قابل تقلید ہے اٹل جی کا فکروعمل

پچھلے دنوں کا سب سے بڑاواقعہ اٹل بہاری واجپئی کے انتقال کا ہے۔ ویسے تو وہ کافی عرصے سے بیمار تھے۔ ہم لوگو ں کے کچھ شناساان کے رابطے میں تھے۔ ہم تو2009کے بعد، ایک طرح سے محروم ہوگئے ان کی رائے سے، ان کے وسڈم سے۔ لیکن رسمی طورسے جسم چھوڑنا ایک بڑاواقعہ ہے۔ عام آدمی کوان کی بیماری کا اتنا پتہ نہیں تھا۔ اخباروں سے اب لوگوں کو سمجھ میں آیا ہوگا کہ کتنی بڑی ہستی ہمارے بیچ سے چلی گئی۔ ان کے 6سال کے وزیراعظم کارمدت میں کارگل جنگ ہوئی، نیوکلیئرٹیسٹ ہوئی، امریکہ نے ہم پر اقتصادی پابندی لگائی، لیکن ہم دبے نہیں۔ یہ سب باتیں جگ ظاہرہیں۔ ابھی ہندی -انگریزی اخباروں میں، جنوب کے اخباروں میں جوتبصرے آئے واجپئی جی کی شخصیت کولیکر، اس سے سیکھنا ضروری ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ آج جوماحول ہے، کوئی اخبار سرکارکی تنقید نہیں کرسکتا۔ سینشرشپ نہیں ہے، پھر بھی ڈرے ہوئے ہیں یا پیسے لیکر خاموش ہیں یا ان کی آتما مرگئی ہے، میں نہیں جانتا۔اٹل جی کے انتقال پرموقع مل گیا اخباروں کو۔ پھر بھی کسی نے نہیں لکھا ہے کہ اٹل جی کے رشتے اپوزیشن سے بھی اچھے تھے، جومودی جی کے نہیں ہیں۔ کیوں کہ مودی جی کے خلاف لکھنے کی طاقت نہیں ہے۔ لیکن اس بات پر زور دینا کہ ان کی سب سے بڑی خصوصیت تھی ان کی سخاوت، اپوزیشن سے کھلا دماغ رکھ بات کرنا، اپوزیشن کے لیڈروں سے دوستی رکھنا، ہر طرح کی رائے سننے کی طاقت رکھنا۔ ملک کا مزاج کیا ہے؟ اٹل جی کی ہستی ہی ملککا مزاج ہے۔ پارلیمنٹ توایک رسمی جگہ ہے اقتدار اوراپوزیشن کیلئے۔
سماج میں ہم لوگ رہتے ہیں تو دو پڑوسی کی الگ الگ رائے ہوتی ہے ۔ہندوستان کا کردار کیاہے؟ ہندوستان کا مزاج کیاہے؟اس کی عکاس اٹل جی کی شخصیت تھی۔ چاہے جتنا بڑا لیڈرہو، چرچل ہوں، روزویلٹ ہوں، مہاتما گاندھی ہوں، کوئی بھی لیڈر جس ملک میں کام کرتا ہے، اس ملک کو محض 1سے 5فیصدبدل سکتاہے۔ 95فیصد تو وہ لیڈراس ملک کواپناتا ہے، اسلئے اتنا بڑا لیڈر بن جاتا ہے۔

 

 

 

مہاتما گاندھی افریقہ سے آئے تو گوپال کرشن گوکھلے نے کہاکہ موہن داس تم کو اگرہندوستان میں کام کرنا ہے تو پہلے ہندوستان کا دورہ کرو اورٹرین سے کرو۔ اس کے بعد سوچو کیا کرنا ہے؟گاندھی جی نکل پڑے ٹرین کے تھرڈ کلاس کے ڈبے میں بیٹھ کر پورا ہندوستان دورہ کرنے ،تب سمجھ میں آیا کہ یہ عجیب ملک ہے۔ان کو سمجھ میں آیا کہ ہندوستان کی کمزوری اورطاقت کیاہے۔ ہندوستان کی کمزوری یہ تھی کہ کوئی آدمی برطانی سرکار سے لاٹھی-بندوق لیکر لڑنے کوتیار نہیں تھا۔ یہ ہندوستانیوں کا مزا ج نہیں ہے۔ جسے راج کرنا ہے کرے، عوام اپنے میں مگن رہتی ہے۔
طاقت کیا ہے؟ طاقت یہ ہے کہ آدھی روٹی کھاکر جی لیں گے، بھوکے رہ کر جی لیں گے۔ لیکن ایک عہد کرلیا توچھوڑیں گے نہیں۔ اس طاقت کو پہچان کر گاندھی جی نے ہتھیار بنا لیا ستیہ گرہ کو۔جولفظ ڈکشنری میں بھی نہیں تھی، اسے ہتھیار بنا لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ستیہ کے سہارے لڑوں گا ، اس کیلئے مرنے کوتیار ہوں۔ خود انشن کرتے تھے گاندھی جی اوراس انشن کو طاقت بناکر انگریزوں کو یہاں سے وداع کردیا۔ اس سے پہلے بھی مغلوں نے اتنے سال راج کئے، لیکن سب کومسلمان نہیں بناپائے۔
ہندوستانی عجیب آدمی ہے۔ ہاں -ہاں کریں گے، مگر کریں کے اپنے دل کی۔اسلئے یہاں اوپنین پول کبھی صحیح نہیں ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب جاتے ہیں پوچھنے تو وہ پوچھنے والے کا موڈ دیکھ کر بولتا ہے کہ اس آدمی کوووٹ دیں گے۔ آج مودی کے خلاف نہیں بولیں گے۔ لوگ بولیں گے کہ مودی کوووٹ دیں گے لیکن دیں گے نہیں۔ یہ ہندوستان ہے۔اس بات کو جوسمجھتا ہے، اسٹیٹس مین بن جاتاہے۔ جیسے جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، مولانا آزاد ، اندرا گاندھی یا اٹل بہاری واجپئی تھے۔
اٹل بہاری واجپئی برہمن تھے، مہذب تھے۔ آر ایس ایس میں پلے بڑھے تھے۔ سیاست میں وہ آتے ہی سمجھ گئے کہ جو ہم لوگ بات کرتے ہیں کہ سوا پانچ بجے شاکھا لگاکر پورے ہندوستان سے ایسے کروالیں گے تولوگ اس کیلئے تیار نہیں ہیں۔1977میں جب اچانک سرکار بن گئی تو وہ وزیرخارجہ بن گئے۔ وہ پہلے آدمی تھے یہ سمجھنے والے کہ کانگریس کا متبادل بن سکتی ہے جنتاپارٹی۔ انہو ںنے لکھا کہ آر ایس ایس کوصرف سماجی کام کرنا چاہئے ، جنتا پارٹی کو کنٹرول کرنے کی کوشش مت کیجئے۔ آرایس ایس مانی نہیں، سرکار گرگئی۔ آر ایس ایس والے انہیں جنتاپارٹی سے لے جاکر بھارتیہ جنتا پارٹی بنوا لی۔ بی جے پی نہیں بناتے تو جنتا پارٹی بہت جلدی واپس پاور میں آگئی ہوتی۔20سال بعد، 1998میں پاور میں آئے۔

 

 

 

خیریہ سب تاریخ ہے۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ملک کا مزا ج جوسمجھ سکتا ہے، وہی لیڈر بن سکتاہے۔ نریندر مودی اورامیت شاہ ملک کا مزا ج سمجھے نہیں۔ موقع گنوادیا۔ 2014میں جس اعتماد کے ساتھ پاور میں آئے تھے، اس کا فائدہ نہیں اٹھاپائے۔ ان میں وہ صلاحیت ہی نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ملک کو اپنے سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ گئومانس مت کھائیے، گوشت مت کھائیے۔ آر ایس ایس بول رہی ہے کہ بقرعید کے دن کیک کاٹئے، بکرا مت کاٹئے۔ کس نے کہا ہندوشاکاہاری ہیں۔ جین ہیںشاکاہاری ، ہندوشاکاہاری نہیں ہے۔ 90فیصد سے زیادہ ہندوگوشت خورہیں۔ میں گوشت کھانے کی وکالت نہیں کررہاہوں، کیونکہ میں شاکاہاری ہوں۔ لیکن کھان -پان کی عادت دوسرے پر تھوپنا، رہن سہن کی عادت دوسرے پر تھوپنا، اپنی سوچ دوسرے پر تھوپنا غلط ہے۔ یہ ہندوستان ہے ہی نہیں۔
ہندوستان کو سمجھنے کیلئے عقل کی ترقی بہت ضروری ہے۔ مودی اورامیت شاہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو بول دیا ، وہی ہونا چاہئے۔ پھر توہم افریقی ملک بن جائیں گے۔ بنانا ریپبلک بن جائیں گے۔ ہندوستان میں بی جے پی کا ایم ایل اے بھی گرفتار ہوتا ہے۔ بی جے پی لیڈروں کے رشتے داربھی گرفتار ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ جوانسپکٹر ہے، اسے حقائق کو دیکھنا پڑتا ہے۔ پھرکورٹ ہے، کانسٹی ٹیوشن اتنا سندر بنایاہے ہمارے بڑوں نے۔ آرٹیکل 226کے تحت ایک اکیلا آدمی بھی ہائی کورٹ کے دروازے پر دستک دے سکتاہے کہ میرے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اورہائی کورٹ سنتی ہے اس کی بات۔
اٹل جی کے انتقال سے جوسب سے بڑی سیکھ ملی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اپنے اقدارکونہ بھولیں۔ ملک کو یہی اقدار بچائیں گے۔ لیکن، یہ سب بی جے پی کو سیکھنا چاہئے۔ آرایس ایس کو سیکھنا ضروری ہے۔ آر ایس ایس کوچاہئے کہ مودی اورامیت شاہ کوبلائیں ناگپور اورکہے کہ دیکھو بھئی ہم لوگ کا رتن تھے اٹل جی، لیکن تم لوگ کیا کررہے ہو؟ تم لوگ کانگریس کی نقل کر رہے ہو۔ آج اگر کانگریس کوکوئی بڑھاوا دے رہاہے، کانگریس کی ثقافت کوبڑھاوا دے رہی ہے تو وہ امیت شاہ اورنریندرمودی ہیں۔ نریندر مودی نے کہا تھا کہ کانگریس مکت ہندوستان۔ پھرانہوں نے کہاتھا کہ میرا مطلب کانگریس پارٹی سے نہیں ہے، بلکہ کانگریس نے جوماحول پھیلا رکھا ہے، اس کو ہٹانا چاہتا ہوں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی کوانہوں نے مستحکم کیا۔ انہو ںنے کانگریس کوبول دیاکہ تمہارا ہی طریقہ صحیح تھا۔ اٹل بہاری واجپئی کا طریقہ صحیح نہیں تھا۔طریقہ تمہارا ہی صحیح تھا اور اس کو ہم اورتیزی سے کریں گے۔ ساڑھے چاربرس گذرگئے، اب کچھ ہوبھی نہیں سکتا۔ اٹل جی کا انتقا ل ایک موقع ہے کہ آج بھی اپنی شبیبہ بدل لیں مودی جی۔انتخابی نتائج وہی ہوگا جوہونا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *