جامعہ کا یوم تاسیس تاریخ آزادی کا اہم باب ہے

29 اکتوبر کو ہر سال پابندی سے تاریخی تعلیم گاہ جامعہ اسلامیہ میںمنائی جانے والی تقریب محض ایک رسمی یوم تاسیس ہی نہیں ہے بلکہ یہ دن تاریخ آزادی ہند کا ایک اہم و غیر معمولی اور اسی کے ساتھ درخشندہ باب ہے۔ دراصل 1920 میںیہ وہ وقت تھا جب سرسید احمد خان کا 1899 میںانتقال ہوچکا تھا اوران کے علی گڑھ میںقائم کردہ تعلیمی ادارے مدرستہ العلوم مسلمانان ہند (1875) اور محمڈن اینگلو اوریئنٹل کالج (ایم اے او کالج، 1877) ترقی کرکے یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے کے مرحلے میں تھے اور اس بات کا پورا اندیشہ تھا کہ یہ تعلیمی ادارہ یونیورسٹی بنتے ہی انگریزوں کے پورے تسلط میں آجائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ علی برادران (مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر) و دیگر ٹرسٹیز کو یونیورسٹی کے تعلق سے مجوزہ قانون کے ڈرافٹ کے چند نکات پر شدید اعتراض تھا۔ نیز ان دنوں آزادی کی قومی تحریک کے رہنماؤں کو کیمپس میںآنے کی اجازت نہیںتھی۔ تبھی تو علی برادران جب گاندھی جی کے ساتھ1920میں یونیورسٹی احا طے میںآئے تو ان کی سخت مخالفت کی گئی۔
ان حالات میںتحریک آزادی کے قومی رہنماؤں نے ’ریئل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘ یعنی اصلی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا اور پھر 29 اکتوبر 1920کو حال میںمالٹا کی جیل سے رہا ہوکر واپس لوٹے شیخ الہند مولانا محمود حسن کو بلاکر ان کے ہاتھوں اس کا سنگ بنیاد رکھاگیا جوکہ بعد میںجامعہ ملیہ اسلامیہ کہلایا اور پھر الگ تعلیمی ادارہ کی شکل میںدہلی منتقل ہوا، پہلے قرول باغ اور بعد میںاوکھلا گاؤں ۔ سنگ بنیاد کے وقت شیخ الہند کی تقریر میںاس کا مقصد ’مسلمانوں کی تعلیم مسلمانوں کے ہاتھوں میںرکھنا‘ قرار دیاگیا اور اسے پراسپیکٹس میںبھی شامل کیا گیا مگر یہ ڈاکٹر ذاکر حسین کے دور وائس چانسلری میںاس کی تاسیسی انجمن کے 1860 کے سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ سے رجسٹریشن کے دوران ’ہندوستانیوں خصوصاً مسلمانوں کو دینی و دنیوی تعلیم فراہم کرنا‘ بنادیا گیا جوکہ 1962 میں’ڈیمڈ ٹوبی‘ کا درجہ حاصل ہونے کے وقت بھی برقرار رہامگر 1988 میںہندوستانی پارلیمنٹ کے ذریعہ ’سینٹرل یونیورسٹی‘ بنتے وقت سرے سے اس خصوصی حیثیت کو ختم کردیا گیا۔ لیکن اس کا چھینا ہوا یہ خصوصی اقلیتی درجہ 2011 میں نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (این سی ایم ای آئی) کے ذریعہ پھر سے بحال کردیا گیا ۔ گرچہ یہ معاملہ ہنوز عدالت میںزیر سماعت ہے اور موجودہ بی جے پی قیادت والی این ڈی اے سرکار اس کے حق میںنہیںہے۔ ویسے فی الوقت یہ اقلیتی ادارہ کے طور پر اقلیتوں کے امپاورمنٹ کی خاطر جدو جہد میںمصروف ہے، جس کا کریڈٹ ان دنوں 2011 میں جسٹس ایم ایس اے صدیقی کی سربراہی میں این سی ایم ای آئی کے ایک اہم اور تاریخی فیصلے کو جاتا ہے۔

 

 

 

یہاں اس بات کا ذکر بھی بے محل نہیںہوگا کہ 1938 میںجامعہ کی تاسیسی انجمن کے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ سے رجسٹر ہوتے وقت جہاںاس کے مقصد میں مذکورہ بالا تبدیلی کی گئی تھی، وہیں 1920 سے 1938تک مسلسل 18 برسوں تک جامعہ کے پراسپیکٹس (دستور العمل) میںمعہ تصویر’بانی جامعہ رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر‘ کو ہٹاکر اس تعلیمی ادارے کو بغیر کسی بانی کے کردیا گیا تھا اور بعد میں1962میں ڈیمڈ ٹو بی اسٹیٹس کے بعد ’بانیان‘ میںاس کے قیام میںگاندھی جی کی ایماء کا مخصوص تذکرہ کرتے ہوئے علی برادران و دیگر چند شخصیات کے نام لیے گئے تھے۔ پھر بعد میںفہرست سے مولاناشوکت علی کا نام و نشان بھی مٹادیا گیا اور مولانا محمد علی جوہر موجود رہے بھی تو ’بانیان‘ میںسے ایک رہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جامعہ کے 1923تا 1925 دوسرے وائس چانسلر رہے عبدالمجید خواجہ کی تاریخی رہائش گاہ میں قائم کبھی اکیڈمک اسٹاف کالج اور اب یوجی سی، ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ سینٹرکے فرنٹ میںگاندھی جی، سردار بلبھ بھائی پٹیل، پنڈت جواہر لعل نہرو اور مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ لگے 1920 تا 1923 اولین وائس چانسلر اور بانئی جامعہ مولانا محمد علی جوہر اور خود ان کے پورٹریٹس (تصویریں) گزشتہ تین ماہ قبل ہٹا دیے گئے ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر جامعہ میںاس حد تک ضرور زندہ رہے کہ ابھی بھی ایک شعبہ کا نام ان کے نام پر ہے اور ’جوہر‘ میگزین میںوی سی کا جو اداریہ جاتا ہے اس پر داہنی طرف ان کی تصویر کے نیچے ان کا نام اور ’فاؤنڈر‘ کے طور پر درج ہوتا ہے اور یونیورسٹی کے بیچ سے’ مولانا محمد علی جوہر روڈ‘ سب کا دل چیرتا ہوا گزر جاتا ہے اور یونیورسٹی کے ذریعہ اپنے ساتھ ہوئے ظلم و ناانصافی کی داستان سناجاتا ہے۔

 

 

 

سوال یہ ہے کہ اقلیتی تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ جس کی ’اقلیتی حیثیت‘ پر حتمی کوئی بات عدالت سے آنی باقی ہے، 18 برس تک بانی رہے مولانا محمد علی جوہر کو کیا یہ بنیادی حق فراہم کرپائے گا؟ یہ ایسا سوال ہے جس پر ان کی روح بھی تڑپتی ہوگی۔ بہرحال یوم تاسیس جامعہ کے موقع پر واحد بانی جامعہ اور اولین وی سی جامعہ کو تاریخ ہرگز نظرانداز نہیں کرسکتی ہے۔ یہ ان کا خصوصی اور بنیادی حق ہے۔ ان کے برادر محترم مولانا شوکت علی کو تو اب کوئی جانتا بھی نہیںہے۔ دہلی کی تاریخی جامع مسجد کی مینا بازار تک اترتی سیڑھیوںکے بائیںبازو میںمدفن تحریک آزادی کا یہ متوالا، ہندو، مسلم اتحاد کا عظیم علمبردار اور جامعہ کا عظیم محسن آج اپنے ہی تعلیمی ادارے کے لیے اجنبی بن کر رہ گیا ہے۔ لہٰذا یوم تاسیس کا تقاضہ ہے کہ جامعہ اپنی بنیادی حیثیت میںبرقرار رہے اور 18 برس تک ’بانی ٔ جامعہ‘ رہے اولین وائس چانسلر مولانا محمد علی جوہر کی بازآبادکاری یا ریسٹوریشن ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *