7روہنگیاکوواپس میانماربھیجاجائے گا،سپریم کورٹ کا روک لگانے سے انکار

general-rohingya-pic
سپریم کورٹ نے روہنگیاکوواپس بھیجنے کے معاملے میں دخل دینے سے صاف انکار کردیاہے۔سپریم کورٹ نے 7روہنگیا کومیانمار بھیجنے سے روکنے کی عرضی خارج کردی ہے۔7روہنگیا کوواپس میانمار بھیجنے کے خلاف داخل عرضی پرسماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے روہنگیاکومیانمار بھیجنے کا راستہ صاف کردیاہے۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کے پاس پورے دستاویزات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ساتوں روہنگیا میانمار کے ہیں اور انہیں وہاں بھیجا جانا چاہئے۔سپریم کورٹ نے کہاکہ ہم نے وزارت خارجہ کی رپورٹ دیکھی ہے اورہم اس معاملے میں دخل نہیں دیں گے۔
اب آسام میں غیر قانونی طریقے سے رہ رہے سات روہنگیا تارکین وطن کو واپس میانمار بھیجا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی طرف سے دائر درخواست مسترد کردی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ مرکز کے اس فیصلے پر مداخلت نہیں کر سکتا ہے۔عدالت نے کہا کہ سات روہنگیاوں کو غیر قانونی تارکین وطن پایا گیا اور میانمار نے انہیں اپنے شہری کے طور پر قبول کر لیا ہے۔
چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے وکیل پرشانت بھوشن کی عرضی کوخارج کرتے ہوئے انہیں پہلی نظرمیں میانمارکاشہری پایا۔مرکزنے سپریم کورٹ کوبتایاکہ میانمارنے ان لوگوں کواپنا شہری مان لیاہے اوروہ (میانمار) انہیں واپس لینے پرراضی ہوگیاہے۔ روہنگیاوں کی جلاوطنی پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم کئے جا چکے فیصلے میں مداخلت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ مرکز نے عدالت سے کہا کہ غیر ملکی قانون کے تحت سات روہنگیاوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔مرکز نے بینچ کوبتایاکہ سات روہنگیا2012میں ہندوستان میں غیرقانونی طریقے سے گھسے تھے اورانہیں فارن ایکٹ کے تحت قصوروارپایاگیاتھا۔آپ بتادیں کہ ایساپہلی بارہورہاہے کہ روہنگیاپناہ گزینوں کومیانماربھیجارہاہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *