موضوع بحث بننا چاہئے وکاس کا ڈھانچہ

نئے نئے لفظ ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔ اب ایک نیا لفظ آیا ہے ’اربن نکسلزم ‘۔اس لفظ کو گڑھنے والی ایک خاتون ہیں، جو خود ہندو کورٹ کی خود ساختہ جج بنی ہوئی ہیں۔ ابھی تک کسی نے بھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ یہ ہندو کورٹ کیا ہے اور اس کی یہ خاتون سپریم جج کیسے بنی ہیں؟ بہر حال ان دیوی جی کے دماغ کے بارے میں تو کچھ کہنا نہیں چاہتا لیکن میں ان سے ضرور بات کرنا چاہتا ہوں جو سوچنے سمجھنے والے لوگ ہیں، شاید ابھی بھی بہتوں کو نہیں پتہ ہوگا کہ نکسل واد لفظ آیا کہاں سے ؟
مغربی بنگال میں نکسل باڑی ہے۔ وہاں کے دو دانشور چارو مجمدار اور کانو سانیال نے ایک نظریہ پیش کیا کہ غریبوں کو، جن کے پاس نہ دھن ہے ، نہ دولت ہے، نہ پیسہ ہے ، جو استحصال زدہ ہیں،متاثرین ہیں ، ان کی حالت میں سدھار کیسے آئے گا۔ انہوں نے یہ مانا کہ جمہوری نظام سے ان کی زندگی میں سدھار نہیں آسکتا۔ کیونکہ جمہوریت میں ووٹ خریدا بھی جاتا ہے، ووٹ چھینا بھی جاتاہے، ووٹ بہکایا بھی جاتا ہے اور جو چنے جاتے ہیں وہ لوگ کم سے کم غریبوں کے لئے یہ کام نہیں کرتے ہیں۔ اسی لئے اگر غربیوں کو اقتدر حاصل کرنا ہے تو انہیں متحد ہونا پڑے گا اور طبقاتی بنیاد پر ایک ساتھ متحد ہوکر جو خود مختار طبقہ ہے ،اس کے خلاف لڑائی چھیڑنی ہوگی۔
چارو مجمدار اور کانو سانیال کے اس نظریہ نے داوانل کی طرح مغربی بنگال کو اپنی جکڑ میں لے لیا۔ ان دنوں وہاں سدھارتھ شنکر رے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے اس نظریہ کا مقابلہ نظریہ سے نہیں کیا بلکہ اس نظریہ کا مقابلہ بندوق سے کیا۔ حالت یہ ہو گئی تھی کہ پولیس کی سیکورٹی کے لئے فوج بلانی پڑی۔ جنہیں ان دنوں کے مغربی بنگال یا کلکتہ شہر کی یاد ہے، وہ یاد کریں کہ کیسے دو -دو، تین -تین سپاہی ایک دوسرے کو چین سے باندھ کر ساتھ چلتے تھے۔ وہی حال ٹریفک پولیس اور عام پولیس کا تھا۔ بنگال سے یہ نظریہ نکل کر بہار پہنچا۔ بہار میں بھی جھارکھنڈ کا حصہ اس نظریہ کی پناہ گاہ بنا اور وہاں سے یہ نظریہ نکل کر اڑیسہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، کرناٹک ، کیرل اور اترپردیش کے پہاڑی اضلاع ، جسے ہم آج سون بھدر کے نام سے جانتے ہیں، تک پہنچ گیا۔
اس وقت اندرا جی کی حکومت تھی اور اندرا جی نے بھی اس نظریہ کا مقابلہ بغیر تجزیہ کئے ہوئے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ مان لیا اور پولیس کو نکسل وادیوں کے دمن کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس وقت کی سرکار کو، خاص طور پر اندرا گاندھی کو سوچنا چاہئے تھا کہ کسی بھی چیز کی اصلیت کے پیچھے وجہ کیا ہے؟نکسل باڑی کے چھوٹے سے گائوں سے نکلا ہوا یہ نظریہ بھوک، استحصال، ناانصافی ، دمن کی مزاحمت کی شکل میں اور وکاس کے نام پر ہو رہی بدعنوانی کی وجہ سے لوگوں کی دھندلائی آنکھوں کے خوابوں کے ٹوٹنے کے درد سے پیدا ہوا تھا۔ دیکھتے دیکھتے اس نظریہ نے ملک کے 200 سے زیادہ اضلاع میں اپنا دخل جما لیا۔ مزے کی بات یہ ہوئی کہ یہ سارے علاقے ایسے ہیں، جہاں وکاس کے نام پر بدعنوانی ہو رہی تھی، جہاں میلوں تک نہ اسپتال تھے، نہ سڑک تھی، نہ اسکول تھے، نہ کھانے کمانے کے وسائل تھے، بلکہ کچھ تھا تو پولیس کا ظلم اور جنگل میں کام کر رہے ملازمین کا، آدیواسیوں کا بری طرح استحصال۔

 

 

 

 

اس نظریہ نے اپنی برتری بنائی ۔ انہوں نے اپنی آزاد حکومت قائم کی اور آج بھی ملک میں بہت ساری ایسی جگہیں ہیں، جہاں شام 6 بجے کے بعد ہمارا سیکورٹی سسٹم نہیں پہنچ پاتا۔ وہاں ان کی عدالتیں لگتی ہیں، وہاں ان کے اسکول چلتے ہیں اور وہ لوگوں کو یہی سمجھاتے ہیں کہ آج کا سسٹم آپ کے خلاف کھڑ اہے۔ اس کا مقابلہ بہت آسانی سے ہو سکتا تھا کہ بدعنوانی کے اوپر نکیل کسی جاتی۔ ان علاقوں میں وکاس ہوتا، اسکول کھلتے، اسپتال کھولے جاتے، سڑکیں بنتیں، لوگوں کے پاس جانکاریاں پہنچتی ۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس کی شروعات نکسل باڑی نام کے چھوٹے سے گائوں میں چارو مجمدار اور کانو سانیال نے نظریہ کی شکل میں کی تھی۔
آج کی اس سرکار سے پہلے کی سرکار یعنی منموہن سنگھ کی سرکار نے اس مسئلے کے حل کے لئے فوج کی مدد لینی چاہی تھی اور تب کے وزیر داخلہ پی چدمبرم اور وزیر دفاع اے کے انٹونی نے فوج سے کہا تھا کہ وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ نکسل وادیوں کے اوپر نگرانی رکھیں اور انہیں نشان زد کر کے ماریں۔ لیکن اس وقت کی فوج کے افسروں نے انتہائی انکساری سے لیکن سختی کے ساتھ اس سجھائو کو ٹھکرا دیا اور انہوں نے اے کے انٹونی سے صاف طور پر کہا کہ ہماری گولیاں اپنے ہم وطنوں کے اوپر چلانے کے لئے نہیں ہیں۔یہ دشمنوں کے لئے ہیں ۔
میں یہ یہاں صاف کر دوں کہ فوج کو یہ معلوم تھا کہ فوج میں جو سپاہی آتے ہیں، وہ زیادہ تر ان ریاستوں سے آتے ہیں جن ریاستوں کو نکسل واد متاثر مانا جارہا ہے۔ اس وقت کے فوجی افسروں کو معلوم تھا کہ اگر یہ قدم فوج نے اٹھایا تو فوج میں بغاوت بھی ہو سکتی ہے۔ ہم نے اس پر ’’چوتھی دنیا ‘‘میں کئی بڑی رپورٹ چھاپی ہے۔سب سے مزے کی بات، ہم نے ’’چوتھی دنیا ‘‘میں یہ رپورٹ چھاپی تھی کہ نکسلواد کی راشٹریہ راجدھانی جھارکھنڈ بن گیا ہے اور نکسلوادی تنظیم کو کون کون سے بڑے سرمایہ دار اور ان کی کمپنیاں پیسے دیتی ہیں۔ ہم نے پوری لسٹ چھاپی تھی لیکن سرکار نے اس لسٹ کے اوپر کوئی دھیان نہیں دیا۔
اب ایک نیا لفظ آیا ہے’ اربن نکسلائٹ‘،یعنی شہری نکسلوادی ۔ اس سوچ کے پیچھے ان سب کو نشان زد کرنا ہے، جو دانشور ہیں، مضمون نگار ہیں، صحافی ہیں، وکیل ہیں، اساتذہ ہیں، پروفیسر ہیں، جو سماج میں بھید بھائو کو، وکاس کی غیر متوازن رفتار کو اور دھیرے دھیرے لوگوں کو وکاس کی سرحدی لائن سے دور بھگانے کے عمل کو غلط مانتے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر وکاس برابر طریقے سے نہیں ہوتا، سب کا وکاس نہیں ہوتا تو کسی بھی قیمت پر سماج میں امن قائم نہیںہوگا اور اب شہری نکسلواد کے نام پر ان مصنفوں ، صحافیوں، دانشوروں ، وکیلوں، پروفیسروں، شاعروں اور ادیبوں کو پکڑنے کی کوشش ہو رہی ہے، جو سماج میں اس شعور کو پھیلانا چاہتے ہیں اور سرکار پر یہ دبائو ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ وکاس پر حاوی بدعنوانی کو ختم کرے۔ لیکن اقتدار میں بیٹھے بدعنوانی کے الٹی میٹ کنٹرولر ا یلیمنٹس اس آواز کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آگ اگر جل رہی ہے تو کچھ نہ کچھ جلائے گی۔ اس کی طرف سے آنکھ بند کرنے سے آگ اپنا کام کرنابند کر دے گی، ایسا نہیں ہے۔

 

 

 

میں نے کئی ٹیلی ویژن پروگرام میں کانگریس اور بی جے پی کے ترجمانوں سے پوچھا کہ کم سے کم آپ یہ تو صاف کیجئے کہ آپ کسے نکسلواد کہتے ہیں، آپ نے تو سارے ملک سے نکسلواد ختم کر دیا ہے، کیونکہ اب جس طریقے سے بے روزگاروں کو روزگار مل گیا ہے، جس طریقے سے بدعنوانی کم ہو گئی ہے، جس طریقے سے وکاس گائوں گائوں پہنچ گیا ہے، اسی طریقے سے سرکار کے اعددو شمار آئے ہیں کہ پہلے 200 اضلاع نکسل متاثر تھے، اب 80 اضلاع رہ گئے ہیں۔ وہ کون سے 80 اضلاع ہیں اور کون سے 200 اضلاع تھے؟ یہ سرکار صاف نہیں کررہی ہے۔ لیکن یہ سرکار کا مسئلہ ہے لیکن اسی طرح آپ اگر خاموش ہو جائیں گے ، آپ لوگوں کے سامنے دوسرے اعدادو شمار پیش کریں گے تو کیا جن ریاستوں میں یا جن علاقوں میں اسکول نہیں ہیں، اس سے وہاں اسکول کھل جائیںگے، اسپتال کھل جائیںگے، ڈسپنسریاں کھل جائیںگی، سڑکیں بن جائیںگی، بدعنوانی ختم ہو جائے گی۔
آج بھی سوال ہے کہ آپ نکسلواد کے مسئلے کو لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ مانتے ہیں یا نکسلواد کو آپ سماجی وکاس کی بے ترتیب تقسیم کو اس کی جڑ مانتے ہیں؟ آپ غریبی ، دمن، موقع کا نہ ملنا اور ایک بڑے طبقے کے ساتھ آپ کی بات چیت نہ ہونا نکسلواد کی وجہ مانتے ہیں یا لاء اینڈ آرڈر وجہ ہے؟ لیکن اس کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔ سپریم کورٹ کیا فیصلہ دے گا، مجھے نہیں پتہ لیکن سپریم کورٹ سے بڑی ایک عدالت ہے۔
انتخابات میں جیت ایک چیز ہے اور لوگوں کے خواب کا مر جانا بالکل دوسری چیز ہے۔ چونکہ سرکار یہ کام نہیں کر پاتی، اس لئے اب ریزرویشن کے خلاف اعلیٰ ذاتوں کے آندولن ہورہے ہیں۔ اسی لئے دلت متحد ہورہے ہیں ۔ اس لئے پچھڑے طبقہ میں جانے کے لئے دیگر طبقے میں ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ دراصل یہ سارے مسائل اقتدار میں چلانے والے لوگوں کے دماغی دیوالیہ پن کا مسئلہ ہے۔ وہ اس مسئلے کو حل کرنانہیں چاہتے اور انہیں رات میں جو بھی ایک جھک سوار ہوتی ہے، اسے وہ تھیوری بنا کر، اصول بنا کر اس ملک میں لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک کے سوشل میڈیا پر جس طرح کی بھیڑ جمع ہے، وہ ان سب کو صحیح ٹھہراتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر وہ صحیح ٹھہراتے ہیں، تو انہیں مبارک لیکن دن کو رات کہہ دینے سے رات نہیں ہو جاتی۔ ایک بڑا چاپلوس طبقہ ہے ، وہ اسے صحیح کہہ سکتا ہے، لیکن اس سے سچائی نہیں بدلتی۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسائل کو صحیح نظریئے سے دیکھا جائے ا ور اس مسئلے پر سارے ملک میں ایک وسیع بحث چلے کہ آخر ہمیں وکاس کا کون سا ڈھانچہ اور کیسا ڈھانچہ چاہئے۔ اگر اس پر بحث ہوگی تو آج کا طالب علم ، نوجوان بھی سمجھے گا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے؟

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *