آمنے سامنے اعظم خان اور امر سنگھ پردے کے پیچھے کون؟

امر سنگھ جس مقصد سے سیاسی فورم پر اتارے گئے ہیں، اس مقصد کی طرف بڑھنے کا کام انھوںنے باقاعدہ شروع کردیا ہے۔ دوسری طرف اعظم خان بھی جو کر رہے ہیں، اس کا فائدہ بی جے پی کو ہی ملنا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروںکا ماننا ہے کہ فرقہ وارانہ طنزاور کیچڑ ابھی اور اچھالے جائیںگے تاکہ الیکشن آتے آتے مذہبی عناد گہرائے اور ووٹ میںتبدیل ہو۔
ایک دوسرے پر الزام
آج کے اکھلیشی دور میںنظرانداز کیے گئے سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے ایک پرانے سینئر لیڈر نے کہا، ’آپ پتہ تو کریے، اعظم کی بھی بی جے پی سے اندرونی ملی بھگت ہے۔جس طرح اسدالدین اویسی بی جے پی کو فائدہ پہنچاتا ہے، اسی طرح اعظم بھی بی جے پی کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ‘ ایس پی کے ان سینئر لیڈر کی دلیل یکبارگی خارج نہیںکی جاسکتی۔ اعظم جس طرح کے بیان جاری کرتے ہیں، اس سے نفرت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ یہ نفرت یقینی طور پر عوام کے سیاسی فیصلوں پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ اعظم کے پہلے کے بیانوں پر ہم بعد میں چرچا کریںگے۔ اعظم کے حالیہ بیانوںنے جس طرح سرگرمی پھیلائی اور امر سنگھ کو سخت مذہبی تیور اختیار کرنے کا موقع دیا، اس پر نگاہ ڈالتے ہیں۔
گزشتہ دنوںایک نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میںاعظم خان نے امر سنگھ کے تعلق سے کہا تھا: ’جب یہ لوگ کاٹے جائیںگے اور ان کی بیٹیاںتیزاب میں گلائی جائیںگی، تب ملک میںدنگا ہونا بند ہوجائے گا۔‘ اعظم خان نے اس کے ساتھ ہی کئی اور تلخ تبصرے بھی کیے تھے۔ اعظم کے اس بیان پر پہلے امر سنگھ کی ایک ناراضگی بھری ویڈیو کلپنگ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور اس کے بعد امرسنگھ سیدھے میدان میں اتر آئے۔ لکھنؤ میںپریس کانفرنس کی اور اتر پردیش کے گورنر رام نائیک اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے مل کر رسمی طور پر اپنی شکایت بھی درج کرائی۔
امر سنگھ کا ردعمل
اعظم خان کے بیان پر امر سنگھ کا ردعمل اور اعظم کے تئیںردعمل ابھی ریاست کی سیاست پر چھایا ہوا ہے۔ ساری بحثیں ان ہی بیانوں کے ارد گرد خورد برد ہو رہی ہیں لیکن کوئی یہ بات نہیںکر رہا کہ ایک خاص نیوز چینل نے خاص موقع پر اعظم کو خاص سوالوں پرکیوںکریدا؟ ایک نیوز چینل پر اعظم کے انٹر ویو کو ’ہائپ‘ دینے کی اسپانسر شپ کن لوگوں اور کن عناصر کی طرف سے ہوئی؟ کچھ ہی دن پہلے امرسنگھ سے بھی اس چینل نے انٹرویو کیا تھا۔
بہرحال امر سنگھ نے ریاستی سیاست گرمادی ہے۔ وہ اعظم معاملے کو لے کر پوری ریاست میںگھومیںگے اور ہوا بنائیںگے۔ منادی انھوںنے لکھنؤ سے کی اور اپنی مہم کی شروعات اعظم کے گڑھ رامپور سے کی۔ ویڈیو کلپنگ وائرل ہونے کے بعد لکھنؤ میںپریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے امر سنگھ نے کہا کہ اعظم ان کا قتل کرانا چاہتے ہیں۔ امر نے سیدھے سیدھے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گردا ور مجرم سرغنہ داؤد ابراہیم سے اعظم خان کے تعلق ہیں۔
امر سنگھ نے جذباتی ماحول بناتے ہوئے کہا: ’میںکسی پارٹی کی طرف سے نہیںآیا بلکہ دو بیٹیوں کے باپ کی حیثیت سے آیا ہوں۔ اعظم خان ایسا شخص ہے جو ملائم سنگھ کا یوم پیدائش منانے کے بعد عوامی طور پر کہتا ہے کہ ابوسلیم اور داؤد ابراہیم اس کے آدرش ہیں اور جلسے کے لیے ان لوگوںنے پیسہ دیا۔ اعظم خان مجھے اور میری بیوی کو کٹوانے اور بیٹیوںپر تیزاب ڈلوانے کی بات کرتا ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیںہماری بیٹیوں پر وہ تیزاب نہ پھینکوادے۔ میر اقتل کردیجئے، بقرعید کو گزرے زیادہ دن نہیںہوئے ہیں، میری قربانی لے لیجئے لیکن میری معصوم بچیوں کو چھوڑ دیجئے۔ میںآپ کی بیٹی، بیٹے ، بیوی اور خاندان کی صحت و خوش رہنے کی دعا کرتا ہوں ۔
امر نے کہا ، ’ میںآپ کے رامپور آرہا ہوں۔ مجھے کٹوادیجئے۔ بقرعید کے دن بکری کاٹی ہوگی۔ ہندو جسے مقدس مانتے ہیں آپ کے حامیوںنے ممکنہ طور پر اسے بھی کاٹا ہوگا۔ آپ کے خون کی پیاس نہیںبجھی ہے۔ میںرامپور میںپی ڈبلیو ڈی کے گیسٹ ہاؤس میںرہوں گا، مجھے کٹوادینا۔ یہ مت سمجھنا کہ میں بہادرہوں، میںلڑ رہا ہوں۔ میںتو ایک ڈرا ہوا باپ ہوں۔ آپ ریاست کے نامی گرامی بھاری بے تاج بادشاہ ہیں۔ ملائم سنگھ کے سیاسی اڈاپٹڈ بیٹے ہیں اور ملک کے وزیر داخلہ، ریاستی سرکار اور ملک کی سرکار بھی آج تک آپ کا کچھ نہیںبگاڑ پائی ہے۔ ‘ امرسنگھ نے اعظم خان کی متنازعہ جوہر علی یونیورسٹی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ وہ یونیورسٹیوں کے چانسلر گورنر رام نائیک سے مل کر قانون میںترمیم کی اپیل کریںگے۔
امر نے نیوز چینل میںدکھائے گئے اعظم کے متنازعہ انٹرویو کی سی ڈی بھی صحافیوںکے بیچ تقسیم کرائی۔ امر سنگھ نے کہا کہ اس سی ڈی کے ذریعہ عوام کو یہ پتہ چلنا چاہیے کہ اس طرح کی مجرمانہ اور غیر پارلیمانی زبان سے سیاست نہیںہوتی ہے۔ ایساکہتے ہوئے امر سنگھ کا اپنا درد بھی چھلکا، ’ مخالفت کرنا ہے مخالفت کریے۔ مخالفت کی تو ایک بار والد نے اور ایک بار بیٹے نے سماجوادی پارٹی سے نکال دیا۔ اب تو میرا قتل ہی باقی ہے، قتل بھی کرادو۔ ‘

 

 

 

 

 

آپے سے باہر امر سنگھ
امر سنگھ نے اعظم پر حملہ کرتے ہوئے ملائم سنگھ اور اکھلیش پر بھی نشانہ سادھا۔ امرسنگھ نے کہا، ’ ملائم سنگھ تمہاری بھی بیوی ہے،تمہاری بھی بہو ہے اور اکھلیش یادو تمہاری بھی بیٹی ہے، اگر اس سے کہا جائے گا کہ تیزاب سے جلایا جائے گا تو تم لوگ کیا کروگے؟ شرم کرو، اگر یہی سیکولرازم ہے تو اس کے بجائے میںفرقہ پرست ہونا زیادہ پسند کروںگا۔ میںمسلمانوں کا مخالف نہیںہوں۔ عبدالحمید، عبدالکلام، اشفاق اللہ خاں جیسے مسلمانوں کا میںحامی ہوںلیکن وہ مسلمان جو خلجی کی طرح پدماوتی کی عزت لوٹنے آتا ہے، جو نادر شاہ، ابدالی کی طرح بچوں پر تیزاب پھینکنے، عورتوں کی عزت لوٹنے آتا ہے، ان مسلمانوں کا حامی میں نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے فرقہ پرستی کا ٹیکہ اور تمغہ اپنے ماتھے پر لینے کے لیے میںتیار ہوں۔
امر سنگھ نے اٹاوہ میںویشنو مندر بنانے کی بات کہنے والے اکھلیش یادو پر بھی تیکھا حملہ کیا۔ کہا، ’ تین ضمنی انتخاب کیا جیت گئے، ہندوؤںکی بیٹیوںکو تیزاب سے جلانے کا لائسنس مل گیا۔ ایس پی کی سرکار آئی تھی تو ہندو لڑکیاںبے عزت ہوئی تھیں۔ ایس پی کی سرکار چلی گئی تو دھمکی کا عمل صرف تین ضمنی انتخاب سے شروع ہو گیا۔ ویشنو کا مندر بنائیںگے؟ کون ہیںویشنو؟ کیا رام ویشنو کے اوتار نہیںہیں؟ ‘
کنبہ پروری کے مسئلے پر امر سنگھ نے اعظم خان کو کٹہرے میںرکھتے ہوئے کہا، ’اعظم خان تم نے کہا کہ میںموقع پرست ہوں۔ ہاں، میں موقع پرست ہوں کیونکہ میںنے اپنی بیوی کو راجیہ سبھا نہیںبھیجا۔ میںموقع پرست ہوں کیونکہ میری کوئی اولاد ایم ایل اے نہیںہے۔ میںموقع پرست ہوں کیونکہ میںنے کروڑوں ، اربوں، کھربوں کا گھوٹالہ کرکے باپ کے نام پر یونیورسٹی نہیں بنائی، جس کا میںتازندگی چانسلر بن بیٹھا۔ پچھلے دروازے سے تم وزیر بنے، وزارت کی۔ تمہاری بیگم راجیہ سبھا میںہے۔ تمہاری اولاد ودھان سبھا میں ہے۔ میرے خاندان کا کوئی شخص کیا ، دور کا رشتہ دار بھی نہیںہے۔
اپنے غصے کے اظہار کے ساتھ ہی امر سنگھ نے سیاست بھی پروئی۔ سماجوادی پارٹی کو نصیحت دینے کے بہانے امر نے کہا، لوہیا کے نام پر نمازوادی پارٹی کے لوگوں سے میںکہنا چاہتا ہوں، لوہیا کو پڑھو۔ لوہیا نے دفعہ 370- کی مخالفت میںبھارتیہ جن سنگھ کا ساتھ دیا تھا۔ ایوان میںلوہیا کا بھاشن ہے، ایک جھنڈا ، ایک سنودھان اور ایک دیش۔ لوہیا کی تشہیر میںاٹل بہاری واجپئی گئے تھے، پنڈت دین دیال اپادھیائے گئے تھے۔ دونوںکی میٹنگ ہوئی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان کا فیڈریش بنانے کی وکالت لوہیا نے کی تھی۔ اکھنڈ بھارت کی بات دین دیال نے کی تھی۔ دونوںسیاستداں غیر کانگریسواد کی بات کرتے تھے۔ آج بی جے پی سے اتنا پرہیز ہوگیا ہے۔ جب چندر شیکھر جی کے کہنے سے میںنے نانا جی دیشمکھ کی مدد کی تھی تب تو ملائم سنگھ نے بھی اس میں مدد کی تھی۔ اس وقت ملائم نے کہا تھا کہ وہ اپنے گھر کا نام رام کٹیر رکھیںگے۔تب میںنے کہا تھا کہ سیارام کٹیر رکھیے۔ لوہیا جی بھی سیارام کی بات کرتے تھے۔‘
مختلف رنگ میںامرسنگھ
اعظم خان کے بیان پر امر سنگھ کے ردعمل کا جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، اس میںامر سنگھ زبردست غصے میںنتھنے پھڑکاتے اور چھتری ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ لکھنؤ میںپریس کا نفرنس میںامر سنگھ دو بیٹیوں کے باپ ہونے کا ’اپکرم‘ کرتے دکھائی دیے۔ پریس کانفرنس میںامر سنگھ نے کہا کہ وہ اپنی دو بیٹیوں کے باپ کے طور پر آئے ہیں۔ وہ خود اپنی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اعظم ان کی بیٹیوں کو بخش دیں۔ امر سنگھ نے بڑی اداسی سے کہا کہ ان کی بیوی اور دو بیٹیاں باہر نکلنے سے ڈرتی ہیں، روتی ہیں۔
دوسری طرف پریس کانفرنس کے دو دن پہلے جاری ویڈیو میںامر سنگھ دہاڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اعظم خان کو سنسکرتی کا راکشس، تیمور لنگ، علاؤالدین خلجی اور اس قسم کے تمام نام دیتے نظرآتے ہیں۔ امر سنگھ غصے میںابلتے دکھائی دیتے ہیں اور چھتری ہونے کی قسم کھاتے ہوئے مقابلے کی چنوتی دیتے ہیں۔ اس غصے میںوہ اکھلیش کے اٹاوہ میںویشنو مندر بنانے کے اعلان کو بھی سمیٹتے ہیں اور کہتے ہیںکہ کیسے انھوںنے ملائم ، اکھیلش خاندان کی بہو بیٹیوں کی عزت بچائی۔ اسی سلسلے میںامر سنگھ اکھلیش کو سماجوادی پارٹی کا نہیںبلکہ نماز وادی پارٹی کا صدر بتاتے ہیں اور آخر میںکہتے ہیں، ’ تمہارے ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے میںبہادری کے ساتھ تیار ہوں۔‘ وہیںامر سنگھ پریس کانفرنس میںعید میںقربانی کا بکرا بننے تک کی انکساری دکھاتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

اب کس کے سر پر ٹھیکرا پھوڑوگے
امر سنگھ نے ملائم خاندان میںہوئی ٹوٹ پھوٹ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ خاندان میںٹوٹ پھوٹ کے لیے انھیںہی مجرم ٹھہرایا جاتا تھا۔ امر سنگھ نے کہا، ’اب تو گھرپھوڑو انکل نہیںہیں، اب کیوں نہیںکرلیتے خاندان میںاتحاد۔ ‘ ایسا کہتے ہوئے امر سنگھ نے ودھان سبھا الیکشن سے پہلے ملائم سنگھ یادو کی بیوی سادھنا گپتا یافو کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میںسادھنا نے کہا تھا کہ ان کی توہین ہوئی ہے۔ ایسا کہتے ہوئے امر سنگھ نے پھر اکھلیش یادو پر پھر حملہ کیااور کہا ’اکھلیش پرتیک کو اپنا بھائی نہیںمانتا، سادھنا جی کو ماں نہیںمانتا، پھر یہ بھی کہتا ہے کہ ویشنو کا مندر بنائیںگے۔ ویشنو مریادہ کے پرتیک ایشور ہیں۔ رام ویشنو کے ہی اوتار ہیں۔ اکھلیش میں ذرہ برابر بھی مریادہ نہیںہے۔اکھلیش نے کہا تھا کہ چار مہینے بعد ملائم سنگھ کو عہدہ دیدیںگے، کیا دے دیا؟ اکھلیش نے کہا تھا کہ باہری شخص کی وجہ سے خاندان میںجھگڑا ہے۔ اس پر میںنے اکھلیش کے والد کو پیک کرکے ریپ کرکے دیدیا۔ اب میںبات بھی نہیںکرتاملائم سنگھ سے۔ اب تو انکل نہیںہیں، اب تو ایک ہوجاؤ۔ اب کس کے سر پر ٹھیکرا پھوڑو گے؟ دوسروں کے سر پر ٹھیکرا پھوڑنے کی روایت رہی ہے سماجوادی پارٹی میں۔
اکھلیش نے دیا جواب
امر سنگھ کے الزاموں پر اکھلیش نے سیاسی ردعمل دیا۔ اکھلیش نے کہا کہ بی جے پی لوگوںکا دھیان بھٹکانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔ وہ اہم مدعوں سے لوگوں کا دھیان بھٹکانا چاہتی ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ مدعوں سے عوام کا دھیان بھٹکانے کا ہنر صرف بی جے پی کے پاس ہے۔ غریبی، بے روزگاری او رسرکاری وعدوں پر کوئی بات نہیںہو رہی ہے۔ ملک کا نوجوان تبدیلی چاہتا ہے۔ یوپی کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ کسان سے لے کر تاجر تک پریشان ہیں۔ آخر ان مدعوںسے ملک کا دھیان کب تک بھٹکایا جائے گا؟ سماجوادی پارٹی کو نمازوادی پارٹی کہنے کے امر سنگھ کے بیان پر اکھلیش نے کہا، ’ہمارے پروڈکٹ بی جے پی والے پروڈکٹ نہیںہیں۔‘ اکھلیش نے یہ بھی کہا کہ ملک 2019 میںنیا وزیر اعظم چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اعظم – امر کے ویڈیو وائرل ہونے کے مسئلے پر اکھلیش نے کہا کہ ڈجیٹل دنیا میںکچھ سوچ سمجھ کر پھیلایا جارہا ہے۔ اس میںکچھ لوگوں کو زیادہ جانکاری بھی ہے اور دلچسپی بھی۔ بی جے پی سے بڑا جھوٹ کوئی بول نہیںسکتا۔
امر سنگھ پھر سے کیسے ابھرے؟
راجیہ سبھامیں12 ووٹوں کے خارج ہونے اور ایک ووٹ کے ناکارہ ہونے سے جیت درج کرکے ’زی‘ نیوز کے چیف سبھاش چندرا کے اعلیٰ ایوان کا ممبر ہونے کے معاملے سے ہی امر سنگھ بی جے پی کی سیاست کے رنگ منچ پر لانچ ہو گئے تھے۔ سبھاش چندرا کی جیت کی حکمت عملی بُن کر امر سنگھ نے بی جے پی میں بھی اپنے ہنر کا لوہا منوالیا۔ اس کے بعد بی جے پی میںامر سنگھ کی رسائی آڑی ترچھی نہ ہوکر سیدھی ہوگئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی ، قومی صدر امت شاہ اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ان کی ملاقاتیںہونے لگیں۔ ارون جیٹلی سے امر سنگھ کی پرانی دوستی رہی ہے۔ اتنی مضبوط کہ امر سنگھ کی کڈنی کے ٹرانسپلانٹ کے وقت جیٹلی سنگاپور تک گئے تھے۔
گزشتہ دنوںلکھنؤ میں منعقد اسمارٹ سٹی مہوتسو ااور انویسٹمنٹ سمٹ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے امر سنگھ کی خاص تعریف کرکے یہ اشارہ دیا تھا کہ آنے والے دنوںمیںیوپی کی سیاست میںامر سنگھ کا اہم رول ہوگا۔ امر سنگھ کا اہم رول دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ ابھی اور پروان چڑھے گا۔ لکھنؤ پروگرام میںمودی نے کہا تھا، ’ ہم وہ نہیںہیں جو صنعت کاروں کے ساتھ کھڑے ہونے سے ڈرتے ہوں۔ ملک میںایسے بھی لیڈر ہیں جو صنعت کاروں کے ساتھ فوٹو کھنچوانے سے ڈرتے ہیںلیکن بند کمروںمیںان کے سامنے دنڈوت ہوجاتے ہیں۔ امر سنگھ کے پاس تو سب کی ہسٹری ہے،وہ سب نکال دیںگے۔ وہ ایک ایک کرکے سب کی تاریخ کھول دیںگے۔‘ مودی کی باتیںلوگوںنے بڑے دھیان سے سنیں اور اس کے مضمرات سمجھنے کی کوشش کی۔ پروگرام میں موجود امر سنگھ کو دیکھ کر بھی مودی کی تعریف کے مضمرات لو گ سمجھ رہے تھے۔ امر سنگھ بھگوا رنگ کا کرتا پہنے پہلی قطار میںبیٹھے تھے۔ انھیںبی جے پی ہستیوںکی اگلی قطار میں دیکھ کر کئی لوگ حیرت میںبھی تھے۔ بہرحال آنے والے انتخابی سال میںامر سنگھ کا کردار کیا ہوگا، اس کا ایک باب اعظم معاملے کے بہانے کھلا ہے۔ الیکشن سے قبل کے جوڑ توڑ اور الیکشن کے بعد کی کھینچتان ، سب میںامر سنگھ ماہر ہیں۔
اہم رول کے لیے شیوپال تیار
اسی کردارکے ’نروہن ‘ میںامر سنگھ نے خاص طور پر ایس پی لیڈر شیو پال سنگھ یادو کا نام لیا امر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی میںشیو پال کے شامل ہونے کے لیے ان کی بی جے پی کے ایل اعلیٰ لیڈر سے بات ہو گئی تھی لیکن شیو پال وہاں نہیںپہنچے۔ امر سنگھ کی یہ بولی کوئی انجانے میںتھوڑے ہی نکلی۔ امر سنگھ کے اس بیان نے دو دھاری اثر کیا۔ ایک طرف اکھلیش وادی سماجوادی پارٹی میںکھلبلی مچی تو دوسری طرف سماجوادی پارٹی میںبی جے پی کی ممکنہ بڑی اور مؤثر سیندھ کے امکان کی منادی ہوگئی۔ ملائم اب عام طور سے کہنے لگے ہیںکہ ان کی توہین ہورہی ہے۔ شیو پال اور ان کے حامیوں کا پارٹی میںنظرانداز ہونے کا درد پھر سے سطح پر ابھرنے لگا ہے۔ یہ بے مطلب تھوڑے ہی ہے۔ شیو پال یادو نے بی جے پی میںشامل ہونے کی باتوںکو بھلے ہی مسترد کردیا ہو لیکن آنے والے لوک سبھا الیکشن میںاپنے ’اہم رول‘ کو وہ کہاں انکار کر رہے ہیں۔ یوپی میںبی جے پی کی اتحادی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے لیڈر اور یوگی سرکار میںوزیر اوم پرکاش راج بھر نے شیو پال یادو کو الیکشن لڑنے کی دعوت دے کر شیو پال کے انتخابی رول کی طرف صاف صاف اشارہ کردیا ہے۔
سماجوادی سیکولر مورچہ اترامیدان میں
فی الحال سماجوادی پارٹی میںشیو پال کے حامی پھر سے سرگرم ہونے لگے ہیں ۔ شیوپال کا سماجوادی سیکولرمورچہ اب اعلانیہ طور پر سیاسی فورم پر آچکا ہے اور بڑی تیز رفتار سے سرگرم ہوگیا ہے۔ سیکولر مورچے میںعلاقائی پارٹیوںکو بھی شامل کرنے کی جدوجہد چل رہی ہے ۔دوسری طرف شیو پال فینس ایسوسی ایشن کے نام پر بھی بڑی تعداد میںشیو پال حامی گول بند ہورہے ہیں۔ اس تنظیم نے ریاست بھر میںاپنی تنظیمی موجودگی پختہ کرلی ہے۔ امر سنگھ نے بھی شیو پال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شیو پال یادو ملک کی سیاست کے لیے ملائم سنگھ یادو کی اچھی دین ثابت ہورہے ہیں۔
سماجوادی سیکولر مورچہ اور شیو پال فینس ایسوسی ایشن اکھلیش خیمے میںکافی بے چینی پیدا کررہا ہے۔ ابھی حال ہی میںلوہیا ٹرسٹ کی میٹنگ میںملائم اور شیو پال کی گفتگو بھی اکھلیش خیمے کو کافی پریشان کررہی ہے۔ میٹنگ میںملائم اور شیو پال نے مل کر ٹرسٹ کے کام کاج کا جائزہ لیا اور لوک سبھا الیکشن کی حکمت عملیوں کو لے کر بھی چر چا کیا۔ شیو پال نے میڈیا سے واضح طور پر کہا ، ’ میںنے سماجوادی سیکولر مورچہ کی تشکیل کی ہے۔ مورچہ ریاست بھر میںکام کر رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی میںجن لوگوں کو نظرانداز کیا گیا تھا، جو بغیر کسی ذمہ داری کے ادھر ادھر گھوم رہے تھے، جن کا کہیںبھی احترام نہیںتھا، ہم نے انھیںاکٹھا کرکے کام پر لگایا ہے۔ انھیںذمہ داری سونپی ہے۔ وہ کارکن اب ریاست میںمختلف مقامات پر جارہے ہیں۔ ضلعوں ضلعوں میںجارہے ہیں۔ لوگوںسے رابطہ کر رہے ہیں۔ سماجوادی سیکولر مورچے کے ساتھ ہم سبھی چھوٹی پارٹیوںکو اکٹھا کرنے اور انھیں ساتھ جوڑنے کی قواعد کر رہے ہیں۔ جتنے لوگوںکو بھی نظرانداز کیا گیا ہے، سب کو اکٹھا کریںگے او رمضبوط تنظیم بناکر سامنے آئیںگے۔ بھگوتی سنگھ جیسے سینئر لیڈر بھی جب یہ کہیںکہ پارٹی میںان کی عزت نہیںرہی تو ہمارا پہلا فرض ہے کہ ایسے سینئر لیڈروں کی ہم عزت کریں۔ ہم تو انھیںبھی کہیں گے کہ وہ سینئروںکا احترام کریں۔ سینئر لیڈروںکی عزت نہیںکی ،اسی لیے تو سماجوادی پارٹی اتنی کمزور ہوئی ہے۔ ‘ شیو پال نے یہ بھی کہا کہ سماجوادی سیکولر مورچہ اور اس کے ساتھ اکٹھی ہوئی پارٹیاںایک ساتھ مل کر یہ طے کریںگی کہ لوک سبھا الیکشن میںہمارا رول کیا ہوگا۔ سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے ماہرین کا یہ بھی اندازہ ہے کہ شیو پال کا سماجوادی سیکولر مورچہ ریاست کی چھوٹی چھوٹی پارٹیوںکو متحد کرکے لوک سبھا الیکشن سے قبل بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے میںشامل ہوسکتا ہے۔
ملائم کی شکایت
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر بھگوتی سنگھ کے یوم پیدائش پر لکھنؤ کے گاندھی آڈیٹوریم میںمنعقد سبھا میںملائم سنگھ یادو نے صاف صاف کہا کہ اب ان کا کوئی احترام نہیںکرتا۔ ملائم نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا ، ’ اب شاید میرے مرنے کے بعد ہی لوگ میرا احترام کریںگے۔‘ ملائم سنگھ نے کہا، ’ایسا وقت آگیا ہے جب میراکوئی احترام نہیںکرتا ہے۔ شاید میرے مرنے کے بعد لوگ میرا احترام کریںگے۔ رام منوہر لوہیا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ ایک وقت ایسا آگیا تھا جب وہ بھی کہا کرتے تھے کہ اس ملک میںزندہ رہتے ہوئے کوئی عزت نہیںکرتا ہے۔ ایس پی کے سینئر لیڈر بھگوتی سنگھ نے بھی خود کو نظرانداز اور عزت نہ کرنے کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ پارٹی کی اس نئی تہذیب سے وہ بہت افسردہ ہیں۔ ملائم نے بھگوتی سنگھ کی شراکت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی کی تشکیل میںبھگوتی سنگھ کا اہم رول رہا ہے۔ انھوںنے تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے بہت کام کیا ہے۔ ان جیسے لیڈروں کی کوششوںکے سبب ہی پارٹی اس مقام تک پہنچ پائی ہے۔
ملائم کے بیان پر شیو پال نے کہا کہ وہ اپنے بڑے بھائی ملائم سنگھ یادو کی ہمیشہ احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیںگے۔ شیو پال بولے کہ آج جو لوگ بڑے ہوئے ہیں، وہ نیتاجی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ شیو پال نے کہا، ’ میںہمیشہ نیتا جی کے ساتھ تھا اور رہوں گا۔ ‘ شیوپال کا یہ بیان اکھلیش کے لیے طنز بھی تھا اور پیغام بھی۔
نائیک اور یوگی تک پہنچے امر
اعظم خان کے دھمکی بھرے بیان کو لے کر راجیہ سبھا ممبر امر سنگھ نے 30 اگست بروز بدھ اترپردیش کے گورنر رام نائیک اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی۔ راج بھون میںگورنر سے امر کی ملاقات ایک گھنٹے سے زیادہ چلی۔ امر سنگھ نے پورا معاملہ گورنر کے سامنے رکھا اور ان سے آئینی طور پر مداخلت کرنے کی مانگ کی۔ امر سنگھ نے میڈیا سے کہا کہ انھوںنے ایک والد کا اپنا درد گورنر کے سامنے ظاہر کیا ہے۔ امر سنگھ نے کہا، ’ میںنہیںجانتا کہ اعظم خان کی طاقت اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ بچوںپر تیزاب ڈالنے کی بات کرے۔ اگر ہم نربھیا کیس کو دیکھیںتو وہ کوئی ہندو مسلمان کو دیکھ کر نہیںکیا گیا۔ ہندوستان کا مطلب صرف ہندو نہیںہے، ایک درشن ہے۔ ہندوستان میںکئی ایسے مسلمان ہیں جو ’بھارت ماتا کی جے‘ کہتے ہیں۔ جو شخص جموںو کشمیر کو ہندوستان کا حصہ نہیںمانے اور جو مظفر نگر کانڈ جیسے دنگے کرائے، وہ ہندوستانی نہیںہوسکتا۔‘ اعظم کی دھمکی کے معاملے میںملائم سنگھ کی خاموشی پر امر سنگھ نے کہا ، ’ ملائم سنگھ چپ رہے، اسی لیے تو مجھے بیزار ہونا پڑا۔ آج مجھے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے پاس جانا پڑرہا ہے۔ گورنر سے ملنے کے بعد امر سنگھ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ان کی رہائش گاہ پر ملے۔

 

 

 

 

 

اعظم کے انمول وچن
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کے بول پارٹی کے لوگ بھی انمول ہی مانتے ہیں۔ پارٹی کے کچھ سینئروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر سے اعظم خان کا ’پیکٹ‘ ہے۔ اعظم فرقہ پرستی کے بول بولتے رہیںگے اور بی جے پی کو فائدہ پہنچاتے رہیںگے۔ دوسری طرف کچھ سماجوادی پارٹی والے یہ بھی مانتے ہیںکہ اعظم خان کے بیانوں سے ایس پی کو مسلمانوں کو اپنے حق میںمتحد کرنے میںمدد ملتی ہے۔ ان باہمی سیاسی تصورات کے برعکس اعظم کے کچھ ان بیانوںپر ایک بار پھر نظر ڈالتے چلیںجو جب نکلے تب تنازعے ہی اچھلے۔
٭امر سنگھ صنعت کار ہیں یا دلّے؟ کسی کا راز کھولنے،باتھ روم میںکتنی سیٹیںلگی ہیں، بیڈروم میںکتنی چادریں بدلی گئیں، یہ بتانے کا کام تو دلّوںکا ہوتا ہے۔ بادشاہ کو اس سطح کے لوگوںسے دور ہی رہنا چاہیے۔
٭ ’بات کچھ سمجھ میںنہیںآتی؟ یہ آر ایس ایس والے بیاہ کیوںنہیںکرتے ، کیا بات ہے۔ کوئی کمزوری ہوتی ہے تب ہی آر ایس ایس میںجاتے ہیں، یا کوئی اور انتظام ہے ان کا۔ ‘
٭ ’یوگی جی پہلے شادی کریں اور ثابت کریںکہ وہ مرد ہیں۔‘
٭ ’تاج محل بھگوان شیو کا مندر ہے، ایسا مجھے یوگی جی نے بتایا ہے۔ تو شیو جی کا مندر بنے۔ تاج محل کو توڑنے کے لیے پہلا ہتھوڑا یوگی کو مارنا ہوگا دوسرا میں ماروںگا۔‘
٭ بلند شہر گینگ ریپ سیاسی سازش ہے۔ یہ کسی سیاسی پارٹی کی کارگزاری ہے۔ اقتدار کی لوبھی پارٹیاں کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔ ‘ (اس بیان پر اعظم کو عدالت میںمعافی مانگنی پڑی)
٭ ’ہندوستانی فوج جموںو کشمیر میںلوگوںسے برا برتاؤ کر رہی ہے۔ اس پر پورے ہندوستان کو شرمندہ ہونا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ ہم دنیا کو کیا منہ دکھائیںگے؟ ‘
٭ ’میںپھانسی وادی طاقتوںکے لیے آئٹم گرل بن گیا ہوں۔ بی جے پی کے لیے میںنفرت کا ایجنڈا ہوں۔ میرے خلاف نفرت پھیلاکر بی جے پی کو ووٹ ملتے ہیں۔ ‘
٭ ’ غلام نبی آزاد کشمیری ہیں، وہ ہندوستانی نہیںہیں۔ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں ہے، وہ متنازعہ حصہ ہے، لہٰذا غلام نبی اس ملک کے لیڈر نہیںہیں۔
٭ ’ میںنے بھارت ماںکو ڈائن کہا۔ میںآج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں کہ جو ماںاپنے بچوں کے خون کی پیاسی ہے، وہ ماںنہیںہوسکتی۔ کچھ لیڈروں نے بھارت، گنگا اور رام کو اپنا بنا لیا ہے۔
٭ ’ حکومت ہند نے بلیٹ ٹرین کے لیے جاپان سے ڈیل کی ہے۔ اصل میںجاپان کا ایک شخص پورے ملک کے کپڑے اتارکر لے گیا۔ یہ ڈیل جاپان کو سندر بنانے کے لیے ہوئی ہے۔ ‘
٭ ’ بی جے پی مسلمانوںپر حملے روکنے میںناکام رہی ہے۔ مسلمانوںکو نہ تو گائے رکھنی چاہیے اور نہ دودھ کا کاروبار کرنا چاہیے۔‘
٭ ’ میںناچنے گانے والوںکے منہ نہیںلگتا۔‘ (فلم اداکارہ جیہ پردا پر تبصرہ)
٭ ’ کشمیر میںپتھر باز نے ملک کے فوجی کے گال پر تھپڑ نہیںمارا ہے، یہ تھپڑ بھارت ماںکے گلے پر مارا ہے لیکن راشٹر واد کا ڈھونگ کرنے والے56 انچی سینے والے بادشاہ کو صرف الیکشن جیتنے کی زیادہ فکر ہے، اس لیے وہ روڈ شو میںہی مست ہیں۔ ‘
٭ ’ دادری قتل کیس کے بعد گئو بھکت کسی بھی ہوٹل کے مینو میںبیف کے دام نہ لکھنے دیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سبھی فائیو اسٹار ہوٹل کو بابری مسجد کی طرح توڑ دیا جائے۔‘
٭ ’ کارگل جنگ میںفتح دلانے والے فوج کے جوان ہندو نہیں مسلم تھے۔‘
٭ ’ کتے کے پلے کے بڑے بھائی، ہمیںتمہارا غم نہیںچاہیے۔ (کار کے نیچے کتے کا پلا بھی آجاتا ہے تو دکھ ہوتا ہے۔‘ مودی کے اس بیان پر اعظم نے مذکورہ غیر پارلیمانی تبصرہ کیا تھا۔‘
٭ ’ امت شاہ غنڈہ نمبر ون ہے۔ 302 کامجرم یوپی میںدہشت پھیلانے آیا ہے۔ ایسے مجرم کو کیا بھارت رتن دلوادوں۔‘
٭ ’ غریب گھروں کی عورتیں یار کے ساتھ نہیںجاسکتیں، اس لیے زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں۔‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *