اسمبلی انتخابات کا بگل مانا جارہا ہے، جس میںکانگریس نے نرم ہندوتو کے راستے پر چلنے کے اپنے ارادے کو باقاعدہ ڈھول نگاڑے کے ساتھ ظاہر کردیا ہے۔

 

 

 

 

کانگریس کا رائٹ ٹرن
کانگریس کے پالیسی سازوںکا ماننا ہے کہ حال میںپارٹی کی اس خراب حالت کے پیچھے سب سے بڑا فیکٹر مائنارٹی اپیزمنٹ کا لیبل ہے۔ بی جے پی بھی لگاتار اس پر مسلم پرست پارٹی ہونے کا الزام لگاتی آئی ہے۔ 2014 میںہوئی ہار کے بعد جو انٹونی کمیٹی تشکیل کی گئی تھی، اس نے بھی اپنی رپورٹ میںکہا تھا کہ کانگریس کی شبیہ ہندو مخالف پارٹی کی بن گئی ہے، جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اب لگتا ہے کہ راہل گاندھی اور ان کے مشیروںنے انٹونی کمیٹی کی سفارشوں پر سنجیدگی سے عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ اس کے پیچھے ایک دوسری وجہ ملک اور سماج پر ہندوتووادی طاقتوں کے بڑھتے غلبے کی بھی ہے۔ جس کے بعد سبھی پارٹیاں ہندو دکھائی دینے کے لیے مجبور کردی گئی ہیں۔
بہرحال کانگریس نے گجرات اور کرناٹک کے بعد اب مدھیہ پردیش میںبھی سنگھ اور بی جے پی سے مقابلے کے لیے ان کی’ پچ‘ یعنی ہندوتو پر ہی کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش میںانتخابی تشہیرکے دوران راہل گاندھی کو مندر مندر گھمانے کے لیے ایک لمبی چوڑی فہرست بنائی گئی ہے، جہاں آنے والے مہینوںمیںوہ گھومتے نظر آئیںگے۔
مدھیہ پردیش میں کانگریس کی موجودہ قیادت بھی راہل گاندھی کی اسی لائن پر چلتی نظر آرہی ہے۔ اس میںمدھیہ پردیش کانگریس کے تینوں اہم رہنما شامل ہیں۔ ریاستی صدر کی ذمہ داری ملنے کے بعد کمل ناتھ سب سے پہلے بھوپال کے گپھا مندر اور دتیا کے پیتامبرا پیٹھ مندر گئے تھے۔ اس دوران انھوںنے کہا تھا کہ مندر جانے پر بی جے پی کا کاپی رائٹ نہیںہے۔ اسی طرح انتخابی تشہیری مہم کمیٹی کے سربراہ جیوترادتیہ سندھیا نے بھی اپنی انتخابی مہم کی شروعات مہا کالیشور مندر پر پوجا ارچنا اور ابھیشیک کرنے کے بعد کی تھی۔ اس دوران وہ اجین میںمہا کال کے درشن کے لیے بھی جاچکے ہیں۔ اس پر کانگریس ترجمان کے ذریعہ باقاعدہ دلیل دی گئی تھی کہ سندھیا مذہبی آدمی ہیں۔ ریاست میں14 سال سے زیادہ وقت تک اقتدار میں رہی بی جے پی کو اقتدار سے اکھاڑنے کے لیے دیوی دیوتاؤں کا آشیرواد لینے کے لیے وہ ریاست کے کئی مندروں میںجانے والے ہیں۔ اس بارے میں خود جیوترادتیہ سندھیا بھی کہہ چکے ہیںکہ’’ ہندو دھرم بی جے پی کی میراث نہیں ہے اور نہ ہی بی جے پی نے ہندودھرم کا ٹھیکہ لیا ہے، ہندودھرم ہندوستان کا دھرم ہے۔ ‘‘
اسی طرح ریاست میں کانگریس کے ایک اور بڑے رہنما دگوجے سنگھ نے اپنی ’سمنوے یاترا‘ کی شروعات اورچھا کے رام راجا مندر سے کی تھی۔ گزشتہ دنوںجب راہل گاندھی کیلاش مانسروور کی یاترا پر تھے، تو دگوجے سنگھ نے اس خواہش کااظہار کیا تھا کہ اگلے سال وہ بھی کیلاش مانسروور جانا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے دگوجے سنگھ اپنی مشہور ’نرمدا یاترا‘ مکمل کرچکے ہیں، جسے بھلے ہی وہ ذاتی یاترا بتاتے رہے ہوں لیکن یہ ایک طرح سے شبیہ بدلنے کی قواعد بھی تھی۔
مذہب پسندی میںبی جے پی سے آگے بڑھنا
لیکن مدھیہ پردیش میںسافٹ ہندوتو کے راستے پر چلتے ہوئے کانگریس یہیں نہیںرکی ہے بلکہ اس دوران لگاتار ایسے اعلان بھی کیے گئے ہیں جنھیں ابھی تک عموماً بی جے پی کا دائرہ کار مانا جاتا رہا ہے۔ کانگریس اعلان کرچکی ہے کہ ریاست میںاس کی سرکار بنی تو وہ مدھیہ پردیش کو مذہبی سیاحت کا مرکز بنائے گی۔ اسی طرح سے گزشتہ دنوں ریاستی کانگریس کے صدر کمل ناتھ نے اعلان کیا تھا کہ مدھیہ پردیش میںکانگریس کی حکومت آنے پر ا ن کی سرکار ریاست کے ہر پنچایت گھر میںگئو شالہ بنائے گی اور اس کے لیے الگ سے فنڈ مہیا کرایا جائے گا۔ اس کے لیے کانگریس نے سوشل میڈیا پر کمل ناتھ کی تصویر کے ساتھ باقاعدہ ایک اشتہار بھی جاری کیا تھا جس میںلکھاتھا ، ’’پردیش کی ہر پنچایت میںگئو شالہ بنائیںگے، یہ گھوشنا نہیںوچن ہے۔‘‘ یہ اعلان کرتے ہوئے کمل ناتھ نے الزام لگایا تھا کہ ’’بی جے پی گئو ماتا کو لے کر بہت بڑی بڑی باتیںکرتی ہے لیکن کرتی کچھ نہیںہے۔ریاست میںگئوشالاؤں کی حالت بہت خراب ہے۔ سیکڑوں گائے روز مر رہی ہیں۔ بی جے پی گائے کے نام پر صرف سیاست کرتی ہے لیکن کانگریس گائے کو تڑپتے ہوئے نہیںدیکھ سکتی۔ا س لیے سڑکوں پر آوارہ گھوم رہی گایوں کو پنچایتی سطح پر گئو شالہ کھول کراس میںبھیجا جائے گا تاکہ وہ حادثے کا شکار نہ ہوسکیں۔ ‘‘
کانگریس نے ’رام پتھ‘ بنانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس بارے میںدگوجے سنگھ نے کہا ہے کہ’ ’بی جے پی نے ’رام پتھ‘ کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ ابھی تک نہیںبنا ہے۔’ نرمدا پریکرما‘ کے دوران محسوس ہوا تھا کہ ’رام پتھ‘ کی تعمیر ہونی چاہیے۔ یہ پتھ مدھیہ پردیش کی سرحد تک بنے، اس پر ہم غور کررہے ہیں۔ ‘‘ غور طلب ہے کہ شیو راج کے ذریعہ’ رام پتھ‘ بنانے کا اعلان کئی بار کیا جاچکا ہے، جسے وہ اپنے کئی اعلانوںکی طرح بھول چکے تھے۔ کانگریس اب شیوراج سنگھ کے اس وعدے کو پورا کرنے کا دم بھر رہی ہے۔
کانگریس ’رام ون گمن پتھ یاترا‘ بھی شروع کرنے جارہی ہے۔ رام ون گمن پتھ یاترا کے لیے باقاعدہ ایک کمیٹی کی تشکیل بھی کی جاچکی ہے، جس میںہندو سادھو سنت کے ساتھ کانگریس کے سات اراکین اسمبلی بھی شامل ہوںگے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ یاترا 21 ستمبر سے شروع ہوکر 9 اکتوبر تک چلے گی اور قریب 35 اسمبلی حلقوںسے ہوکر گزرے گی۔
ظاہر ہے مدھیہ پردیش میں ہندوتو کے مدعوںکو لے کر ا س بار بی جے پی کے بجائے کانگریس جارح نظر آرہی ہے۔ کانگریس کی اس حکمت عملی کو لے کر بی جے پی دباؤ میںنظر آرہی ہے۔ بھوپال میںروڈ شو کے دوران جب راہل گاندھی کو شیو بھکت کے طور پر پیش کیا گیا تو بی جے پی کا کہنا تھا کہ ’’الگ الگ طرح کے ہتھکنڈے اپناکر کانگریس ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے، جس میں وہ کبھی کامیاب نہیںہوسکے گی۔‘‘اس پر کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی کو برداشت نہیںہوتا کہ کانگریس ہندو دھرم کی بات کرے۔ بی جے پی نے ہندو دھرم کا ٹھیکہ نہیںلے رکھا ہے۔ کانگریس مذہب سے پیار کرنے والی پارٹی ہے جبکہ بی جے پی مذہب کا سیاسی استعمال کرتی ہے ۔‘‘

 

 

 

 

ہندو بنا م ہندوتو
ایک طرف جہاںخود کو شیو بھکت، جنیودھاری، ہندو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے راہل گاندھی مندر مندر گھوم رہے ہیں، وہیں دوسری طرف آج کے منظرنامے میں وہ ایک ایسے رہنما ہیں جو لگاتار سنگھ اور بی جے پی پر ان کی ہندوتووادی سیاست کو لے کر حملہ آور بنے ہوئے ہیں۔ یہ حملہ اس قدر تیکھا ہے کہ گزشتہ دنوں لندن میںوہ ایک پروگرام کے دوران بولتے ہوئے آر ایس ایس کا موازنہ دنیائے عرب کی اخوان المسلمون سے کرچکے ہیں۔
دراصل راہل گاندھی بہت باریکی سے سیاسی کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سنگھ کے ہندوتو کی تعریف سے الگ ہندو دھرم کو کلیم کرنے کی کوشش ہے۔ اسے سافٹ ہندوتو کی جگہ ’’ہندو چادر‘‘ کو اوڑھنا کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔ دراصل ہندوتو ایک سیاسی نظریہ اور منصوبہ ہے جسے وینائک دامودر ساورکر اور آر ایس ایس کے بانیوںنے آگے بڑھایا تھا جبکہ راہل ہندو دھرم کی بات کرتے ہیںجس کا زیادہ تعلق پہچان اور آستھا سے ہے۔ راہل گاندھی باربار اشارہ کرتے ہیںکہ کانگریس اور سنگھ کا الگ الگ نظریہ ہے۔
پچھلے کچھ عرصہ سے دگوجے سنگھ بھی لگاتار ہندو دھرم اور ہندوتو میںفرق سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔اس بارے میںان کابیان قابل غور ہے، جس میںانھوںنے کہا تھا ’کہ میںنے سنگھی دہشت گردی لفظ کا استعمال کیا ہے۔‘
لیکن اس پوری بحث میں اس بات کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ہندوستانی سماج اور سیاست میںسنگھ اور اس کے نظریہ کی ہی بڑھت ہے جس کی وجہ سے آج راہل جیسے رہنماؤں کو اپنی ہندو پہچان اور آستھا کو اس طرح سے ظاہر کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑاہے۔
شروع میں’ہندو چادر‘ اوڑھنے کا فائدہ راہل گاندھی کو ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ گجرات انتخابات کے بعد سے راہل گاندھی کی شبیہ میںکافی سدھار دیکھنے کو ملا ہے۔ پارلیمانی انتخابات سے ٹھیک پہلے راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میںاس کا مقابلہ راست طور پر بی جے پی سے ہے۔ ان تین ریاستوں میں کانگریس کی اس حکمت عملی کا امتحان ہونا ہے۔
دگوجے کو حاشیہ پر رکھنے کی حکمت عملی یا بھول؟
مدھیہ پردیش میںطویل عرصے بعد کانگریسی پرجوش نظر آرہے ہیں۔اس کا نظارہ بھوپال میںراہل گاندھی کے روڈ شو کے دوران دیکھنے کو ملا۔ اس دوران بھوپال کی سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم دیکھنے کو ملا ۔ اس کے لیے ملک بھر سے کانگریسی کارکن بھوپال پہنچے تھے۔ آخیر میں راہل گاندھی نے دسہرہ میدان میں کارکن کانفرنس سے خطاب کیا۔ کانگریس نے راہل کے اس روڈ شو سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اس بار وہ پوری طاقت سے الیکشن لڑنے والی ہے۔ اس دوران راہل نے شیوراج سنگھ چوہان جی کو ’’گھوشنا مشین‘‘ بتاتے ہوئے کہا کہ ’’شیو راج اب تک قریب 21 ہزار اعلان کرچکے ہیں اور ایم پی،بے روزگاری، بدعنوانی اور زنا بالجبرمیںنمبر ون بن گیا ہے۔‘‘ لیکن اس کے ساتھ ہی شیوراج کی طرز پر انھوںنے اعلان بھی کرڈالا کہ’’ اگر مدھیہ پردیش میںکانگریس کی سرکار بنی تو ہم ’میڈ اِن بھوپال‘ اور ’میڈ اِن مدھیہ پردیش‘ موبائل بنائیں گے۔
راہل کے اس ایک روزہ دورے کے دوران سب سے چونکانے والی بات یہ رہی کہ اس دوران دگوجے سنگھ فورم کے پیچھے رہے۔ یہاںتک کہ راہل گاندھی کی جلسہ گاہ پر ریاستی کانگریس کے سبھی اہم رہنماؤں کے کٹ آؤٹ تھے لیکن دگ وجے سنگھ کا کٹ آؤٹ ندارد تھا۔ یہی نہیں روڈ شو کے دوران راہل گاندھی جس بس میںسوار تھے،ا س میںبھی دگوجے سنگھ نہیںتھے۔ تنازع ہونے کے بعد دگوجے سنگھ کی طرف سے صفائی دی گئی کہ میںنے خود ہی کٹ آؤٹ نہیںلگانے کے لیے بولا تھا جبکہ اس بارے میںکمل ناتھ نے کہا کہ ’’یہ بھول تھی، میںان سے اس معاملے میںذاتی طور پر اور عوامی طور پر معافی مانگتا ہوں۔ ‘‘
لیکن آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مدھیہ پردیش میںابھی بھی دگوجے سنگھ کی ایسی حالت نہیںہوئی ہے کہ اتنے بڑے پروگرام میں کوئی دگوجے سنگھ کا کٹ آؤٹ لگانا بھول جائے۔ تمام برعکس حالات کے باوجود آج بھی دگوجے سنگھ بھولنے والے نہیںبلکہ یاد رکھے جانے والے رہنما ہیں اور مدھیہ پردیش میں انھیںاگر کوئی سب سے زیادہ یاد کرتا ہے تو وہ خود شیوراج سنگھ چوہان ہیں۔ وہ لگاتار اپنے دور حکومت کا موازنہ دگوجے سنگھ کے دور سے کر رہے ہیں۔ ایسے میںاس بات کا امکان ہے کہ اس الیکشن کے دوران کانگریس جان بوجھ کر دگوجے سنگھ کو فرنٹ پر نہ رکھنا چاہتی ہو، جس سے دگوجے سنگھ کے دور کے بہانے کانگریس پر حملہ کرنے کے شیوراج سنگھ کے داؤںکو کند کیا جاسکے۔
دوسری طرف اس بات سے بھی انکار نہیںکیا جاسکتا ہے کہ دگوجے سنگھ کو پیچھے رکھنے کی ہدایت اعلیٰ کمان سے ملی ہو۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دگوجے سنگھ کی دہلی میںپکڑ کمزور ہوئی ہے اور حال میںانھیںپارٹی میں تال میل بنانے کی ذمہ داری ہی دی گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *