ترکی معیشت کا سچ

2017 میں اقتصادیات کی بلند سطح کی شرح نمو کو حاصل کرنے والی ترک معیشت نے اپنی اس کارکردگی کی بدولت دنیا کی سب سے بڑی اقتصادیات کی دوڑ میں نمایاں مقام حاصل کرلیا تھا۔اس کی اس ترقی نے کئی ملکوں میں رقابت کی صورت حال پیدا کردی تھی۔یہ وہی دور ہے جب عالمی بینک بھی ترکی کی اقتصادی پالیسی سے بہت خوش تھا اور اس نے ترکی کی اقتصادی پالیسی کو سراہتے ہوئے بیان جاری کیا تھا کہ ترک معیشت دس سال قبل کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہوا ہے۔عالمی بینک کے گورنر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی نے اپنے عالمی روابط میں کافی وسعت پیدا کی ہے جو آج ایک مستحکم اور دیرپا معیشت کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ ترکی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اور عالمی بینک نے حکومت کی ان پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔
یلدرم بیاضیت یونیورسٹی کی فکیلٹی آف پولیٹکل سائنسز کے شعبہ اقتصادیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایردال تاناس قارا گیول نے مضبوط ہوتی اقتصادی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی چند برسوں میں ملک کی سب سے بلند ترین اقتصادی پوزیشن میں ہوگا۔انہوں نے اپنے جائزے میں کہا تھاکہ ’’کسی بھی ملک میں پیداوار کی استعداد میں اضافہ کا پایا جانا، اقتصادی ترقی اور ملکی معیشت میں مثبت پیش رفت کا مفہوم ہوتا ہے اور فی کس قومی آمدنی میں اضافے کا جائزہ لینے سے اس ملک میں معیشت کی ترقی کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔
ملکوں کی فی کس آمدنی کے وضع کردہ صنف بندی میں ایک ہزار 5 ڈالر سے نیچے ہونے والے ملکوں کو کم سطح کی آمدنی والے گروپ، ایک ہزار 6 سے 12 ہزار 235 ڈالر تک ہونے والے ملکوں کو درمیانی سطح کی آمدنی والے گروپ جبکہ 12 ہزار 235 ڈالر سے زائد کے ممالک کو بلند سطح کی آمدنی والے گروپ میں شمار کیا جاتا ہے۔ ترکی جس رفتار سے اقتصادی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے ، وہ 2020 تک 13 ہزار ڈالر سے زائد فی کس آمدنی کی سطح کو حاصل کرتے ہوئے بلند سطح کی آمدنی والے گروپ میں شامل ہو جائیگا۔
معاشی ترقی پر اچانک بریک
لیکن اچانک اس کی اس معاشی ترقی کی رفتار میں بریک لگ گیا۔ یہ بریک امریکہ سے تنازع اور دونوں ملکوں کے بیچ برآمدات و درآمدات میں سخت ترین شرائط کی وجہ سے لگا۔ بظاہر ترکی اور امریکا کے درمیان معاشی جنگ کا سبب ترکی میں گرفتار امریکی پادری اینڈریوبرنسن ہیں، جنہیں 15جولائی 2016کو ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے پر دہشت گردی اور غداری کے مقدمات چل رہے ہیں۔امریکی پادری کی رہائی کے لیے امریکا نے ترکی پر بے پناہ دباؤ ڈالا۔ترکی نے امریکہ کے دبائو کو سرے سے خارج کردیا۔ اس کے بعد امریکہ نے ترکی سے امریکا درآمد کیے جانے والے فولاد اورایلومینیم پر عائد ٹیرف کو دوگناکردیا،جس کے جواب میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی امریکی درآمدات پر محصولات میں اضافہ کر دیا ۔

 

 

 

 

اس کے علاوہ ترکی کا خطے میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے علاوہ روس سے مضبوط ہوتی دوستی بھی تنائو کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ ترکی کا روس سے’’ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری، امریکا کا 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے مبینہ ماسٹر مائنڈ فتح اللہ گولن کی حوالگی سے انکار،شام میں ترک مخالف کرد باغیوں کی امریکی حمایت سمیت دیگر بہت سارے اہم ایشوز ہیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ بڑھ رہاہے۔
اس ٹکرائو کی وجہ سے ترکی کرنسی لیرا کے ویلو میں اس سال کے اندر دو مرتبہ گراوٹ درج کی گئی اور یہ گراوٹ 40 فیصد تک تھی۔ کرنسی کے ویلو میں اس گراوٹ کی وجہ سے ترکی کی معیشت بحران میں پھنستی چلی گئی۔حالانکہ ترکی کی حکومت اس بات سے انکار کررہی ہے کہ اس کی معیشت کمزور ہورہی ہے جیسا کہ وزیر خزانہ بیرات آلبائراک نے گزشتہ دنوں ایک بیان میں کہا کہ ترکی کی اقتصادیات مضبوط شکل میں اور تیز رفتاری سے ترقی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری اقتصادی بنیادیں مستقل مضبوط ہو رہی ہیں ا ور ملکی اقتصادی حالت امید افزا ہے۔
مگرسچائی یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں مالیاتی استحکام اور اس کے اپنے ذمے مالی ادائیگیوں کے قابل ہونے سے متعلق درجہ بندی کرنے والی متعدد کریڈٹ ایجنسیوں نے ترکی کی ریٹنگ مزید کم کر دی ہے۔ ان میں سے دو اہم ترین ایجنسیاں موڈیز اور ایس اینڈ پی ہیں۔ایس اینڈ پی نے ترکی کی ریٹنگ BB- سے کم کر کے دوبارہ B+ کر دی جبکہ موڈیز نے بھی اپنی ترکی سے متعلق ریٹنگ میں ایک درجے کی کمی کر دی۔
غیر مستحکم صورتحال
اس کا مطلب یہ ہے کہ ترکی میں مالیاتی استحکام کی صورت حال بہت بے یقینی کا شکار ہے اور یہ بات عالمی سطح پر قرض دہندگان اور سرمایہ کار اداروں کے لیے تشویش کا سبب بنتی ہے۔ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطابق ترکی کو اس وقت مسلسل اقتصادی بحران کا خطرہ درپیش ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ترک کرنسی لیرا کی قدر میں گزشتہ کچھ دنوں میں نظر آنے والی وہ بڑی گراوٹ بنی، جس کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر ریکارڈ حد تک کم ہو گئی تھی۔تو گرچہ ترکی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس کی معیشت مستحکم ہے مگر جس طرح سے اس کی ریٹنگ میں کمی ہوئی ہے، یہ اشارہ دے رہا ہے کہ فی الوقت وہ اقتصادی بحران کے چکر بھیو میں پھنسا ہوا ہے۔
البتہ ادھر کچھ دنوں میں ترکی کی کرنسی لیرا اپنی کم ترین ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد ڈالر کے مقابلے میں بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ترکی افراط زر کی بلند شرح سے نمٹنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔اس سلسلہ میں بعض وزارتوں اور اداروں کو نئے سرے سے ترتیب دی گئی ہے اور کابینہ میں شامل وزراء کی تعداد کو بھی 26 سے گھٹا کر 16 کر دیا گیا ہے۔اس سے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ترکی کی حکومت لیرا کے گرتے ویلو کو اٹھانے کے لئے عملی طورپر پیش رفت شروع کردی ہے اور اس کا اثر بھی کسی حد تک دِکھنے لگا ہے۔

 

 

 

 

اردگان اب بھی پُرعزم
حالانکہ یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ گرچہ لیرا کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ترکی کی معیشت بحران کا شکار ہوگئی ہے ۔ ملکوں کی کرنسی کے ویلو میں کمی و اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔اگرترکی کی کرنسی میں گراوٹ آئی ہے تو اردگان کی حکومت جلد ہی اس پر قابول پالے گی اوراپنی کرنسی کی گرتی قیمت کو بلند سطح پر لے آئے گی۔طیب اردگان کے ایک بیان سے اسی طرف اشارہ ملتا ہے ۔ انہوں نے کریڈٹ ریٹنگ کے ادارے اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ادارہ سیاسی فیصلے کر رہا ہے اور سیاسی مفادات کے پیش نظر ترکی کے درجے کو کم دکھا رہا ہے۔مگر یاد رکھیں کہ سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترکی کی اقتصادیات میں کمی دکھانا آپ کے لئے انتہائی غیر مناسب قدم ہے اور یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ ترکی تیز رفتاری سے اقتصادی ترقی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ ترکی کو ترقی کی پٹری پر واپس لوٹنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوگی کیونکہ خلیج کے کئی ممالک اس کو سہارا دینے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ قطر نے ترکی میں سرمایہ کاری 55ارب ڈالر تک کی ہے جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ سال ڈھائی بلین ڈالرسے زائد کی تجارت بھی ہوئی۔ قطر اور کویت کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی ترکی کی معیشت کو سہارا دینے کا عزم ظاہر کیا ہے ،جن میں جرمنی کی انجیلامرکل بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ ترکی کی معیشت کی مضبوطی ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ادھر روس نے بھی ترکی پر امریکی معاشی حملوں کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ان تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ گرچہ ترکی فی الوقت اقتصادی بحران میں پھنسا لیکن اسے اس بحران سے نکلنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *