اے ایم یو سے ’مسلم ‘ لفظ ہٹانے کا مطلب ، اس کے مقصد قیام سے انکار

کبھی تقسیم وطن سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ’اسلامیہ‘ لفظ ہٹانے کی تجویز پر بابائے قوم مہاتما گاندھی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ’ فاسٹ انٹو ڈیٹھ ‘(آمرن انشن ) کی دھمکی دی تھی۔ تبھی تو اس لفظ پر پھر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ حتی کہ جب دسمبر 1988 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ایکٹ پارلیمنٹ کے ذریعے بنا تب بھی اس میں یہ لفظ برقرار رہا۔ پھر بعد میں تو 2011 میں اسے نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کے ذریعے ’ اقلیتی ادارہ ‘ قرار دیئے جانے کے بعد یہ مسئلہ ہی ختم ہوگیا۔
لیکن یہی چیلنج اب درپیش ہے 1875 میں سرسید احمد خاں کے ذریعے بنائے گئے محمڈن اینگلو آریئنٹل ( ایم اے او ) اسکول ، 1877 میں ایم اے او کالج اور 1920 میں برطانوی پارلیمنٹ کے ذریعے بنے اے ایم یو ایکٹ کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو ) کی شکل اختیار کئے تعلیمی ادارہ کو، جس کے اقلیتی کردار کا معاملہ 2005 سے عدالت میں ہنوز لٹکا ہوا ہے۔
دراصل گزشتہ برس یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ( یو جی سی ) کی مقرر کردہ ایک خصوصی کمیٹی نے اپنی آڈیٹ رپورٹ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’ مسلم ‘ لفظ ہٹا کر صرف’ علی گڑھ یونیورسٹی ‘کردینے یا اس کے بانی سرسید احمد خاں کے نام پر یونیورسٹی کا نام رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ سال رواں کے اوائل میں مرکزی حکومت نے اے ایم یو سے اس تعلق سے اس کا تبصرہ طلب کیا تھا ۔لہٰذا اس سال جون کے آخری ہفتہ میں حکومت کو جواب دیتے ہوئے اے ایم یو نے صاف طور پر کہا ہے کہ مذکورہ سرکاری پینل کا یہ مشورہ ’ پری پوسٹیرس ‘ یعنی بے معنی ہے ۔اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس تعلیمی ادرہ کی طویل تاریخ اور انوکھے کردار کو نظر انداز کیا گیاہے۔

 

 

 

اے ایم یو کے رجسٹرار جاوید اختر نے تو اپنے تحریری جواب میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ مذکورہ کمیٹی اپنے مینڈیٹ سے آگے چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ یونیورسٹی کا نام ہمیں اس کی تاریخ، مقصد اور کردار کے بارے میں آئیڈیا فراہم کرتاہے اور اسے بچا کر رکھنا ہمارا آئینی فرض منصبی ہے‘‘۔ انہوں نے اپنے جواب میں یہ بھی تحریر کیا کہ ’’ کمیٹی غلط طور پر یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ اے ایم یو کا نام بدل کر علی گڑھ یونیورسٹی کردینے سے سیکولر اقدار کو لایا جاسکے گا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہندوستان میں سیکولرزم کا تصور مغرب میں زیادہ تر عمل میں لائی جارہی مذہب مخالف پوزیشن کے بالمقابل انصاف اور برابری کے ڈیسکورس سے ابھرتا ہے ‘‘۔
عیاں رہے کہ مذکورہ یو جی سی پنیل نے اپنی رپورٹ میں کہہ دیا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لفظ ’مسلم ‘ سے یونیورسٹی کے سیکولر کردار پر آنچ آتی ہے اور وہ متاثر ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس یو جی سی پینل کی رپورٹ پر میڈیا میں آئی خبراور اس تعلق سے آئے رد عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے فروغ وسائل انسانی پرکاش جاواڈیکر نے 9اکتوبر 2017 کو ہی کہہ دیا تھاکہ حکومت اے ایم یو کے نام میں تبدیلی کے مشورہ کو قبول نہیں کرے گی۔ مگر بعد ازاں چند ماہ بعد مرکزی حکومت نے اے ایم یو سے اس تجویز کے تعلق سے باضابطہ تبصرہ طلب کیا۔ توقع ہے کہ نام بدلنے کے تعلق سے حکومت اپنے مرکزی وزیر کے ریمارک کا لحاظ رکھے گی اور اسی نظریئے سے اے ایم یو کے جواب کو لے گی۔
حالانکہ گزشتہ برس 25 اپریل کو یو جی سی کے ذریعے تشکیل کئے گئے 5 پینلوں میں سے ایک مذکورہ پینل کا آڈیٹ مینڈیٹ 10یونیورسٹیوں کے ڈھانچہ ( انفراسٹرکچر) اور اکیڈمک ، ریسرچ اور مالیاتی آپریشنز تک محدود تھا مگر اے ایم یو پر رپورٹ میں ’ مسلم ‘لفظ ہٹاکر ’ سیکولر اقدار ‘ لانے کی بات تک کر دی گئی۔

 

 

 

 

مذکورہ پینل کے کل 15 مشوروں میں یہ مشورہ بھی شامل ہے کہ اے ایم یو کے وائس چانسلر کے سلیکشن کا پروسیس دیگر سینٹرل یونیورسٹیوں کے ذریعے عمل کئے جارہے طریقۂ تقرری کی مانند ہو۔ فی الوقت اے ایم یو کو وی سی کی تقرری کے پروسیس میں بڑے اختیارات حاصل ہیں۔یونیورسٹی کی ایگز یکیٹیو کونسل (ای سی ) وی سی کے لئے 5 امیدواروں کا ایک پینل شارٹ لسٹ کرتی ہے اور پھر اسے اے ایم یو کورٹ میں بھیجتی ہے جو کہ پھر ان میں سے تین نام کو منتخب کرتی ہے اور ان ناموں کی فہرست کو وزارت فروغ وسائل انسانی کو بھیجتی ہے۔ تب صدر جمہوریہ ہند ان تین ناموں میں سے ایک کو وی سی بنانے کا حکم صادر فرماتے ہیں۔ اس معاملے میں اے ایم یو کا جواب یہ ہے کہ ’’ اے ایم یو کی تقرری کا پروسیس دنیا کی ٹاپ کلاس یونیورسٹیز کی مانند ہے جنہیں خود کو سوٹ کرتے ہوئے اپنے وائس چانسلر ز کو چننے کی تمام آزادی اور اٹانومی حاصل ہیں ‘‘۔ اس جواب میں یہ بھی درج ہے کہ پینل کے ذریعے تجویز کردہ اور دیگر سینٹرل یونیورسٹیوں میں لاگو سلیکشن پروسیس نہ پرفیکٹ ہے اور نہ ہی نقص سے خالی ہے اور یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ سرچ کمیٹی کے ذریعے امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرتے وقت کیا آبجکٹیو کرائیٹیریا فالو کی جاتی ہے؟
اس بات کے جواب میں کہ اے ایم یو انبریڈنگ (Inbreading) کے کلچر کو بڑھاوا دیتا ہے جس میں فیکلٹی تقرری کی اکثریت اس کے سابق طلباء ہوتے ہیں،اے ایم یو رجسٹرار نے کہا کہ تبھی تو 388 اساتذہ کے پاس اے ایم یو سے باہر کام کرنے کا تجربہ ہے اور اس کے 237 اساتذہ ہارورڈ یونیورسٹی ، یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، یونیورسٹی آف میچی گن اور واشنگٹن یونیورسٹی جیسے نامور غیر ملکی اداروں میں کام کرچکے ہیں۔
اے ایم یو کا یہ بھی کہناہے کہ کمیٹی کا یہ مشورہ کہ اے ایم یو سے ماسٹرس ، پی ایچ ڈی حاصل کرنے کے بعد اے ایم یو میں تدریس کے لئے تقرری کے وقت 5 برس کا گیپ ہونا چاہئے ، نہ تو یو جی سی کے ضابطوں میں درج ہے اور نہ ہی دہلی یونیورسٹی ، بنارس ہندو یونیورسٹی ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں یہ طریقہ نافذ ہے۔ لہٰذا اس بات کی پذیرائی ہونی چاہئے کہ ذہین طلباء کو تقرری سے محروم نہ رکھاجائے صرف اس لئے کہ وہ اسی ادارہ سے فارغ ہیں۔
یو جی سے کے مذکورہ پینل میں آئی آئی ٹی مدراس کے پروفیسر شرپید کرمالکر، مہرشی دیانند سرسوتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کیلاش سودانی ، گوہاٹی یونیورسٹی کے پروفیسر مظہر آصف اور آئی آئی ایم بنگلورو کے پروفیسر سنکرشن باسو شامل تھے۔
اے ایم یو کا حکومت کو دیا گیا رسپانس اس تعلیمی ادارہ کے مقصد قیام سے میل کھاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ معاملہ صرف ایک لفظ کے ہٹانے کا نہیں ہے بلکہ اس کے مقصد قیام سے سیدھا جڑا ہوا ہے۔ ویسے بھی اے ایم یو کے اقلیتی کردار کا معاملہ عدالت میںچل رہاہے۔ لہٰذا اس تعلق سے کسی رائے پر پہنچنے سے قبل احتیاط ضروری ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *