قابل رہائش شہروں کی فہرست میں پھسڈی ہے پٹنہ

بہار کی راجدھانی پٹنہ قدیم تاریخی شہروں میں شمار ہے۔ یہ کبھی عظیم آباد ،کسم اورپاٹلی پترا کے نام سے جانا جاتا تھا۔ لیکن اب نیو پٹنہ شہر اسمارٹ سیٹی بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ حالانکہ پٹنہ کو اسمارٹ سیٹی بنانے اور اس راہ میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ابھی بہت کچھ کیاجانا باقی ہے۔ آج سے دو دہائی قبل تک پٹنہ کی پہچان گول گھراور بسکومان سے ہوا کرتی تھی لیکن حالیہ برسوں کے دوران پٹنہ کی شکل صورت اس قدر تبدیل ہو گئی ہے کہ اس کی شناخت تک بدل چکی ہے ۔اس دوران پٹنہ کو کئی نئے لینڈ مارک ملے ہیں تو کئی ایسی عالمی معیار کی عمارتیں بن کر تیار ہوئی ہیں جو وہ پٹنہ کی نئی پہچان بن چکی ہیں۔ پٹنہ جنکشن سے باہر نکلتے ہی ایک بڑا فلائی اور استقبال کرتا ہے ۔ اس سے آگے ہریالی کے درمیان بڑا سا بود ھ مت استوپ پٹنہ آنے والے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ مہاویر مندر کے ٹھیک سامنے بنا یہ استوپ بود ھ میموریل پارک کا حصہ ہے ۔ کبھی یہاں با نکی پور جیل ہوا کرتی تھی ،آج یہ امن کا مرکز ہے ۔یہاں سے ڈاک بنگلہ چوراہا ہوتے ہوئے گاندھی میدان جاتے وقت لوگوں کوسڑک کے کنارے کئی بڑے شاپنگ مال اور کثیر منزلہ عمارتیں ملیں گی ۔گاندھی میدان کے قریب پٹنہ کی سب سے بلند وبالا عمارت بسکومان آج بھی ہے مگر اس کی بائیں جانب بنا کنونشن سنٹر آنے جانے والوں کو کچھ دیر ٹھہر کر اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کرتا ہے ۔بیلی روڈ سے گذرہو تو بہار میوزیم کی عمارت پر توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔ غرض یہ کہ پٹنہ میں جس کسی بھی سڑک سے گذریں گے ، شہر کے چہرے کی چمک دمک اپنی جانب متوجہ ضرور کریں گی ۔
فلائی اُور اور پُل
پٹنہ کو جام سے بچانے کیلئے شہر میں نصف درجن سے زائدفلائی اور اورپل تعمیر کئے گئے ہیں۔ چڑیاں تانڈ پل کاڈیزائن تو ہوائی جہاز سے ہی نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ بیلی روڈ پر تقریباً پانچ کیلومیٹر لمبے پل کی تعمیر ہوئی ہے جس سے داناپور پہنچنا آسان ہوگیا ہے ۔شہر میں کئی پارک بھی بنائے گئیں ہیں۔خاص طور پر راجدھانی واٹیکا ،ایکوپارک اور بودھ میموریل پارک تو پٹنہ کے پسندیدہ پارک بن کر ابھرے ہیں،جہاں لوگ فرصت کے لمحات گذارتے ہیں۔اس کے علاوہ کالونی اور محلوں کے پارکوں کے بھی دن بدلنے لگے ہیں۔
گاندھی میدان کے قریب بین الاقوامی کنونشن سنٹر اور گیان بھون قابل دید ہیں ۔ویسے تو گاندھی میدان خود ہی پٹنہ کا سب سے بڑا لینڈ مارک ہے مگر اس کے شمالی سرے پر گنبد نماں عمارت دور سے ہی لبھاتی ہے ۔جہاں گذشتہ سال بین الا قوامی کنونشن سنٹر کا افتتاح ہوا ہے ۔پانچ ہزار لوگوں کی گنجائش والا یہ بہار کا سب سے بڑا کنونشن سنٹر ہے ۔ اس کے بغل میں ہی گیان بھون ہے اس میں بھی کئی چھوٹے چھوٹے آڈیٹوریم اور کیفیریاں وغیرہ کا بندوبست ہے ۔یہاں نمائش بھی لگائی جا سکتی ہے ۔سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں 90فیصد اسٹیل کا استعمال ہوا ہے ۔16500میٹرک ٹن اسٹیل سے بنی اس عمارت کی مضبوطی اپنے آپ میں ایک مثال ہے ۔گنگا کے کنارے ہونے کے سبب اس کی خوبصورتی میں اور بھی چار چاند لگ گئے ہیں۔گاندھی میدان کے شمالی مشرقی حصہ میں واقع کارگل چوک بھی پٹنہ کا ایک اہم اور قابل ذکرلینڈ مارک بن چکا ہے۔ بیلی روڈ پر ہڑتالی موڑ کے قریب واقع بہار میوزیم کی عمارت باہر سے پر اسرار لگتی ہے۔ 498کڑور کی لاگت سے زیر تعمیر اس میوزیم میں گپت اور موریہ کہ عہد سے لے کر 18ویں صدی تک کے ورثے کو محفوظ رکھا جائے گا ۔میوزیم کی تعمیر اکتوبر 2013میں شروع ہوئی ۔اس عمارت کا نقشہ جاپان اور ممبئی کی کمپنی نے مل کر تیار کیا ہے ۔اگست 2015میں میوزیم کے کچھ حصے کو عام لوگوں کیلئے کھولا گیا مگر چند ماہ قبل اسے دوبارہ بند کردیا گیا ۔میٹھا پور زرعی فار میں 15سالوں قبل تک کھیتی ہوتی تھی ،پانی میں پیدا ہونے والا سنگھاڑا بھی ہوتا تھا ،آج یہاں ایک سے ایک دلکش اور جاذب نظر عمارتیں استقبال کرتی ہیں۔ یہ علاقہ پٹنہ کا ایجوکیشن ہب ہے۔ نیشنل انسٹی چیوٹ آف فیشن ٹیکنا لوجی ،چندر گپت انسٹی چیوٹ آف منجیمنٹ ،چانکیہ نیشنل لایونیو رسٹی ،آریہ بھٹ گیان یونیورسٹی کی عمارتیں یہ بتاتی ہے کہ اب پٹنہ پہلے جیسا نہیں رہا ۔خاص طور پر نیلے آسمان میں جب نیفٹ کی عمارت میں لگے نیلے رنگ کے گلاس چمکتے ہیں تو پٹنہ کا عکس ابھرتا ہے ۔پٹنہ میں رہ کر پارلیمنٹ ہائوس دیکھنا ہے تو سکریٹریٹ کے پاس بنی نئی اسمبلی پہنچ جائیں ۔نئی اسمبلی کی عمارت پارلیمنٹ کی نقل ہے ۔اسے انیکسی بلڈنگ بھی کہا جاتا ہے۔سفید رنگ کی اس عمارت کی تعمیر 362کڑور روپے سے کی گئی ہے ۔ اس عمارت میں ریاستی حکومت کے 35وزراء کے بیٹھنے کیلئے کمروں کا بندوبست ہے۔ اسی میں ایک بڑا آڈیٹوریم ہے جس میں 550لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔اس کی تعمیر بہار قانون سازیہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیلئے کی گئی یہ عمارت گذشتہ سال بن کر تیار ہوئی ہے۔

 

 

 

 

پُرکشش بنانے کے منصوبے
پٹنہ کو خوبصورت اور پر کشش بنانے کیلئے کئی بڑے منصوبے چل رہے ہیں مگر اس میں سب سے خاص گنگا ایکسپریس وے کی تعمیر ہے ۔اسے ممبئی کی میرین ڈرائیو کی طرح بنا یا جا رہا ہے ،جو پٹنہ میں گنگا ندی کے کنارے بنے گا ۔پہلے مرحلے میں دیگھا سے دیدار گنج تک کیلئے 21کیلو میٹر 4لین ٹریک بننی ہے ۔جس پر 316کڑور روپے خرچ آئیں گے قومی شاہرہ 19اور قومی شاہرہ 30،75اور 98سے بھی اس سڑک کو جوڑا جائیں گا ۔اس کے علاوہ مستقبل قریب میں میٹرور ریل چلانے کا بھی منصوبہ ہے جس کیلئے محکمہ شہری ترقیات کوشاں ہے۔آمدورفت کی سہولت کو بہتر بنانے کے لئے ڈی ٹی سی بسوں کی طرز پر بی ٹی سی کی بسیں بھی مختلف روٹوں پر چلائی جارہی ہیں جو سستی ہونے کے علاوہ آرام دہ بھی ہیں۔ ان سب کے باوجود پٹنہ صفائی اور دیگر شہری سہولیات کے معاملہ میں کافی پیچھے ہے۔ قابل رہائش شہروں کی فہرست میں تو وہ بالکل پھسڈی ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف حال ہی میں جاری قومی معیار زندگی انڈکس میں پٹنہ ٹاپ 100میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہاہے۔ مرکزی وزارت شہری ترقیات نے اسمارٹ سیٹی کے لئے منتخب شہروں کا ایک سروے کرایا تھا جس میں 111شہروں نے حصہ لیا تھا۔ سروے صفائی ، ماحولیات ، سیوریچ اور ٹرانسپورٹیشن کو بنیاد بناکر کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں پٹنہ کو 109واں مقام حاصل ہوا ہے۔ جبکہ اسمارٹ سیٹی فہرست میں شامل ریاست کے تین دوسرے شہروں کو پٹنہ سے بہترپوزیشن حاصل ہوئی ہے۔ اس فہرست میں بہار شریف (نالندہ) 108ویں اور بھاگلپور 107ویں نمبر پر ہے تو مظفرپور 63واں مقام حاصل کرکے ٹاپ 100میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔

 

 

 

 

 

صفائی کا خیال

حال کے برسوں کے دوران حالانکہ پٹنہ شہر میں صفائی اور روشنی پر خاص دھیان دیاگیا ہے۔ شہروں کے 74واڈکونسلروں کی مدد سے بھی صفائی اور روشنی کے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ اس کے لئے وارڈ کونسلروں کا ترقیاتی فنڈ بڑھاکر ایک کروڑ کردیاگیا ہے۔ جس سے حالات میں کچھ بہتری آئی ہے۔ مگر اب بھی وہ مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہوسکے ہیں۔ حاص طور سے سیوریج سسٹم کا انتہائی برا حال ہے۔ برسات سے قبل نالوں کی صفائی کا بہت چرچا ہوتا ہے۔ مگر برسات شروع ہوتے ہی ساری تیاریوں کی پول کھل جاتی ہے۔ آدھے گھنٹے کی بارش سے بھی سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے اور اگر دو تین دن لگاتار بارش ہوجائے تو پورا شہر جھیل میں تبدیل ہوجاتاہے۔ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں سے پانی نکلنے کا کوئی معقول انتظام بھی نہیں ہے۔ ایک بار پانی جمع ہوگیا تو ہفتوں تک پانی جمع رہتا ہے۔ نالوں اور سیوریج سسٹم کو تباہ کرنے میں پالی تھین کا بڑھتا ہوا استعمال اہم کردار نبھارہاہے۔ پالی تھین استعمال پر باتیں تو بہت وہیں مگر ابھی تک اس پرسنجیدگی سے عمل نہیں ہوسکا ہے۔ جب تک اس پر سختی سے پابندی عائد نہیں ہوگی اور اسے قابل سزا اور قابل مواخذہ جرم نہیں بنایا جائے گا ، حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ اس کے لئے حکومت سخت قدم اٹھانا پڑے گا اور پختہ سیاسی عزم کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔ عوامی بیداری مہم کے علاوہ کپڑے کے تھیلے بھی تقسیم کرنے ہوگے تاکہ لوگ اس کی اہمیت کو سمجھ سکیں اور ذمہ دار وحساس شہری بن سکیں۔ تجاویزات بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس سے شہر کی صورت بگڑ رہی ہے۔ اور اسے اسمارٹ بنانے میں دشواری ہورہی ہے۔ پٹنہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر تجاویزات ختم کرنے کا عمل تو جاری ہے مگر اس کی رفتار بہت سست ہے۔ فی الحال پٹنہ کے لئے تسلی کی بات صرف اتنی ہے کہ پٹنہ جکشن ملک کے A-175اے ون اسٹیشنوں میں 23واں نمبر حاصل کرکے ٹاپ 25اسٹیشنوں میں شامل ہے اور صفائی ستھرائی کے معاملے میں اس نے نئی دہلی ، لکھنؤ ، بھوپال، وارانسی ، مغل سرائے اور ہوڑہ جیسے اسٹیشنوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ لیکن اتنے سے کام نہیں چلے گا۔ پٹنہ کو مکمل اسمارٹ اور قابل رہائش سٹی بنانے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جس میں حکومت اور انتظامیہ کے علاوہ شہریوں کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہے۔
ُُٖقابل ذکر ہے کہ شہر عظیم آباد پٹنہ زمانہ قدیم سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ ساون کے موقع پر گنگا کے کنارے بڑا ادبی جلسہ ہوا کر تاتھا جس میں ملک کے نامی گرامی شعرا، ادبا،موسیقی کار تشریف لاتے تھے اور اپنے کلام سے خیر سگالی اور ہم آہنگی کا درس دیتے ہوئے اس شہر کی عظمت کا قصیدہ پڑھتے تھے۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب اور داغ دہلوی بھی پٹنہ تشریف لا چکے ہیں۔شاعر مشرق علامہ اقبال کے استاد داغ دہلوی نے تو اپنے اس شعر کے ذریعہ اس شہر کی عظمت کا اعتراف کیا تھا ؎
جو اک چھینٹا پڑے تو داغ کلکتہ چلے جائیں
عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں
پٹنہ کی کئی تاریخی عمارتیں ہیں جو لوگوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں۔عرصے سے یہ شہر فن تعمیرات کانمونہ رہا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر بہار کی ریاستی راجدھانی پٹنہ میں حالیہ ڈیڑھ دہائیوں کے دوران حیرت انگیزانقلابات آئے ہیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *