ڈاکٹر جبرئیل کی کتاب’’ واٹر مینجمنٹ ان دا ڈیزرٹ ریجن آف راجستھان(13ویں۔18ویں صدی عیسوی)‘‘ کا اجراء 

Book-released
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ تاریخ میں اسسٹنٹ پروفیسر اور ممتاز قلم کارڈاکٹر جبرئیل کی اہم ترین کتاب’’ واٹر مینجمنٹ ان دا ڈیزرٹ ریجن آف راجستھان(13ویں۔18ویں صدی عیسوی)‘‘ کا اجراء جودھ پور کے چوپاسنی ریسرچ سینٹر میں وہاں کے مہاراجہ اور پارلیامنٹ کے سابق رکن ہز ہائی نیس مہاراجہ گج سنگھ دوئم نے کیا۔ یہ کتاب سائنس و ٹیکنالوجی کے اہم پبلشر اینی بکس پرائیویٹ لمیٹیڈ نئی دہلی نے شائع کی ہے۔
رسمِ اجراء کی تقریب میں آئی سی ایچ آر نئی دہلی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر راجیش کمار، مہاراجہ گنگا سنگھ یونیورسٹی بیکانیر کے سابق ڈین پروفیسر شیو کمار بھانوت، چوپاسنی ریسرچ سینٹر جودھ پور کے ڈائرکٹر ڈاکٹر وکرم سنگھ بھاٹی اور مہنت پرتاپ پوری وغیرہ موجود رہے۔’’ واٹر مینجمنٹ ان دا ڈیزرٹ ریجن آف راجستھان(13ویں۔18ویں صدی عیسوی)‘‘ کا اجراء کرتے ہوئے ہز ہائی نیس مہاراجہ گج سنگھ دوئم نے کہا کہ ڈاکٹر جبرئیل کی مذکورہ کتاب ’’پانی‘‘ پر تحقیقی کام کرنے والے ریسرچ اسکالرس کے لئے نہایت سود مند ثابت ہوگی۔واضح ہوکہ مذکورہ کتاب کے توسط سے مصنف نے راجستھان کے ریگستانی علاقے میں پانی کی کمی کے باوجود وہاں کے لوگوں کے ذریعہ اپنائی گئی سنچائی و زراعت کی کامیاب تکنیک کا ذکر کیا ہے۔مذکورہ کتاب میں اس امر کا خصوصی طور پر ذکر ہے کہ کس طرح بارش سے قبل پانی کے ایک ایک قطرے کو تالاب میں جمع کرنے کے لئے مروتھل کے لوگ اپنی ہر ممکن تیاری کیا کرتے ہیں۔
کتاب میں مارواڑ اور بیکانیر کے ان تالابوں اور کنووں کا تفصیلی طور پر ذکر ہے جن سے پانی کا استعمال محض پینے کے لئے ہی نہیں بلکہ زراعت میں بھی کیا جاتارہا ہے۔مثال کے طور پر بیکانیر کے ایک تالاب’’ ہرسولاو‘‘ کے پاس بنے’’ آچاریوں کا کنواں‘‘ کا خصوصی طور پر ذکر ہے جس سے تقریباً 14بیگھہ زمین پر کھیتی کی جاتی تھی۔ جب تالاب ایک ہی بارش کے پانی سے بھر جاتا تھا تو پوشیدہ راہ؍ ندی کے توسط سے کنویں کو بھر دیتا تھا جس سے اس کنویں پر ’’ رہٹ‘‘ کا استعمال کرکے پانی نکال کر کھیتی کے کام میں استعمال کیا جاتا تھا۔ زیادہ پانی کی ضرورت والی فصلوں جیسے گنّا ، گیہوں یہاں تک کہ چاول کی کھیتی بھی اس سے کرلیا کرتے تھے جبکہ کم پانی کی ضرورت والی فصلوں جیسے باجرہ، جو مٹر، چنا مکّا اور متعدد اقسام کی سبزیوں کی تو زیادہ تر کھیتی اسی کے پانی سے ہوا کرتی تھی۔ جیسلمیر میں باندھ بناکر پانی روکنے کے طریقہ کو پالی والوں نے ہی تلاش کیا تھا جس کے استعمال سے کھیتی کی جاتی تھی اور اسے علاقائی لوگ ’’ کھڑین‘‘ کہتے تھے۔ تالابوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر پانی کا مناسب طور پر استعمال کرنا آج بھی مروتھل پردیش کے لوگوں سے سیکھا جا سکتا ہے۔اسی طرح مذکورہ کتاب میں متعدد تکنیکوں کا تفصیلی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطالعہ کے بعد یہ احساس لازمی طور پر ہوگا کہ ہمیں ہر حال میں پانی کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *