2019 انتخابات آسان نہیں ہیں 2014 کی طرح

اس کالم کے ذریعہ پچھلے ایک سال سے جو باتیںمیںکہہ رہا ہوں،وہ اب دھیرے دھیرے سب کو معلوم ہورہی ہیں۔الیکشن جیسے جیسے اب نزدیک آرہا ہے، مودی جی اور امیت شاہ کی سمجھ میںآگیا ہے کہ یہ آسان نہیںہے2014 کی طرح ۔ اگر آپ صرف یہ بولتے رہے کہ ہم نے یہ کیا، یہ حصولیابی کی، وہ حصولیابی کی اور پھر الیکشن جیت جائیں، یہ تو ناممکن ہے۔ اگر ریاست وار دیکھیں تو یوپی کی حالت، بہار کی حالت، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، راجستھان اور گجرات جو ان کا گڑھ رہا ہے، وہاںبھی ان کی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔ میںکہتا رہا ہوں کہ چار سال میںجو کام نہیںہوا،وہ چھ مہینے میںنہیںہوتا ہے۔ لیکن ملک کو تو آگے بھی چلنا ہے۔ الیکشن صرف 2019 میںہی نہیں ہونا ہے، آگے بھی ہوتے رہیںگے، تو کچھ قدریںجو پہلے قائم تھیں، ان کو واپس قائم کرنا چاہیے۔
ہاردک پٹیل نے گجرات میں بی جے پی کی حکومت ہلادی تھی۔ پاٹیدار پٹیل کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔ اب انھوںنے مانگیںرکھی ہیںاور انشن کر رہے ہیں۔ ہر کمیونٹی مانگیںرکھتی ہے اور ہر مانگیں ماننا ممکن نہیں ہے۔ لیکن جمہوریت میں سماجی تحریک کی جگہ ہونی چاہیے۔ 1975میں گجرات میںالیکشن کرانا ایک سیاسی مدعا تھا۔ گجرات میںالیکشن کی مانگ کو لے کر مرارجی دیسائی آمرن انشن پر بیٹھ گئے ۔ حالت سنگین ہوگئی۔ اندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں۔انھوںنے کہا کہ میںپریشر میںآنے والی نہیںہوں۔ چندر شیکھر جی کانگریس میںتھے لیکن اندرا جی سے ایک الگ طرح کا اختلاف رہتا تھا۔ وہ اندرا جی سے ملنے گئے اور کہا کہ دیکھئے اندرا جی، اگر مرارجی بھائی کو کچھ ہوگیا تو اس کا نتیجہ بہت سنگین ہوگا۔ وہ نہیںمانیں۔ لیکن پارٹی میںباقی لوگوں نے بھی زور دیا تو بالآخر اندرا جی نے قبول کرلیا اور الیکشن کا اعلان کردیا۔ مرارجی بھائی نے انشن توڑ دیا۔ مرارجی بھائی جہاںانشن کررہے تھے، وہاںسیکڑوں لوگ روز ان کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ اندرا گاندھی جیسی کڑک لیڈر، مقبول لیڈر بھی اگرسماجی مفاد اور صحیح سیاست کے مفاد میں جھک سکتی ہیں، تو میری سمجھ میں نہیںآتا کہ مودی جی کو یا گجرات سرکار کو ہاردک پٹیل کی فکر کیوںنہیںہوتی؟ معاف کیجئے گا اندرا گاندھی شیرنی تھیں۔ آج جو اقتدار میں بیٹھے ہیں ، وہ شیر کا مکھوٹا پہن کر بیٹھے ہیں۔ ان میںتو کوئی دم ہے ہی نہیں۔

 

 

 

مجھے معلوم ہوا کہ ہاردک پٹیل نے انشن کرنے کے لیے جگہ مانگی تو جگہ بھی الاٹ نہیںکی۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟ اپوزیشن کا لیڈر انشن پر بیٹھنا چاہتا ہے، آپ مانیں یا نہ مانیں، دور کی بات ہے، ان کو جگہ تو الا ٹ کردیجئے۔ یشونت سنہا او ر شترو گھن سنہا مل کر آئے ہیں۔ مجھے پتہ نہیںہے کہ اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔ میںنے تو گزارش کی تھی کہ کچھ بھی کرکے انشن تڑوائیے۔ کیونکہ برطانیہ سرکار کے سامنے مہاتما گاندھی جب انشن کرتے تھے تو برطانیہ سرکار ایک حساس سرکار تھی۔ وہ جانتی تھی کہ جو اخلاقی طور پر غلط ہے، وہ غلط رہے گا، تو جھک جاتی تھی۔ لیکن آج اقتدار میںبیٹھے لوگوںکو کوئی پرواہ نہیںہے۔ ان میںاتنا احساس نہیںہے کہ یہ ملک کو سمجھ سکیں۔ ایک کمیونٹی کو سمجھ سکیں۔ ایک شخص کی جان کی پرواہ کریں۔ اس لیے میری ہاردک پٹیل سے گزارش ہے کہ وہ اسے وقار کا موضوع نہ بناکر اپنے حامیوںکی بات مان کر اپنا انشن توڑدیں،اپنی جان بچالیں۔ پھر موقع آئے گا، پھر لڑائی لڑیںگے۔ سماجی مخالفت کے جو طریقے ہیں، وہ جمہوریت میںقائم ہونے چاہئیں۔ وہ راستہ بند کرنا عقل کی بات نہیںہے۔ مخالفت تو سیفٹی والو ہے۔ سیفٹی والو آپ بند کردیںگے تو پریشر کوکر بلاسٹ ہو جائے گا۔ سرکار کو یہ رسک نہیںلینا چاہیے۔
روز روز پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھانا کون سی عقل کی بات ہے، میری سمجھ میںنہیںآتا۔ یہ تو انتہائی ناپسندیدہ بات ہے۔ آپ کے حامی ناراض ہیں۔ ٹھیک ہے انٹرنیشنل پرائس بڑھتی ہے ،گھٹتی ہے، یہ تو ٹیکس کا معاملہ ہے۔ آدھے سے زیادہ پیٹرول کا پیسہ تو ٹیکس میںجارہا ہے۔ سرکار کہہ سکتی ہے کہ خسارہ ہو جائے گا لیکن یہ عقل کی بات نہیں ہے۔ فوری طور پر سرکار کو چاہیے کہ پیٹرول اور ڈیزل کے دام گھٹائے یا کم سے کم مناسب دام طے کرے۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ مودی جی کو بہت شوق ہے ہر چیز میںیہ کہنے کا کہ ہم نے سب سے پہلے کیا۔ تو یہ دام بھی انھوںنے ہی پہلی بار اتنے کردیے ہیں۔ سرکار کا دعویٰ ہے کہ ایل پی جی سلینڈر کروڑوں لوگوںکو دے دیے لیکن آج اس کے دام کیا ہیں؟ جو تین سو روپے کا پہلے ہوتا تھا، وہ آج آٹھ سو کا ہے۔ سرکارغلط راستے پر چلی گئی ہے۔ گمراہ ہوگئی ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ عوام کے تئیں حساس بنے۔
ریزرو بینک کی سالانہ رپورٹ آگئی ہے۔ آر بی آئی نے نوٹ بندی کے اعداد و شمار نکال دیے ہیں۔ اب خود سرکار کی سمجھ میںنہیںآرہا ہے کہ اس کا کیا جواب دیں۔ سارا پیسہ واپس آگیا۔ اب نئی رٹ شروع کی ہے۔ ان کے وزیر خزانہ کہتے ہیںکہ نہیں نہیں یہ ارادہ کبھی ہمارا نہیںتھا کہ روپے نہیںآئیںگے۔ ارادہ کیسے نہیںتھا؟ نوٹ بندی کرنے کے بعد وزیر خزانہ صاحب نے خود اعلان کیا کہ چار لاکھ کروڑ روپیہ کم سے کم کم آئے گا۔ اُتنے پیسے کا ریزرو بینک کا فائدہ ہو جائے گا لیکن فائدہ تو زیرو ہوا۔ 2014 میںجتنی باتیں انھوںنے کہی تھیں، ہر ایک کا یہی حال ہوا۔ چاہے بیرون ملک سے روپے واپس آنے کی بات ہو۔ آج کوئی بات ہی نہیںکر رہا ہے۔ بیرونی ملکوںمیںکتنا پیسہ تھا، کتنا واپس آگیا؟ یہ بول رہے ہیںکہ سویس بینک سے پنامہ میںچلا گیا تو ہم کو کیا فائدہ ؟ یہ تو انڈیا آنے کی بات تھی۔ سرکار کو چاہیے کہ 2014 میںکہی گئی ہر بات کا حساب کتاب عوام کے سامنے رکھے۔ یہ لوگ ہر بات میںجھوٹ بول رہے ہیں۔

 

 

کیا کررہے ہیں آپ؟ روز ایک نیا قانون بنادیتے ہیں۔ آپ نے قانون بنایا کہ ایک خاص مدت کے اندر جو اپنا اکاؤنٹ بند کرکے واپس نہیںلائے گا، اس پر ہم ایکشن لیں گے۔ اس کا حساب تو دیجئے کہ کتنے لوگوںکا باہر اکاؤنٹ تھا۔ آپ بتائیے کہ اتنے اکاؤنٹ میںاتنا روپیہ تھا اور اتنا آگیااور اتنا نہیں آیا ۔ اکاؤنٹ بند ہوگیا لیکن روپیہ نہیںآیاتو ملک کے عوام کو کیا فائدہ ہوا؟
اب سویٹزرلینڈ کی جو معیشت ہے، اس کے خلاف تھوڑے ہی ہم ہیں۔ ان کی اکانومی تھوڑے ہی ہم کو ہرٹ کرنی ہے۔ ہمیںتو ہمارا روپیہ واپس چاہیے تھا۔ وزیر خزانہ واپس اپنے کام پر آگئے ہیں تو تھوڑی اپنی عقل لگائیںکہ پبلک کو کیسے سمجھائیںگے؟ آج عوام آپ پر ہنس رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کرپشن کیسے کم ہوگا۔ وہ تو ایسی بات ہے جو ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ ناممکن بات ہے۔ سسٹم چینج نہیںہو سکتاہے۔ اس سے کرپشن کر نے کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔ آدمی کی ذہنیت نہیں بدل سکتی ہے۔ آپ نے کیا کرپشن کم کردیا؟ بتائیے؟ سسٹم آن لائن کردیا تو کیا اس سے کرپشن کم ہوگیا؟کچھ تو بتائیے پبلک کو۔ کچھ تو ہم لوگوںکو ’گیان‘ دیجئے کہ کیا ہواکیا نہیںہوااور کیا ہونے جارہا ہے؟ ہم تو بول سکتے ہیں،جو ہم بول رہے ہیں۔ باقی دیکھیںکیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *