عام انتخابات 2019 نتیش کے لیے پی کے اور مودی نقصان دہ

بہار کا سوال اس لئے پیچیدہ ہے، کیونکہ وہاں نتیش کمار نے بی جے پی کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ انتخابات میں سیاست کے علاوہ دیگر حقائق بھی اثر ڈالتے ہیں، جن میں سب سے اہم نجوم (جیوتش) ہے۔ سیاست سے جڑے 99 فیصد سے زیادہ لوگ نجومیوں کی پناہ میں جاتے ہیں، ان سے اپنا مستقبل پوچھتے ہیں اور تانترک بندوبست کرتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ وہ عوامی طور پر اس سے انکار کرتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر کمار گنیش کا مضمون چھاپ رہے ہیں۔ وہ بھی اس لئے کیونکہ ڈاکٹر گنیش کا نجومی حساب سو فیصد صحیح ثابت ہوا ہے۔ خود نتیش کمار کو لے کر ان کی پیشن گوئیاں سو فیصد صحیح ثابت ہوئی ہیں، جو واقعہ سے6 مہینے پہلے ہی کی گئی تھیں۔ ہم ایسے افراد کو جانتے ہیں، جو آج جہاں ہیں، وہاں پہنچنے سے پہلے عام آدمی تھے، ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے، انہیں ہی اپنے بارے میں کوئی امید نہیں تھی۔ ملک کے اعلیٰ عہدے پر بیٹھے آدمی سے لے کر مرکزی کابینہ اور اسٹیٹ کابینہ کے بہت سے لیڈروں کے بارے میں ہمارے پاس جانکاری ہے۔ بہار پر ہمارا یہ پہلانجوم مضمون ہے۔ہمارے پاس سیاسی حادثات کے واقع ہونے سے پہلے جو جانکاریاں سامنے آرہی ہیں، وہ چونکانے والی ہیں۔ کیا 20 دسمبر کے آس پاس بہار میں کوئی سیاسی سمیکرن (تسویہ )بدلنے والا ہے؟ نتیش کمار کو سوشاسن بابو سے کوشاسن بابو میں بدلنے کے پیچھے کہیںانہی کی معاون طاقتوں کا تو کردار نہیں ہے؟خود نتیش کے ساتھ جو لوگ جڑے ہوئے ہیں، ان کی سیاست کیا ہے اور وہ نتیش کو فائدہ پہنچا رہے ہیں یا نقصان ؟سوالات بہت ہیں، جن کے جواب دسمبر میں ملیں گے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نتیش کمار اچانک اتنے خود غرض کیوں ہو گئے ہیں؟

سال 2019 میں لوک سبھا انتخابات ہونے ہیں۔ یعنی یہ انتخابی سال ہے۔ 2019 کا انتخابی ورشانک (سال کا عدد ) ہے، تین (2+0+1+9=12, 1+2=3)۔اسی طرح اس انتخاب کے بعد تشکیل ہونے والی 17ویں لوک سبھا کا عد د ہے 8۔ انتخابی رننگ نمبر کی بات کریں تو میرے حساب سے 21 اپریل سے 20 مئی کے درمیان لوک سبھا انتخابات کے نتائج آجانے چاہئے۔ اس وقت جو رننگ عدد ہوگا ، وہ ہوگا 6۔یہ شُکریعنی وینس کا عدد ہوگا۔ ہم لوگ اپنا حساب ووٹ کائونٹنگ یا گنتی والے دن کو لے کر کرتے ہیںنہ کہ ووٹنگ کے مرحلوں کو لے کر۔ کون کون سے مرحلے میں ووٹنگ ہوتی ہے، اس کے حساب سے تو صرف یہ پتہ چل سکتا ہے کہ اس مرحلے میںکس پارٹی کو کتنی سیٹیں مل سکتی ہیں یا وہ کتنا آگے پیچھے رہیںگی۔آخری نتائج کے لئے ووٹ گنتی کی تاریخ کو ہی کام میں لیا جاتاہے۔21 اپریل سے 20 مئی کے بیچ کو اگر ووٹ گنتی کی ممکنہ تاریخ مانیں تو رننگ کا عدد بنا 6۔ ایک بات اور ہے کہ یہ تمام انتخابی مہم ہے اور اس میں اگر ووٹنگ کا دن مئی مہینے میں آتا ہے تو اس کا عدد بنتا ہے 5، لیکن یہ سب سے کم اثر والا عدد ہے۔بنیادی طور پر تین موثر عدد مانے جائیںگے جب تک ووٹنگ کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوتا۔ تاریخ اعلان ہونے کے بعد اس دن کا مولانک (بنیادی عدد) ،بھاگیانک (قسمت کا عدد )اور دینانک (تاریخ کا عدد )بھی مانا جائے گا۔ فی الحال تین چیزیں ہم اس حساب میں لے رہے ہیں۔ ایک انتخابی سال جوکہ 3ہے۔،دوسرا لوک سبھا عدد جو کہ 8 ہے اور تیسرا ہے انتخابی رننگ عدد جو کہ 6 ہے۔

 

 

 

بہار کے تناظر میں

ہم یہاں بہار کے معاملے میں بات کریں تو بنیادی طور سے ہم اس حساب میں 6 پارٹیوں کو شامل کر رہے ہیں۔یہ 6پارٹیاں ہیں: بی ج پی ، جنتا دل (یو)، کانگریس، راشٹریہ جنتا دل ، ایل جے پی اور آر ایل ایس پی ۔ بی جے پی کی سب سے پہلے بات کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک اہم پارٹی ہے۔ ابھی اس کے پاس سب سے زیادہ سیٹیں ہیں۔ 6اپریل 1980 کو بنی ہوئی بی جے پی کامولانک(بنیادی عدد) 6 ہے اور بھاگیانک (قسمت کا عدد )ایک ہے۔ چونکہ اُس وقت 40واں سال چل رہا ہوگا تو اس کے مطابق اس کاآیو انک(عمر کا عدد ) ہے 4۔ بی جے پی کا نامانک (نام کا عدد )2 ہے ۔ اب سیدھے طور پر بی جے پی کے ان اعداد کو انتخابی سال ، لوک سبھا عدد اور ان انتخابی رننگ عدد کے ساتھ میں دیکھتے ہیں۔ امیت شاہ کی بات کریں تو ان کا یوم پیدائش ہے 22 اکتوبر 1964۔ ان کا مولانک 4 ہے، بھاگیانک 7 اور آیو انک ایک ہے۔ انتخاب کے وقت ان کا 55واں سال چل رہا ہوگا تو اس کا نامانک بنتا ہے 6۔ ان دونوں کے مطابق دیکھیں تو انتخابی سال کے ساتھ ہمیں ایک پلس ملتا ہے اور لوک سبھا عددکے ساتھ میں 8 مائنس ملتے ہیں، وہیں انتخابی رننگ عدد کے ساتھ ہمیں 5 پلس ملتے ہیں۔ کل ملا کر 6پلس اور 8 مائنس یعنی کہ2 مائنس۔ اس 2 مائنس کا مطلب یہ ہے کہ اس لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی جو موجودہ حالت ہے ،اس سے وہ بہت نیچے جائے گی۔ ابھی 22 سیٹیں لے کر یہ آگے ہے لیکن آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اس عدد سے بہت نیچے جائے گی۔ سیٹوں کی تعداد کتنی ہوگی؟ یہ ایک الگ موضوع ہے، لیکن بی جے پی کے لئے 2 مائنس کی حالت بے حد نقصان دہ اور مایوس کن ہے۔
جے ڈی یو
اب ہم بات کرتے ہیں جنتا دل ( یو) کی۔ جے ڈی یو کی تشکیل ہوئی 30اکتوبر 2003 کو۔ اس کے مطابق اس کا مولانک تین، بھاگیانک 9 ، آیو انک 7 اور نامانک ایک ہے۔ موٹے طور پر دیکھا جائے تو انتخابی سال اس پارٹی کے لئے بہت اچھا رہے گا،کیونکہ وہ اس کے مولانک کے سال اور بھاگیانک کا عزیز دوست ہے ۔ اس لئے آیو انک کا دوست بھی ہے اور ساتھ کا بھی دوست ہے۔ اس پارٹی کے چیف نتیش کمار کا یوم پیدائش ہے یکم مارچ 1951۔ حالانکہ ہماری نظر میں ان کے جنم کی یہ تاریخ قابل یقین نہیں ہے لیکن اگر اسی کو صحیح مان کر بات کریں تو انکا مولانک ایک، بھاگیانک 2 اور آیو انک 6 ہے۔ 69 سالہ ہونے کے سبب اور نامانک 7 ہے۔ ان کو لے کر اگر ہم دیکھیں توجو انتخابی ورشانک 3 ہے، اس کے ساتھ میں یہ بناتے ہیں 8 پلس ۔یہ پلس کا بہت بڑا حساب ہے جو کہ مثبت ہے۔ لوک سبھا عدد جو کہ 8 ہے، اس کے ساتھ میں اگر دیکھیں تو جنتا دل ( یو ) اور نتیش کے عدد3 مائنس یعنی کہ بری حالت بتاتے ہیں۔ انتخابی رننگ عدد 6 کے ساتھ میں جنتا دل یو اور نتیش کمار کا عدد بنتا ہے 3پلس۔ یہاں پر جنتا دل یو کے لئے 8 اور 3 مل کر بنتے ہیں 11پلس اور3 مائنس، یعنی کل ملا کر 8 پلس ۔یہ بہت اچھی پوزیشن مانی جاتی ہے۔ ہم نے یہاں صرف جنتا دل یو کا تخمینہ کیا ہے ۔یہ صورت حال تبھی ہوگی اگر جنتا دل یو اکیلے لڑے۔
انڈین نیشنل کانگریس
اب آتے ہیں کانگریس پر۔کانگریس کا پرانا نام ہے ’انڈین نیشنل کانگریس ‘۔ یہ نام الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہوا 2جنوری 1978 کو۔اس کا مولانک 2، بھاگیانک ایک اور آیو انک 6 ہے۔ 42 ویں سال کی وجہ اور اس کا نامانک 3 ہے۔ راہل گاندھی اس کے قومی صدر ہیں۔ ان کا یوم پیدائش ہے 19جون 1970۔ ان کا مولانک ایک، بھاگیانک 6 اور آیو انک 4 ہے۔ 49ویں سال کے سبب اور نامانک 9 ہے۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ان کا مولانک ایک اور بھاگیانک 6 باہمی طور پر مخالف ہیں۔ ایک آیو انک 4 کا مخالف ہے، وہیں بھاگیانک 6 بھی آیو انک 4 کا مخالف ہے اور ان کا بھاگیانک 6 نامانک 9 کا مخالف ہے ،تو کل ملا کر کانگریس اور راہل گاندھی ، دونوں کے عدد کو اگر ہم دیکھیں تو انتخابی ورشانک 3 کے ساتھ میں یہ بناتے ہیں 2 پلس کا حساب ۔ اب لوک سبھا کے عدد کے ساتھ اگر ہم بات کریں جو کہ 8 ہے تو اس کے ساتھ میں یہ بنتا ہے 5مائنس۔ راہل گاندھی اور کانگریس کے عددوں کو انتخابی رننگ کے عدد 6 کے ساتھ دیکھیں تو یہ بنتا ہے 5 پلس۔ کل ملا کر 5 پلس اور2 پلس ، یعنی 7 پلس اور 5 مائنس۔ 7 پلس میں سے 5 مائنس کریں تو ہمارے پاس بچیں گے 2 پلس۔ اسے ٹھیک مانا جاسکتاہے لیکن یہ کوئی بہت بڑی حالت نہیں کہی جاسکتی۔ سیٹوں میں اسے ڈھالنے کے لئے ہم بعد میں بات کریں گے۔

 

 

 

 

آر جے ڈی
اب ہم بات کرتے ہیں راشٹریہ جنتا دل کی۔ اس پارٹی کا قیام 5 جولائی 1997 کو ہوا تھا۔ اس کا مولانک 5، بھاگیانک 2 اور آیو انک 4 ہے۔ 22ویں سال سبب اور نامانک 5 ہے۔ لالو پرساد یادو کا یوم پیدائش 11 جون 1948 کو منایا جاتاہے۔ ان کا اب تک کا یہی اکلوتا دستیاب یوم پیدائش ہے تو ہم اسی بنیاد پر بات کریں گے۔ ان کا مولانک 2 ، بھاگیانک 3 ، آیو عدد 8 ہے۔ 71ویں سال کے سبب اور نامانک 9 ہے ۔ راشٹریہ جنتا دل اور لالو یادو کے اعداد کو دیکھیں تو انتخابی ورشانک 3 کے ساتھ ان کے اینومریشن کی آخری اہلیت کی صورت حال آتی ہے 5 پلس اور لوک سبھا عدد کے ساتھ میں لالو یادو اور راشٹریہ جنتا دل کا عدد آتا ہے پلس۔ انتخابی رننگ کے عدد 6 کے ساتھ میرے حساب سے جو عدد آتا ہے، ایک پلس اور ایک مائنس یعنی صفر۔ ایسی صورت حال میں راشٹریہ جنتا دل کے کھاتے میں 6 پلس گئے ہیں اور یہ ایک اچھی تعداد مانی جاسکتی ہے راشٹریہ جنتا دل کے موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے۔حالانکہ لالو جی کا یوم پیدائش پوری طرح سے حتمی نہیں ہے۔
لوک جن شکتی پارٹی
اب آتے ہیں لوجپا یعنی لوک جن شکتی پارٹی پر جس کے چیف رام ولاس پاسوان ہیں۔ ایل جے پی 28 نومبر 2000 کو بنی۔اس کا مولانک ایک، بھاگیانک 5، آیو انک ایک،19ویں برس کے سبب اور نامانک 6 ہے۔ رام ولاس پاسوان کی بات کریں تو ان کا یوم پیدائش ہے 5 جولائی 1946۔ یہاں مولانک اور بھاگیانک دونوں 5ہیں، آیو انک ایک ہے۔ 73 ویں سال کے سبب اور نامانک 9 ہے۔ اب یہ دیکھنے والی بات ہے کہ ان کے مولانک اور بھاگیانک دونوں 5 ہیں۔یہ دونوں نامانک 9 کے بالکل مخالف ہیں۔ اسی طرح سے، ان کی پارٹی کے مولانک اور آیو انک دونوں ایک ہیں اور یہ دونوں نامانک 6 کے مخالف ہیں۔ ایل جے پی اور پاسوان کے عدد انتخابی ورشانک 3 کے ساتھ میں لاتے ہیں۔ 6مائنس اور لوک سبھا انک 8 کے ساتھ میں پھر لاتے ہیں 6مائنس۔ اس کے بعد انتخابی رننگ عدد جو ہے، اس کے ساتھ میں لاتے ہیں، ایک پلس۔ تو 12 مائنس اور ایک پلس یعنی کہ 11مائنس۔یہ انتہائی نقصان دہ صورت حال ایل جے پی کی آتی ہے۔ آج کی تاریخ میں ایل جے پی کے پاس جو سیٹیں ہیں، اتنی تعداد تو چھوڑیئے ، ہو سکتا ہے کہ ایل جے پی کو ایک سیٹ پانے کے لئے بھی آسمان و زمین ایک کرنی پڑے۔
راشٹریہ لوک سمتا پارٹی
اب بات کرتے ہیں آخری پارٹی آر ایل ایس پی یعنی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کی، جو ویسے تو حجم و عدد میں چھوٹی ہے لیکن پھر بھی یہ اہم دھڑا ہے۔ اس کے صدر ہیں اوپندر کشواہا۔یہ پارـٹی بنی تھی 3 مارچ 2013کو۔اس کا مولانک 3، بھاگیانک 3 ، آیو انک 7 اور نامانک 7 ہے۔یہ غضب کی بات ہے کہ اس کے عدد آپس میں بہت اچھی ہم آہنگی رکھ رہے ہیں۔اوپندر کشواہا کا یوم پیدائش 2جون 1960 ہے۔ ان کا مولانک 2، بھاگیانک 6، آیو انک 5 ہے۔ 59 ویں سال کے سبب اور نامانک 6 ہے۔ اب خاص بات یہ ہے کہ پارٹی کے جو عدد ہیں، وہ اوپندر کشواہا کے اعداد کے برعکس ہیں۔ آر ایل ایس پی اور اوپندر کشواہا کے عدد انتخابی ورشانک 3 کے ساتھ میں بناتے ہیں4 پلس اور لوک سبھا عدد8 کے ساتھ میں بناتے ہیں2 پلس۔ رننگ کا جو عدد ہے، انتخاب کا 6 ، اس کے ساتھ میں بناتے ہیں 6 پلس ، تو کل ملا کر 12 پلس بنتا ہے۔ یہ بہت ہی اچھی پوزیشن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پارٹی کے کوٹے میں جتنی بھی سیٹیں الاٹ ہوں گی، اس میں سے ہو سکتا ہے کہ یہ باس کی ایک سیٹ ہارے یا ہو سکتا ہے کہ وہ بھی نہ ہارے۔ 12 پلس یہ بتاتا ہے کہ اسے 3، 4 یا 5 جتنی بھی سیٹیں الاٹ ہوںگی، وہ سبھی سیٹیں پارٹی جیت سکتی ہے۔
اتحاد کی صورت میں نتائج
یہ تو ہم نے بات کی ان پارٹیوں کے الگ الگ ساتھ لڑنے کی حالت کی۔ لیکن اگر یہ ساتھ مل کر لڑیں تو کیا ہوگا؟سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں، این ڈی اے کی۔ این ڈی اے کے نام پر جو لوگ اکٹھا ہیں، ان کی بات کریں، تو بی جے پی کا 2 مائنس ، جنتا دل یو کا 8 پلس ، ایل جے پی کا 11 مائنس اور آر ایل ایس پی کا 12پلس ہے۔ ایسی صورت میں یہ بن جاتاہے 6 پلس اور ایک پلس، یعنی ٹوٹل بنتا ہے 7 پلس۔
مہاگٹھ بندھن میں ہم فی الحال راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کو مان کر چلتے ہیں۔ یہ دونوں مل کر بنا لیتے ہیں 8 پلس۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی ، جنتا دل یو، لوجپا اور رالوسپا یعنی یہ چاروں مل کر این ڈی اے میں ایک ساتھ لڑیں تو ان کا حساب 7 پلس ہے۔ ادھر راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کے مہا گٹھ بندھن کا حساب ہے 8 پلس ۔یعنی مہا گٹھ بندھن این ڈی اے سے ایک پلس زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ فریق بھاری رہ سکتا ہے۔ ان دونوں کی جو موجودہ پوزیشن ہے، اس میں اگر یہ لڑیں تو این ڈی اے کے مقابلے مہا گٹھ بندھن کو زیادہ سیٹیں ملیں گی۔ اس میں ایک چیز جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ اوپندر کشواہا مہا گٹھ بندھن میں شامل ہوں گے۔ یہ طے ہے اور یہ بہت جلد ہونے والا ہے۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم انتخابات کے بعد ، دسمبر کے بعد یہ کبھی بھی ہو سکتا ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں پھر کانگریس 2 پلس، راشٹریہ جنتا دل 6 پلس اور آر ایل ایس پی کے 12 پلس مل کر ہو جائیں گے 20 پلس۔یہ بہت مضبوط صورت حال بن جائے گی۔ وہیںاگر پاسوان این ڈی اے میں رہتے ہیں، تو یہ این ڈی اے کے لئے بہت خطرناک حالت ہے۔ پاسوان کے 11 مائنس این ڈی اے کے لئے گلے کی گھنٹی بن جائیںگے اور اسے جگہ جگہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ این ڈی اے کے لئے اچھا یہی رہے گا کہ این ڈی اے سے پاسوان کو نکال دیا جائے۔
بی جے پی اور جے ڈی یو
اب بات کر لیتے ہیں بی جے پی اور جنتا دل یو کی۔ بی جے پی 2 مائنس میں ہے اور جنتا دل یو 8 پلس میں ہے۔ اگر بی جے پی اور جنتا دل یو مل کر الیکشن لڑتے ہیں تو نقصان جنتا دل یو کو ہی ہونا ہے، بی جے پی کو تو فائدہ ہونا ہے ۔جنتا دل یو کے8 پلس کے سبب بی جے پی کے2 مائنس کو سپورٹ ملتا ہے اور اس طرح سے اسے فائدہ ہوتا ہے ۔لیکن بی جے پی کے 2 مائنس سے جنتا دل یو کے8 پلس کو نقصان ہونا ہے ۔ وہ8 میں سے دو گھٹ کر 6 پلس ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بی جے پی اور جنتا دل یو ساتھ میں انتخابات لڑتے ہیں تو جنتا دل یو کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسے مانگی ہوئی یا متوقع سیٹوں کی تعداد سے کم سیٹیں ملیں گی اور سیٹیں آئیں گی بھی کم۔ بی جے پی اور جنتا دل یو دونوں پارٹیاں مل کر بھی اچھی تعداد میں سیٹیں نہیں جیت پائیں گی۔
ان کے مقابلے میں مہا گٹھ بندھن زیادہ سیٹیں جیتے گا۔ اس طرح جنتا دل یو کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ ایک بار صرف لوک سبھا انتخابات کے لئے ہی سہی، این ڈی اے سے الگ ہو جائے اور سبھی 40 سیٹوں پر اکیلے لوک سبھا انتخابات لڑے۔ جنتا دل یو کو مہا گٹھ بندھن میں بھی نہیں جانا چاہئے، کیونکہ مہا گٹھ بندھن میں جانے کے بعد، اس کا جو 8 پلس ہے، وہ کانگریس اور راشٹریہ جنتادل کے 8 پلس کے برابر ہو جائے گا اور وہ دونوں مل کر اسے 20 سے زیادہ سیٹیں دیں گی ہی نہیں ۔کیونکہ ان کے بھی 8 پلس ہیں اور کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے بھی 8 پلس ہیں تو 20 زیادہ سے زیادہ سیٹیں ملنی ہیں۔
اس لئے اچھا رہے گا کہ جنتا دل یو اکیلے 40 سیٹوں پر انتخاب لڑے۔ ایسی حالت میں 40 سیٹوں کا اگر ہم حساب کتاب دیکھیں تو یہ8 پلس، ٹوٹل 15 پلس کے آدھے سے زیادہ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جنتا دل یو تقریباً 12, 13 سے 15 کے بیچ میں سیٹیں جیت سکتی ہے۔ نجوم حساب کتاب میں ایک تاثر آیا ہے کہ اگلا لوک سبھا ہنگ ہوگا۔ اس میں نہ تو این ڈی اے کو مکمل طور سے اکثریت ملے گی نہ یو پی اے کو مکمل اکثریت ملے گی اور نہ ہی کسی تیسرے مورچے کو۔ لیکن این ڈی اے سب سے بڑا گٹھ بندھن بن کر ابھرے گا۔ اس لئے اسے سرکار بنانے کے لئے جنتا دل یو کی سیٹوں کی ضرورت پڑے گی۔ ایسے میں جنتا دل یو کو ملی 12,13 سیٹیں، جو اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، ان کے لئے بہت اہم ہوگی۔ جنتا دل یو کے لئے بہتر یہ ہوگا کہ وہ مرکز میں بھی سرکار کا حصہ بنے گی۔

 

 

 

 

2010 کی پیشن گوئی
ہم نے 2010 کے اسمبلی انتخابات کے وقت ایک پیشن گوئی کی تھی کہ اگلے 18 سال یعنی 2028 تک جنتا دل یو ، بی جے پی ہی راج کریں گے، چاہے وہ مل کریں یا الگ الگ کریں۔ اسی لئے جنتا دل یو اور نتیش کمار کو ابھی سرکار چلانے کی فکر چھوڑ دینی چاہئے۔ اگر وہ اکیلے ہوکر الیکشن لڑتے ہیں، تو اچھی خاصی تعداد میں سیٹیں آئیں گی۔وہ مرکز میں اقتدار میں حصہ دار ہوں گے اور ان کی سرکار جو ہے، وہ بی جے پی اپنی ذمہ داری سے فکر رکھ کر چلائے گی۔ نتیش کمار اور جنتا دل یو کو اتنا دھیان رکھنا ہے کہ وہ این ڈی اے سے صرف لوک سبھا انتخابات کے لئے مستقل طور سے الگ ہوں، 17ویں لوک سبھا انتخابات کے لئے مہا گٹھ بندھن میں نہیں جائیں۔ وہاں جانے سے راشٹریہ جنتا دل کے 6 پلس اور کانگریس کے2 پلس، یہ8 پلس ، بلکہ وہاں کشواہا بھی مل جائیںگے،تو وہ 20 پلس ہو جائے گا تو جنتا دل یو کو 20 سے بھی کم سیٹیں ملیں گی، جو انکے لئے نقصان دہ رہے گا۔
لوک سبھا انتخابات 2019 کے لئے بہار کی بنیادی پارٹیوں کی یہ تصویر ہو سکتی ہے۔ اس میں کمیونسٹ پارٹیوں کا کوئی بھی اندازہ نہیں کیا گیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی ظاہر ہے مہا گٹھ بندھن کو ہی سپورٹ دیںگی، تو اس سے پورے تخمینے میں کہیں کوئی ایک 2 سیٹ کا یا زیادہ سے زیادہ 3سیٹ کا فرق آسکتا ہے۔ لگ بھگ یہی تخمینہ لوک سبھا انتخاب کا رہے گا۔ نتیجہ کی شکل میں یہ مانا جاسکتا ہے کہ ایک طرف جہاں جنتا دل یو کو الگ ہوکر لڑنا چاہئے اور انتخاب کے بعد پھر این ڈی اے کے ساتھ آجانا چاہئے، وہیں بی جے پی کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے ،یہ الیکشن میں بہت سنبھل کر اور بہت دانشمندی سے قدم بڑھائے، چاہے کسی کے ساتھ مل کر لڑے یا اکیلے لڑے۔ اپنے پارٹنر بہت دھیان سے چنے۔ ساتھ ہی، رام ولاس پاسوان کے لئے یہ انتخاب بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔
نتیش کمار کی جنتا دل یو اور رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی کے مل کر لڑنے کے امکانات پر بات کریں، تو ایسی حالت میں پاسوان کی پارٹی کے عدد ہیں 11 مائنس اور نتیش کمار کی پارٹی کے عدد ہیں 8 پلس۔ تو پاسوان کی پارٹی کے سبب نتیش کمار کی پارٹی کو نقصان ہی پہنچے گا، فائدے نہیں ملیں گے۔ جنتا دل یو کے سبب پاسوان کی پارٹی کو فائدہ یقینی ملے گا۔ اسی لئے جنتا دل یو کو چاہئے کہ وہ کسی بھی پارٹی کے ساتھ مل کر انتخاب نہیں لڑے۔ بی جے پی کے مائنس میں عدد ہیں اور ایل جے پی کے تو بہت زیادہ مائنس میں عدد ہیں۔ ادھر کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ مل کر انتخابات لڑیں گے تو ان کو سیٹیں ہی کم ملیں گی۔ اسی لئے جنتا دل یو کے لئے واحد موقع ہے کہ وہ اکیلے لڑیں۔ پاسوان کے عدد تو اتنے خراب ہیں کہ ایل جے پی کی خود کی کوئی ایک آدھ سیٹ نکل آئے، وہ بھی بہت بڑی بات ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *