جموں وکشمیر کی مذہبی بنیادوں پرتقسیم عوام کے حق میں نہیں

کیا ریاست جموںو کشمیر کو مذہبی اور علاقائی بنیادوں پرتین حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کو عمل میںلانے کی تیاریاں ہورہی ہیں؟ حالیہ میڈیا رپورٹوں پر یقین کریں تو مودی سرکار 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل جموں وکشمیر کی تقسیم کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ زیادہ آسانی سے سمجھنا ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ مودی سرکار ریاست جموںو کشمیر کو تین حصوں یعنی مسلم اکثریتی وادی ، ہندو اکثریتی جموں اور بودھ اکثریتی لداخ میں بانٹ دے گی۔ ان میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ غیر معمولی کام پارلیمنٹ کے ذریعے جموں اور لداخ کو یونین ٹریٹری کا درجہ دلا کر آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔یعنی جموں اور لداخ خطوں کو براہ راست مرکز کے کنٹرول میں دیا جائے گا۔
حالیہ دنوں میں اخبارات میں اس طرح کی خبریں شائع ہونے کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر بحث و تمحیض شروع ہوگئی ہے ۔ اس بحث و مباحثے کا محور یہ سوال ہے کہ کیا جموں کشمیر کو مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنا اتنا آسان ہوگا؟
حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کو تین حصوں میں بانٹے کی تجویز بہت پرانی ہے۔بلکہ سابق این ڈی اے سرکار (1998-2004) نے تقسیم ریاست کے اپنے منصوبے کاکھل کر اظہار بھی کیا تھا۔سال 2000میں اُس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ ایل کے آڈوانی نے لیہہ کے دورے کے دوران لداخ اور جموں خطوں کو براہ راست مرکز کے کنٹرول میں دینے کی اپنی سرکار کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ در اصل اس سے پہلے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سندھو درشن میلے میں شرکت کے لئے لداخ گئے تھے ، جہاں لداخ بودھسٹ ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم سے اس خطے کو یونین ٹریٹری کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ آڈوانی نے بحیثیت وزیر داخلہ اس تجویز کی حمایت کی ۔ انہوں نے 7جون 2000 کو لیہہ میں پہلی بار اپنی حکومت کے اس ارادے کا اظہار کیا کہ لداخ خطے کو براہ راست مرکز ی سرکار کے کنٹرول میں لایا جائے گا۔
عام تاثر یہی ہے کہ بنیادی طور پر ریاست کو مذہبی بنیادوں پر تین حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ آر ایس ایس کا ہے ۔ این ڈی اے سرکار کی جانب سے اس ضمن میں پہلی باراپنا ارادہ ظاہر کرنے سے محض چند ماہ قبل یعنی 18مارچ 2000ء کو آر ایس ایس کی جنرل باڈی اجلاس میں ایک قرار داد پاس کی گئی ، جس میں جموںو کشمیر کو تین ریاستوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس اقدام کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کو صرف مسلم اکثریتی وادی کشمیر کی طرف دھیان دینا پڑے گا کیونکہ بنیادی طور پر وادی میں ہی حالات خراب ہوجاتے ہیں ۔ اس قرار داد میں آر ایس ایس نے اپنے مطالبے کے حق میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر جموں اور لداخ خطوں کو وادی سے علاحدہ کیا گیا توان دو خطوں میں تیزی سے ترقی ہوگی اور پھر انہیں دفعہ 370کی ضرورت بھی نہیں رہے گی ۔ یعنی ان دو خطوں کا ملک میں مکمل انضمام ہوگا۔انہی ایام میں کشمیری پنڈتوں کی تنظیم پنن کشمیر اور لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر وزیر اعظم واجپائی کو ایک میمو رنڈم پیش کیا ،جس میں لداخ اور جموں کو علاحدہ ریاستوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

 

 

 

 

 

 

اب جبکہ تقسیم ریاست کے حوالے سے نئے سرے سے باتیں منظر عام پر آرہی ہیں، گزشتہ ہفتے لداخ میں آل ریلی جیسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نامی تنظیم نے ایک قرارداد پاس کی جس میں لداخ خطے کو یونین ٹیریٹری کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لداخ کا وادی کے ساتھ کوئی تمدنی اور تہذہبی یا لسانی تعلق نہیں ہے ۔ اسلئے اسے وادی سے الگ کیا جانا چاہیے۔اتنا ہی نہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق23ستمبر کو نئی دہلی میں ایک سو ’’ سرکردہ شخصیات‘ ‘ نے ایک میٹنگ میں ہندو سیولائزیشن کو تحفظ دینے کے لئے غور و فکر کرنے کے بعد مودی سرکار کے سامنے جو نکات رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، ان میں سر فہرست جموں کشمیر کی ریاست کو تین حصوں میں بانٹنے کی تجویز شامل ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق ان ’’سرکردہ شخصیات‘‘ میں صحافی ، قلمکار، دانشور اور روحانی گورو وغیر شامل ہیں ، جو پورے ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتے ہیں۔جس دن دہلی میں یہ میٹنگ ہوئی ، اسی دن کشمیر ی پنڈت کانفرنس نامی تنظیم نے اپنے بیان میں جموں وکشمیر کی تقسیم کا مطالبہ کیا ۔
ان سارے واقعات کا تسلسل اور ٹائمنگ دیکھ کر یہی تاثر ملتا ہے کہ جموں وکشمیر کی ریاست کو مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ حالانکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر اسمبلی کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ اس ریاست کے حدود کو از سر نو متعین کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ لیکن یہ تو بہر حال بعد کی باتیں ہونگی۔ فی الوقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا واقعی بی جے پی اس طرح کے کسی منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والی ہے۔
مبصرین اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے ہیں۔ سینئر صحافی اور تجزیہ نگار طاہر محی الدین نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ، ’’گزشتہ چار سال کے عرصے میں نوٹ بندی سے لیکر رافیل ڈیل تک مودی سرکار نے جوکچھ بھی کیا ہے ، اسکے مقابلے میں جموں وکشمیر کے حدود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا ایک معمولی بات ہوگی ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ سال 2019ء کے انتخابات کو جیتنے کے لئے یہ حکومت کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ۔ چونکہ ووٹروں کو لبھانے کے لئے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے بلکہ الٹا یہ حکومت سنگین ترین الزامات کی زد میں ہے ، اسلئے ضروری ہے الیکشن جیتنے کے لئے اسے کوئی غیر معمولی اقدام کرنا ہوگا۔ ان متوقع اقدامات میں رام مندر کی تعمیر، دفعہ370یا 35Aکا خاتمہ یا پھر جموں وکشمیر کے حدود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شامل ہوسکتاہے۔اگر حکومت نے الیکشن سے پہلے ان میں سے کوئی اقدام کیا تو اسے دوبارہ بر سر اقتدار آنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ اسلئے میں اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتا کہ یہ حکومت ریاست کی تقسیم کے کسی منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کرے گی ۔ جوں جوں انتخابات قریب آتے جائیں گے ، حواس باختگی میں یہ حکومت کوئی بھی غیر معمولی اقدام کرسکتی ہے ، یہ الگ بحث ہے کہ اس طرح کے کسی اقدام کا انجام کیا ہوگا،‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ جموں اور لداخ کو وادی سے الگ کرنے کی دیرینہ تجویز کو وادی میں بھی کئی حلقوں کی حمائت حاصل رہی ہے۔ سینئر صحافی اور ادیب غلام نبی خیال طویل عرصے سے تقسیم ریاست کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کا بہتر طریقہ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں کئی بار اخبارات اور رسائل میں شذرات وغیرہ لکھے ہیں۔ خیال کا استدلال ہے کہ ’’ریاست کے تینوں خطوں کشمیر، لداخ اور جموں کا اتحاد ایک مصنوعی انتظام ہے جس کے نتیجے میں ڈوگرہ حکمرانوں نے ملک گیری کے لالچ میں اپنی آمریت کا دبدبہ قائم کیا ورنہ یہ تینوں خطے تاریخی، جغرافیائی،سیاسی، ثقافتی، اقتصادی، عقیدتی ،نظریاتی اور دیگر تمام شعبہ ہائے حیات میںایک فیصد بھی مماثلت نہیں رکھتے، لہٰذا اس نقلی بندھن کا بدیر مو جود رہنا ممکن نہیں۔اس وقت بھی حقیقت حال یہ ہے کہ لداخ کی اپنی خودمختار حکومت ہے جس میں ریاستی انتظامیہ کا کوئی عمل دخل نہیں۔ جموں میں بھی بھیم سنگھ اینڈ کمپنی کے علاوہ جموں اسٹیٹ فورم سرگرم عمل ہے تا کہ اس ڈوگر لینڈ کو الگ ریاست کا درجہ دیا جائے۔‘‘
ان کا ماننا ہے کہ ’’جموں و کشمیر کی تقسیم نا گزیر ہے ۔‘‘ کیونکہ بقول اُن کے، بصورت دیگر یہ ناجائز اتحاد ہمیشہ اہل کشمیر کی آنکھ کا خار بنا رہے گا ا ور سالہا سال کی مظلومیت، بے بسی، سیاسی انتقام گیری اور مالی بحران کا انسان کش غلبہ ان کی زندگی کی ہر اچھائی پرحاوی رہے گا۔

 

 

 

مبصرین کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کہ جموں اور لداخ خطے میں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے ان خطوں کو وادی سے الگ کرنا ناممکن سمجھتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دس اضلاع پر مشتمل جموں خطہ میں تین بڑے اضلاع ڈوڈہ ، پونچھ اور راجوری میں مسلمانوں کی غالب اکثریت ہے۔ ان اضلاع میں بالتریب 64فیصد،88.87اور60.97فیصد مسلم آبادیاں ہیں۔ اسکے علاوہ ثانی الذکر اضلاع لائن آف کنٹرول کے ساتھ ملتے ہیں۔اسی طرح لداخ خطے ، جسکے 1979میں دو اضلاع یعنی کارگل اور لیہہ بنائے گئے ، میں بھی مسلمان آبادی کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ۔ کارگل کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ایسی صورتحال میں لداخ اور کارگل خطوں کو یکسر وادی سے الگ کرنا کوئی آسان بات نہیں ہوسکتی ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ریاض مسرور نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’ میرے خیال سے مودی سرکار آنے والے پارلیمانی چنائو میں زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کرنے اور ووٹ بٹورنے کی کوشش میں ایک بار پھر فرقہ واریت کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کرے گی ۔ اس ضمن میں نہ صر ف رام مندر کی باتیں کی جائیں گی بلکہ پاکستان اور کشمیر مخالفت بیانات دیئے جائیں گے اور جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرانے والے قوانین کے خاتمے کی باتیں بھی کی جائیں گی ۔ لیکن عملی طور پر ان میں سے کوئی بھی اقدام نہیں کیا جائے گا کیونکہ سال 2014ء کے برعکس آج بی جے پی کی عوامی مقبولیت بہت کم ہے اور اسے کھل کر ہدف تنقید بنانے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جاری ہے۔آج اس پارٹی کو وہ اعتماد نظر نہیں آرہا ہے جو اسے 2014ء میں حاصل تھا اسلئے مجھے لگتا ہے کہ یہ زبانی جمع خرچ کے سوا اور کچھ نہیں کرسکتی ہے۔‘‘
جموں وکشمیر کے حوالے سے بی جے پی قیادت والی مرکزی سرکار کے پاس کیا منصوبہ ہے اور یہ کیا کچھ کرسکتی ہے ، اسکا فیصلہ تو بہر حال آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن یہ بات طے ہے کہ 2019کے انتخابات میں اپنی جیت درج کرانے کی کوشش میں بی جے پی یقینا کوئی بڑا اور غیر معمولی اقدام کرئے گی ۔ کیا اس طرح کے متوقع اقدام کا تعلق جموںو کشمیر سے بھی ہوسکتا ہے ، اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *