کیمپوں میں ہنوز مظفر نگر فسادات کے متاثرین 131 مقدمات کی واپسی کا معاملہ بنا بڑایشو

ستمبر 2013 میں ہوئے ریاست اترپردیش کے بدنام زمانہ فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین 5 برس بعد بھی حق و انصاف کے منتظر ہیں۔ ان فسادات میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 62 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ایک لاکھ سے زائد مسلمان اپنے آبائی مقامات کو چھوڑ کر دوسرے مقامات پر رشتہ داروں و دیگر متعلقین کے یہاں اور نصف سے زیادہ تعداد میں کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہوگئے تھے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
کیمپوں میں تو زندہ رہنے کے لئے متعدد سہولیات جیسے پینے کا پانی اور بیت الخلاء تک کا مناسب اور وافر نظم تک نہیں ہے جس کا سروے اور جائزہ ہرش مندر و دیگر سماجی و حقوق انسانی کارکنان متعدد بار لے چکے ہیں اور دنیا اس دردناک صورتحال سے واقف ہوچکی ہے۔ دوسری طرف جہاں تک اس معاملے میں متاثرین کو حق میں انصاف دلانے کی بات ہے ، کل ملا کر ان فسادات میں 503 مقدمات درج کرائے گئے تھے۔ ریاستی حکومت نے ان مقدمات کی تفتیش کے لئے مظفر نگر میں ایک اسپیشل انوسٹی گیٹیو ٹیم (ایس آئی ٹی ) تشکیل کی تھی۔ دریں اثنا مظفر نگر ضلعی انتظامیہ نے ریاستی حکومت کو جوابات دیئے اور اسی کے ساتھ ساتھ شاملی سے متعلق مقدمات بھی اسی ایس آئی ٹی کے ذریعے تفتیش کئے جاتے رہے۔ علاوہ ازیں چارج شیٹیں اور کلوزررپورٹس مظفر نگر عدالت میں فائل کی گئیں۔

 

 

 

عیاں رہے کہ اسی دوران مظفر نگر اور شاملی سے کھاپ لیڈروں کا ایک وفد مقامی بی جے پی ایم پی سنجیو بالیان اور بی جے پی ایم ایل اے اومیش ملک کی قیادت میں وزیر علیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے لکھنو جاکر ملا اور503 میں سے 179 مقدمات کی فہرست انہیں پیش کرکے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ قابل ذکر ہے کہ مقدمات واپس کئے جانے کی فہرست میں دو مقدمات ایسے تھے جو کہ مذکورہ بالا انہی دو لیڈران بالیان اور ملک کے علاوہ سادھوی پراچی، بجنور کے بی جے پی ایم پی کنور بھاتیندر سنگھ، بی جے پی ایم ایل ایز سنگیت سنگھ سوم اور سریش رانا کے خلاف ان کی ہیٹ اسپیچیز (Hate Speeches ) کے تعلق سے تھے۔ ان لیڈران پر الزام ہے کہ انہوں نے 31اگست 2013 اور 7ستمبر 2013 کو مظفر نگر ضلع میں تشدد بھرکنے سے قبل منعقد ہوئی مہا پنچایتوں میں نفرت آمیز تقریریں کی تھیں۔
پھر اسی کے بعد 17 جنوری 2018 کو ریاستی محکمہ قانون نے مظفر نگر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مکتوب لکھ کر مذکورہ بالا بی جے پی لیڈران کے مہا پنچایتوں میں فسادات پھوٹنے سے قبل کی گئی نفرت آمیز تقریروں سے متعلق دونوں مقدمات کی تفصیلات طلب کی۔ بعد ازاں 23 فروری کو لکھے گئے اپنے دوسرے مکتوب میںاسی محکمہ قانون نے 133 مقدمات کی تفصیلات مانگیں ۔حکومت نے ان مکتوبات میں متعلقہ ایف آئی آرز، ضلع اور پولیس اسٹیشن جہاں مقدمات دائر کئے گئے ہیں نیز آئی پی سی سیکشنز کی تفصیلات کے ساتھ 8 صفحات منسلک کئے تھے۔ متعلقہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس اور پروسیکیوٹنگ آفیسر سے ان مقدمات کی واپسی سے متعلق الگ الگ رائے طلب کی گئی تھی۔
مظفر نگر ڈی ایم راجیو شرما کا کہنا ہے کہ انہوں نے اور ایس ایس پی کے علاوہ پروسیکیوٹنگ آفیسر نے اپنا جواب اوائل اگست میں ریاستی محکمہ قانون کو بھیج دیا ہے۔ 133 مقدمات میں سے فی الوقت 89 مقدمات عدالت میں چل رہے ہیں جبکہ باقی میں رہائی یا کلوزر رپورٹ ہوچکی ہے۔ جو مقدمات چل رہے ہیں ،وہ ہیٹ اسپیچیز، قتل ، قتل کی کوشش، لوٹ مار اور ڈکیتی سے متعلق ہیں جبکہ ملزین میں مقامی ایم پی سنجیو بالیان اور بی جے پی کے ارکان اسمبلی سریش رانا اور سنگیت سنگھ سوم نیز وشو ہندو پریشد رہنما سادھوی پراچی شامل ہیں۔

 

 

 

ان تینوں ذمہ دار نے اپنے اپنے تحریری جواب میں مذکورہ 133 مقدمات کو واپس لینے کے خلاف واضح طور پر رائے دی ہے۔بظاہر تو ان رایوں کی وجہ انتظامی یاایڈمنسٹریٹیو بتائی جارہی ہے مگر ایسا محسوس ہوتاہے کہ ضلعی انتظامیہ کے سامنے یہ پریشانی درپیش ہے کہ وہ اظہر من الشمس ان حقائق سے کیسے منہ موڑے؟ اس کے سامنے مہلوکین کی فہرست کے ان مقدمات والے واقعات کے اجڑے ہوئے متاثرین ہیں جو کہ نہایت کسمپرسی کی حالت میں میک شفٹ کیمپوں اور دیگر افراد کے گھروں میں زندگی گزار رہے ہیں اور ابھی تک ان کے آبائی مقامات پر واپس لوٹنے کی کوئی راہ نہیں نکلی ہے۔
ہرش مندر جو کہ وقتاً فوقتاً اجڑے ہوئے ان لوگوں کے کیمپوں میں جاتے رہتے ہیں، ان کے مطابق حیرت کی بات ہے کہ ان بدنصیب لوگوں کی اپنے آبائی مقامات پر واپسی یا منصوبہ بندی کے تحت ان کی نو آبادکاری کی بات تک کوئی نہیں کرتاہے۔ معاملہ ان کیمپوں میں زندگی جینے کے لئے صرف متعدد سہولیات کاہی نہیں ہے بلکہ ان کے بچوں کی رُکی ہوئی پڑھائی اور نئے بچوں کی تعلیم کا بھی بڑا مسئلہ ہے۔ کیونکہ ان بدنصیب لوگوں کے پاس نہ آدھار کارڈ اور نہ ہی ووٹر کارڈ اور راشن کارڈ ہیں۔ یہ سب تو یہ زندگی بچانے کے لئے جلدی میں اپنے آبائی مقامات میں واقع اپنے گھروںمیں چھوڑ آئے ہیں۔ اسکولوں میں داخلے کے لئے ڈاکیو مینٹس مانگے جاتے ہیں مگر یہ بدنصیب آخر انہیں لائیں کہاں سے؟اکھلیش یادو حکومت تو انہیں اسی کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ کر چلی گئی ۔ یوگی آدتیہ ناتھ نئی حکومت آئی ہے تو اسے کیا دلچسپی ؟وہ تو اس پھیر میں لگی ہے کہ اپنی پارٹی کے قومی و ریاستی قانون سازوں و دیگر ملزمین کو مقدمات واپس کراکے کیسے بچائیں؟
نتیجہ یہ ہے کہ مظفر نگر اور شاملی کے متاثرین حق انصاف کے ہنوز منتظر ہیں۔ ریاستی حکومت اپنے اختیارات کا استعمال کرکے ضلعی انتظامیہ کی آراء یارپورٹوں کو نہ مانتے ہوئے مقدمات کی واپسی کی کوئی اور شکل اختیار کرسکتی ہے۔ مگر ایسا ہونے کی صورت میں حق و انصاف پر زیادتی ہوگی اور یہ مذکورہ بدنصیبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *