کینیڈا نے آنگ سان سوچی کی شہریت منسوخ کر دی

aung-san-suu-kyi
کنیڈین ارکان پارلیمنٹ نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کی صدر آنگ سان سوچی کی کینیڈین شہریت منسوخ کر دی۔میڈیارپورٹوں کے مطابق، کینیڈا نے میانمار کی لیڈر آنگ سان سو چی کی کو پیش کی گئی کینیڈا کی اعزازی شہریت کو واپس لے لیا ہے۔میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی کو کینیڈا کی جانب سے دی گئی اعزازی شہریت منسوخ کردی گئی جس کے بعد وہ اس اعزاز سے برطرف ہونے والی دنیا کی پہلی شخصیت بن گئیں۔
خبررساں اداروں کے مطابق کینیڈین پارلیمنٹ نے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے پیشِ نظر میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی کی اعزازی شہریت واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔بعد ازاں کینیڈین سینیٹ کی جانب سے سوچی کی شہریت واپس لیے جانے کی ووٹنگ کے بعد شہریت واپس لینے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔گزشتہ ماہ کینیڈا کے اراکینِ پارلیمنٹ نے ایک قرارداد پاس کی تھی جس میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کو نسل کشی قرار دیا گیا تھا۔کینیڈا کے دونوں ایوانوں نے ستمبر میں منظور قرارداد میں روہنگیاؤں کے خلاف تشدد کو ’قتل عام‘ قرار دیا تھا۔
خیال رہے کہ میانمار میں فوج کی بہیمانہ کارروائی گزشتہ سال شروع ہوئی تھی اور سات لاکھ روہنگیاؤں کو پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرارہونے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ کینیڈا نے سو کی کو سال 2007 میں یہ اعزازی شہریت پیش کی تھی۔
واضح رہے کہ کینیڈا نے سال 2007 میں آنگ سان سوچی کو اعزازی شہریت سے نوازا تھا،اور دنیا کی محض 6 شخصیات کو یہ اعزازی شہریت حاصل ہے جن میں دلائی لامہ، نیلسن منڈیلا اور پاکستان کی طالبہ ملالہ یوسف زئی بھی شامل ہیں۔روہنگیا کی نسل کشی کے واقعات سامنے آنے پر بین الاقوامی برادری نے آنگ سان سوچی پر دبا۔ ڈالا تھا کہ وہ میانمار فوج کی ان ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت کریں لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *