کانگریس کا ’سافٹ ہندوتو‘ اندیشے میں اقلیتیں

یہ امریقینا چونکانے والا ہے کہ پولرائیزیشن کے خوف سے مسلمانوں سے پرہیز اورہندوؤں کو بی جے پی میں جانے سے روکنے کیلئے سافٹ ہندوتو کی طرف ایک ایسی پارٹی کا جھکاؤ آج دیکھا جارہاہے جس کی جڑیں 28تا31دسمبر 1885 بمبئی میں منعقد ایک ایسے تاریخی اجلاس میں پائی جاتی ہیں جس میں بدرالدین طیب جی اور رحمت اللہ ایم سیانی جیسی عظیم مسلم شخصیات نے شرکت کی تھیں اورجس کے 133سالہ دور میں کل 88قومی اجلاس کی صدارت کرنے والوں میں بدرالدین طیب جی (1887)،رحمت اللہ ایم سیانی (1896)، سید حسن امام (1918)، حکیم اجمل خاں (1921)، مولانا محمد علی جوہر (1923)، ڈاکٹر مختاراحمد انصاری(1927) اور مولانا ابوالکلام آزاد (1923اور1940-46)جیسی 7جلیل القدر مسلم ہستیاں شامل رہی ہیں۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ ان تمام مسلم شخصیات کو انڈین نیشنل کانگریس کی صدارت کے مواقع آزادی سے قبل ملے ہیں،آزادی کے بعد کانگریس کا صدر کوئی مسلمان نہیں بن سکایا نہیں بنایا جا سکا۔جہاں تک پالیسی کی بات ہے ، اقلیتوں بشمول مسلمانو ںکی فلاح اورامپاورمنٹ کے تعلق سے آزادی کے بعد ان کی حکومت کے مختلف ادوار میں کوششیں یقینا کی گئی ہیں۔اسی تعلق سے ایک بڑا قدم مسلمانوں کی صحیح صورتحال جاننے کیلئے سچرکمیٹی کے ذریعے خصوصی رپورٹ تیار کرانا اوراسی کے ساتھ ساتھ اقلیتی تعلیمی ادارہ جات قومی کمیشن اورخصوصی وزارت برائے اقلیتی امور کی تشکیل کرنا تھا۔
مگراب ایسا محسوس ہوتاہے کہ اپنے شاندارتکثیری روایات کی حامل یہ سیاسی پارٹی کوئی واضح اورشفاف پالیسی کا اظہارکرنے میں جھجھکتی ہے۔گذشتہ 11جولائی 2018کو اس کے موجودہ صدرراہل گاندھی نے اپنی رہائش گاہ پرمسلم ’دانشوران ‘ کے طورپر جانے جانے والے ایک درجن افراد سے ملاقات کرکے مسلم ایشوز کو سمجھنا چاہا۔ان ’دانشوران‘ نے صدرکانگریس سے صاف طورپر کہا کہ مسلم کمیونٹی کانگریس کے ذریعے ’سافٹ ہندوتو‘ اپروچ کو اختیارکرنے کے سبب خطرہ محسوس کررہی ہے۔اس پرراہل گاندھی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان کی پارٹی اپنی بنیادی فکر پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اورکسی کے بھی خلاف ناانصافی کی اجازت نہیں دے گی۔انہو ںنے ا سے بھی واضح کیا کہ بی جے پی کا فکری عمل تقسیم معاشرہ ہے جبکہ کانگریس کا شمولیت یعنی انکلوژن ہے کیونکہ اسے سبھوں کو ساتھ لیکر چلنا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا رہاکہ بی جے پی جوکچھ کررہی ہے اوراس کے دور میں دلتوں اورمسلمانوں کی جولنچنگ ہورہی ہے، اس سے عوام میں تقسیم پیداہورہی ہے اورجذباتی ایشوز کی جانب توجہ مبذول کرائی جارہی ہے۔

 

 

 

 

ظاہرسی بات ہے کہ صدر کانگریس کی مسلم ’دانشوران‘ سے یہ ملاقات 2019کے عام انتخابات کے پیش نظرہوئی ۔ سینئرکانگریس لیڈر سلمان خورشید اورکانگریس اقلیتی کمیٹی سربراہ ندیم جاوید کی موجودگی میں سابق پلاننگ کمیشن رکن سیدہ سیدین حمید،جے این یوکی پروفیسر زویا حسن اورغزالہ جمیل، سپریم کورٹ وکلاء زیڈ کے فیضان اورفضیل احمد ایوب ، مصنفہ اورسماجی کارکن فرح نقوی، سماجی کارکن الیاس ملک، ریٹائرڈ بیورکریٹ اے ایف فاروقی اورمؤرخ عرفان حبیب شرکاء میٹنگ میں شامل تھے۔ بات چیت خوشگواررہی مگردہلی کے ایک اردوروزنامہ میں صدرکانگریس کے حوالے سے ’جی ہاں، کانگریس ایک مسلم پارٹی ہے‘ خبرآجانے سے زبردست ہنگامہ اورواویلا مچ گیاا اوروزیراعظم نریندر مودی سے وزیردفاع نرملا سیتارمن اوربی جے پی ترجمان انل بالانی تک نے کانگریس کے خلاف اپنے اس الزام کا اعادہ کیا کہ یہ ’ہندومخالف‘ پارٹی ہے جس کا مقصد اقلیتوں کی ’منہ بھرائی‘ ہے۔
کانگریس نے راہل گاندھی کے اس ریمارک کے کہے جانے سے ہی انکار کیا مگرمذکورہ اردوروزنامہ کا صحافی اپنی رپورٹنگ پرجما رہا۔اس طرح کانگریس نے صرف دفاعی پوزیشن ہی اختیار نہیں کی بلکہ اس نے حسب وعدہ مسلمانوں سے پھرکسی انٹریکشن کا نام تک نہیں لیا اورگجرات اورکرناٹک کی طرح ’سافٹ ہندوتو‘ کی پالیسی پرپھرسے گامزن ہوگئی۔آئیے ، اب دیکھتے ہیں کہ اس نے پھراس جانب کیا کیا قدم آگے بڑھائے۔ پھراپنے اقدامات میں راہل گاندھی نے ان ضروری اورجائز وعدوں کا بھی لحاظ نہیں رکھا جن کا انہوں نے مسلم دانشوروں سے وعدہ کیاتھا۔
دراصل کانگریس کا مسلمانوں سے یہ احتیاط مسلم’ دانشوروں‘ کی11جولائی 2018کی میٹنگ اوراس دوران راہل گاندھی سے منسوب متنازعہ بیان سے شروع نہیں ہواہے بلکہ یہ احتیاط پرانا ہے۔ اسکے دواسباب ہیں۔ایک تویہ ہے کہ کانگریس میں مسلم ووٹ بینک کو’ ایزگرانٹیڈ‘ لیا جاتاہے اوردوطرفہ سیدھے مقابلے میں مسلم ووٹ بینک کو یقینی مان کر چلا جاتاہے۔ اس کا ماننا ہے کہ دوطرفہ سیدھے مقابلے میں مسلمانوں کے پاس کوئی اورمتبادل نہیں ہے، لہٰذا ان پر توجہ دینے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے اوردوسرا یہ ہے کہ ان کا نام لینے یاان سے کسی طرح کی قربت ’کاؤنٹر پروڈکیٹو‘ ہوکر پورے انتخابات کوپولرائیزکرسکتی ہے جس کا پورا فائدہ بی جے پی کومل سکتاہے۔ در حقیقت یہی وہ سوچ ہے جس سے مسلمان نظراندازہوجاتاہے۔ اس کا اثر اسمبلی؍پارلیمنٹ دونوں انتخابات میں ٹکٹ کی تقسیم کے دوران بھی پڑتا ہے اوراس کا مظاہرہ ریاست گجرات اورکرناٹک کے اسمبلی انتخابات کے دوران بھی ہوا۔
اس طرح ملک کی دوسری سب سے بڑی کمیونٹی اورسب سے بڑی اقلیتی کمیونٹی 2011کی مردم شماری کی روشنی میں 14.2فیصد ہونے کے باوجود نظرانداز ہونے لگی اورسیات ، معیشت اورمعاشرت میں یہ ڈس امپاور ہونے لگی اوریہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔
دوسری طرف کانگریس جس کے قیام سے لیکر 1947میں آزادی اورپھراس کے بعد آزادی سے لیکر آج تک مسلم کردار بہت نمایاں اوربنیادی بھی رہا اورجوبلاتفریق مذہب وملت سبھوں کو ایک عینک سے دیکھتی رہی، ووٹ کی سیاست سے متاثر ہوکرآج سافٹ ہندوتو کی جانب جھکی ہوئی صاف طورپر دکھائی دیتی ہے۔یہ سب ایسے وقت میں ہورہاہے جب آرایس ایس سرسنگھ چالک کھلم کھلا یہ کہہ رہے ہیں کہ آپس میں ہم آہنگی اورباہمی وجود کی ضرورت ہے اور’ ہندوتو‘ کا تصور مسلمانوں کے بغیر نہیں کیا جاسکتاہے۔ کانگریس کاایسے وقت میں اتنی بڑی تعداد والی مسلم کمیونٹی کوسرے سے نظرانداز کرکے آگے بڑھنا مسلم کمیونٹی کیلئے اچھا پیغام نہیں دیتاہے اوروہ اپنے آپ کو’نیگلیکٹیڈ‘ یا’ایزگرانٹیڈ‘ محسوس کرتی ہے۔اس کا یہ احساس اسے کانگریس سے ذہنی وفکری طورپر دورکرتاہے۔ حکمت عملی ایک بات ہوتی ہے مگراس سلسلے میں واضح مؤقف ہونا چاہئے اوراس مؤقف میں اقلیتوں بشمول مسلمانوں کا مفاد قربان نہیں ہونا چاہئے۔ ایک معروف وکیل اظہارکریم انصاری کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران مسلم آبادیوں سے دوری بنائے رکھنا، شناخت رکھنے والے مسلمانوں کو عوامی میٹنگوں سے دور رکھنا اورٹکٹ کی تقسیم میں مسلمانوں سے بڑی حد تک احتیاط برتنا کانگریس جیسی سیکولر یاتکثیری روایتوں کی پارٹی کیلئے اچھی بات نہیں ہے، انتخابات توآئیں گے اور ہوجائیں گے مگراصولوں اورروایتوں سے انحراف پارٹی کے امیج کوبگاڑ دے گا تواس کی پھر سے بحالی بہت مشکل ہوجائے گی اوراس پراعتماد اوربھروسہ ختم ہوجائے گا۔
حال میں کانگریس لیڈروں کے ریاست مدھیہ پردیش جہاں عنقریب اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ،کے دورہ کودیکھئے تواندازہ ہوتاہے کہ کسی بھی مسجد ، درگاہ یامسلم کمیونٹی کے کسی فنکشن میں جانے سے سخت پرہیزکیاگیا جبکہ پی ایم مودی داؤدی بوہرہ کے روحانی لیڈر سے باضابطہ ملنے پہنچ گئے۔ ویسے مسئلہ صرف مذہبی مقامات پرجانے کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے ایشوز کوایڈریس کرنے کا ہے جوکہ کانگریس سچر کمیٹی رپورٹ کے سونپے جانے کے 8برس کے اندر بھی عملی طورپر نہیں کرسکی۔
یہ تلخ حقیقت کسی سے مخفی نہیں ہے کہ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی جانب سے تمام پنچایتوں کی گئوشالاؤں کے قیام کے اعلانات کئے گئے اوربڑے جوش وخروش سے راہل گاندھی کو’شیوبھکت‘ اورکمل ناتھ کو’ہنومان بھکت‘ قراردیاگیا۔ کمل ناتھ نے تو چھندوارہ میں 101فٹ کی ہنومان جی کی مورتی بھی بنوادی اوردگوجے سنگھ نے ’نرمدا پریکرما‘ کرڈالی۔ یہ سب کرتے ہوئے کمل ناتھ نے تو اعلانیہ کہاکہ بی جے پی کا ہندوازم پرکاپی رائٹ نہیں ہے ،یہ ان کا بھی مذہب ہے اوریہ خود اس پرعمل کرنے کیلئے آزادہیں۔

 

 

 

 

 

اوائل ستمبر میں کیلاش مانسروور کا صدر کانگریس راہل گاندھی نے جودورہ کیا تھا،وہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر ٹویٹ کیا کہ ’’شیوکائنات ہیں‘‘۔ان کے اس ٹویٹ سے دو پیغامات ملے۔ایک یہ کہ ان کی ہندوبرہمن جڑوں کی تلاش جاری ہے، دوم یہ کہ اگرکیلاش مانسروور پرٹویٹنگ کرنے کے لئے انٹرنیٹ کا لنک دستیاب ہے تواس کا مطلب ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی کی ڈیجیٹل پیش رفتوں کے پھل سامنے آئے ہیں۔دراصل کیلاش مانسروور کی یاترا کا مقصد راہل کوایک ایسے لبرل کی شکل میں پیش کرنا تھا جو ’سافٹ ہندوتو‘ کا بھی جذبہ رکھتاہے۔
عیاں رہے کہ راہل گاندھی کے مذہبی رجحان یا سافٹ ہندوتو کی جانب جھکاؤ کی شروعات اترا کھنڈ میں کیدارناتھ مندر سے ہوئی تھی۔یہ دسمبر2017میں گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران مندروں کے دوروں سے کافی بڑھا۔ یہ جھکاؤ ان پراس قدر حاوی رہاکہ انتخابات کے ختم ہونے اوربی جے پی کے پھر سے ریاست میں برسراقتدار ہوجانے کے بعد بھی یہ گجرات کے ان مندروں میں گئے اورشکست میں بھی اپنے مذہبی رجحان کو برقرار رکھ کر عوام میں پیغام دیا کہ ان کا رجحان محض سیاسی نہیں تھا۔مذہب سے قریب ہونا اچھی بات ہے مگر صرف انتخابات کے دوران پہلے یا بعد سیاست کیلئے اس کا استعمال کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ سال رواں کے اوائل میں بھی ریاست کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کے دوران بھی ان کا خصوصی طورپر مندروں کا دورہ اورمسلم ووٹروں سے احتیاط جاری رہا۔
عجیب بات تویہ بھی ہے کہ کانگریس مذہبی جذبوں کو ابھارنے میں یہ بھی ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ بی جے پی سے کسی بھی صورت میں کم نہیں ہے۔اس کا مظاہرہ گذشتہ دسہرہ کے موقع پر بھی دہلی میں اس وقت ہوا جب 50فٹ لمبی راون کی ’ایفی جی‘ کو نذر آتش کرکے مرکز میں بی جے پی اور دہلی میں ’آپ‘ حکومت کے خلاف ’نیائے یودھ‘ (انصاف کی جنگ) مہم شروع کی گئی۔اس ’ایفی جی‘ میں وزیراعظم نریندر مودی اور دہلی کے وزیراعلیٰ کے ’فیس کٹ آؤٹس‘ بیچ میں دکھائی دے رہے تھے جبکہ دہلی کے بی جے پی کے ساتوں ارکان پارلیمنٹ کے چہرے ایک طرف تھے تواسپیکرکے چہرے دوسری طرف۔یہ سب دراصل راجدھانی میں غیرقانونی سیلنگ کے خلاف تھا۔
ان سب باتوں سے اگرکانگریس یہ سمجھتی ہے کہ اس سے ہندوتو کی طرف مائل ہندوؤں کا دل بدل جائے گا اوراس کے حق میں آجائے گاتو سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟سچ تویہ ہے کہ ریاست مدھیہ پردیش میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے جتنی انتخابی میٹنگیں ہوئی ہیں، اس لحاظ سے ان میں اوربی جے پی کی میٹنگوں میں کوئی فرق نہیں ہے کہ دونوں میں اکثریتی کمیونٹی کی علامتیں اور نشانات یکساں پائی جاتی ہیں اور ان دونوں کی میٹنگوں کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مذہبی جذبات کو سیاسی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ابھار نے میں ہرایک دوسرے سے کم نہیں ہے۔

 

 

 

 

ظاہرسی بات ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی جب ملک کے ایشوز سے فرار چاہتی ہے تو پھر وہ ایسا ہی کرتی ہے اوران جذباتی ایشوز کو ابھارتی ہے جنہیں اس کی حریف پارٹی (یعنی بی جے پی) پہلے سے ابھار رہی ہے۔
جہاں تک مسلم کمیونٹی کا تعلق ہے، اس کا بحیثیت مجموعی یہ طرز عمل قابل ستائش ہے کہ 2014میں بی جے پی قیادت والے این ڈی اے کے مرکز میں برسراقتدار ہونے کے بعد جب جب تکثیریت اورتنوع کو خطرات درپیش ہوئے، اس نے صبر اورتحمل وبرداشت کا دامن نہیں چھوڑا۔اور لنچنگ کے بدترین واقعات کی خبروں پر بھی خاموش رہی۔ اس نے اس کا مظاہرہ قبل کانگریس کے ادوار حکومت میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران بھی کیاہے۔
کانگریس مسلمانوں کی’ منہ بھرائی‘ کے الزام سے بچنے کیلئے ان کے ایشوز سے منہ موڑ کر اپنا دامن نہیں بچا سکتی۔اسے ایسی حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی جسے اختیار کرنے میں یہ اپنے تکثیری ، تنوع اور رواداری والے امیچ کو کھونہیں دے۔آئین بنتے وقت مسلم کمیونٹی کے نمائندوں بشمول بیگم اعجاز رسول ودیگر نے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے تعلق سے ایک ذیلی کمیٹی کے تحت یہ طے کیا تھا کہ انہیں خصوصی کوٹا نہیں چاہئے، اوروہ اس بات پرمطمئن ہیں کہ انہیں اس ملک میں بحیثیت شہری وہ تمام حقوق ملیں گے جودوسرے تمام شہریوں کومیسر ہیں۔ تب ذیلی کمیٹی کے چیئرمین سردار ولبھ بھائی پٹیل نے جذباتی انداز میں مسلم اقلیت کے ذریعے اکثریتی کمیونٹی پر اعتماد وبھروسہ رکھنے پراظہار خیال کرتے ہوئے کہاتھا کہ اس سے اکثریتی کمیونٹی اورپورے ملک کی یہ ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ وہ اقلیتی کمیونٹی کے مفادات کا تحفظ کرے اوراگرایسا نہیں ہوتاہے توافسوس کی بات کوئی اورنہیں ہوسکتی ۔
مگرتاریخ گواہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا اورپھر مسلم اقلیت میں مخصوص کوٹا کا تصور جا گا اور1990کی وسط دہائی سے اس کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ مسلم اقلیت کی مجموعی صورتحال کیاہے، یہ کسی سے اخفی نہیں ہے خاص طور سے پہلے گوپال سنگھ مائنارٹی پینل اور بعد میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کے آنے کے بعد جس میں یہ صاف طور پر بتایا گیاکہ مسلمانوں کی حالت نیوبدھسٹوں سے بھی بدتر ہے۔
کانگریس کوکوئی ایسا راستہ نہیں اختیار کرناچاہئے جس سے ا س کا تکثیری کردار متاثر ہو اورفکری وعملی طورپر ایک بڑی آبادی اس سے دور ہوجائے۔ کانگریس کے اس بدلتے ہوئے رجحان کا اثر ملک کی دیگر سیاسی پارٹیوں پربھی پڑرہاہے اوروہ بھی مسلمانوں کے تئیں محتاط رویہ اختیار کرنے لگی ہیں۔مسلمانوں کو اس ملک کے آئین وقانون پر پورا بھروسہ ہے اوریہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ و ہ انہیں فراہم کرنے میں معاون ومدد گارہوں ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *