کشمیریوں کا دل اور بھروسہ جیتنے والے واحد لیڈر تھے اٹل جی

یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اٹل بہاری واجپئی بی جے پی کے واحد لیڈر تھے ، جن کے لئے کشمیریوں کے دلوں میں محبت و احترام بھی تھا اور جن پر عوامی طور پر کشمیر کے لوگ اعتماد بھی کرتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ اٹل جی کی موت کی خبر سن کر وادی کے ہر مکتب فکر کے لوگوں نے اُنہیں اچھے الفاظ میں یاد کیا۔ اُنہیں خراج عقیدت ادا کیا گیا۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ کیا اٹل جی نے بحیثیت وزیر اعظم اپنے دور اقتدار میں واقعی کشمیر کے مسئلے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی تھی یا محض زبانی جمع خر چ سے کام لیا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اٹل بہاری واجپائی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے نہ صرف کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی بلکہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے کے لئے کئی اقدامات کئے۔ ان حقائق کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔
وادی کشمیر کے لوگ اٹل بہاری واجپائی کو اچھی طرح سے اپریل 2003سے جانتے ہیں ، جب وہ بطور وزیر اعظم سرینگر کے دورے پر آئے تھے ۔ یہاں 1989ء میں ملی ٹنسی شروع ہوگئی تھی۔ اٹل بہاری واجپئی پہلے وزیر اعظم تھے ، جنہوں نے یہاں ملی ٹنسی کی شروعات کے بعد سرینگر کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت جموں وکشمیر میں مفتی محمدسعید وزیر اعلیٰ تھے۔ اٹل بہاری واجپئی نے سرینگر کے شیر کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ اُنہوں نے اپنی مخصوص لب و لب لہجے میں ایک ایک لفظ چن چن کر استعمال کیا۔ یقینا وہ کشمیریوں کے دل جیتنے آئے تھے ، جس میں وہ کامیاب ہوگئے ۔ انہوں نے اپنی 12منٹ کی تقریر میں 12سے زائد بار’’ مذاکرات‘‘ کا لفظ دہرایا ۔ در اصل وہ کشمیریوں کو یقین دلانا چاہتے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوسکتا ہے اور اُن کی حکومت اس بات چیت کے لئے تیار ہے۔ وزیر اعظم واجپئی نے سرینگر جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کچھ اس طرح کے الفاظ استعمال کئے : ’’یہ مسئلہ بندوق سے نہیں بلکہ مذاکرات اور مصالحت سے حل ہوگا…میرا ماننا ہے کہ بندوق مسئلے کا حل نہیں ۔ اس سے صرف لوگ مرجاتے ہیں۔ کشمیر کی تقدیر بدلنے کا وقت آگیا ہے…کشمیریوں کے لئے صرف ہمارے دروازے ہی نہیں بلکہ ہمارے دل بھی کھلے ہیں…آیئے ہمارے ساتھ بات چیت کیجئے… ہمیں اپنی شکایات بتایئے۔‘‘

 

 

اتنا ہی نہیں اسی تقریر میں وزیر اعظم واجپئی نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کو دوستی کی پیشکش کر ڈالی ۔ چند ہی گھنٹوں میں اُس وقت کی پاکستانی حکومت ، جسکی سربراہی جنرل پرویز مشرف کررہے تھے ، نے واجپئی کی دوستی کی پیشکش کا مثبت جواب دیا۔ اس طرح سے محض 12منٹ کی تقریر میں واجپئی نے نہ صرف حریت کے ساتھ بات چیت کے لئے راہ ہموار کردی بلکہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی بنیاد ڈالی ۔ حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب صرف چار سال قبل کرگل جنگ ہوئی تھی اور محض دو سال پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا۔ یعنی یہ ایک ایسا وقت تھا کہ کوئی بھی ہندوستانی لیڈر پاکستان کے ساتھ دوستی اور کشمیر کے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے جیسی باتیں کر ہی نہیں سکتا تھا۔لیکن وہ یقینا ایک بہادر اور دور اندیشن لیڈر تھے ۔وہ جانتے تھے کہ دوستی اور بات چیت سے ہی حالات سدھر سکتے ہیں اور مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اُن کی سوچ اس حد تک واضح اور دو ٹوک تھی کہ جب وادی میں صحافیوں نے اُن سے پوچھا کہ انہوں حریت کو بات چیت کی جو پیشکش کی ہے ، کیا وہ مجوزہ بات چیت آئین ہند کے دائرے میں رہ کر ہوگی؟ کوئی اور لیڈر ہوتا تو ہڑبڑاتا یا جواب میں کچھ ایسا کہہ دیتا کہ جو بحث و مباحثے کا باعث بن جاتا۔ لیکن واجپئی نے اس سوال کو جواب دینے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا۔ انہوں نے فوراً کہا، ’’ بات چیت انسانیت کے دائرے میں رہ کر ہوگی۔‘‘
عملی قدم بھی اٹھایا
واجپئی نے سرینگر کی سر زمین پر محض زبانی جمع خرچ نہیں کیا بلکہ واپس دلی پہنچنے کے بعد پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا وعدہ کرکے آئے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ بات چیت تین اصولوں کے تحت ہوگی ۔ انہوں نے کہا ، ہم ’’ انسانیت ، جمہوریت اور کشمیریت‘‘ کے اصولوں کے تحت بات چیت کریں گے اور مسائل کو حل کریں گے ۔اسکے چند ہفتے بعد ہی میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں حریت کا ایک وفد نئی دلی پہنچا ، جہاں اس نے واجپائی سے ملاقات کی اور ان کے نائب ایل کے اڈوانی سے بات چیت کی ۔واجپئی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے آج میر واعظ کہہ رہے ہیں کہ وہ واحد لیڈر جنہوں نے کشمیر کے رستے ہوئے ناسور کو ٹھیک کرنے کرنے کی کوشش کی تھی ۔ میر واعظ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر واجپئی کی وفات پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ’’وہ منفرد بھارتی لیڈر تھے ، جنہوں کشمیر کے رستے ہوئے ناسور کو ٹھیک کرنے کے لئے انسانیت کے دائرے میں بات چیت کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے حریت کانفرنس کے ساتھ غیر مشروط بات چیت شروع کردی ۔ وہ پاکستان کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات قائم کرنا اور تمام مسائل کو حل کرنا چاہتے تھے ۔‘‘ایک اور حریت لیڈر پروفیسر غنی کا کہنا ہے کہ اگر بی جے پی سال 2004کا الیکشن نہیں ہارتی اور واجپئی دوبارہ وزیر اعظم بنتے تو مسئلہ کشمیر حل ہوچکا ہوتا ۔ انہوں نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا، ’’ میرا ایمان ہے کہ اگر بی جے پی الیکشن نہیں ہارتی اور واجپئی دوبارہ وزیر اعظم بنتے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا ہوتا۔‘‘

 

 

 

صرف کشمیر کے معاملے میں ہی نہیں بلکہ پاکستان سے متعلق بھی واجپئی نے کئی ٹھوس اقدامات کئے تھے ۔انہوں نے سرینگر میں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے ساتھ ساتھ عملاً کئی اقدامات کئے ۔ جنوری 2004ء میں یعنی چند ماہ بعد ہی واجپائی سارک کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان گئے ۔ ناقدین نے واجپائی کے ان اقدامات کی کھل کر مخالفت کی ۔انہوں نے کرگل جنگ اور پارلیمنٹ حملے جیسے واقعات کے بعد اتنی جلدی پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی واجپئی کی کوششوں کو ہدف تنقید بنایا۔ واجپائی کے دورہ پاکستان کے موقعے پر اُن کے اور اُس وقت کے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان ’’جامع مذاکرات ‘‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ مذاکرات کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر سمیت آٹھ مسائل رکھے گئے ۔ ان میں امن و سلامتی اور اعتماد سازی کے اقدامات، سیاچن ، سر کریک ، ولر بیراج ، دہشت گردی اور ڈرگ ٹریفکنگ جیسے مسائل شامل تھے ۔مذاکرات شروع ہوجانے کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان عوامی تعلقات بھی فروغ پانے لگے ۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں منقسم کشمیر کے دونوں خطوں یعنی بھارتی زیر انتظام کشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے درمیان 57سال بعد بس سروس شروع ہوگئی ۔جبری تقسیم کا شکار آبادیوں کو پہلی بار بغیر پاسپورٹ اور بغیر ویزا ایک دوسرے سے ملنے کا موقعہ فراہم ہوا۔ ہندو پاک مذاکرات کے نتیجے میں معطل شدہ لاہور ۔ امرتسر بس سروس بھی بحال کی گئی ۔ راجستھان۔ سندھ اور دلی لاہور ٹرین سروس بحال ہوئی ۔دونوں ملکوں کے درمیان ہفتہ وار پروازوں کی تعداد 12سے 28کردی گئی ۔ لائن اور کنٹرول پر ہندو پاک افواج کے درمیان پہلی بار جنگ بندی معاہدہ طے پایا گیا۔
بہر حال کشمیر کا مسئلہ حل تو نہیں ہوااور نہ ہی ہندو پاک کے درمیان تعلقات میں ایک حد سے زیادہ بہتری آئی ۔ اسکی الگ وجوہات ہیں لیکن تاریخ ہمیشہ یہ یاد دلاتی رہے گی کہ واجپئی نے اپنے دور اقتدار میں اپنی طرف سے بھرپور کوششیں کی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان کے غیر متنازعہ لیڈر کے بطور یا د کئے جاتے ہیں۔کم از کم یہ بات تو بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اٹل بہاری واجپئی بی جے پی کے واحد لیڈ رتھے ، جن کے لئے کشمیریوں کے دلوں میں عزت بھی اور جن پر وہ بھروسہ بھی کرتے تھے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *