اسٹنگ آپریشن کا چونکانے والا انکشاف بنگال کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکا جارہا ہے

جنم اشٹمی کا تہوار پرامن ماحول میں گزرگیا ، ریاست کے کسی بھی حصے سے فرقہ وارانہ تشدد اور جھڑپ کی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ تاہم ابھی حکومت کا امتحان ختم نہیں ہوا ہے۔نومبرتک کئی بڑے تہوار ہونے ہیں جس میں درگا پوجا اور کالی پوجا بھی شامل ہے ۔اس کے بعد رام نومی، ہنومان جینتی اور ہولی جیسے تہوار ہونے ہیں۔ ان تمام تہواروں میں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنا اور فرقہ وارانہ تشدد کی آگ سے ریاست کو بچائے رکھنا ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے؟۔چوں کہ اگلے سال 2019کے پہلے چوتھائی میں ہی عام انتخابات ہونے ہیں، ایسے میں یہ چیلنج بہت ہی بڑا بن جاتا ہے ۔
مگر سوال یہ ہے کہ یہ تہوار مغربی بنگال میں پہلے بھی ہوا کرتے تھے، لیکن ان تہواروں کے دوران امن وامان کا ماحول کو برقرار رکھنا چیلنج کیوں بن گیا ہے؟حالات میں کیا تبدیلی آئی ہے کہ ریاست میں تیزی سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول ختم ہوتا جارہا ہے اور کئی دہائیوں تک فرقہ وارانہ تشدد سے پاک رہنے والا مغربی بنگال فرقہ واریت کے آتش فشاں کے قریب پہنچ چکا ہے ۔اس کیلئے ذمہ دار کون ہیں؟اس کو سمجھنے کیلئے ملک بھر میں حکمرانی کرنے والی سیاسی جماعت کے قومی سربراہ امیت شاہ کا گزشتہ مہینے ہی کلکتہ میں برسر عام یہ اعلان کرنا کہ اگر ان کی پارٹی بنگال میں اقتدار میں آئی تو ہندئوں کو درگا پوجاکرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی،کو دیکھا جاسکتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ آخر امیت شاہ کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟کیا بنگال میں درگا پوجاکی عام اجازت نہیں ہے؟ کیا ہندئوں کو مشکلات کا سامنا ہے؟
ظاہر ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ بنگال کا درگا پوجا ہندئوں کے تہوار سے کہیں زیادہ یہ بنگالیوں کا سالانہ ثقافتی اور کلچرل پروگرام ہے جس میں بڑی تعداد میں مسلمان انتظامات و انصرام میں حصہ دار ہوتے ہیں ۔درگا پوجاکمیٹیوں کے مسلمان بھی ممبر ہوتے ہیں اور درگا پوجا کیلئے مختلف اقسام کے پنڈال کیلئے کام کرنے والے زیادہ تر ورکروں کا تعلق بھی مسلم طبقے سے ہوتا ہے۔ایسے میں مرکز میں حکمراں جماعت کے قومی صدر اگر اس طرح کا گمراہ کن بیان دیتے ہیں تواس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بنگال جیسی ریاست کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیںکیوں کہ ان کے پاس ترقیاتی ایجنڈا نہیں ہے ۔اس لیے ان پروپیگنڈوں کے ذریعہ بنگال میں ہندئوں اورمسلمانوں کے درمیان لکیر کھینچنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انجینئرنگ کے طالب علم رہ چکے سوئیبل داس گپتا نے ایک اسٹنگ آپریشن کے ذریعہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے مقامی لیڈروں کے خوف ناک عزائم کا پردہ فاش کیا ہے کہ بنگال کو فتح کرنے کیلئے آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈران بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی کوشش کررہے ہیں اور گزشتہ تین چار سالوں میں ریاست میں کہیں بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں تو اس کا سرا آر ایس ایس اور بی جے پی لیڈروں تک ضرور ملتا ہے ۔

 

 

 

فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ
وزارت داخلہ کی رپوٹ بتاتی ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2015میں فرقہ وارانہ فسادات کے 27واقعات ہوئے جس میں پانچ افراد کی موت اور 84افراد زخمی ہوئے جب کہ 2017میں فرقہ وارانہ فسادات کی تعداد دوگنی ہوگئی ۔58فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوئے جس میں 9افراد کی موت ہوئی اور 230افراد زخمی ہوئے ۔وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق، 2011سے 2014کے درمیان ریاست میں سالانہ اوسطاً 20فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوتے تھے ۔یعنی 2015کے بعد ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔سوال یہ ہے کہ آخر حکومت اسے کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں رہی ہے؟۔ مشہور سماجی کارکن اور حقوق انسانی کے شعبے میں سرگرم رہنے والے سجاتا بھدرا اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریہ کا کائونٹر کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ ہندو وٹ کو بچانے کیلئے خود بھی ’’نرم ہندتو‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہوگئی ہے ۔
بھدار کہتے ہیں کہ رام نومی ، جنم اشٹمی جیسے مذہبی تہواروں کو سیاسی رنگ دینے کی بی جے پی اور آر ایس ایس کو نہ صرف کھلی چھوٹ دی گئی بلکہ خود ترنمول کانگریس ان تہواروں کو سیاسی کرن کرکے خود کو ہندو ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔خیال رہے کہ تین دن قبل جنم اشٹمی کے موقع پر ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر ، بنگال کے اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور سابق آئی پی ایس آفیسر حیدر عزیز صفوی کی جنم اشٹمی کے موقع پر پوجا کرنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائر ہورہی ہے ۔اس سے قبل ایک اور ممتا بنرجی کے کابینہ کے سینئر وزیر اور حکومت میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے فرہاد حکیم کی پوجا اور رام نومی کے جلوس میں ہندو روایتی لباس میں تصویر یں عام ہوچکی ہیں۔سجاتا بھدرا کہتے ہیں کہ یہ سب کیا ہے ؟ نرم ہندو تو کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور ترنمول کانگریس کے اسی طرز عمل کی وجہ سے آر ایس ایس اور بی جے پی کو اپنے پائو ں پھیلانے کا موقع مل گیا ہے ؟
بابری مسجد-رام مندر کا ایشو بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے انتخابات میں مخالفین کو شکست دینے کا بہترین ذریعہ رہا ہے ۔1992میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے ہی تمام انتخابات میں بابری مسجد اور رام مندر کی تعمیر کا ایشو کسی نہ کسی درجہ میں انتخابی ایجنڈے میں نمایاں رہا ہے ۔گرچہ بی جے پی 2014کا پارلیمانی انتخاب’’ترقی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کے نام پر لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے مگر انتخابی مہم کے دوران مودی سے لے کر دیگر لیڈروں نے مختلف مواقع پر رام مندر کا راگ الاپنے سے گریز نہیں کیا ۔ 2014 کے بعداس فہرست میںلو جہاد،گئو کشی،سلمانوں کی آبادی میں اضافہ ، پاکستان اور اب ملک بھر میںاین آر سی کے نفاذ جیسے مطالبات شامل ہوگئے ہیں۔بی جے پی اور دائیں بازوں کی جماعتوں کی انتہا پسندانہ عزائم کا مرکز عام طور پر ہندی بولنے والی ریاستیں ہوا کرتی تھیں مگر گزشتہ چند سالوں میں غیر ہندی بولنے والی ریاستوں کو فتح کرنے اور زعفرانی رنگ میں رنگ دینے کی تمنا نے غیر ہندی بو لنے والی ریاستیں جہاں فرقہ پرستی کے ایشوز کبھی بھی اہم نہیں رہے ہیں، کو بھی فرقہ واریت کے جراثیم سے متاثر کردیا ہے۔
سماجی کارکن سوئیبل داس گپتا نے آر ایس ایس اور ذیلی تنظیموں کے عزائم سے متعلق جو انکشافات کیے ہیں وہ حیرت انگیز تو نہیں ہیں تاہم آر ایس ایس اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں پر لگنے والے الزامات کوسچ ثابت کرتے ہیں ۔سوئیبل داس گپتا آر ایس ایس اور اس کے کاموں اور آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کے زیر اہتمام چلنے والے اسکولوںودیا بھارتی اور سرسوتی سیشو مندر کی شاخوں کے نصاب سے متعلق جاننا چاہتے تھے مگر ایک عام ہندو ہونے کی حیثیت سے ان کیلئے یہ ممکن نہیں تھا ۔ چنانچہ نہوں نے اپنی شناخت میں تبدیلی لائی اور خود کو خاندانی آر ایس ایس کا ثابت کرکے بنگال آر ایس ایس سے وابستہ ہوگئے ۔کئی مہینوں تک آر ایس ایس کے مختلف پروگراموں میں شرکت کے بعد سوئیبل داس گپتا کے سامنے جوحقائق آئے وہ ان کیلئے حیرت انگیز تھے ۔سوئئیبل داس گپتا اب ان تمام حقائق کو کتابی شکل میں سامنے لارہے ہیں ۔

 

 

 

 

رام مندر کی آواز دیہی علاقوں سے
سوئیبل داس گپتا نے آر ایس ایس کے ممبر کی حیثیت سے بنگال کے مقامی بی جے پی لیڈروں سے رابطہ کرکے ریاست میں بی جے پی کو مضبوط کرنے کے عزائم سے متعلق معلومات حاصل کی ۔بی جے پی لیڈروں نے انہیں بتایا کہ اس مرتبہ رام مندر کی تحریک اور اس کیلئے زور دار آواز ہندی بولنے والی ریاستوں سے نہیں بلکہ کے دیہی علاقوں سے اٹھے گی اور اس کیلئے ریاست کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلائی جائے گی۔ا س منصوبے کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے آر ایس ایس سے وابستہ تنظیمیں ریاست کے مختلف علاقوں میں رام نومی، جنم اشٹمی ، ہنومان جینتی اور دیگر مواقع پر مذہبی جلوس نکالے گی ۔ چنانچہ دو دن قبل وشو ہندو پریشد نے بجرنگ دل کے تعاون اور اشتراک سے بنگال کے تمام اسکولوں اور کالجوں میں لوجہاد کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے ۔
اس مہم کے تحت تمام اسکولوں اور کالجوں میں کیمپ لگایا جائے گا اور ہندو لڑکیوں کو بتایا جائے گا کہ وہ کسی بھی مسلم لڑکے سے دوستی نہ کریں کیوںکہ وہ خاص منصوبے کے تحت ’’اپنی محبت‘‘ میں پھنساسکتے ہیں ۔گرچہ وشو ہندو پریشد کی اس پریس کانفرنس کے بعد ریاستی وزیر شہری ترقیات فرہاد حکیم نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے مگر یہ ناکافی تھا ۔کیوں کہ وزارت داخلہ کا چارج وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے پاس ہے اوراگر خود سامنے آکر وہ وشو ہندو پریشد کو تنبیہ کرتی کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس طرح کی نفرت انگیز مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو بات کچھ اور ہوتی۔گزشتہ چند سالوں میں مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ تشدد اور جھڑپ کے واقعات میں جو اضافے ہوئے ہیں، اس کی و جوہات کا صحیح سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔لیکن گزشتہ تین چار سالوں میں جتنے بھی ریاست میں فرقہ وارانہ جھڑپ اور تشدد کے واقعات ہوئے ہیں قومی میڈیا بالخصوص ہندی نیوزچینلوں نے اس کیلئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی ہے۔
ڈھولا گڑھ فرقہ وارانہ فسادات ہو یا پھر شمالی 24پرگنہ کے حاجی نگر اور حالی شہر کا فرقہ وارانہ تشدد یا بشیر ہاٹ اور یا گزشتہ سال رام نومی کے موقع پرآسنسول اور رانی گنج کافرقہ وارانہ فسادات جس میں مسجد کے امام کے نابالغ بیٹے کو بھیڑ نے مار مارکر ہلاک کردیا تھا، ان تما فسادات کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔ ایک قومی اور بہت ہی معتبر انگریزی اخبار نے بشیر ہاٹ جہاں فیس بک پر پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خانہ کعبہ سے متعلق توہین آمیز خاکہ اور پوسٹ کیے جانے کے بعد مسلمانوں نے بڑے پیمانے سڑک جام کرکے احتجاج کیا تھا کو فرقہ وارانہ فسادبتاتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ فسادات ممتا بنرجی کی مسلم پالیسی کا نتیجہ ہے اور ممتا بنرجی نے اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں کو دنگا کرانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جبکہ یہ حقیقت کے سراسر خلاف ہے۔حقیقت تو وہ ہے جسے سوئیبل داس گپتا نے اسٹنگ آپریشن کے ذریعہ عام کیا ہے ۔
سوئیبل داس گپتا نے کلکتہ شہر سے متصل ہوڑہ ضلع کے بی جے پی کے جنرل سیکریٹری نتیش کمار سنگھ کے ای میل کو حاصل کیا ہے جس میں 3ستمبر کو جنم اشٹمی کے موقع پر ہوڑہ کرشنا مٹھ سے ہوڑہ اسٹیشن تک جلوس نکالنے کے منصوبے کا ذکر کا تھا کہ کس طریقے سے اس جلوس کو مسلم علاقوں سے گزارکر اشتعال پھیلا یاجائے گا۔اسی طر ح کا جلوس کلکتہ شہر کے مسلم اکثریتی علاقہ مٹیا برج اور پرولیا سے بھی نکالنے کے منصوبے کا ذکر تھا۔سوئیبل داس اور بی جے پی لیڈر منوج کمار کے درمیان ہونے والے بات چیت میں صاف صاف ذکر ہے کہ جنم اشٹمی کے موقع پر بڑے پیمانے پر مذہبی جلوس نکال کر اشتعال انگیزی کے ذریعہ مسلمانوں کو حملہ کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔مگر سوال یہ ہے کہ سوئیبل داس گپتا کے اس اسٹنگ آپریشن کے بعد ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت حرکت میں کیوں نہیں آئی ؟۔اس نے کار نتیش کمار سنگھ اور منوج کمار جیسے لیڈروں سے پوچھ تاچھ کیوں نہیں کی؟ اور اس معاملے میں گرفتاری کیوں نہیں ہوئی ؟۔ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کو ان سوالوں کا جواب دینا ہوگا یا پھر سی پی ایم اور کانگریس کا یہ الزام درست ثابت ہوگا کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمینان دوستانہ مقابلہ ہورہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *