سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ نجیب کو زمین کھا گئی یا آسماں اُچک لے گیا؟

آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طالب علم نجیب احمد کو زمین کھاگئی یا آسمان اچک لے گیا؟ دوسال قبل اسی اکتوبر کے مہینے میں نجیب کو جے این یو کے ہاسٹل سے کچھ لوگوں نے اٹھا لیا تھا۔اس کے بعد سے آج تک اس کا کوئی پتہ نہیں چلا۔
نجیب کا اس سے قبل ودیارتھی پریشد کے طالب علم نماغنڈوں سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔اس لئے باورکیاجاتاہے کہ ان غنڈوں نے ہی مجیب کو موت کے گھاٹ اتار کر اس کی لاش غائب کر دی۔معاملہ چونکہ جے این یوپر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہے سنگھ پریوار کی طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کا تھا اس لئے پہلے دہلی پولس اور بعد میں سی بی آئی اس معاملے کے قصورواروں کا پتہ لگانے اور نجیب کی والدہ کو انصاف دلانے میںناکام رہی اور اب وہ اس معاملے کی جانچ بھی بند کر نے جارہی ہے۔
ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو اس کی اجازت بھی دے دی ہے۔ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ نجیب کی ماں کو اگر کوئی شکایت ہے تو وہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں اوراگر انہیں جانچ کی اسٹیٹس رپورٹ چاہئے تووہ اس کے لئے بھی ٹرائل کورٹ میں عرضی دائر کر سکتی ہیں۔سماعت کے دوران سی بی آئی نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ایک کلوزر رپورٹ داخل کرنا چاہتی ہے۔ سماعت کے دوران نجیب احمد کی ماں نے سی بی آئی کی اسٹیٹس رپورٹ مانگی تھی۔ نجیب کی ماںنے نجیب کے لا پتہ ہونے کی دوبارہ جانچ کی بھی مانگ کی تھی۔

 

 

 

نجیب کی ماں فاطمہ نفیس نے کورٹ میں عرضی دائر کر کے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نجیب کو تلاش کرنے کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کرنے کی ہدایت جاری کرے۔ لیکن نہ دوبارہ جانچ کا حکم ہوانہ ایس آئی ٹی کا مطالبہ پوراہوا۔البتہ سی بی آئی کو چھٹی دے دے گئی ہے۔سی بی آئی نے وہی کیا جو اس کے سیاسی آقائوں کی مرضی تھی۔سی بی آئی اس معاملے میں کیا کرتی رہی ہے وہ ہائی کورٹ کے تبصرے سے ظاہر ہے۔سماعت کے د وران ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہاتھا کہ سی بی آئی کی جانب سے اس معاملے میں دلچسپی کی کمی ہے۔ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ سی بی آئی کے ڈی آئی جی معاملے کو ٹھیک سے سپر وائز نہیں کر رہے ہیں۔
مئی2017کو دہلی ہائی کورٹ نے جے این یو کے لا پتہ طالب علم نجیب احمد کے لا پتہ ہونے کے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد 29جون کو سی بی آئی نے نجیب کا سراغ دینے والے کیلئیدس لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔ مگر اس کے آگے وہ کچھ نہیں کر سکی۔ ہائی کورٹ نے نجیب کا کوئی سراغ نہ مل پانے پر دہلی پولس کی کرائم برانچ کوبھی پھٹکارلگائی تھی۔ کورٹ نے کہا تھا کہ آپ ہر حالت میں اسے تلاش کیجئے۔ ہمیں رزلٹ چاہئے۔عدالت نے کہا تھا کہ آپ صرف کاغذی کارروائی کر رہے ہیں اور صرف عوام کا پیسہ بر باد کر رہے ہیں۔ اس تبصرے کے بعدبھی عدالت کی طرف سے سی بی آئی کو معاملے کی جانچ بند کر نے کی اجازت سمجھ سے باہر ہے۔اور اس کا سوال اٹھنا لازم ہے ۔

 

 

 

بہر حال اب صورت حال یہ ہے کہ کورٹ نے نجیب کی ماں فاطمہ نفیس کے ذریعے اس معاملے میں دائر کی گئی اپیل کو ختم کر دیا ہے۔واضح ہو کہ 2016میں اکتوبرمہینے میں اے بی وی پی ( اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد )کے کچھ طلبا سے لڑائی ہونے کے بعد نجیب احمد کے غائب ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔اس معاملے کو لے کر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سمیت دہلی میں کئی جگہوں پر مظاہرے ہوئے تھے اور جانچ کی مانگ کی گئی۔ اس کے بعد یہ معاملہ سی بی بی آئی کے پاس گیا۔اس سے پہلے نجیب کی ماں نے کہا تھا کہ ؛ ہم سی بی آئی کی جانچ سے متفق نہیں ہیں۔ سی بی آئی کلوزر رپورٹ سونپنا چاہتی ہے لیکن میں اس معاملے کو بند نہیں ہونے دوں گی اور اگر ضرورت پڑی تو میں سپریم کورٹ جاؤں گی۔ میں عدلیہ سے گزارش کروں گی کہ وہ نجیب کو ڈھونڈنے کے لیے ریٹائرڈ ججوں آزادانہ کمیٹی بنانے کی ہدایت دیں۔ میں اپنی لڑائی جاری رکھوں گی۔
نجیب کی ماں نے یہ بھی کہا تھا کہ ؛ہم نے سی بی آئی کو 9ایسے لوگوں کے نام دیے تھے جنہوں نے نجیب کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔ اگر ایجنسی نے سختی سے پوچھ تاچھ کی ہوتی تو کچھ پتہ چلتا۔آج تک کسی وزیر نے ہماری حمایت میں ایک بھی ٹوئٹ نہیں کیا۔ مجھے عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے۔ مجھے انصاف چاملے گا۔ اس ملک میں ابھی بھی قانون اور انسانیت زندہ ہے۔خدا ان لوگوں کو سزا دے گا جنہوں نے نجیب کو اس کی ماں سے چھین لیا۔
غور طلب ہے کہ ابھی تک سی بی آئی نجیب کو نہیں ڈھونڈ پائی ہے۔پچھلی شنوائی میں سی بی آئی نے کورٹ کو بتایا تھا کہ اس کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ نجیب احمد کے ساتھ مار پیٹ کی گئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *