امریکی درمیانی مدت انتخابات سے کوئی بڑا بدلائو نہیں

امریکی کانگریس پر چاہے کسی بھی پارٹی کا قبضہ ہو، امریکی لیجسلیٹر کی طرح اس کا بھی ہندوستان-امریکہ رشتوں پر بہت ہی محدود اثر پڑے گا۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ عالمی معاملوں پر صدر ٹرمپ کی پالیسیاں بنیادی طور سے یک رخی رہی ہیں۔عالمی ایشوز پر وہ ایک بہت ہی چھوٹے گروپ سے صلاح ومشورہ کرتے ہیں، امریکی کانگریس سے تو بالکل نہیں کرتے۔
6 نومبر کو امریکی کانگریس کے درمیانی مدت کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ میں جس طرح کا پولرائزیشن اور جانبدارماحول بنا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ الیکشن کافی اہم ہو جاتا ہے ۔ امریکی کانگریس کے دو کلاس ہیں۔ پہلا ہائوس آف ریپریزنٹیو ( جس میں 435 ممبر ہوتے ہیں۔ سیٹوں کی تقسیم ریاستوں کی آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے ) اور دوسرا سینیٹ ( اس میں 100 ممبر ہوتے ہیں اور اس میں ہر ریاست سے دو دو ممبر ہوتے ہیں)۔
موجودہ وقت میں کانگریس کے دونوں کلاس میں برسراقتدار ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ اگر درمیانی مدت کے انتخابات میں ری پبلکن پارٹی اپنی اکثریت برقرار رکھتی ہے تو وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایجنڈے کی حمایت جاری رکھے گی اور اگر ڈیموکریٹک پارٹی کسی ایک یا دونوں چیمبرس میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ ٹرمپ کو گھیرنے میں کامیاب ہو جائیںگے۔
صدر کی شکل میں ٹرمپ کی کارکردگی کو لے کر ان کے حامیوں اور مخالفین میں گہرا اختلاف ہے اور اسی وجہ سے یہ اہم بن گئے ہیں۔ حالانکہ ان انتخابات کے نتیجے امیدواروں کی اہلیت اور مقامی ایشوز سے متاثر ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اسے ٹرمپ کے دور ِکار پر عوامی رائے مانی جارہی ہے۔

 

 

 

ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کون پارٹی جیتے گی؟ لیکن یہ صاف ہے کہ ’’ سیونگ‘‘( سمت بدلنے والے ) اور ’’ٹاس-اپ ‘‘ ( جہاں سے کوئی بھی جیت سکتا ہے ) ضلع اور ریاست کے نتائج کا فیصلہ کریں گے۔ امریکہ کے تین بڑے پولنگ اداروں نے ہائوس آف ریپریزنٹیٹیو کے کل 435 اضلاع میں سے 80 سے 100 اضلاع کو سونگ کے درجے میں رکھا ہے جبکہ 30سے 40 اضلاع کو ٹاس-اپ کے درجے میں۔ پولنگ اداروں کے مطابق اگست کے وسط میں دونوں پارٹیوں کی جیت کے امکانات 50-50 تھے۔ ایک دیگر ریسرچ ادارے نے ڈیموکریٹس کی جیت کے امکان 7 میں سے 5 جبکہ ریپبلکنس کی جیت کے امکان 7 میں سے 2 رکھا ہے۔
کل ملا کر ماہرین نے ہائوس آف ریپریزنٹیٹیو میں ڈیموکریٹک کا پلڑا بھاری دکھایا ہے۔ سب سے حالیہ انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتاہے کہ اگر ڈیموکریٹک ان انتخابات میں ایک بڑی جیت حاصل کر لیتے ہیں تو کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔ صدر کے کمپین منیجر پال مینا فورڈ کا دھوکہ دھڑی معاملے میں قصوروار پایا جانا اور صدر کے پرائیویٹ وکیل اور ’فکسر ‘ مائیکل کوہین کے ذریعہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملوں میں اپنی غلطی ماننا انتخابات میں ڈیموکریٹک کی مدد کریں گے۔
اس انتخابی چکر میں سینیٹ کی 100 سیٹوں میں سے 33 سیٹوں پر انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان 33سیٹوں میں سے موجودہ وقت میں 24 سیٹوں پر ڈیموکریٹکس کا قبضہ ہے، جبکہ 9 ریپبلکن کے حصے میں ہیں۔ پولنگ فارموں کا یہ بھی ماننا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی پارٹی سینیٹ میں اکثڑیت حاصل کر سکتا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی زیادہ سیٹیں ٹاس -اپ درجے میں دائوں پر لگی ہوئی ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ریپبلکن سینیٹ پر کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
ایک قانون سازی نظریہ سے دیکھاجائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایوان میں کس پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ لگ بھگ ایک دہائی سے کانگریس میں شاید ہی کوئی قانون پاس نہیں ہوا ہو۔ صدر ٹرمپ جیسے حکومت چلا رہے تھے ان انتخابی نتائج کے بعد بھی ویسے یہ چلاتے رہیں گے۔ ان کے فیصلے ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعہ سے ہوتے رہیں گے۔ دونوں ایوانوں میں ریپبلکنس کی اکثریت ان احکام کو لاگو کروانے میں ٹرمپ کی ضرورت ہوگی۔ اسپلٹ کنٹرول کا مطلب ہوگا ایک درجہ دوسرے درجہ کے کاموں میں لگاتار ڈالے گا۔ ایوان پر کنٹرول کی اہمیت صرف صدر کے ایجنڈے کی حمایت کے معاملے میں ہی ہوگی۔

 

 

 

سب سے دلچسپ امکان اس وقت پیدا ہوگا جب کانگریس کے دونوں چیمبرس میں ڈیموکریٹک پارٹی کا کنٹرول ہوگا۔ ایسی صورت میں ڈیموکریٹس ٹرمپ کے امیگریشن سے متعلق تجاویز کو روکنے کی کوشش کریں گے اور اس کی وجہ سے ٹرمپ کے خلاف مواخذے بھی لایا جاسکتا ہے۔خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہین نے یہ قبول کیا کہ جب ٹرمپ صدر کی امیدواری کی دوڑ میں تھے تو انہوں نے کوہین کو حکم دیا تھا کہ وہ دو عورتوں کو پیسے دے دیں تاکہ وہ ٹرمپ کے ساتھ اپنے رشتوں کو لے کر خاموش رہیں۔
کل ملا کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکی درمیانی مدت کے انتخابات سے کوئی بڑا بدلائو نہیں آئے گا۔ ہاں قانون ساز ضرور بدل جائیںگے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ امریکہ میں قومی ایشوز پر بحث اور بات چیت کے سُر بدل جائیںگے۔
ان انتخابات کا نتیجہ امریکہ اور دنیا کے لوگ 6 نومبر کو جان جائیںگے۔ اس کے بعد ان نتیجوں کا انجام دیکھنا باقی رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *