دینک بھاسکر کے گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کا قتل

سوال یہ ہے کہ آخر سلونی چاہتی کیا تھی؟ کیا واقعی اس کے پاس ایسے کچھ ثبوت تھے یا ہیں، جن کے دم پر وہ دینک بھاسکر کے گروپ ایڈیٹرکلپیش یاگنک کو ان کی کردار کشی کرنے کے لیے دھمکی دے رہی تھی؟ اگر ایسے آڈیو-ویڈیو اس کے پاس تھیتو فرار ہونے کے بعد جب وہ دہلی، ممبئی ، میرٹھ، پونے سمیت کئی شہروں کے راستے ناپ رہی تھی، اس دوران کیا وہ کسی بھی سائبر کیفے سے انھیں سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ نہیں کر سکتی تھی؟ لیکن اس نے ایسا نہیںکیا۔ اگر اس کے پاس کچھ نہیںتھا تو وہ دھمکی کس بنیاد پر دے رہی تھی؟ پولیس سے جڑ ے ذرائع کی مانیںتو اس کے پاس صرف کچھ آڈیو تھے، جن میںاس نے گروپ ایڈیٹرکلپیش یاگنک سے کچھ باتیں قبول کروالی تھیںاور ان ہی کو سوشل میڈیا پر ڈالنے کی دھمکی دے رہی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کے خلاف’می -ٹو‘ کیمپین شروع کردے گی۔ اس کے بعد تو اسے انھیںبدنام کرنے کے لیے کسی ثبوت کے ٹکڑے کی بھی ضرورت نہیںہوگی۔
سلونی صرف پیسوں کے لیے ایسا نہیںکر رہی تھی کیونکہ جیسا کہ اس نے خود یہ بات کہی ہے کہ ممبئی میںکسی فلم ڈائریکٹر یا پروڈیوسر کے ساتھ رلیشن بناکر وہ پیسہ بنا سکتی ہے، تو صرف پیسہ پانا ہی اس کا مقصد نہیںتھا۔ وہ گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کو دینک بھاسکر گروپ سے استعفیٰ دینے کے لیے کہہ رہی تھی، جس کے لیے انھوں نے منع کر دیا تھا کیونکہ ان پر خاندان کی ذمہ داریاں تھیں۔ بلیک میلنگ کرنے کے پیچھے تیسری وجہ بچتی ہے گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کے سماجی وقار کو تباہ کرنا۔ سلونی اچھی طرح جانتی تھی کہ گروپ ایڈیٹر کلپیش جی کے لیے ان کی عزت، پریسٹج سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے اور اس سے وہ کوئی سمجھوتہ نہیںکرسکتے ۔
سلونی اپنے بیٹے کو فلمی دنیا میں لانا اور جماناچاہتی تھی۔ اس کے لیے اسے ضرورت تھی دینک بھاسکر برانڈ کی۔ اپنی تمام منمانیوں ، غلط طریقوں سے خبریںچھپوانے، اپنے ساتھیوںسے غیر مہذب سلوک کرنے کے بعد بھی اگر اسے دینک بھاسکر میںبنے رہنا تھا، تو اسے ضرورت تھی گر وپ ایڈیٹرکلپیش یاگنک جیسے دمدار شخص کی، جس کی بات دینک بھاسکر کا مینجمنٹ بھی نظرانداز نہیںکر پاتا تھا۔ سلونی جب دینک بھاسکر میںآئی تھی، اس وقت گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک ہی اندور ٹیم کو ہیڈ کرتے تھے۔
سلونی اپنے مجرمانہ رجحانات اور اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے اپنے مزاج سے واقف تھی۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ وہ اتنی باصلاحیت نہیںہے کہ اتنی کمیوںکے باوجود دینک بھاسکر میںطویل مدت تک ٹکی رہ سکے۔ ایسے میںاس نے سوچا ہوگا کہ صرف گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک ہی ایسے شخص ہیں جو اسے اپنے منصوبوں میںکامیاب ہونے میںمدد کر سکتے ہیں۔ گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک اتنے باصلاحیت صحافی رہے ہیں کہ ان کا کریئر گراف روز بروز اوپر ہی جانا تھا۔ وہ سچے بھاسکرائٹ تھے اور اس گروپ کا دامن چھوڑ کر کہیںدیگر جگہ جانے کا خیال ان کے ذہن میںشاید ہی کبھی آیا ہو۔ ایسے میں سلونی کے لیے دینک بھاسکر میںاپنی نیا پار لگانے کے لیے کلپیش یاگنک (گروپ ایڈیٹر) سے بہتر کوئی متبادل ہو ہی نہیںسکتا تھا۔ لہٰذا سلونی نے شروع سے ہی انھیں اپنے شکنجے میںرکھنے کی کوشش کی اور وہ اس میںکامیاب بھی ہوگئی۔ اس کام میںاس کا ساتھ دیاریلائنس انٹر ٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈآدتیہ چوکسے نے۔ انل امبانی کی فلم بزنس کمپنی ریلائنس انٹر ٹینمنٹ میںکام کرنے والے آدتیہ چوکسے نے اپنی دوست سلونی کے ساتھ مل کر ایک اسکرپٹ لکھی۔ اس میں مہرہ بنے سلونی ارورہ اور گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک۔ اس اسکرپٹ میںہر چیز ریلائنس انٹر ٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈآدتیہ چوکسے اور سلونی کے مطابق چلی۔ سلونی کا مقصد تھابھاسکر میں دووبارہ نوکری پانا، اپنے بیٹے کو فلموںمیںلانچ کرانا اور گروپ ایڈیٹر کلپیش سے زیادہ سے زیادہ پیسے وصول کرنا۔ گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک سمجھ گئے تھے کہ سلونی کی ان سے 5 کروڑ روپے کی مانگ آخری مانگ نہیںہے۔
صحافی سلونی کو میڈیا کا ہی ڈر دکھاکر گھیرا تھا پولیس نے
گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کی خود کشی کے قریب 10 دن بعد سلونی ارورہ کے خلاف معاملہ درج ہوا۔ اس میں گروپ ایڈیٹر کلپیش کے لکھے 8 صفحے کے اس خط کو ہی سوسائڈ نوٹ مان لیا گیا، جسے انھوںنے مرنے سے ہفتہ بھر پہلے اے ڈی جی پی کو سونپا تھا۔ سلونی کو پکڑنا اتنا آسان نہیںتھا۔ پولیس کو سلونی کو گرفتار کرنے میں 10 دن لگ گئے ۔ سلونی نے پولیس کو کئی شہروں کے چکر لگوائے۔ اپنا موبائل ممبئی کے فلیٹ میںچارجنگ پر لگاکر اپنے بیٹے کے ساتھ وہ فرار ہوگئی تھی۔ اس دوران مختلف نمبرںسے وہ اپنے لوگوںسے رابطہ کرتی رہی۔
بتایا جاتا ہے کہ جیسے ہی اسے پتہ چلا کہ گروپ ایڈیٹرکلپیش یاگنک نے بلڈنگ سے چھلانگ لگا دی ہے تو وہ قریب ایک گھنٹے تک آفس میںاپنے کانٹکیٹ سے بات چیت کرکے پل پل کی خبر لیتی رہی۔ کیس درج ہونے کے بعد گرفتار کرنے کے لیے پولیس نے اسے کئی طریقوںسے گھیرا۔ اس سے جڑے لوگوںکے سبھی ٹھکانوں پر تلاش کی گئی۔ بعد میںریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے سمیت کچھ لوگوں کے ممبئی میںجوہو سے لے کر واشی کے بیچ قریب 20 کلومیٹر کے د ئرے میںمختلف نمبروں سے بات کیے جانے کی جانکاری ملی۔ اس بنیاد پر پولیس نے ان علاقوںمیںاس کی چھان بین شروع کی۔ اس کے لیے پولیس کوکئی ڈھونگ بھی رچنے پڑے۔ خاتون پولیس صحافی بن کر گھومیںتو وہیں ٹی آئی تہذیب قاضی نے ماڈل بن کر آڈیشن دیے۔ تب بھی جب سلونی کو نہیںپکڑ پائے تو انھوںنے سوچا کہ وہ کھانا کھانے کے لیے تو کہیںنہ کہیںجارہی ہوگی۔ ممکنہ طور پر ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ نے انھیںجانکاری دی کہ کھانا کھانے کے لیے کن جگہوں پر جاسکتی ہے اور یہ ٹرک کام آگئی۔ پولیس نے ممبئی کے شیو ساگر ریسٹورنٹ سے اسے گرفتار کیا۔ سلونی برقع پہن کر گھوم رہی تھی۔ پہلے تو اس نے پولیس کو اپنا ’رودر روپ‘ دکھایااور کہا کہ وہ اسے اس طرح نہیںلے جا سکتے۔ لیکن جب پولیس نے اسے میڈیا کو بلانے کی دھمکی دی تب جاکر وہ گاڑی میں بیٹھی۔ المیہ یہ ہے کہ خود صحافت کے پیشے سے کئی سالوںسے جڑی سلونی میڈیا سے ہی سب سے زیادہ ڈر گئی۔ وہ میڈیا میںآکر بدنامی سے بچنا چاہتی تھی۔ یہ شاید ٹھیک بھیہے، کیونکہ اتنے سالوںکے صحافتی کریئر میںسلونی نے اس پروفیشن میںدوست سے زیادہ دشمن بنائے تھے۔

 

 

 

 

آدتیہ چوکسے نے ہی پکڑوایا سلونی کو
اس پورے معاملے میںریلائنس انٹرٹینمنٹ کے ڈسٹری بیوشن ہیڈآدتیہ چوکسے کا رول سب سے حیران کن رہا۔ سلونی اب تک کی پوری پوچھ تاچھ میں اسے بچاتی اور سارے الزام اپنے ماتھے لیتی آئی ہے۔ حالانکہ پولیس نے پوری کوشش کی کہ وہ اس معاملے میںسلونی سے ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کا رول اس کے منہ سے اگلوا سکے لیکن اپنے دوست پر بے انتہا بھروسہ کرنے والی سلونی نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس نے اس کیس میں ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کو کلین چٹ دے دی۔ادھرپولیس بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کی سپورٹ کے بغیر سلونی اکیلی اتنا کچھ نہیںکرسکتی تھی۔ اس لیے پولیس نے اس پر دباؤ ڈالا اور اس سے جانکاریاںنکلوائیں۔ ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے ڈسٹری بیوشن ہیڈآدتیہ چوکسے نے یہ بات قبول کرلی کہ سلونی نے جب بھی گروپ ایڈیٹرکلپیش یاگنک کو دھمکی دی ، ہر اس وقت وہ سلونی کے ساتھ تھا۔ اس کے سامنے ہی سلونی نے گروپ ایڈیٹر کلپیش کو بلیک میلنگ اور دھمکانے والے فون کیے لیکن ان میںسے کسی بھی آڈیو میںریلائنس انٹرٹینمنٹ کے ڈسٹری بیوشن ہیڈآدتیہ چوکسے کی آواز سنائی نہیں دیتی ہے، اس لیے پولیس نے اسے ملزم بنانے کی بجائے گواہ بنادیا۔ ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے نے سالوں پرانی اپنی دوست سلونی کے خلاف کورٹ میںسارے بیان بھی دیے ہیں۔
اس پورے کیس میںپولیس کا رول زبردست رہا۔ اس ہائی پروفائل کیس کو ہینڈل کرنے میںپولیس نے پوری طاقت لگادی۔ سلونی کو پکڑ نے کے لیے فیلڈنگ کرنے سے لے کر سارے ثبوتوں کو اکٹھا کرنے میںپولیس کے اوپر سے لے کر نیچے تک کے سارے افسروں نے خوب محنت کی۔ پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل ہری نارائنا چاری مشر کہتے ہیں،’ہمیںدو سال کے آڈیو ملے ہیں، جن میںدھمکانے اور دباؤ ڈالنے کے ثبوت ملے ہیں۔ آخیر میںکی گئیں کئی کال واٹس ایپ کال اور چیٹ تھے، سلونی انھیںبھی ریکارڈ کر رہی تھی اورچیٹنگ کے اسکرین شاٹ رکھ رہی تھی۔ حالانکہ اب تک ایسی کوئی بھی ویڈیو کلپنگ نہیںملی ہے، جس کا دعویٰ سلونی بلیک میلنگ میںکر رہی تھی۔

دوستوں کی کمی اور اپنا آبھا منڈل ہی گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کے آڑے آگیا
گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کے چاہنے والوںکی کمی نہیںہے۔ ان کا اس طرح دنیا سے چلے جانا، ان سبھی پر کسی اسٹروک سے کم نہیںہے۔ کئی سالوں سے ان کے ساتھی رہے صحافی لوگ کہتے ہیںکہ انھیںاس معاملے سے نمٹنے کے لیے جتنی ضرورت خاندانی سپورٹ کی تھی، اس سے زیادہ ضرورت بھروسہ مند دوستوں کی تھی کیونکہ پروفیشل اور پرسنل زندگی سے جڑے کچھ معاملے ایسے ہوتے ہیں، جن میںدوست ہی صحیح رول ادا کرسکتے ہیں۔ وہ آڑے وقت میںڈھارس بھی بندھاتے ہیں اور ان مشکلوںسے نکلنے میں ساتھ بھی دیتے ہیں۔ اگر گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک نے کچھ ایسے دوست بنائے ہوتے تو وہ آج اس دنیا میں ہوتے ، ان کے قریبی رہے کچھ ساتھی سمجھ رہے تھے کہ وہ تناؤ میںہیں لیکن انھوںنے اپنے چاروںطرف جس طرح کا آبھا منڈل بنا رکھا تھا، اسے توڑ کر ان سے تناؤ کی وجہ پوچھ پانا بھی کسی کے لیے ممکن نہیںتھا۔پولیس کے اعلیٰ افسروں نے انھیںخط دیتے وقت بھروسہ بھی دلایا تھاکہ ان کے خلاف کوئی معا ملہ درج نہیںہوگا، وہ مطمئن رہیں۔ لیکن 31 سال سے بنائی گئی اپنی پریسٹج پر آنچ نہ آجائے،اس خوف سے انھوںنے نہ تو سلونی کے خلاف معاملہ درج کرایا اور نہ ہی اس کے جھوٹے الزاموںکا جواب دینے کے لیے اس دنیا میںرہے۔
گروپ ایڈیٹر کلیپش یاگنک کے چھوٹے بھائی نیرج کہتے ہیں کہ آٹھ صفحے کے خط میںجس طرح کلپیش بھائی نے خواتین کے لیے بنے قانون، اس کے بیجا استعمال اور لاء اینڈ آرڈر کو لے کر لکھا ہے، اس کے مطابق مجھے ایسا لگتا ہے کہ کلپیش بھائی نے خود کشی اس لیے کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان میںموت کے بعد ملزم کو سزا دلانا آسان ہوتا ہے۔ سالوںکی اپنی بے داغ شبیہ کو بچانے کے لیے انھوںنے موت کو گلے لگایا۔ وہ ہم متعلقین کو ا س بات کے لیے تیار کرکے گئے کہ ہم آسانی سے سلونی کو اس کے گناہوں کی سز ا دلاسکیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ آخری وقت تک کام بھی کرتے رہے۔ انھوںنے ہمیشہ کی طرح اگلے دن کی پلاننگ کے لیے میٹنگ بھی لی۔ اتنا ہی نہیں، دینک بھاسکر کے لیے اگلے چھ مہینوں کے لیے کئی چیزیں پلان بھی کرکے گئے۔
جان دینے کا ایسا بھی طریقہ
سب کے دماغ میں یہ سوال ہے کہ جب گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک سلونی ارورہ کے معاملے سے نمٹنے کی پوری تیاری کرچکے تھے تو انھو ںنے آخر ایسا قدم کیوں اٹھایا؟12 جولائی کی رات اچانک کیا ہوا کہ وہ اٹھے اور جاکر تیسری منزل سے نیچے کود گئے جبکہ خودکشی کا یہ طریقہ بہت تکلیف دہ تھا۔ وہ اتنے تناؤ میںتھے کہ انھوں نے یہ بھی نہیںسوچا کہ اگر وہ بچ گئے تو شاید پوری زندگی معذور ہی رہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میںسامنے آیا ہے کہ ان کے جسم کے نچلے حصے میںسنگین چوٹیںآئی تھیں، لیور، کڈنی وغیرہ کو بھی شدید نقصان ہوا تھا۔ اگر انھوںنے خود کشی کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا ہوتا تو شاید وہ جان دینے کا ایسا طریقہ چنتے، جس میںاس طرح کی تکلیف برداشت نہیںکرنی پڑتی۔ اس واقعہ کے دونوں اہم کرداروں گروپ ایڈیٹر کلیپش یاگنک اور سلونی ارورہ کی دماغی حالت کو لے کر بھوپال کے گاندھی میڈیکل کالج کے شعبہ نفسیات کے ہیڈ ڈاکٹر آر این ساہو کا کہنا ہے کہ جب کوئی شخص سخت محنت کرکے اونچے مقام تک پہنچتا ہے تو ا س کے لیے اس کی عزت سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ، کوئی شخص جیسے جیسے پاورفل بنتا ہے، وہ تنا ہی اکیلا اور غیر محفوظ بھی ہوتا جاتا ہے۔ یہی سب گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کے ساتھ ہوا۔ جس کے سبب انھوںنے عزت سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے خود کشی کرنا بہتر سمجھا۔ وہیں سلونی نے جس طرح منصوبہ بند طریقے سے کام کیا، ہر کسی کی باتوںکو منظم ڈھنگ سے ریکارڈ رکھنا، دوسری کو کسی بھی حد تک چوٹ پہنچانا اور اس پر گلٹی فیل بھی نہ کرنا، یہ سب دماغی حالت ٹھیک نہ رہنے کی نشانی ہے اور اس کی وجہ سے لوگ مجرمانہ واقعات کو جنم دیتے ہیں۔ وہ پرسنالٹی ڈس آرڈر کی شکار ہے اور اس کا دماغی ٹیسٹ ہونا چاہیے۔

 

 

 

 

 

مڈل مین کے رول میںآدتیہ چوکسے
سبھی جانتے ہیںکہ جے پرکاش چوکسے کے فلم انڈسٹری کے پرانے اور قائم گھرانوں سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیںکہ ریلائنس انٹر ٹینمنٹ کا فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے فلم ڈسٹری بیوشن کے لیے سینٹرل سرکٹ میںرائٹس خریدتے وقت اس میںسلمان خان، بونی کپور اور اجے دیو گن کی فلموںکو ترجیح دیتا ہے۔ یہ فلمیںاس سرکٹ میںاچھا بزنس کریں، اس کے لیے وہ سلونی کے ذریعہ دینک بھاسکر میںپروموشنل خبریں چھپواکر فری میںپبلسٹی کرالیتا تھا۔ ادھر سلونی ایسا کرکے ان فلمی خاندانوں سے بہتر سے بہتر تعلق بنانے کی کوشش کرتی تھی تاکہ ان کے ذریعہ وہ اپنے بیٹے کو فلم انڈسٹری میںلانچ کرسکے۔ ان مالی فائدوں کو کیش کرانے کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے او رسلونی کے کئی کامن فرینڈز بھی بنے۔ ان میںمشہور فلم اداکار اجے دیو گن کے قریبی اور درشیم جیسی فلم پروڈیوس کرچکے کمار منگت کا نام بھی آتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جب سلونی فرار ہوئی اور کئی شہروںمیں چھپتی پھری، اس دوران جب اسے پیسوںکی ضرورت پڑی تو اس نے ریلائنس انٹر ٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے سے 3 لاکھ روپے مانگے۔ اس نے اس سے کہا کہ میںکمار منگت سے کہہ دیتا ہوں، تم وہاںسے کسی کو بھیج کر پیسے منگالو۔ تب سلونی نے اپنے بیٹے کو کمار منگت کے پاس بھیجا لیکن انھوں نے سلونی کے بیٹے کو پیسے نہیںدیے۔
اس سے تو طے ہے کہ ریلائنس انٹر ٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے اور سلونی کے کمار منگت سے اچھے تعلقات تھے، جس کی بنیاد پر اس نے اس سے پیسے مانگے تھے۔ کال ڈٹیلس میںپتہ چلا ہے کہ ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے اور سلونی دونوںکی کمار منگت سے فون پر کئی بار لمبی باتیںہوتی تھیں۔ حالانکہ جب ہم نے کمار منگت سے رابطہ کیا تو انھوں نے ریلائنس انٹر ٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے سے دوستی ہونے اور کام کے سلسلے میںروزانہ ہونے والی ملاقاتوںکی بات قبول کی لیکن اس پورے واقعے کو لے کر کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا۔ سلونی ارورہ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’’میں نے پوری زندگی میںاسے کبھی نہیںدیکھا، میںاسے نہیں جانتا ہوں۔‘
فلم ڈسٹری بیوشن کا حساب
فلم ڈسٹری بیوشن کے زون بٹے ہوئے ہیں۔ ہر ڈسٹری بیوٹر چاہتا ہے کہ اس کے زون یا سرکٹ میںفلم کا پروموشن زبردست طریقے سے ہو تو وہ اس فلم سے زیادہ پیسے کما سکے گا۔ ظاہر ہے فلم پبلسٹی میںخرچ بہت ہوتا ہے اور فلم پروڈیوسر ایک حد تک ہی اس میںپیسہ خرچ کرتے ہیں۔ پبلسٹی کے معاملے میںبھی زیادہ تر پیسہ الیکٹرانک میڈیا پر خرچ ہوتا ہے۔ پرنٹ میڈیا میںفلم پروموشن کے لیے کافی کم بجٹ الاٹ ہوتا ہے۔ چونکہ ہر اخبار کو اپنے قارئین کے لیے فلم انڈسٹری کی خبریں ، اسٹارز کے انٹرویو دستیاب کرانا ضروری ہوتا ہے، ا س لیے انھیںکم پیسہ ملے یا زیادہ، فلمی خبریںچھاپنی ہی پڑتی ہیں۔ دینک بھاسکر کے کروڑوں قارئین ہیں، اس لیے اس میںچھپی ایک خبر بھی فلم پروموشن میںاہم رول ادا کرتی ہے۔ ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کے پاس سینٹرل سرکٹ کا فلم ڈسٹری بیوشن ہے، جس میںمدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان آتے ہیں۔ ان تینوں ہی ریاستوںمیںدینک بھاسکر نمبر وَن اخبار ہے۔ دینک بھاسکر کی انٹر ٹینمنٹ ایڈیٹر سلونی ارورہ نے اپنے اس لیو اِن پارٹنر کے لیے کافی کام کیا۔ بتایا تو یہ بھی جاتا ہے کہ اس کے کہنے پرسلونی نے کئی تھرڈ گریڈ اسٹارز کے انٹرویوز اور ان کی خبریں بھی بھاسکر میں چھاپیں۔
اس کہانی میںسلیم خان، مہیش بھٹ، کمار منگت وغیرہ کا کیا رول ہے؟
اپے فلمی رشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ریلائنس انٹرٹینمنٹ کا فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے فلمی دنیا کے ان جمے ہوئے لوگوں کے یہاں لگاتار میٹنگیںکرتا رہتا تھا سلمان خان کے والد سلیم خان صاحب نے کئی بڑی فلموں کی تصنیف جاوید اختر کے ساتھ مل کر ’سلیم -جاوید‘ کے نام سے کی ہے۔ یہ جوڑی ٹوٹنے کے بعد انھوںنے کچھ فلمیںاپنے نام سے بھی لکھیں۔ سلمان خان کے والد سلیم صاحب بہت آؤٹ اسپوکن قسم کے شخص ہیں اور بہت اچھے آدمی ہیں۔ وہ ہفتے میںدو دن اپنے گھر پر ایک ڈاکٹر کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور سنگین بیماری میںمبتلا جو بھی شخص ان سے مدد مانگنے کے لیے آتا ہے، اس کی کافی مدد وہ اپنے ساتھ بیٹھے ڈاکٹر کی صلاح پر کرتے ہیں۔ سلیم صاحب حج پر جانے والوںکو بھی مالی مدد دیتے ہیں۔
لیکن سلیم صاحب اپنے دماغمیں تخیل کے رنگوںسے بنائی ہوئی جرائم کی کہانیوں پر بھی چرچا کرتے رہتے ہیں۔ ریلائنس انٹر ٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے نے سلیم خان صاحب کے ذریعہ بنائی گئی مختلف تخیلاتی بنیاد پر جرم کی کہانیوں کو سنا اور وہاںسے اس کے دماغ میںایک فل پروف اسکرپٹ کا خیال سامنے آیا۔ ریلائنس انٹرٹینمنٹ کا فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے اسی طرح مہیش بھٹ، بونی کپور وغیرہ کے ساتھ بیٹھ کر مستقبل میں بنائی جانے والی فلموں کے پلاٹ کو لے کر بہت ساری چیزیںڈسکس کرتا رہا۔
دراصل وہ سارا ڈسکشن مستقبل میں بننے والی گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک مرڈر کی اسکرپٹ کا ریہرسل تھا۔ کمار منگت اور ریلائنس انٹرٹنمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کا روزانہ اٹھنا بیٹھنا تھا اور اس کے آفس میں بھی کمار منگت اکثر جاتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔یہیں پر ایک نئی طرح کی کہانی اور بنتی گئی۔ تقریباً 500 سے زیادہ فلمیں بنتی ہیں، جن میں سے بہت کم فلمیں ہی سنیما گھروں کا منہ دیکھ پاتی ہیں،کیونکہ ان میں سے کئی کا قتل ڈسٹری بیوٹرس کے کمروں میں ہی ہو جاتا ہے۔ کمار منگت اور ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے اس پر نظر رکھتے تھے کہ ایسا کوئی بھی پروڈیوسر ، ڈائریکٹر بازار میں نہ آنے پائے، جو مستقبل میں ان کے گروپ کے لئے چیلنج بن کر کھڑا ہو جائے۔ چونکہ ڈسٹری بیوشن کے سیکٹر میں ریلائنس اہم کمپنی ہے، اس لئے لوگ سب سے پہلے وہیں جاتے ہیں۔ یہاں پر ان کے خوابوں کا قتل بڑی آسانی سے ہو جاتا ہے۔ بہت ساری فلمیں ریلائنس کی ڈسٹری بیوشن ٹریک میں پھنس کر ویسے ہی خود کشی کر لیتی ہیں، جیسے گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک نے ذاتی زندگی میں کرلی ۔ کمار منگت اور ریلائنس انٹر ٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے اس بات کا دھیان رکھتے تھے کہ نئے آنے والے پروڈیوسروں سے کہیں کہ وہ انہیں پیسے دیں، تاکہ کمار منگت فلم بنا سکیں۔ جو ایسا نہیں کرتے تھے، ان کی فلم کیسے سنیما گھروں کا منہ نہ دیکھ پائے اس کی اسکیم یہ بناتے تھے۔ یہ فلم ڈسٹری بیوشن کا سب سے افسوسناک پہلو ہے، جس میں نئے پروڈیوسر ، ڈائریکٹروں کو اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے اس بات کی کہیں شکایت یا چرچا کی ، تو زندگی میں کبھی بھی ان کی فلمیں سنیما گھروں کا منہ نہیں دیکھ پائیں گی۔ دراصل ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے نے نئے قسم کا مافیا کلچر فلم ڈسٹری بیوشن کے حلقے میں کھڑا کر دیا۔ کمار منگت کے علاوہ اس میں کئی اور بھی لوگ جڑے ہو سکتے ہیں۔ اسی بیچ سلونی ارورہ ایک نایاب ویلن کی طرح گھومتی نظر آتی ہے۔ سلونی نے اپنے ایک وائس کلپ میں صاف کہا ہے کہ وہ اپنے جسم کا استعمال کر کے بغیر کسی کمٹ منٹ کے کسی کے بھی ساتھ دن رات گزار سکتی ہے اور وہ اسے رانی کی طرح رکھیں گے۔ سلونی ارورہ کا یہ کہنا اس کی پوری شخصیت کو سامنے لا دیتا ہے۔ سلونی اپنی اسی اسکیم کے تحت بہت سارے فلم پروڈیوسروں اور ڈائریکٹروں کے قریب پہنچ گئی تھی۔ ایک طرف جہاں فلم انڈسٹری میں کئی لڑکیاں کاسٹنگ کائوچ کی شکار ہو جاتی ہیں یا کاسٹنگ کائوچ کا ساتھ نہ دے کر اپنا کیریئر تباہ کروا لیتی ہیں ، وہیں سلونی ارورہ خود کاسٹنگ کائوچ کروا کر لوگوں کے گھروں اور دفتروں تک پہنچ گئی تھی۔ یہیں پر تینوں کا گٹھ جوڑ ، تینوں کی دوستی اور ساتھ مل کر کام کرنے کا طریقہ فلمی دنیا میں ایک نئے قسم کا لیڈی مافیا کلچر بھی ڈیولپ کر رہا تھا۔
انہی شاطرانہ ہلچلوں کے بیچ وہ پہلو بھی چھپا ہے، جس نے ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کو جیل جانے سے بچا لیا۔ جبکہ اس پورے معاملے میں وہ ہر جگہ سلونی ارورہ کے داہنے ہاتھ کی طرح موجود دکھائی دیتا ہے، پھر چاہے وہ سلونی ارورہ کے طلاق کا معاملہ رہا ہو یا پھرسلونی اور گروپ ایدیٹر کلپیش یاگنک کے بیچ میں ثالثی نبھانے کا رول رہا ہو۔ ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے نے جس طرح سے کرائم اسٹوریز پر سلیم خان، مہیش بھٹ اور بونی کپور کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی، وہیں سے اسے اس واقعہ کو انجام دینے کا طریقہ ملا کہ کیسے پولیس کو گمراہ کریں ،کیسے قانون کو بھٹکائیں اور کیسے اسی کو پھنسادیں۔ جس نے سلونی ارورہ کی شکل میں اس پر سب سے زیادہ بھروسہ کیا، آج بھی سلونی ارورہ جس ایک شخص کو بچا رہی ہے، وہ ریلائنس انٹرٹینمنٹ کا فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے ہی ہے۔ اس تحریر کے لکھے جانے تک سلونی ارورہ کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ ریلائنس انٹر ٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے نے پولیس کے کہنے پر کیا کیا بیان دئے اور کیا کیا الزام لگائے۔
باکس
اس گناہ میں برابری کا حصہ دار ہے ریلائنس انٹرٹینمنٹ کا ڈومسٹک ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے
اس معاملے میں سلونی ارورہ تو سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئی لیکن اس سے جڑا ایک کردار پاک صاف ہوکر بیٹھا ہوا ہے۔اس کے نام کا ذکر صرف سلونی کے لیو ان پارٹنر اور کلپیش- سلونی کے بیچ سیٹل منٹ کرانے کے لئے ثالثی کے کردار نبھانے تک ہی محدود رکھا گیاہے۔ یہاں پر پولیس کے اوپر بھی شک ہوتاہے کہ کیسے اس نے ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کو اپنی گرفت میں نہیں لیا۔ اسے ایپروور بنایا گیا۔ جبکہ وہ صرف سازش میں شامل صرف ایک فرد کی حد تک نہیں تھا بلکہ وہ اس ساری کہانی کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ کیا اندور پولیس نے بھاسکر مینجمنٹ یا جے پرکاش چوکسے کے دبائو میں یا ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کے ذریعہ فراہم کرائے گئے ممکنہ ذرائع کی وجہ سے اسے کیس میں مجرم نہیں بنایا ، جبکہ اس معاملے میں اس کی موجودگی ہر جگہ دیکھی گئی۔ ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہی سلونی کا رشتہ صرف جذباتی سطح تک محدود نہیں تھا ۔ اس کا ایک پہلو اپنے اپنے فائدے اٹھانا بھی تھا۔ ماہر نفسیات کی مانیں تو جب کوئی خاتون بغیر شادی کے اس طرح کے رشتے میں ہوتی ہے، تو اس کا اپنے پارٹنر کے ساتھ اموشنل طور پر جڑائو شادی شدہ جوڑوں کے مقا بلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے اس پورے معاملے کی جانکاری نہ صرف ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کو تھی، بلکہ وہ اس میں پورے طور پر سرگرم بھی تھا ۔ایسے میں پولیس کا اسے ملزم نہ بنانا کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔
اس واقعہ کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے پہلے ہمیں ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کے بیک گرائونڈ پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ وہ اندور کے باشندے جے پرکاش چوکسے کا بیٹا ہے، جو کہ فلم ڈسٹری بیوٹر ، فلم مبصر اور مصنف ہیں۔ فلم ڈسٹری بیوشن کے بزنس میں ان کا بیٹا ہی ہاتھ بٹاتا رہا ہے، ساتھ ہی اس بزنس کو آگے بڑھانے کے لئے انہیں کئی طرح کے ایڈوائز بھی دیتا رہا ہے۔ اس کی زیادہ تر صلاح ایسی رہیں ،جنہیں اِیتھیکل تو کہا ہی نہیں جاسکتا۔ اس سے جڑے لوگ بتاتے ہیں کہ وہ شاطر دماغ اور عجیب طرح کا گھُنّا قسم کا آدمی ہے۔ اندور میں اس کے کوئی خاص دوست بھی نہیں ہیں۔ وہ ہمیشہ مڈل مین کے کردار میں ہی رہا ہے، یعنی کہ کسی بھی معاملے میں کھل کر سامنے آنے کے بجائے دو پارٹیوں کو آمنے سامنے کر دینا اور پھر اپنا فائدہ اٹھانا۔ اپنے فائدے کے لئے کسی کا استعمال کرنااسے بخوبی آتا ہے۔
اس کے خاندان کے ایک قریبی آدمی بتاتے ہیں کہ تقریباً 15سے 20 سال پہلے جے پرکاش چوکسے مالی بحران میں آگئے تھے، تب فلم ڈسٹری بیوشن کے بزنس کو واپس پٹری پر لانے کے لئے انہیں اچھی خاصی رقم کی ضرورت تھی۔ دینک بھاسکر گروپ سے ان کے اچھے تعلق تھے۔ تب بھاسکر گروپ کے ہی ایک سینئر آدمی نے انہیں اندور کے ایک معزز آدمی سے 20 لاکھ روپے ادھار دلوائے تھے، اس پیسے سے چوکسے خاندان کا بزنس تو سنبھل گیا، لیکن جب پیسے لوٹانے کی باری آئی تو ان کے بیٹے ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے نے اپنے والد سے کہا کہ پیسے نہ لوٹائیں۔ اگر ہم پیسے نہیں دیں گے تو وہ ہم سے زبردستی تو لے نہیں پائیں گے۔ اس کے بعد یہ معاملہ بھاسکر خاندان تک پہنچا۔ اس طرح غلط کام کرنا اور بھروسہ توڑنا ریلائنس انٹرٹینمنٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کی عادت میں شامل رہاہے۔ اس کا کردار ہمیشہ شک کے دائرے میں ہی رہا۔
بتایا جاتا ہے کہ جب آدتیہ چوکسے نوکری کے لئے ممبئی گیا، اس کے پہلے بھی اس کی مالی حالت ٹھیک نہیں تھی، اس لئے اس نے فیملی بزنس سنبھالنے کے علاوہ ریلائنس انٹرٹنمنٹ میں نوکری کر لی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے والد کے بڑے فلمی گھرانوں سے جڑے رشتوں کا فائدہ اٹھانے کی بھی پوری تیاری کر لی۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد اس نے سلونی ارورہ کو بھی سبز باغ دکھانے شروع کئے کہ وہ بھی ممبئی آجائے ، وہ اسے فلم انڈسٹری میں جمنے میں مدد کرے گا۔ اس کے کہنے پر ہی سلونی نے دینک بھاسکر میں ممبئی کی پوسٹنگ مانگی۔ سلونی کے ممبئی آتے ہی اس کے رہنے سے لے کر ہر چیز کا انتظام آدتیہ چوکسے نے ہی کیا۔ ساتھ ہی اسے فلم انڈسٹری میں متعارف بھی کرایا۔غور طلب ہے کہ ریلائنس انٹرٹینمٹ کے فلم ڈسٹری بیوشن ہیڈ آدتیہ چوکسے کا اپنا بھرا پورا خاندان ہے۔ اس کی بیوی اور دو بچے ہیں، جو پہلے اندور میںہی رہتے تھے ۔سلونی کے ممبئی آنے کے بعد وہ ہفتے کے آخر ی دن اپنے خاندان سے ملنے اندور آیا کرتا تھا لیکن سلونی کے ساتھ لیو ان ریلیشن میں آنے کے بعد اس کا اندور آنا کم ہوتا گیا۔ تب اس کے والد جے پرکاش چوکسے نے اس کی بیوی ،بچوں کو ممبئی بھیج دیا، تاکہ اس پر لگام لگ سکے۔

 

 

 

 

 

کیا کہتے ہیں کلپیش کے ساتھی صحافی؟
گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کو کالج کے دنوںسے جاننے والے سینئر صحافی اشوک وان کھیڑے بتاتے ہیں کہ کلپیش یاگنک ایک راجستھانی خاندان کا لڑکاتھا، جس کے والد اندور میں آکر بس گئے تھے۔ ان کا اندور کے کلاتھ مارکیٹ میں کپڑے کاکاروبار تھا۔ کلپیش اندور کے کرسچن کالج میں پڑھتے تھے اور یہیں سے وہ اسٹوڈنٹس پالٹیکس میں سرگرم ہوئے۔ وہ این ایس یو آئی میں سرگرم تھے۔ کلپیش ہندی اور انگریزی کے جاننے والے تھے، ساتھ ہی انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ لیڈروں میں اس جیسا پڑھا لکھا لیڈر اس وقت اندور میں کوئی نہیں تھا۔ اس وجہ سے وہ اپنے دوستوں اور سیاسی ساتھیوں کے بیچ تھینک ٹینک کی طرح بن گئے تھے، سب ان سے پوچھتے تھے کہ کیا بولنا ہے یا کیا لکھنا ہے۔ وہ اکثر اندور میں واقع فری پریس اخبار کے دفتر میں یونیورسٹی کی پریس ریلیز دینے جایا کرتے تھے۔ وہاں صحافی شرون گرگ چیف رپورٹر ہوا کرتے تھے اور میں بزنس ایڈیٹر تھا۔ پریس ریلیز دینے کے علاوہ وہ یونیورسٹی کے اندر کی خبریں بھی بتایا کرتے تھے۔ ایک بار شرون جی کلپیش سے بولے کہ تم یونیورسٹی کی خبریں بتاتے ہو، تو انہیں لکھ بھی دیا کرو۔ اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو ہم تمہارے نام سے چھاپ بھی دیا کریںگے۔ چونکہ وہ مارواڑی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان خاندانوں میں ایسا کرنا کافی الگ چیز تھی۔ کلپیش نے ہاں کہہ دیا۔ اس کے بعد کلپیش فری پریس میں ہر ہفتہ یونیورسٹی کی 2-3 خبریں کرکے دے دیا کرتے تھے اور انہیں ایک خبر کے لئے 25 روپے محنتانہ ملتا تھا۔ اسی دوران ان کا چھوٹا بھائی نیرج ، بی جے پی لیڈر کیلاش وجے ورگیہ سے جڑ گیا اور اس نے بزنس میں خوب ترقی کی۔ اندور میں یہ بات تو ہے کہ جو بھی لوگ کیلاش وجے ورگیہ سے جڑے انہوں نے ان کی مدد کی اور انہیں مالی اعتبار سے اچھی طرح سیٹل کرایا۔ اس کے بعد شرون گرگ کسی دیگر میڈیا ہائوس میں ایڈیٹر بن کر چلے گئے اور پھر فری پریس میں ایڈیٹر کے عہدہ پر آئے۔ اس وقت بھوپال میں فری پریس بیورو خالی تھا۔ انہوں نے کلپیش یاگنک سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم صحافت کو سنجیدگی سے لو اور فری پریس بھوپال میں بیورو کا عہدہ سنبھالو۔ کلپیش بھوپال آئے اور اپنی محنت ، قابلیت سے خود کو اسٹیٹ لیول پر مضبوط کیا۔ اس کے بعد شورن گرگ دینک بھاسکر میں چلے گئے تو اپنے ساتھ کلپیش کو بھی وہاں لے گئے۔ اس کے بعد وہ کئی ایڈیشن میں ایڈیٹر رہے اور پھر دینک بھاسکر کے گروپ ایڈیٹر بنے۔ کلپیش جتنا پڑھا لکھا اور روایتی تھا، اتنا ہی دیکھنے میں خوبصورت بھی تھے۔ اس کے بعد بھی میں نے کبھی نہیں سنا کہ ان کا اسٹوڈنٹ لائف میں بھی کوئی افیئر ہوا ہو۔ فری پریس میں بھی بہت لڑکیاں تھیں لیکن کبھی کسی نے کلپیش کو لے کر کوئی شکایت نہیں کی۔ اسی طرح دینک بھاسکر میں بھی اس کی کئی خاتون ملازم رہیں لیکن کبھی کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی۔ کلپیش کے لکھنے، اپنے ماتحتوں کے ساتھ کام کرنے کے طریقے، اس کے غصے وغیرہ کو لے کر تنازعات ہو سکتے ہیں لیکن اس نے کسی خاتون کا استحصال کیا ہو یہ بات میں نہیں مان سکتا۔ جس لڑکی کے ساتھ کلپیش کے تعلق کی ابھی چرچا ہورہی ہے، وہ چھوٹے سے شہر نیمَچ سے آئی تھی اور صحافت میں ایک مقام حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جب لڑکی کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ لڑکی ہے تو اس کی ترقی کے کئی راستے کھل جاتے ہیں۔ وہ کئی اخباروں میں ہوتے ہوئے بھاسکر پہنچی۔ کیسے وہ کلپیش یاگنک کے قریب آگئی یہ میرے لئے آج بھی ناقابل یقین ہے۔ لیکن جب کوئی ایک عہدے پر پہنچ جاتاہے اور کوئی لڑکی بالکل وقف کرکے آپ کے پاس آجاتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کہیں بہک گیا ہو لیکن اس نے اس لڑکی کو سیٹل کرنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن لڑکی بڑے بڑے خواب دیکھنے والی تھی، اسے بہت زیادہ چیزیں چاہئے تھیں۔جو کلپیش دینے کا متحمل نہیں تھا۔ اس کے بعد کلپیش لوگوں سے کٹ کر رہنے لگا۔ جب اس لڑکی کے فون آتے تو وہ گھنٹوں باہر جاکر اس سے بات کرتا۔ اس سے لوگوں میں بھی تشویش ہونے لگی کہ کیا بات ہے، کچھ گڑبڑ ہے۔ لڑکی ممبئی میں کسی کے ساتھ لیو ان ریلیشن میں رہنے لگی۔ کچھ دن پہلے مارکیٹ میں ایک آڈیو ٹیپ آیا، جس میں کلپیش کسی کو سمجھا رہا ہے اور لڑکی ہاں ،ہوں کے علاوہ کچھ خاص نہیں کہہ رہی ہے۔ اس آڈیو ٹیپ سے لاجیکلی یہ قطعی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ان دونوں کے کوئی تعلق ہوںگے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کلپیش سمجھا کیوں رہا ہے۔ مارکیٹ میں آنے کے بعد کلپیش کے خاندان تک بھی یہ ٹیپ پہنچ گیا۔ ان کے خاندان میں زلزلہ آ گیا۔ کلپیش کسی کو سمجھانے کی حالت میں نہیں تھا۔ دوسری طرف اس لڑکی کا دبائو تھا۔ وہ اپنے گھر کے فرنٹ پر بھی بہت بڑی لڑائی لڑ رہا تھا لیکن یہ کہنا مجھے ٹھیک نہیں لگتا کہ اس نے لڑکی کے سبب خود کشی کی۔ اس کے لئے میرے پاس آسان دلیل ہے کہ جب اس نے خود کشی کے کچھ دن پہلے ہی پولیس کے اعلیٰ افسروں کو لکھ کر مطلع کیا کہ کوئی مجھے بلیک میل کررہا ہے، تو پھر اگر وہ اس لڑکی کی وجہ سے ہی مرا ہوتا تو اس بات کو اوپن نہیں کرتا اور پولیس کو خط نہیں دیتا۔ بھڑاس کے یشونت کے ساتھ کلپیش کی وہاٹس ایپ پر بات چیت ہوئی، اس میں یشونت کہتے ہیں کہ آڈیو کی بنیاد پر میں اسٹبلش نہیں کرپارہاہوں کہ آپ کے اس لڑکی کے ساتھ کوئی تعلق تھا۔ تو کلپیش نے کہا کہ شکریہ، آپ ایسا سوچ رہے ہیں، ورنہ لوگ تو اس میں مزے لینے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ یہ چیزیں مارکیٹ میں تھیں، اسے پتہ تھا۔ آڈیو ٹیپ کی وجہ سے اس کی خاندانی زندگی تتر بتر ہوگئی ،یہ بھی اسے پتہ تھا۔ لڑکی اور کیا کرتی، اسے جتنا ڈیمیج کرنا تھا، وہ اس آڈیو ٹیپ کے ذریعہ ڈیمیج کر چکی تھی۔ اس ڈیمیج سے بچنے کے لئے کلپیش نے پولیس تک کی مدد لے لی تھی۔ مارکیٹ میں چیزیں اوپن ہو چکی تھیں۔ اس کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ایک دن وہ باتھ روم جاتا ہے اور باہر آنے کے بعد اسی کے ڈکٹ پر کھڑے ہوکر نیچے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لیتا ہے۔ اس خود کشی کو ایکسیڈنٹ کی شکل کیوں دی گئی؟ایک دوست ہونے کے ناطے میرے ذہن میں کئی سوال ہیں۔ کیا واقعی لڑکی کا دبائو اتنا تھا ۔اگر وہ ٹیپ مارکیٹ میں نہ آیا ہوتا اور لڑکی اس ٹیپ کو مارکیٹ میں لانے کی دھمکی دے رہی ہوتی، پھر اس نے خود کشی کی ہوتی تو بھی یہ جائز ہوتا۔ لیکن ٹیپ مارکیٹ میں آچکاتھا تو اب ڈر کسی بات کا تھا۔ کئی سوال ہیں۔ گھر کا دبائو، لڑکی کا دبائو، پروفیشن کا دبائو ۔کیا بھاسکر میں وہ انسکیورڈ تھا ؟سوال اٹھتا ہے کہ اس کی خود کشی کو کیوں بار بار ایکسیڈنٹ بولا گیا؟وزیر اعلیٰ نے کس بنا پر کہہ دیا کہ جو بھی لڑکی اس کے پیچھے ہوگی، اسے چھوڑیں گے نہیں۔کیا مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ وہاٹس ایپ پر چلنے والی گوشپ پر بات کرتے ہیں کیا، یا وزیر اعلیٰ سے کسی نے کہلوادیا؟کیا کوئی اپنے سر سے یہ بوجھ اتارنا چاہتا تھا، اس لڑکی کے نام پر؟ایسے کئی سوال ہیں، جنکے جواب جانچ سے سامنے آنے چاہئے۔ ہوسکتا ہے ، اس میں بڑے بڑے لوگ ہوںِ، چیزیں باہر نہیں آپائی ہیں۔دوست ہونے کے ناطے میں اتنا جانتا ہوں کہ کلپیش کیریکٹر کا خراب نہیں تھا۔ آدمی تین چیزوں سے ٹوٹتا ہے۔ خاندان سے ٹوٹتا ہے، بلیک میلنگ سے ٹوٹتا ہے یا جس جگہ بیٹھا ہے ، اس کا وقار جانے کے ڈر سے ٹوٹتا ہے۔ صحافت میں یہ وقار بہت بڑا ہوتا ہے۔ اگر ایک ایڈیٹر کو لگے کہ اب وہ وہاں نہیں رہے گا تو اس کا دبائو زبردست ہوتا ہے۔ جب سبھی جگہ سے اس پر دبائو آیا، تو اس کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔ کیا وجہ تھی کہ وہ جس اخبار میں کام کرتا تھا، اس کے آل انڈیا ایڈیٹرس کی میٹنگ کے ایک دن پہلے ہی اس نے خود کشی کی؟ میڈیا جیسی ان سرٹنیٹی کسی دیگر سیکٹر میں نہیں ہے۔ یہاں کسی کو پتہ نہیں ہوتاکہ اسے وہاں سے کب جانا ہے۔ یہ دبائو جھیلنے کے لئے دوستوں کی، خاندان کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کلپیش لوگوں میں شرم کی وجہ سے اپنے دوستوں سے کٹ گیا تھا اور خاندان کو شاید وہ لڑکی کا دبائو ایکسپلین نہیں کرپایا۔ وہ سب جھیلتا رہا۔ میڈیا میں تو عزت و وقار یہ ہے کہ آدمی عہدے سے ہٹ جائے تو اس کے اگلے سیکنڈ ہی لوگ اس کا فون اٹھانا بند کر دیتے ہیں۔
گروپ ایڈیٹر کلپیش یاگنک کو صحافت کے میدان میں لانے والے دینک بھاسکر کے سابق گروپ ایڈیٹر شرون گرگ کہتے ہیں کہ کلپیش ایک بہادر صحافی تھا، اس کے اس طریقے سے خود کشی کرنے کی بات سوچنا ہی مشکل لگتا ہے۔ وہ دینک بھاسکر میں بہت اچھاکام کررہا تھا اور خوش بھی تھا۔ اچانک کیا ہوا کہ اسے یہ قدم اٹھانا پڑا، ابھی بھی لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا ہے۔ لڑکی اسے بلیک میل کررہی تھی اور اس کے گھر والوں کو بھی یہ پتہ تھا، لیکن اچانک ایسا کیا ہوا کہ اس نے ایسا قدم اٹھا لیا۔ سمجھ نہیں آرہا کہ اس پر کس طرح کا دبائو تھا، کیونکہ وہ ایسا آدمی تو نہیں تھا، وہ بہت بہادر صحافی تھا۔ بہت محنت کرکے اوپر تک پہنچا تھا۔ حیرت ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا،سلونی بہت بدتمیز قسم کی لڑکی تھی۔ ایک بار تو میں نے خود اسے نکال دیا تھا، پتہ نہیں وہ کیسے واپس آگئی۔ کچھ سمجھ نہیں آتا۔
گروپ ایڈیتڑ کلپیش یاگنک کے ساتھ دینک بھا سکر میں کئی سال تک کام کر چکے امر اجالا کے پالٹیکل ایڈیٹر شرد گپتا کہتے ہیں کہ کلپیش جی 16 سے 18 گھنٹے کام کر نے والے آدمی تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ صحافت کے علاوہ ان کی زندگی میں کسی اور چیز کے لئے جگہ تھی۔ وہ خبریں کھاتے تھے، خبروں میں سوتے تھے، وہ صحافت کو جینے والے آدمی تھے۔ ایسے میں یہ سب کیسے ہوا، ان کے ساتھ ایسا کیاہوا کہ انہوں نے ایسا قدم اٹھایا۔ میں نے ان کے ساتھ 6 سال کام کیا۔ آج بھی میں بھونچکا ہوں کہ آخر یہ کیا ہو گیا۔
25سال تک کلپیش یاگنگ کے ساتھ رہے اندور کے سینئر صحافی ہیمنٹ شرما ان چنندہ لوگوں میں سے ایک ہیں جو اس حادثے کی خبر ملنے کے بعد سب سے پہلے ممبئی اسپتال پہنچے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کلپیش جی جیسے آدمی کو اگر ایسا قدم اٹھانے کے لئے مجبور ہونا پڑا تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان پر کتنا دبائو بنایا گیا ہوگا۔ بقول ہیمنت شرما ’ میں انہیں لگ بھگ ڈھائی دہائی سے ذاتی طور سے جانتا ہوں۔ وہ بہت ہی خاندانی قسم کے آدمی تھے، جو دفتر اور گھر کے علاوہ کہیں آتے جاتے ہی نہیں تھے۔ چونکہ 24 گھنٹے وہ صرف صحافت کو ہی جیتے تھے، لہٰذا ان کے ذاتی دوستوں کی تعداد بہت کم تھی، جن سے وہ اپنی پریشانی شیئر کرپاتے ۔میں نے ہمیشہ انہیں ایک خاندان میں سمٹا ہوا آدمی کے طور پر ہی دیکھاہے۔ سب سے افسوسناک تو یہ ہے کہ ان پر سوشل میڈیا میں وہ لوگ لکھ کر الزام لگا رہے تھے، جو انہیں جانتے تک نہیں ہیں اور نہ ہی شاید زندگی میں کبھی ان سے ملے ہوں۔
سینئر صحافی پرکاش ہندوستانی کہتے ہیں کہ کلپیش بہت ہی قابل اعتماد صحافی تھے۔ انہوں نے پورے عزم کے ساتھ اپنا کام کیا۔ ایڈیٹر کی شکل میں انہوں نے سسٹم کا کام کامیابی سے کیا اور ادارتی پالیسیوں کی تعمیل میں کبھی کوئی کمی نہیں آنے دی۔ وہ رپورٹر سے ایڈیٹر بنے تھے، لہٰذا رپورٹنگ کی تمام باریکیوں کو یہ جانتے تھے۔ صحافت کے آئندہ بدلائو سے وہ واقف تھے۔
بھڑاس 4 میڈیا کے ایڈیٹر ان چیف یشونت سنگھ کہتے ہیں کہ کلپیش اپنی امیچ کو لے کر بہت کانشیس تھے۔ انہیں جب لگا کہ ملک میں اس طرح کے قانون ہیں کہ کئی بار آدمی ملزم نہیں ہوتا ہے تو بھی پولیس چھوٹی سی شکایت پر اسے گرفتار کر لیتی ہے، اس کی بدنامی ہوتی ہے اور سماج بھی مان لیتا ہے کہ وہ غلط ہوگا۔ اس کے سبب وہ کافی پریشان تھے اور انہیں اپنی زندگی ختم کرنا پڑا ۔ اس معاملے میں قصوروار خاتون کو سزا ملنی چاہے تاکہ کل کو کوئی کسی کو اس طرح بلیک میل نہ کرے، جیسے وہ ان سے ایک کروڑ مانگ رہی تھی۔ ان کے پڑھنے لکھنے کے بارے میں سبھی جانتے ہیں، جب سب لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ نہیں رہے تو سبھی کو جھٹکا لگا۔ میں نے ہندی میں ان کے جیسا گہرا دانشور کوئی نہیں دیکھا جس کا انگریزی کا بیک گرائونڈ رہاہو۔ ان کا آئیڈیا، کانسپٹ، پلاننگ، لے آئوٹ ، پرزنٹیشن ، کنٹینٹ وغیرہ کے لیول پر وہ بہت اپ ڈیٹ تھے۔ اس پر پوری توجہ دیتے تھے اور وہ اخبار میں دکھتا بھی تھا۔’ اسمبھو کے ویرودھ ‘ نام سے وہ کالم لکھتے تھے لیکن اسمبھو (ناممکن ) سے لڑنے والی حالت سے وہ نہیں لڑ پائے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم جو لکھتے ہیں، بولتے ہیں وہ زندگی میں اتار نہیں پاتے ہیں۔ حالانکہ جو کچھ ہوا، وہ نہیں ہونا چاہئے تھے۔ اس حادثے نے ایک یہ ایشو بھی کھڑ اکر دیا ہے کہ ایسے قانون پر از سر نو غور ہونا چاہئے کہ فوری کارروائی کرنے کے ڈر کے سبب آدمی پریشان ہوکر خود کشی نہ کرلے۔ بجائے اس کے، پہلے ہر چیز کی جانچ ہونی چاہئے۔
اندور پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی اروند تیواری کہتے ہیں کہ کلپیش جی کا جانا ملک کے میڈیا برادری کے لئے بڑا نقصان ہے۔ یہ ایسا ایشو تھا بھی نہیں کہ ان جیسے بڑے آدمی کو اپنی جان دینی پڑتی۔ دراصل وہ بہت ہی گم سم ہوگئے تھے جس کی وجہ سے وہ کسی سے یہ بات شیئر نہیں کر پائے۔ اگر شیئر کرتے تو یقینی طور پر اس کا حل نکلتا۔ وہ ایسے جرنلسٹ تھے جس سے نئی نسل بہت سیکھتی، کیونکہ وہ اپنے آپ میں ایک ادارہ کی طرح تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *