’بین المذاہب مفاہمت وقت کی اہم ضرورت، سرسید احمد خاں نے ہمیشہ ہندو۔مسلم اتحاد کی وکالت کی‘:سوامی ہری پرساد

Swami-Shree-HariPrasad
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سنٹر برائے بین المذاہب مفاہمت کی جانب سے ایک سمپوزیم آج فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا جس میں چنئی کے مشہور روحانی رہنما اور وِشنو موہن فاؤنڈیشن کے بانی سوامی شری ہری پرساد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ صدارت کے فرائض پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم حنیف بیگ نے انجام دئے۔ سوامی شری ہری پرساد نے اپنے خطاب میں کہاکہ اس وقت سماج کو امن ، بھائی چارہ اور محبت کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے کہاکہ سبھی مذاہب ایک جیسے بنیادی اقدار کی بات کرتے ہیں اور کوئی بھی مذہب لڑنا یا نفرت کرنا نہیں سکھاتا۔انھوں نے کہا کہ انسان جس چیز کو خود کے لئے بہتر نہیں سمجھتا یا اسے نقصان دہ سمجھتا ہے اسے دوسروں کے لئے بھی اپنانا چاہئے۔
سوامی ہری پرساد نے کہاکہ سرسید احمد خاں نے ہندو۔مسلم اتحاد کی بات کی ہے اور سبھی ہندوستانیوں کو یکساں سمجھا۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپنے مالک تک پہنچنے کے لئے انسان کس طرح اور کب عبادت کرتا ہے ، اختلافات کو برداشت کرتے ہوئے انسان کو عدم تشدد کا راستہ اپنانا چاہئے۔ انھوں نے کیرالہ میں حالیہ سیلاب کے دوران مسلمانوں کے لئے ہندو بھائیوں کے ذریعہ مندروں کے دروازے کھولے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ میرے گرو نے امن کا پیغام انسانوں تک پہنچانے پر زور دیا تھا۔ سوامی ہری پرسادنے بتایا کہ وہ ہر سال امن پر عالمی کانفرنس منعقد کرتے ہیں جس کا مقصد اس پیغام کو بار بار یاد دلانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بین مذاہب تعلقات بہتر ہونے سے سماج میں امن اور خوشحالی پیدا ہوگی۔
سمپوزیم کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد حنیف بیگ نے کہاکہ اسلام سبھی مذاہب کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ پیغمبر محمدﷺ نے ہمیشہ درمیانی راستہ اپنانے کی تلقین کی اور انتہاپسندی سے دور رہنے کا حکم دیا۔
پروفیسر بیگ نے کہاکہ تنوع قدرت کا قانون ہے، مختلف رنگوں کے پھول، مختلف خوشبو، مختلف قسم کے درخت وغیرہ یہ سبھی اختلافات اور تنوع یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں تنوع اور اختلاف کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔ سنٹر برائے بین المذاہب مفاہمت کے قیام کو سرسید احمد خاں کی تحریک کی کڑی میں ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے پروفیسر بیگ نے کہاکہ سرسید نے ہمیشہ ہندوؤں اور مسلمانوں سمیت سبھی طبقات کے پرامن بقائے باہم کی ضرورت پر زور دیا ۔
خلیق احمد نظامی سنٹر برائے قرآنی مطالعات کے ڈائرکٹر پروفیسر عبدالرحیم قدوائی نے سمپوزیم کے عنوان کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ مستشرقین نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں سیکڑوں کتابیں لکھیں اور ان کے جوابات لکھے گئے، تاہم حالیہ برسوں میں ایک مثبت تبدیلی یہ آئی ہے کہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان مشترکہ باتوں کی تلاش کی جارہی ہے اور اس پر حال ہی میں دو اہم کتابیں سامنے آئی ہیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ سرسید سبھی طبقات کے لئے اصلاحات کے حامی تھے اور انھوں نے پچاس سے زائد مضامین میں ہندو سماج میں پائی جانے والی برائیوں کی نشاندہی کی ہے۔
شعبۂ دینیات کے پروفیسر سعود عالم قاسمی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ بین المذاہب مفاہمت کی شروعات پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ نے کی۔ انھوں نے متعدد بار یہودیوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ امن کے معاہدے کئے۔ پروفیسر قاسمی نے کہا کہ البیرونی نے سنسکرت سیکھی اور ہندو مذہب و سماج کے بارے میں لکھا۔ اسی طرح سرسید نے عبرانی اور کلدانی زبانیں سیکھیں اور بائبل کی تفسیر لکھی۔ یہ باہمی ثقافتی تبادلے کی مثالیں ہیں۔
اس سے قبل سنٹر برائے بین المذاہب مفاہمت کے ڈائرکٹر پروفیسر سید علی محمد نقوی نے پرو وائس چانسلر، مہمان خصوصی اور دیگر مدعوئین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمیشہ بین المذاہب مفاہمت کے لئے وقف رہی ہے اور ادارے کے بانی سرسید احمد خاں ہندوستان میں بین المذاہب مفاہمت سے سب سے پہلے چیمپئن اور علمبردار رہے ہیں۔ انھوں نے پر امن بقائے باہم کے لئے بین المذاہب مفاہمت کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا۔
آخر میں سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شاہد نے مہمان خصوصی سوامی شری ہری پرساد، پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم ایچ بیگ اور دیگر حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شارق عقیل نے انجام دئے۔ سمپوزیم کے دوسرے حصہ میں ایک پینل مباحثہ ہوا جس میں پروفیسر اسمر بیگ، پروفیسر شکیل صمدانی، پروفیسر امان اللہ، پروفیسر مسعود، پروفیسر لطیف کاظمی، ڈاکٹر محب الحق، پروفیسر راشد شاز، ڈاکٹر کوثر فاطمہ، مسٹر نریش شرما، مسٹر سریندر کمار وغیرہ نے اپنے خیالات پیش کئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *