سی ایم یوگی – سی جے بھوسلے کی قربت باہمی آہنگی کی نایاب روایت؟

اترپردیش سرکار کی انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی بھلے ہی ٹھیک نہ چل رہی ہو لیکن یوگی سرکار کی عدلیہ کے ساتھ ہم آہنگی صحیح اور ٹھیک چل رہی ہے۔ بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کی بات تو چھوڑیے، ریاستی سرکار کے وزیر تک نوکرشاہی کی بدتمیزی اور افراتفری کی سرعام شکایت کر تے نظر آتے ہیں۔ پولیس کی افراتفری کے نمونے تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔ پولیس عام شہری کا سر عام قتل بھی کردیتی ہے اور کالی پٹی لگاکر بغاوت پر آمادہ بھی ہوجاتی ہے۔ ریاست کی راجدھانی میںپولیس کی ایسی ڈسپلن شکنی پہلے کبھی نہیںدیکھی گئی لیکن سرکار عدلیہ کے ساتھ تال میل قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔
سی جے بھوسلے یوگی کے گھر پر
اسی ہم آہنگی اور تال میل کا نتیجہ ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دلیپ بابا صاحب بھوسلے بی جے پی کی سال بھر کی مدت کار میںلگاتار کئی بار وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ملنے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر آتے رہے اور ہم آہنگی قائم کرتے رہے۔ باہمی تال میل اور ہم آہنگی قائم کرنے کا یہ عمل حالیہ دنوں میںزیادہ تیزی سے بڑھا۔ یہ اتنا مضبوط ہوا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر چیف جسٹس کے اعزاز میںتقریب کا اہتمام کیا اور اعزازیہ تقریب کے بعد عالی شان عشائیہ دے کر باہمی آہنگی کی نایاب روایت قائم کر دی۔ جانکار بتاتے ہیںکہ ریاست میںکسی بھی وزیر اعلیٰ نے کبھی بھی کسی چیف جسٹس کے اعزار میںاپنی سرکاری رہائش گاہ پر عشائیہ نہیںدیا۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دلیپ بابا صاحب بھوسلے کا ’سمان‘ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا بھی کہ ایسا موقع بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے جب جمہوریت کے تروینی لیجسلیچر، ایگزیکٹواور جوڈیشری ایک تقریب اور ایک فورم پر ایک ساتھ موجود ہوں۔ یوگی نے کہا ، اس کے پیچھے ہم سب کا مقصد ایک ہی ہے، پبلک ویلفیئر۔ پبلک ویلفیئر کے جذبے کو اگرباہمی طور پر ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھتے ہوئے ہم آگے بڑھاتے ہیںتو کہیںبھی نہ کوئی فکری اختلاف ہوگا، نہ کوئی ذہنی اختلاف ہوگا اور نہ کہیں ٹکراؤ کی کوئی نوبت آئے گیاور مجھے لگتا ہے کہ اس آدرش حالت اور نظم کو عزت مآب چیف جسٹس کے ذریعہ اتر پردیش کے اندر پیش کرنے کی جو مثبت پہل کی گئی، آج اس کے مثبت نتائج دیکھے جاسکتے ہیں۔‘ واقعی عالیشان اعزازیہ اور شاندار عشائیہ کے ذریعہ فکری اختلاف اور ذہنی اختلاف ختم کیا جاسکتا ہے اور سرکار بنام عدلیہ کے ٹکراؤ کو ٹالا جاسکتا ہے۔
یوگی سرکار نے چیف جسٹس کے لیے منعقد اعزازیہ تقریب اور عشائیہ میںمیڈیا سے سخت پرہیز رکھا۔ پروگرام میںصرف ججوں، خاص وزیروں اور خاص نوکر شاہوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔ دعوت نامہ کی تقسیم پر بھی خاص نگرانی رکھی جارہی تھی۔ جانکار بتاتے ہیںکہ دعوت نامہ کی تقسیم ایل آر محکمے سے کرائی گئی تھی جبکہ دعوت نامہ پر رپلائی میں ریاست کے چیف سکریٹری انوپ چندر پانڈے کا نام ٹائپ ہے۔ خبر لیک نہ ہو، اس لیے کارڈ کی تقسیم چیف سکریٹری آفس سے نہیںکرائی گئی۔ ہائی کورٹ کے کچھ ججوں نے یوگی کے اس پروگرام سے پرہیز رکھا۔ سرکار کی توقع کے مطابق ’سمان سماروہ‘ کا روم نہیںبھرا، آدھے سے زیادہ روم خالی رہا۔ کئی جج اس پروگرام میںنہیںآئے۔ جو نہیں آئے، ان کے نام ’چوتھی دنیا ‘ کے پاس ہیں لیکن ان کی اشاعت نہیںکی جارہی ہے تاکہ عدالت اور سرکار کی باہمی آہنگی میںکوئی خلل نہ پڑے۔
اعزازیہ سے خوش چیف جسٹس دلیپ بابا صاحب بھوسلے نے کہا کہ انھیںیوگی آدتیہ ناتھ سے تحریک ملتی ہے۔ ان کی سرکار کی طرف سے کبھی بھی کوئی دباؤ نہیںآیا جبکہ اترپردیش سے پہلے دیگر ریاستوں کا ان کا تجربہ ایسا نہیںہے۔ چیف جسٹس نے تقریب میںموجود گورنر رام نائیک کے تئیںاحترام کا اظہار کیا اور کہا کہ جب ان کی اترپردیش میںتعیناتی ہوئی تو وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے لیکن انھیںجب جب پریشانی ہوئی، گورنر رام نائیک نے والد کی طرح ان کی رہنمائی کی اور انھیںصحیح راستہ دکھایا۔ جوڈیشری اور لیجسلیچر کے بیچ سمجھداری اور ہم آہنگی کا ہی نتیجہ ہے کہ صدر جمہوریہ کے الیکشن کے وقت وزیر اعلیٰ کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اعزاز میںدیے گئے سیاسی عشائیہ میںبھی الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دلیپ بابا صاحب بھوسلے موجود تھے۔

 

 

 

 

سرکاری وکیلوں میںججوں کے سگوں کی بھرمار
یوگی سرکار نے عدلیہ سے تال میل اور ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے بڑی کوششیں کی ہیں۔ ابھی حال ہی میںسرکار نے مختلف سطح پر جو سرکاری وکیلوں کی تقرری کی، اس میںاچھی خاصی تعداد میںججوںکے رشتہ داروں کو اوبلائج کیا گیا۔ عدلیہ کے ساتھ یوگی سرکار نے ہم آہنگی قائم کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دلیپ بابا صاحب بھوسلے کے بیٹے کرن دلیپ بھوسلے کو سپریم کورٹ میںیوپی سرکار کا سوشل کونسل مقرر کررکھا ہے۔ اسپیشل کونسل کا پیکیج کافی بھاری اور پرکشش ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اکھلیش سرکار نے چیف جسٹس کے بیٹے کو سپریم کورٹ میںاسٹینڈنگ کونسل (سرکاری وکیل) مقرر کیا تھالیکن یوگی سرکار نے اضافی ہم آہنگی جذبہ دکھاتے ہوئے انھیں اسپیشل کونسل مقرر کردیا۔
اسی طرح یوگی سرکار نے سپریم کورٹ کے جج اشوک بھوشن کے بھائی ونے بھوشن کو چیف پرماننٹ ایڈووکیٹ بنایا۔ ونے بھوشن سماجوادی پارٹی کی مدت کار میںاپر چیف پرماننٹ ایڈووکیٹ تھے۔ جج بی کے نارائن کے بیٹے این کے سنہا نارائن اور بہو آنندی نارائن دونوںکو سرکاری وکیل مقرر کیا۔ جج کے ڈی شاہ کے بیٹے ونود کمار شاہی کو اپر ایڈووکیٹ بنایا۔ جج آر ڈی شکلا کے بیٹے راہل شکلا اپر چیف پرماننٹ ایڈووکیٹ، آنجہانی اے این ترویدی کے بیٹے ابھینو ترویدی اپر چیف پرماننٹ ایڈووکیٹ، جج رنگناتھ پانڈے کے رشتہ دار دیویش چندر پاٹھک اپر چیف پرماننٹ ایڈووکیٹ، جج شبیہ الحسنین کے رشتہ دار قمر حسن رضوی اپر چیف پرماننٹ ایڈووکیٹ، جج ایس این شکلا کے رشتہ دار وویک کمار شکلا اپر چیف پرماننٹ ایڈووکیٹ، جج ریتو راج اوستھی کے رشتہ دار پرتیوش ترپاٹھی پرماننٹ ایڈووکیٹ اور جج راگھویندر کمار کے بیٹے کمار آیوش ’واددھارک‘ مقرر کئے گئے۔ یوگی سرکار نے جج یو کے دھون کے بیٹے سدھارتھ دھون اور جج ایس ایس چوہان کے بیٹے راجیو سنگھ چوہان کو ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل بنایا۔ یوگی سرکار نے مغربی بنگال کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کے بیٹے نیرج ترپاٹھی کو الہ آبادہائی کورٹ کا اپر ایڈووکیٹ بنایا۔
جب لیڈر خود پھنسے ہوںمقدموںمیں
سرکاری علمبرداروں کا پس منظر خود ہی اتنی قانونی دلدل میںپھنسا رہتا ہے کہ عدلیہ کے آگے دنڈوت ہونے کے علاوہ کوئی متبادل نہیںرہ جاتا۔ اس کی وجہ سے ہی فیصلوںسے لے کر تقرریوں تک عدالتیںاپنی منمانی کرتی رہی ہیں۔ اسی وجہ سے عدالتیں ججوںکے ناتے رشتہ دار ججوں اور ان کے رشتہ دار فیصلہ کن وکیلوںسے بھر گئیں۔ یہ اس حدتک پہنچ گئیں کہ آخر کار مرکزی سرکار کو اس پر لگام لگانی پڑی۔’ چوتھی دنیا‘ نے ججوںکے ان ناتے رشتہ داروں کی پوری لسٹ چھاپ دی تھی، جنھیںجج بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس دور کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے دستخط سے وہ لسٹ کالجیم کو بھیجی گئی تھی۔ مرکز نے اس کا نوٹس لیا اور ججوں کی تقرری روک دی گئی۔ حالانکہ جانکار بتاتے ہیں کہ دھیمی رفتار سے کچھ کچھ رشتہ داروںکی تقرریاں ہو رہی ہیں۔

 

 

 

 

 

عدلیہ کی شفافیت پر سوال
اس اپر جج کو مستقل جج بنانے کی تیاری ہے، جنھوںنے محکمہ قانون کے پرنسپل سکریٹری رہتے ہوئے ججوںکے رشتہ داروں کو سرکاری وکیل بنانے کی لسٹ کو رسمی جامع پہنایا تھا اور اس کے انعام میںخود ہائی کورٹ کے جج بن گئے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کے وکیل ستیندر ناتھ شریواستو نے ا س کا کچا چٹھا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور وزیر اعظم کو بھیجا تھا۔ وزیر اعظم کے آفس نے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس معاملے کی گہرائی سے جانچ کرانے کے لیے کہا تھا لیکن کچھ نہیںہوا۔ وکیل ستیندر ناتھ شریواستو کی شکایت یہ ہے کہ محکمہ قانون کے اس دور کے پرنسپل سکریٹری رنگناتھ پانڈے عہدے کا بیجا استعمال کرکے اور قانونی اداروں کو غیر مناسب فائدہ دے کر ہائی کورٹ کے جج بنے۔ انھوں نے الہ آباد ہائی کورٹ اور لکھنؤ بینچ میںسرکاری وکیلوں کی تقرری کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنایا۔ تقرری کے عمل میںسپریم کورٹ کے ذریعہ مقررکردہ معیار کو نظر انداز کیا اور خود جج بننے کے لیے ساری حدیںپھلانگیں۔ انھوں نے جانتے سمجھتے ہوئے قریب 50 ایسے وکیلوں کو سرکاری وکیل کی تقرری لسٹ میںرکھا جن کا نام ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (اے اوآر) میں ہی درج نہیں تھا اور وہ ہائی کورٹ میںوکالت کرنے کے لائق نہیںتھے۔ انھوں نے سرکاری وکیلوںکی لسٹ میںہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوںکے رشتہ داروں کو شامل کیا اور اس کے عوض میںفائدہ حاصل کرلیا۔ انھوںنے مختلف سیاسی پارٹیوںسے جڑے وکیلوں اور عہدیداروں کو بھی سرکاری وکیل بنوادیا۔ سرکاری وکیلوں کی لسٹ میںایسے بھی کئی وکیل ہیں جو پریکٹسنگ وکیل نہیںہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اس معاملے میں راست طور پر مداخلت کرکے سرکاری وکیلوں کی متنازعہ تقرری کے عمل کو روکنے کی اپیل کی گئی لیکن کارروائی ہونے کے بجائے شکایت کرنے والے کو ہی دھمکیاں ملنے لگیں۔ شکایت کرنے والے وکیل کا کہنا ہے کہ ان ججوں کیبارے میںبھی چھان بین ضروری ہے، جن ججوں نے رنگناتھ پانڈے کو جج بنانے کی سفارش کی ۔ ستیندر ناتھ شریواستو کہتے ہیںکہ چھان بین ہو تو پتہ چلے گا کہ جن ججوںنے رنگناتھ پانڈے کو جج بنانے کی سفارش کی تھی، ان کے انحصار پر سرکاری وکیل مقرر کیے گئے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *