امتحانات، ٹسٹ اور انٹرویوز میں مسلم خواتین اور سکھوں کے لباس کے بارے میں دہلی اقلیتی کمیشن کا تاریخی فیصلہ

Dr-Zafrul-islam
نئی دہلی: دہلی اقلیتی کمیشن کو متعدد شکایتیں ملیں کہ سیکیوریٹی کے نام پرمسلم خواتین اور سکھوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ مسلم خواتین کوبالخصوص امتحان گاہ، ٹسٹ اور انٹرویوز میں حجاب اور لمبی آستین کے کپڑے پہننے سے روکاجا رہاہے اور نہ اتارنے کی صورت میں ان کو امتحان وغیرہ میں شرکت سے روک دیا جاتا ہے۔ اسی طرح سکھوں کو کرپان لے کر امتحان گاہ اور ٹرین وغیرہ میں داخل ہونے سے منع کیا جا تا ہے۔
اس سلسلے میں دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں ، ممبران سردار کرتار سنگھ کوچر اور انستاسیا گل نے ایک تاریخی آرڈر پاس کرکے عام سرکاری اور تعلیمی اداروں کو حکم دیاہے کہ مسلم خواتین کو حجاب (اسکارف) اور لمبی آستین نیز سکھوں کوکرپان کیساتھ امتحان گاہ وغیرہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ کمیشن نے اپنے آرڈر میں کہاہے کہ جہاں بھی سیکیوریٹی کی غرض سے ذاتی تفتیش ضروری ہووہاں پہلے سے درخواست دہندگان کومطلع کیا جائے کہ وہ وقت سے مثلاً آدھا گھنٹہ پہلے مقررہ جگہ پر پہنچیں تاکہ ان کے اسکارف اور کرپان کامعاینہ سیکیوریٹی کے لوگ کر سکیں اور اس کے بعد اسکارف ، لمبی آستین کی قمیص اور کرپان کے ساتھ ان کوامتحان گاہ یا اس جیسی جگہوں میں جانے دیا جائے۔
کمیشن نے اس سلسلے میں کیرالا ہائی کورٹ کے 12جولائی 2015 کے آرڈر کا حوالہ دیا ہے جس میں مسلم خواتین کو حجاب (اسکارف) اور لمبی آستین پہن کر امتحان گاہ وغیرہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے اور یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ ان کی سیکیوریٹی تفتیش خواتین پر مشتمل سیکیوریٹی ہی اسٹاف کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کافیصلہ پورے ملک پرلاگو ہوتا ہے۔ اسی طرح کمیشن نے سکھوں کے سلسلے میں اپنے آرڈر میں یاد دلایاہے کہ ہندوستانی آئین کی شق نمبر52 سکھوں کو کرپان رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ کمیشن نے حکومت کے تمام محکمہ جات اور بالخصوص تعلیمی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ اس حکم پر پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل کریں۔ عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کمیشن قانونی کارروائی کرے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *