کلدیپ نیئر کا اردو صحافت سے عشق کا راز

7ستمبر 1947 کودہلی کے دریا گنج میں لوہے کے مشہور کراسنگ اوور برج جسے چند برسوں قبل ہٹا دیا گیاہے، کے پاس ایک فوجی گاڑی کی رکتی ہے اور اس میں سے ایک 24سالہ پنجابی نوجوان اپنے کل سرمایہ ایک تھیلے کے ساتھ گاڑی سے باہر آتے ہیں اورپھر گاڑی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر یہ نوجوان سوچتا ہے کہ اب کہاں جائیں، سیالکوٹ میں بے گھر ہونے کے بعد جان بچانے کیلئے کسی کی مہربانی سے آنے کوتو یہاں آگئے مگر یہاں کوئی شنا سا نہیں ہے ، پورا شہر اجنبی ہے۔ پھر اچانک انکی نظر وہیں سڑک کنارے ایک عمار ت پر پڑتی ہے جس پر لکھا تھا کمیونسٹ پارٹی آ ف انڈیا( سی پی آئی) ۔ یہ نوجوان کمیونسٹ تحریک سے کچھ واقف تھے۔ ان کے قدم اس طرف بڑھے۔
یہ اس پارٹی کی دہلی شاخ کا آفس تھا جہاں اس کے سکریٹری 27سالہ ایم فاروقی (مقیم الدین فاروقی)اندر کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر اجازت لیکر یہ نوجوان آفس کے اندر جاتے ہیں اورایم فاروقی سے اپنی پوری داستان سناکر مدد مانگتے ہے۔ ایم فاروقی کہتے ہیں کہ گرچہ آپ وکالت کی ڈگری رکھتے ہیں مگر یہاں اجنبی ہونے کے سبب آپ کا یہاں فی الحال پریکٹس کرنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا کچھ اورکیجئے روزی روٹی کی خاطر۔ پھر ایم فاروقی کو کچھ یاد آتاہے اورکہتے ہیں کہ کل میرے پاس پرانی دلّی کے گلی قاسم جان میں احاطہ کالے صاحب سے اردو روزنامہ ’ انجام‘ کے مالک اورایڈیٹر آئے تھے، انہیں اردو ، فارسی اورانگریزی جاننے والے ایک سب ایڈیٹر کی ضرورت ہے۔ آپ وہیں چلے جائیے ،میں انہیں خط لکھ دیتا ہوں۔ اس پر یہ نوجوان کہنے لگے کہ میں نے تو وکالت پڑھی ہے، مجھے صحافت نہیں آتی ہے۔ اس نوجوان کی بے بسی کودیکھ کر ایم فاروقی اسکی ہمت بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کواردو اورفارسی کے علاوہ انگریزی آتی ہی ہے، آپ اخباری کام کوبحسن وخوبی نبھا لیں گے۔یہ وہی ایم فاروقی تھے جو اس سے قبل 1941میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جنرل سکریٹری اور بعد میں سی پی آئی کی نیشنل ایگزیکٹیو اورنیشنل سکریٹریٹ کے رکن بھی بنے اور 1997میں ان کا انتقال ہوگیا۔یہ اس نوجوان کے ہندوستان میں آنے کے بعد پہلے محسن ہوئے۔

 

 

 

اس طرح یہ نوجوان ’ انجام‘ سے صحافت کا آغازکرتے ہیں اور ان کا اس پروفیشن میں دل لگ جاتا ہے۔ پھرکسی وجہ سے یہ ایک ڈیڑھ برس بعد ’وحدت‘ اخبار میں چلے جاتے ہیں۔اسی دوران مولانا حسرت موہانی کے مشورہ پر یہ انگریزی جرنلزم میں ایم ایس اسی کرنے کی غرض سے انہی کے تعاون سے امریکہ چلے جاتے ہیں اوروہاں سے لوٹ کر پنڈت گوبند بلھ پنت اورلال بہادر شاستری کے پریس انفارمیشن افسر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ بعد ازاں یواین آئی ، دی اسٹیسمین اورانڈین ایکسپریس کی سربراہی کرتے ہیں اورپھر اپنی نجی سنڈیکیٹیڈ سروس کے ذریعے کالم ’بین السطور‘ آخری دم تک لکھتے ہیں۔
یہ نوجوان کوئی اور نہیں کلدیپ نیئر تھے جن کا 23اگست کوانتقال ہوا ہے۔ ان کے اردو صحافت سے عشق کا رازیہی ہے کہ اس کے ذریعے یہ انگریزی اورمین اسٹریم صحافت میں آئے، وہ اس حقیقت کوکبھی نہیں بھولے اوراپنا کالم اردو اخبارات میں بھی چھپواتے رہے، خواہ انہیںاسکا محنتانہ ملے یانہ ملے۔اپنی مصروفیت کے سبب انگریزی میں لکھے کالم کواردو میں ترجمہ کرواتے تھے، اس کا دیگر ایک درجن زبانو ں میں ترجمہ ہوا کرتا تھا۔ ایک بار جب راقم الحروف نے ان سے کہاکہ آپ کے کالم کا اردو ترجمہ اچھا نہیں ہوتاہے،کس سے کرواتے ہیں۔ اس پرانہوںنے فرمایاکہ اسکا انہیں اندازہ ہے اوروہ اس جانب مترجم کی توجہ مبذول کرواتے بھی رہتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اردو مترجم بے روزگار ہے،اس سے ترجمہ نہ کرانے پر وہ معاشی تنگی میں پڑ جائے گا۔ ایک لمبے عرصے سے اس مترجم سے یہ کام لیتے رہے۔ اس تعلق سے ان کے ذہن میں دوباتیں تھیں۔ ایک یہ کہ ان کا کالم اردو میں ہرحال میں آئے کیونکہ اردو صحافت کا ان پر زبردست احسان تھا جبکہ دوسری بات اس نوجوان مترجم کی مدد کرنا تھا۔
اردو صحافت سے عشق کا حال یہ تھا کہ اس سے متعلق ہر چھوٹے بڑے پروگرام میں یہ شرکت کرنے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو اخبارات ورسائل اور اردو صحافیوںکے درمیان کلدیپ نیئر ایک محبوب نام تھا۔ اندر کمار گجرال نے بحیثیت وزیر اطلاعات ونشریات جورپورٹ تیار کی تھی اورجوگجرال رپورٹ کہلائی، اس میں انکا عملی تعاون شامل تھا۔ نیز اردو ایڈیٹرزکانفرنس میں بھی ان کی شرکت رہتی تھی۔اردو اوراردوصحافت سے متعلق ہرادارے سے یہ تعلق رکھتے تھے۔
کلدیپ نیئر کا اردو صحافت سے تعلق فطری شکل اختیار کرگیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دہلی سے شائع ہورہے اردو روزنامہ ’ ہندوستان ایکسپریس ‘ کے سینئر صحافی ظفر انور نے اردو اکیڈمی دہلی اور این سی پی یو ایل کے تعاون سے چھپی ’’ دہلی کے 50اردو صحافی ‘‘ کتاب میں کلدیپ نیئر کو بطور اردو صحافی سرفہرست رکھا اوراس میں ان کی تحریری دعاء تصاویر کے ساتھ شائع کی جسے خوب پسند کیاگیا۔

 

 

 

’چوتھی دنیا‘ سے بھی ان کا خوب لگاؤ تھا۔ ان کے اس سے لگاؤ کی وجہ اردو صحافت کے علاوہ یہ بھی تھی کہ ان میں اور ’چوتھی دنیا‘ میں اصولی، معروضی اورانویسٹی گیٹیو پہلوقدرے مشترک تھے۔ کلدیپ نیئر مزاجاً انویسٹی گیٹیو صحافی تھے اور چوتھی دنیا بھی اسی صحافت کیلئے جانا جاتا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ جی سے یہ بہت محبت کرتے تھے اوران کی اورکمل مرارکا جی کی دعوت پر اجتماعی افطار میں ضرور آتے تھے۔اردو صحافیوں میں یہ سہ روزہ دعوت کے چیف ایڈیٹر مرحوم محمدمسلم سے بھی بہت قریب تھے اورکلدیپ نیئر کا مسلم مرحوم کے یہاں آنا جانا بھی ہوتا تھا۔
اردو صحافیوں سے ان کا یہ تعلق مخصوص نہیں بلکہ عمومی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے اردو صحافی بھی ان کے یہاں آیا جایا کرتے تھے۔اتنے بڑے صحافی کا دروازہ سب کیلئے کھلا ہواتھا۔ سچ تو یہ ہے کہ کلدیپ نیئر کے چلے جانے سے اردو صحافت ایک سرپرست سے محروم ہوگئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کلدیپ نیئر کے رخصت ہوجانے کے بعد کیا انکی سنڈیکیٹیڈ سروس بند ہوجائے گی؟ جب کلدیپ نیئر برطانیہ ہائی کمشنر کے طور پر گئے تھے تب بھی یہ مسئلہ اٹھا تھا۔ تب اس سروس کوبرقرار رکھا گیاتھا اورپھر برطانیہ سے واپسی پر کلدیپ نیئر نے اسے پھرسے سنبھال لیا تھا۔ لہٰذا کوشش کرنی چاہئے کہ 28برس قبل کی مانند اس سروس کو مختلف کالم نویسیوں کی تحریروں کے ذریعے زندہ رکھا جائے تاکہ کلدیپ نیئر نے جن اصول واقدار کو آگے بڑھا یا وہ سلسلہ بند نہیں ہو اورجاری رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *