سعودی عرب ولی عہد کی مملکت کو نئی سمت دینے کی کوشش

سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نئی اصلاحات کے ذریعہ مملکت کو ایک نئی سمت دینا چاہتے ہیں تاکہ قومی ترقی کا انحصار پٹرول کے بجائے صنعتوں پر ہو، ساتھ ہی وہ یہ چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل روایتی طرز زندگی سے ہٹ کر جدید دور کے قدم سے قدم ملا کر چلے۔ان کے اس عمل نے مملکت کے نوجوانوں میں انہیں ہیرو بنا دیا ہے۔البتہ ان کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو سخت گیر حکمراں کی ہے۔اسی رخ کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ دنوں امام حرم شیخ صالح کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس گرفتاری کو ملک کے بہت سے لوگ ناپسندگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

الجزیرہ عربی کی ویب سائٹ پر ایک خبر نشر ہوئی۔خبر یہ تھی کہ امام حرم شیخ صالح آل طالب کو گرفتار کرلیا گیاہے۔ گرفتاری کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے منکرات اور منکرات کو جائز قرار دینے والے کو اسلام کا منکر ہونے پرخطبہ دیا تھا۔انہوں نے اپنے خطبے میں گمراہ اور ظالموں کے لئے بددعائیں کی تھیں۔ واضح رہے کہ شیخ صالح آل طالب کا تعلق بنی تمیم سے ہے۔بنی تمیم مملکت میں ایسا خاندان ہے جو علوم و قضا اور حفظ قرآن کے سلسلے میں معروف ہے۔شیخ صالح نے یہ خطبہ اپنی گرفتاری سے چند گھنٹے پہلے دیا تھا۔ سعودی شہری حقوق کے نگہبان یحیٰ عسیری کا کہناہے کہ سعودی حکومت ہر اس شخص کو پابہ زنجیر کردینے کے درپے ہے جو اس کے کسی قسم کے تصرفات پر تنقید کرے۔

 

 

 

 

 

گرفتاری کی وجہ
حالانکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ شیخ صالح کو گرفتار کرنے کی بنیادی وجہ کیا ہے ۔ یہ گرفتاری ان کے خطبہ کی وجہ سے ہوئی ہے یا کسی اور وجہ سے؟ حکومت کی طرف سے خاموشی ہے ۔البتہ سعودی علما ء اور مذہبی دانشوروں کی نگرانی اور ان کی گرفتاری کی دستاویزات رکھنے والے ’’ضمیرکی آواز کے قیدیوں‘‘کی وکالت کرنے والے گروپ کا کہنا ہے کہ شیخ صالح کو اس خطبہ پر، جس میں انہوں نے عوام میں پھیلی برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے اسلامی تقاضہ پر زور دیا تھا،گرفتار کر لیا گیا ہے۔
دراصل امام صالح نے اپنے خطبہ میں تفریحی پروگراموں اور دیگر پروگراموں میں عورت ومرد کے خلط ملط ہونے کی برائی کے خلاف آواز بلند کی تھی۔جبکہ اس وقت سعودی عرب کے ولیعہد ملک کو قدامت پسندی اور روایتی تہذیب و ثقات سے باہر نکال کر جدید تہذیب کی رنگوں میں رنگنے کی انتھک کوششوں میں ہیں۔ انہوں نے ورژن 2030 کے تحت ایک نیا سعودی عرب لانے کا عزم کررکھا ہے اور اس مقصد کے لئے سعودی عرب کے روایتی قانون میں کئی ترمیمات بھی کی ہیں۔ ولیعہد خواتین اور مردوں کے اختلاط کو غلط نہیں سمجھتے ہیں ۔چنانچہ انہوں نے ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے ملک میں ایسے انتہاپسند ہیں جو عورتوں اور مردوں کے گھلنے ملنے کو منع کرتے ہیں اور کسی مرد اور عورت کے تنہا ایک ساتھ ہونے اور کسی کام کرنے کی جگہ پر ان کے گھل مل کر کام کرنے کے درمیان فرق سمجھنے سے قاصر ہیں۔ان میں سے بہت سے عقائد و خیالات رسول کریم کے دور کے طرز زندگی سے تضاد رکھتے ہیں۔ظاہر ہے کہ امام صالح نے جو خطہ دیا ہے، وہ محمد بن سلمان کے ورژن 2030 کے بالکل خلاف ہے ۔ ایسے میں ان کا گرفتار کیا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔
گرفتاری پر رد عمل
ان کی گرفتاری کو دنیا بھر میں دو نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے ۔ایک نقطہ ان لوگوں کا ہے جو محمد بن سلمان کے طرز حکومت کو ڈکٹیٹر اور بولنے کی آزادی کو سلب کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے لوگ شیخ صالح کی گرفتاری کو غیر انسانی قرار دے رہے ہیں۔ایسے ہی لوگوں میں نئی دہلی پارلیمنٹ جامع مسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی ہیں۔ انہوں نے امام صالح کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی حکومت نہ صرف سعودی حکوت بلکہ دنیا کی کوئی بھی حکومت امام کو نیکی کی ہدایت اور برائیوں سے روکنے کے لئے منع نہیں کرسکتی اور جو حکومت ایسا کرے گی وہ دین اسلام او رقرآن وحدیث کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوگی۔ہمارا مطالبہ ہے کہ امام حرم سمیت جو بھی ائمہ اب تک گرفتار کیے گئے ہیں، انہیں فوری طورپر رہا کیاجائے ۔ورنہ عالم اسلام سے مطالبہ ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ہنگامی اجلاس طلب کرے او ر ائمہ کے حقوق و اقدار کی پامالی پر روک لگائے۔
مولانا ندوی نے کہاکہ حرمین شریفین کے معاملات میں مداخلت کرنا او رائمہ کی زبان پر تالا بندی کرنا کسی بھی حکومت کو زیب نہیں دیتا۔انہوں نے کہاکہ منکرات ا ور معروفات کو بیان کرنا ائمہ کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ایسے میں کسی امام کو ان کے فرائض منصبی کو ادا کرنے کی وجہ سے گرفتار کرنا یقینا افسوسناک اور بدنصیبی کی بات ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم دعاء کرتے ہیں کہ اللہ تعالی حرمین شریفین کی ایسی حکومت اور ایسے حکمرانوں سے حفاظت فرمائے جو سیاسی مفادات اور حصول اقتدار کے لئے ان کی عزت وقار پر حملہ کررہے ہیں۔مولانا ندوی نے کہاکہ یہ امام حرم پر حملہ نہیں ہے، یہ ان کو گرفتار کرنے کی کوشش نہیں ہے ۔بلکہ یہ حرمین شریفین سے اٹھنے والی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ انہو ں نے کہاکہ یہ عمل منہ کو بند کرنے اور گلا گھونٹنے جیسی سازش ہے جس پر خاموش نہیں رہا جاسکتا۔

 

 

 

 

 

شہزادہ اصل مقتدر
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کا سلطان کاغذی طورپر سلمان بن عبد العزیز ہیں مگر شاہ سلمان کی طبیعت اکثر ناساز رہتی ہے اور عملی طور پر سعودی عرب کا اقتدار ا محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ سعودی شاہ کے سب سے پسندیدہ بیٹے ہیں اور سعودی سلطنت کے آئندہ حکمران بھی۔اس نئے حکمران کے دو رخ ہیں۔ان کا ایک رخ وہ ہے جس میں قدامت پسند یا غیرجمہوری جیسے الفاظ کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔انہوں نے ورژن 2030 ‘ کا منصوبہ بنایا ہے جس میں متعدد اصلاحات ہورہے ہیں۔ انہیں اصلاحات میں خواتین کی ڈرائیونگ لائسنس،ملازمت یا ووٹنگ جیسی اصلاحات شامل ہیں۔ حال ہی میں پہلی مرتبہ سعودی خواتین کو کھیل دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم جانے کی اجازت بھی ملی ہے۔ان اقدامات سے نئی نسل میں مقبول بھی ہورہے ہیں مگر عمومی طور پر صورت حال مختلف ہے۔
ولیعہد کی منشا ہے کہ کس طرح مملکت اپنا انحصار تیل پر کم سے کم کرسکے؟ کس طرح تیل کی سرکاری کمپنی ارامکو کو پرائیویٹائز کیا جا سکے؟ کس طرح آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کیے جائیں اور سعودی شہریوں کو ملازمتیں دی جائیں؟ سعودی عرب کے اس منصوبے کے پیچھے ولیعہد کا ہی ہاتھ ہے۔ کیونکہ دنیا کے سامنے وہ اپنا امیج ایک اصلاحات پسند لیڈر کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ان کے ولیعہد ہونے سے پہلے ان کا نام کم ہی لوگ جانتے تھے۔ وہ اس وقت دنیا کے سامنے آئے، جب موجودہ شاہ سلمان نے محمد بن نائف کی جگہ محمد بن سلمان کو ولی عہد بنادیا تھا۔
محمد بن سلمان متاثر کن بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ ’خوفناک‘ بھی۔ انہوں نے اپنا سیاسی کیریئر ریاض کے گورنر کے طور پر شروع کیا تھا اور بعدازاں اپنے والد کے خصوصی مشیر بھی بنے۔ 2012 میں انہیں ایک وزیر کا درجہ دیتے ہوئے چیف آف کورٹ بنا دیا گیا۔ جونہی ان کے والد سعودی عرب کے بادشاہ بنے، محمد بن سلمان کو وزارت دفاع کا عہدہ دے دیا گیا، جو آج بھی ان کے ہاتھ میں ہے۔
اس وقت ان کے پاس متعدد عہدے ایک ساتھ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جرمن اخبار ’دی سائٹ‘ نے انہیں’بدعنوان، لالچی اور خود غرض‘ قرار دیا تھا۔ ان کے آتے ہی سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات اپنی نچلی ترین سطح پر چلے گئے اور سعودی عرب نے امریکا کہ مدد سے یمن میں جنگ کا آغاز کر دیا۔ نتیجے کے طور پر اس وقت یمن میں بدترین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ قطر کے ساتھ ’سفارتی جنگ‘ جاری ہے۔ محمد بن سلمان کی سخت خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے انہیں ’جنگی شہزادہ‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔
متعدد عہدوں کے باوجود محمد بن سلمان کے پاس بین الاقوامی سفارت کاری کا تجربہ بہت کم ہے اور ان کی تعلیم بھی محدود ہے۔ کنگ سعود یونیورسٹی سے انہوں نے اسلامی قوانین میں صرف بیچلر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ان کی نجی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات منظر عام پر آ سکی ہیں۔ صرف یہی معلوم ہے کہ وہ شادی شدہ ہیں اور چار بچوں کے باپ ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو محمد بن سلمان اصلاحات پسند بھی ثابت ہو رہے ہیں اور ایک سخت گیر رہنما بھی۔چنانچہ ایک طرف وہ ملک میں ہر شہری کو ہر طرح کی آزادی کے طرفدار ہیں تو دوسری طرف ان کی راہ میں آنے والی ہر آواز کو بے دردی سے دبا دیتے ہیں۔ امام صالح ان کی راہ میں رکاوٹ اس لئے بن سکتے تھے کیونکہ وہ سعودی عرب میں ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، حرم کے امام اور مکہ عدالت میں جج ہیں۔ مذہبی طبقہ ان کی پیروی کرتا ہے اور یہ طبقہ موجود ہ ولیعہد کی پالیسیوں سے خوش نہیں ہے۔یہ طبقہ کبھی بھی ولیعہد کے خلاف کھل کر سامنے آسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی ولیعہد کے بنائے ہوئے پروگرام یعنی سیرو تفریح کے کھلے دروازے اور مردو عورت کے اختلاط کے خلاف شیخ صالح نے بیان دیا،گرفتار کرکے ان کی زبان بند کرنے کی کوشش کیگئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *