تین طلاق پرآرڈیننس کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ اورمسلم خواتین کوسپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہئے:اویسی

owaisi
مودی کابینہ نے تین طلاق پرآرڈیننس کومنظوری دے دی ہے۔ اسدالدین اویسی نے تین طلاق پرلائے گئے آرڈیننس پرکراراحملہ بولاہے۔آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)کے سربراہ اوررکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے تین طلاق آرڈیننس کومسلم خواتین کے خلاف بتایاہے۔اویسی نے تین طلاق کے بہانے ان شادی شدہ خواتین کیلئے قانون لانے کا مطالبہ کیاہے ،جنہیں ان کے شوہروں کے ذریعے انتخابی حلف نامہ میں نام دیتے ہیں کہ وہ بیوی کے ساتھ رہتے ہیں، مگرانہیں چھوڑ دیاجاتاہے۔اویسی کاکہناہے کہ تین طلاق کے خلاف لائے گئے آرڈیننس سے مسلم خواتین کوانصاف نہیں ملے گا۔
اسدالدین اویسی نے تین طلاق کے خلاف لائے گئے آرڈیننس پرکہاکہ یہ آرڈیننس مسلم خواتین کے خلاف ہے ۔اس آرڈیننس سے مسلم خواتین کوانصاف نہیں ملے گا۔اسلام میں شادی ایک سماجی معاہدہ ہے،اوراس میں سزاکی تجویزکوجوڑنا غلط ہے۔
اویسی نے کہاکہ یہ آرڈیننس غیرآئینی ہے۔یہ آرڈیننس آئین میں دےئے گئے مساوات حقوق کے خلاف ہے، کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کیلئے بنایاگیاہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اورخواتین تنظیموں کواس آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں چیلنج کردینا چاہئے۔

اے این آئی نیوزایجنسی کے مطابق، اویسی نے کہاکہ ’’میں وزیراعظم سے مطالبہ کرتاہوں کہ ان شادی شدہ خواتین کیلئے قانون کی قومی سطح پرضرورت ہے، جن کی تعداد24لاکھ ہے اوران کے شوہرانتخابی حلف نامے میں کہتے ہیں کہ وہ شادی شدہ ہیں مگربیوی ان کے ساتھ نہیں رہ رہی ہیں۔وزیراعظم کوان چھوڑی ہوئی شادی شدہ(غیرطلاق شدہ) خواتین کیلئے قانون لانا چاہئے‘۔


آپ کوبتادیں کہ آج پی ایم مودی کی صدارت میں کابینہ نے تین طلاق پرآرڈیننس کومنظوری دی اوراب اسے 6مہینے کے اندرپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کرانا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *