اے ایم یو: وائس چانسلر کا طلبا کے نام پیغام

AMU-VC-Tarique-mansoor
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ( اے ایم یو )کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نئے داخلہ پانے اور آگے کے درجات میں داخلہ لینے والے طلبہ کے نام جاری پیغام میں کہا ہے کہ اس عظیم دانش گاہ میں ان کا داخلہ نہ صرف ان کے سرپرستوں، اہالیانِ خانہ اور ان کے طبقہ کی توقعات کو پورا کرے گا بلکہ ان کا قومی تعمیر میں بھی اہم کردار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے طلبہ اس کے سب سے بڑے سفیر ہوتے ہیں اس لئے جب وہ کیمپس سے باہر کی دنیا میں قدم رکھیں تو اپنا ایسا تاثر چھوڑیں جس سے انہیں یہاں تعلیم کے ساتھ حاصل ہونے والی تربیت کابھی مظاہرہ ہوسکے۔
وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ یہاں کے اساتذہ اس ادارہ کی ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں جو مستقبل میں ان کی رہنمائی کے علاوہ ان کی لیاقت اور صلاحیت کو فروغ دینے کے ساتھ اس کو مزید منفعت بخش بنائیں گے۔پروفیسر منصور نے کہا ہے کہ طلبہ کو یونیورسٹی میں دستیاب بنیادی سہولیات کا بہتر طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ وائس چانسلر نے مولانا آزاد لائبریری کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا شمار دنیا کے بڑے کتب خانوں میں کیا جاتا ہے اور اس امر کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کمپیوٹر سینٹر کے ذریعہ دستیاب اکاؤنٹ کی مدد سے لائبریری میں ان کی پہنچ کو آسان بنایا جائے۔
وائس چانسلر نے کہا ہے کہ یونیورسٹی میں70درجات کو اسمارٹ کلاس روم میں تبدیل کردیا گیا ہے اور ان اسمارٹ کلاس روم کو لائبریری اور کمپیوٹر سینٹر سے بھی جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی میں طلبہ کو سرکاری مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لئے کوچنگ دی جا رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی مل رہے ہیں۔ انہوں نے طلبہ سے کہا ہے کہ وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ کھیل کود اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور گیمس کمیٹی، کلچرل ایجوکیشن سینٹر اور اقامتی ہالوں وغیرہ میں دستیاب سہولیات سے مکمل طور پر فیضیاب ہوں ۔انہوں نے کہا ہے کہ طلبہ کم سے کم ایک کلب کی رکنیت ضرور حاصل کریں۔
وائس چانسلر نے کہا ہے کہ اس دانش گاہ کے بانی سر سید احمد خاں نے جو تعلیم شروع کی تھی وہ مثالی حیثیت کی حامل ہے اور یہ جدید نظریات کے ساتھ ہماری ثقافتی اقدار میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے جس پر ہم فخر محسوس کرتے ہیں اور اسی کو ہم ’’ علی گڑھ تہذیب‘‘ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔وائس چانسلر نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ طلبہ اس روایت کو آگے بڑھائیں گے اور افکار کے اختلاف کے باوجود رواداری کا ثبوت پیش کریں گے۔انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ طلبہ پوری طرح سے ڈسپلن کا مظاہرہ کریں گے اور اپنے فرائض کو ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں گے۔پروفیسر طارق منصور نے کہا ہے کہ طلبہ کا سرپرست ہونے کے ناطے وہ ان کے مکمل فروغ اور کامیابی کے حق میں ایک زائد قدم اٹھانے کے لئے تیار ہیں اور اس کے لئے ان کا تعاون اور حمایت ضروری ہے تاکہ اس ادارہ کو نئی بلندیوں تک لے جایا جا سکے۔ پروفیسر منصور نے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں طلبہ کے مشوروں کا بھی خیر مقدم کیا جائے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *