دل کے امراض سے بچیں

heart-patient-demo
یوں تو آجکل ناقص غذائیں اور آلودہ پانی و فضائی آلودگی لوگوں میں مختلف مہلک امراض کا باعث بن رہی ہیں۔لیکن دل کا مرض جتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اس کی بظاہر اصل وجوہ تو اس لیے نہیں سمجھ میں آتیں کیونکہ دل کا دورہ اس وقت بھی پڑتا تھا جب فضا ہر موسم کے اعتبار سے ہونے والے پھل پھول ،سبزیوں اور اناج کے پیڑ پودوں، بیلوں اور فصلوں سے مہکتی تھی،پینے کو صاف پا نی ہر جگہ دستیاب تھا، خالص غذا میسر تھی۔ امراض قلب آج بھی اچانک موت کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔
لیکن وہ اس دور جدید میں جس قدر تیزی سے وبائی شکل اختیار کر رہا اور بوڑھے و اعصابی طور پر کمزور افراد ہی نہیں اب نوجوان نسل بھی اس مرض میں مبتلا ہو کر اچانک موت کی آغوش میں پہنچ رہی ہے اس میں سب سے بڑا دخل ہائی بلڈ پریشر ہے جو فیشن کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اپنے اسٹیٹس کے مظاہرے کے لیے ہوم ڈیلیوری کی شکل میں آرڈر بک کراکے کھائے جانے والے برگر، نوڈلز،سینڈوچ ،پیزا، پیٹیز اور بازاروں میں فرخت ہونے والے کباب ، تکے، فرائیڈ چکن اور مشروبات ہیں۔
علاوہ ازیں کھانےء پینے میں بد احتیاطی کے علاوہ پیدل کم چلنا اور گھر سے قدم باہر رکھتے ہی سواری خاص طور پر بائیک اور اسکوٹی کا استعمال اس پر زہر ہلاہل کا کام کرتا ہے۔
جس کے باعث خون گاڑھا ہونے لگتا ہے اور خون کی ترسیل اور روانی میں بے اعتدالی آجانے سے دل کے پٹھوں،والویا اس کی دھڑکن میں کمی بیشی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے اور اس سے دل کے ایسے امراض پیدا ہوتے ہیں کہ اچانک موت کا باعث بن جاتے ہیں۔جس کے باعث بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد ہی نہیں بلکہ اب تنومند و قوی الجثہ نوجوان بھی کسی بیماری میں مبتلا ہوئے بغیراچانک موت کے منھ میں جانے لگے ہیں اور اس کا سبب ہائی بلڈ پریشر یا انفیکشن سے پڑنے والا دل کا دورہ بتایا جاتا ہے۔

لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اگر بادام جس کی شکل ہی دل جیسی ہوتی ہے،مچھلی، ڈارک چاکلیٹ، بیریز ، ترش پھل، انار، کیلے،سبزیوں میں ٹماٹر، آلو، پتے والی ترکاری اناج و دلہن میں دالیں اور دلیہ اور گرین ٹی یا کافی اور دہی کو(لیکن صرف دن میں وہ بھی سورج غروب ہونے سے پہلے) پنی غذا میں وقتاً فوقتاً استعمال کرنے سے دل کے امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

کیونکہ ان اشیاء میں ایسے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو ہائی بلڈ پریشر اور انفیکشن نہیں ہونے دیتے اور گیس نہیں بننے دیتے جو کہ بلڈ پریشر کا باعث بنتی ہے اور یہی گیس اسی طرح تیزی سے دل پر حملہ آور ہوتی ہے جس طرح ریاح کی شکل میں تیزی سے خارج ہوتی ہے۔

بشکریہ :اردوتہدیب ڈاٹ کام
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ یہ جانکاریاں ہیلتھ ڈیسک سے ماخوذہیں۔مضمون میں دی گئی کسی بھی تجویز پر عمل کرنے سے قبل معالج سے مشورہ و ہدایت ضرور حاصل کریں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *