آدھار کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنا خطرناک

مدراس ہائی کورٹ میں ایک عرضی ڈالی گئی جس میں کہا گیا کہ آدھار کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑا جائے۔عرضی میں کہا گیا تھا کہ ووٹر لسٹ میں فرضی ووٹروں کے رجسٹریشن کو روکنے کے لئے ووٹر آئی ڈی کو آدھار سے جوڑ دیا جائے۔ اس پر مدراس ہائی کورٹ نے مرکزی سرکار کو نوٹس دیا اور اب الیکشن کمیشن نے جواب دیا ہے کہ اسے آدھار کو ووٹر آئی ڈی اور ووٹر لسٹ سے جوڑنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔حالانکہ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ آدھار کی معتبریت کو برقرر رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی آدھار کو ووٹر آئی ڈی سے جوڑنے پر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ اب اس معاملے پر اگلی سنوائی 29 اکتوبر کو ہونی ہے۔
الیکشن کمیشن کے پاس 32 کروڑ آدھار کارڈ
’چوتھی دنیا ‘ نے تقریباً 6 مہینے پہلے ہی آدھار کارڈ کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے کی قواعد پر لیڈ اسٹوری کی تھی۔ اس اسٹوری میں یہ حقیقت نکل کر آئی تھی کہ الیکشن کمیشن کے پاس ووٹر لسٹ پیوریفکیشن کے لئے پہلے سے ہی تقریباً 32 کروڑ ووٹروں کے آدھار کارڈ ہیں۔ اب ان 32 کروڑ آدھار کارڈ کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑا جا چکا ہے یا نہیں ،اس پر الیکشن کمیشن نے ابھی تک کچھ نہیں کہا ہے۔
سب سے بڑا سوال ہے کہ اگر ووٹر کارڈ کو آدھار سے لنک کیا گیا تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ کا ووٹ خفیہ رہ پائے گا؟ دراصل 3 مارچ 2015 کو الیکشن کمیشن نے نیشنل الیکٹورل رول پیوریفکیشن اینڈ آنتھٹیکشین پروگرام لانچ کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت ووٹروں کے ایپک ڈیٹا ( ووٹر کارڈ ڈیٹا) کوآدھار کارڈ کے ساتھ لنک اور آتھنٹیکیٹ کیا جانا تھا۔ یہ کام بوتھ لیول آفیسر سے لے کر اوپر تک کے افسروں کے ذریعہ کرایا گیا۔ بی ایل او ووٹروں کے گھر جاکر یہ ڈیٹا ( آدھار کارڈ ڈیٹیل ) اکٹھا کر رہے تھے۔ حالانکہ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ووٹروں کے لئے اپنا آدھار کارڈ ڈیٹیل دینا لازمی نہیں ہوگا اور ڈیٹا کی سیکورٹی کے پختہ انتظام کئے جائیں گے۔ خیر آدھار اکٹھا کرنے کے لئے کئی طریقے اپنائے گئے۔ جیسے ڈیٹا ہب، مرکز اور ریاست کی تنظیم اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعہ آدھار ڈیٹا اکٹھا کئے گئے۔

 

 

 

 

اسٹیٹ ریزیڈنٹ ڈیٹا ہب
کئی ریاستوں نے بھی اسٹیٹ ریزیڈنٹ ڈیٹا ہب بنائے ہیں، جس میں مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش ، تلنگانہ ، دہلی وغیرہ شامل ہیں۔ اسٹیٹ ریزیڈنٹ ڈیٹا ہب کے ذریعہ ریاستی سرکاریں اپنے شہریوں کے آدھار کارڈ کو مختلف کاموں کے لئے لنک کرتی ہیں۔ اسٹیٹ ریزیڈنٹ ڈیٹا ہب کا مطلب ہے ، سرکار کے پاس اپنے شہریوں کی 360 ڈگری پروفائل تیار کرنا۔ 360 ڈگری پروفائل کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی کوئی بھی جانکاری ، آپ کی کوئی بھی ایسی رائے، نظریہ جو کسی سوشل سائٹس یا اسمارٹ فون پر موجود ہے، اس کی ہر ایک جانکاری سرکار کے پاس ہوگی ۔ ریاستی سرکار کے پاس یو آئی ڈی اے آئی کی طرف سے مہیا کرائی گئی ہر ایک جانکاری ( بایو میٹرک ) ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے ایسے ہی اسٹیٹ ریزیڈنٹ ڈیٹا ہب سے بھی ڈیٹالئے اور اس طرح سے الیکشن کمیشن تقریبا ً32 کروڑ وووٹروں کے آدھار ڈیٹا اکٹھا کر چکا تھا۔
11 اگست 2015 کو سپریم کورٹ کا ایک حکم آیا۔ جسٹس کے ایس پوٹا سوامی (ریٹائرڈ) کی عرضی رٹ پٹیشن سول نمبر 494/2012 پر سنوائی کرتے ہوئے،سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں صاف طور سے کہا کہ آدھار کا استعمال سوائے پی ڈی ایس (راشن ) تقسیم کے،کہیں نہیں کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے یہاں تک کہا کہ سرکار کسی کو دبائو کے تحت آدھار کارڈ بنوانے کے لئے زبردستی نہیں کرسکتی۔ اس حکم کے آنے کے فوراً بعد ہی الیکشن کمیشن نے سبھی ریاستوں کے چیف الیکشن آفیسروں کو 13اگست 2015 کو خط لکھ کر فوراً ووٹروں سے آدھار ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کام بند کرنے کو کہا۔ کمیشن نے نیشنل الیکٹورل رول پیوریفکیشن اینڈ آتھنٹیکیشن پروگرام کو بھی ملتوی کر دیا لیکن اس بیچ تقریبا ً32 کروڑ ووٹروں کے آدھار ڈیٹا الیکشن کمیشن کے پاس پہنچ چکے تھے۔
کمیشن نے ویسے تو بھروسہ دلایا کہ جمع کئے گئے ڈیٹا کی سیکورٹی کے پختہ انتظام ہیں، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کی انسانی طاقت اور تکنیکی طاقت ( خود کی نہ کہ آئوٹ سورس) اتنی ہے جس سے وہ اس ڈیٹا سیکورٹی کی گارنٹی دے سکے۔ غور طلب ہے کہ الیکشن کمیشن کے بہت سارے کام خاص طور پر تکنیکی آئوٹ سورس ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اب تک 32 کروڑ ووٹروں کے ووٹر کارڈ آدھار سے لنک کئے ہیں یا نہیں ، اس کی سرکاری جانکاری الیکشن کمیشن کو دینی چاہئے ۔یہاں یہ صاف طور سے سمجھنا چاہئے کہ ووٹر کارڈ کا آدھار کارڈ کے ذریعہ سے ویریفکیشن کرنا ایک الگ بات ہے اور ووٹر کارڈ کو آدھار کارڈ سے لنک کرنا ایک الگ بات ہے۔

 

 

 

 

سوال اور تشویشات
اگر ایک بار ووٹر کارڈ کو آدھار سے لنک کر دیا گیا تو آنے والے وقت میں ملک میں ای ووٹنگ کا عمل بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔ ایسی ایک کوشش گجرات کے لوکل میونسپل کارپوریشن انتخابات میں ہو بھی چکی ہے۔ اس وقت گجرات کے 8 میونسپل میں ای ووٹنگ کو اپنایا جارہا ہے۔ ای ووٹنگ کا سب سے بڑا خطرہ تو یہی ہے کہ ووٹر کو یہ پتہ ہی نہیں ہوگا کہ اس نے کسے ووٹ دیا۔ ووٹر اپنے اسمارٹ فون یا کمپیوٹر پر ایک نمبر دبائے گا اور ووٹ الیکشن کمیشن یا ای بوتھ پر رکھی مشین میں درج ہو جائے گا۔ اب وہ مشین کیا درج کررہی ہے، ووٹر کبھی نہیں جان پائیںگے، سوائے بھروسہ کرنے کے۔ ای ووٹ فیل ہوا یا اس کے ساتھ فراڈ ہوا، یہ جاننے کا کیا متبادل ہوگا، اسے لے کر بھی سوال ہے۔
دوسری طرف، یو آئی اے ڈی اے آئی نے یہ قبول کیا ہے کہ سرکاری سروسز کے ساتھ آدھار لنکنگ کی ناکامی کا اوسط 12 فیصد ہے۔ ٹیکنیکل ایرر الگ سے ہے۔ اگر ووٹنگ سسٹم میں بھی بایو میٹرک ویریفکیشن اپنایا جاتاہے (جیسے ابھی ووٹ کرنے سے پہلے ووٹر کارڈ ملانا اور دستخط وغیرہ کروائے جاتے ہیں، سیاہی لگائی جاتی ہے) تو ظاہر ہے کہ اس میں بھی ویریفکیشن کا سکسیس ریٹ گھٹ بڑھ سکتا ہے۔ایسے میں جن کا بھی بایو میٹرک ویریفکیشن نہیں ہو پائے گا، وہ ووٹنگ سے محروم بھی کئے جا سکتے ہیں۔ کئی ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں جس آدمی کا آدھار کارڈ بنا ہے، بعد میں اس کے انگوٹھے کا نشان یا آنکھ کی پتلی میل نہیں کھاتی ۔
ایسے ووٹروں کا کیا ہوگا؟کیا وہ پھر بھی ووٹ دے سکیں گے؟پھر کسی بھی ممکنہ ٹیکنیکل ایرر ( کنکشن فیل ہونے یا دیگر تکنیکی دشواری ) کے سبب بھی کوئی ووٹر ووٹ دینے سے محروم ہوسکتا ہے۔ کیا ووٹر پروفائل میں ہیر پھیر کے امکان سے انکار کیا جاسکتا ہے، جس کا غیر مناسب فائدہ اٹھایا جاسکے؟اگر اس پوری اسکیم کے نفاذ میں کہیں کوئی تکنیکی خامی رہ جاتی ہے تو کیا اس کا غلط فائدہ کوئی نہیں اٹھا سکتاہے؟ایسے میں ووٹر کی حساس مکمل جانکاری کیا غلط عناصر کے ہاتھ نہیں لگ سکتی یا پھر کیمبرج اینالیٹیکا کے طرز پر اس کا نامناسب طریقے سے سیاسی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ہے؟ظاہر ہے ووٹر کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کے لئے ہمارا انتخابی طریقہ پوری طرح سے ہیک پروف اور محفوظ ہونی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *