وی ایچ پی کا بنگال میں ’’لوجہاد‘‘ کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

love-jihad-file-pic
ملک میں ’لوجہاد‘ کامعاملہ وشوہندوپریشد(وی ایچ پی) طویل عرصے سے اٹھاتارہاہے۔اب اس نے اس معاملے کومغربی بنگال میں بڑے پیمانے پراٹھانے کا فیصلہ کیاہے۔اس کیلئے وہ ڈور ٹوڈور(گھرگھر)لوجہادکے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیاہے۔وی ایچ پی کے ذریعے ان خواتین کوباقاعدہ ٹپس دےئے جارہے ہیں، جنہو ں نے دوسرے مذہب میں شادی کی ہے۔ان سے کہاجارہاہے کہ جنہوں نے غلطی سے دوسرے مذہب میں شادی کی ہے، اورانہیں لگتاہے کہ وہ لوجہاد کاشکارہوگئی ہیں تواس کیلئے انہیں کچھ کام کرنے ہوں گے۔ ان سے کہاجارہاہے کہ وہ مانگ میں سندوربھریں،منگل سوتر پہنیں،اس کے ساتھ ہی ہندوتہوارمنائیں۔اپنے گھرمیں مذہبی ماحول بنائیں۔
میڈیا پورٹس کے مطابق، وشوہندوپریشد سے جڑے بجرنگ دل اوردرگاواہنی مغربی بنگال میں اس مہم سے جڑ گئے ہیں۔کہاجارہاہے کہ بنگال میں درگاواہنی میں 35ہزاراراکین ہیں۔وہیں بجرنگ دل کے 40ہزارارکان ہیں۔ بجرنگ دل اوردرگاواہنی کے ارکان گھر گھر جاکر ’لوجہاد‘ کے خلاف پرچے تقسیم کریں گے۔ ساتھ ہی لوگوں کواس کے بارے میں ٹپس دیں گے۔
مغربی بنگال وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری سچندرناتھ سنہاکا کہنا ہے کہ ہماری یہ مہم مغربی بنگال میں جلد شروع ہوگی۔یہ اس ریاست میں ایسا مسئلہ ہے، جسے ہم سب سامنے لانا چاہتے ہیں۔اس کے علاوہ ہم اس مسئلے پر لوگوں کوبیدارکرنا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف میڈیا پورٹس کے مطابق ،وشو ہندو پریشد نے کلکتہ اور مغربی بنگال کے کالجوں اور اسکولوں میں بھی’’لوجہاد‘‘ کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ وشو ہندو پریشد کے میڈیا کنوینر سریش مکھرجی نے کہا کہ وشوہندو پریشد، یوتھ ونگ بجرنگ دل اور خواتین ونگ درگا واہنی’’لوجہاد‘‘ کے خلاف مہم چلائے گی اور سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ خیال رہے کہ آر ایس ایس کا الزام ہے کہ مسلم نوجوان ایک سازش کے تحت ہندو خواتین کے ساتھ عشق و محبت کے دام میں پھنسا کر شادی کرتے ہیں اور انہیں مسلمان بناتے ہیں۔
سریش مکھرجی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ریاست بھر میں لوجہاد کے خلاف مہم چلائیں گے اور نوجوانوں کو بتایا جائے گا کہ مسلم نوجوان ایک منصوبے کے تحت ہندو بہنوں کو اپنے عشق میں پھنساتے ہیں۔ اس کیلئے ہم مختلف اسکول اور کالج میں جاکر پمفلٹ تقسیم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ محبت کی شادی کے خلاف نہیں ہیں مگر ہندو لڑکیوں کو نشانہ بنانے کے خلاف ہیں۔اس لیے ہندو لڑکیوں اور ان کے والدین کو اس سے متعلق بتایا جائے گا۔
دوسری جانب اس معاملے میں بی جے پی لیڈروں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ تاہم حکمراں جماعت ترنمول کانگریس ، اپوزیشن سی پی ایم اور کانگریس نے وشو ہندو پریشد کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نوجوانوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں نفرت انگیز مہم چلانے کی اجازت آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کو کسی بھی صورت میں نہیں دی جائے گی۔ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں بی جے پی، آر ایس ایس اور وشوہندو پریشد جیسی جماعتیں بنگال میں مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔مگر یہاں ترنمول کانگریس کی حکومت ہے اس لیے سنگھ پریوار کو اس کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بہرکیف سچندرسنہاکا کہناہے کہ مغربی بنگال میں یہ بہت بڑامسئلہ ہے۔ ہم سبھی ہندوخاندانوں کو اس بارے میں کہاکرناچاہئے اورکیا نہیں کرنا چاہئے ، اس بارے میں بتائیں گے۔اگرکوئی لڑکی لوجہادکا شکاربن چکی ہے ، توہم اسے بتائیں گے وہ ایسے میں اب اسے کیا کرناہے۔ اس کے علاوہ ہم ان کے ماں باپ کی کاؤنسلنگ بھی کریں گے، جن کی بیٹی لوجہاد کا شکارہوئی ہے۔اس کے علاوہ انہیں قانونی مددبھی مہیاکرائیں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *