راجستھان کے کمپوزِٹ کلچر کو خطرہ بدلے جارہے ہیں متعدد گائوں کے مسلم نام

راجستھان ایک ایسی ریاست ہے جو کہ پورے ملک میں اپنے کمپوزِٹ کلچر کے لئے جانی پہچانی جاتی رہی ہے۔ مگر اب چند ایسے ناقابل یقین واقعات سننے اور دیکھنے کو مل رہے ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قابل فخر کمپوزٹ کلچر، تکثیریت اور تنوع کو سخت خطرات درپیش ہیں۔
زبان ، لباس اور دیگر طور طریقے پر کسی ایک مخصوص کمیونٹی کی اجارہ داری نہیں رہی ہے۔ اردو مشترکہ تہذیب و تمدن کی زبان تھی۔ آج بھی ہندو، سکھ و دیگر کمیونیٹیوں میں ایسے افراد موجود ہیں جن کی زبان یہی ہے۔ پریم چند، کرشن چند، فراق گورکھپوری، چکبست، ترلوک چند محروم، رتن ناتھ سرشار، فکر تونسوی، مالک رام، جگن ناتھ آزاد، خشونت سنگھ ، کلدیپ نیئر اور گلزار دہلوی جیسی شخصیات کے بغیر اردو زبان و ادب ادھورا ہے۔
ایک بار معروف سنگھی آئیڈیالاگ اور سنگھ کے انگریزی ترجمان ’آرگنائزر ‘ کے ایڈیٹر آنجہانی کے آر ملکانی راقم الحروف سے کہنے لگے کہ’ ’مجھے ہندی نہیں آتی ، سندھی اور انگریزی کے علاوہ اردو آتی ہے، اس لئے اسلام کے تعارف کے لئے اردو میں ہی مولانا مودودی کی ’رسالہ دینیات‘ کتاب دو، اسے سمجھنا چاہتا ہوں‘‘۔ معروف کالم نویس کلدیپ نیئر جن کا حال ہی میں انتقال ہوگیا، اکثرہاں بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ ’’ میں نے وکالت پڑھی مگر صحافت میں اپنے کیریئر کا آغاز احاطہ کالے صاحب پرانی دلی کے اردو روزنامہ ’ انجام ‘ سے کیا۔ علاوہ ازیں پبلک سروس کمیشن کے مقابلہ جاتی امتحانات میں میں نے اردو اور فارسی لیا تھا ‘‘۔

 

 

 

لباس کو دیکھئے تو شیروانی کرتا پائجامہ کو بھی مشترکہ شناخت حاصل ہے۔ اولین صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد ہی نہیں بلکہ بیشتر صدور شیروانی کرتا پائجامہ یا دھوتی زیب تن کرتے تھے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین اور فخر الدین علی احمد کی شیروانی تو مشہور رہی ہے۔ اسی طرح اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی شیروانی اور چست پائجامہ سے کون واقف نہیں ہے؟ دیگر وزراء اعظم میں سے بعض نے اسے پہنا۔ اس حقیقت سے بھی سبھی لوگ واقف ہیں کہ بنگال میں مسلمان بھی بڑی تعداد میں دھوتی قمیض پہنا کرتے رہے ہیں۔
جہاں تک تکثیریت و تنوع کی بات ہے ،یہ تو ہندوستان کے مزاج کا حصہ رہا ہے۔ آئین ہند میں بھی اس کی روح موجود ہے۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سنگھ بشمول بی جے پی کے بعض افراد کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور لنچنگ جیسے غیر انسانی واقعات سے یہ سب کچھ متاثر ہورہا ہے ۔ بات اتنی ہی نہیں ہے بلکہ اب تو متعدد گائوں کے مسلم نام بھی بدلے جارہے ہیں۔اس سے قبل کمپوزٹ کلچر کی پہچان گائوں کے نام مذہب و ملت کی تفریق کرتے ہوئے کبھی نہیں بدلے گئے تھے۔
ظاہر سی بات ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی مفادات کے پیش نظر کیا جارہاہے۔ یہ ناقابل یقین کا م ریاست راجستھان میںہورہا ہے۔ وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کی سفارش پر ریاست کے 8 مسلم گائوں کے نام بدلنے کی منظوری گزشتہ دنوں مرکزی وزارت داخلہ نے دی اور پھر مسلم نام بدلے گئے۔
دراصل سال رواں کے فروری مہینہ میں 17 اسمبلی سیجمینٹس میں ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی زبردست شکست سے وسندھرا راجے کی بہت سبکی ہوئی اور ان کی ریاستی قیادت کو سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ۔ اپنی پوزیشن کو سنبھالنے کے لئے انہوں نے مختلف کوششیں کیں اور ووٹ کو پولرائز کرنے کے لئے مسلم نام والے 27 گائوں کے نام کی تبدیلی کی سفارش مرکزی وزارت داخلہ سے کرڈالی جس نے 8 گائوں کے نام کی تبدیلی کی اجازت دے دی اور پھر 8 گائوں کے نام بدل بھی دیئے گئے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ وسندھرا راجے حکومت کی جانب سے گائوں کے مسلم نام بدلنے کی وجوہات کیا بتائی گئیں؟ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ ’مسلم نام والے ‘ گائوں میں رہنے والی اکثریت ہندوئوں کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست جہاں مسلم آبادی محض 9 فیصد سے کچھ زیادہ ہے، میں گائوں یا شہروں میں گھنی مسلم آبادی کے امکانات کیسے ہوسکتے ہیں؟گائوں کے نام بدلنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ ایسا کرنے سے شادی کے رشتے طے کرنے میں آسانی ہوگی کیونکہ پہلے سے چلے آرہے گائوں کے مسلم نام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ گائوں مسلمانوں کے ہیں۔

 

 

 

کیا غضب کی لاجک ہے
ظاہر سی بات ہے کہ گائوں کے مسلم نام بدلنے کا یہ کھیل اینٹی انکمبنسی ماحول کو دبانے کے لئے کیا جارہاہے تاکہ ووٹرس کی توجہ اصل ایشوز سے ہٹائی جاسکے۔ دراصل ریاست کے عوام سے وسندھرا راجے نے گزشتہ انتخابات کے وقت جو وعدے کئے تھے، ان میں سے کچھ بھی پورے نہیں ہوئے اور ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول بگاڑا گیا جس سے امن و امان کو سخت خطرات درپیش ہوئے۔
راجستھان ہائی کورٹ کے معروف وکیل اصغر علی کہتے ہیں کہ ووٹر اب اچھا برا سمجھتا ہے، اسے بہت دنوں تک بیوقوف نہیں بنایا جاسکتاہے۔ فروری میں ہوئے ضمنی انتخابات میںاس کی جھلک مل چکی ہے، فرقہ وارانہ جذبات کو ابھارنے کی یہ کوشش ناکام ہوکر رہے گی۔ جئے پور کے ایک اور ممتاز وکیل عبد القیوم اختر کا بھی تاثر کم و بیش یہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ راجستھان ریاست کا مزاج اصولی طور پر مشترکہ کلچر کا ہے، اسے گائوں کے نام بدل کر ڈسٹرب نہیں کیا جاسکتاہے۔ جے پور کے ایک انجینئر نگ کالج کے سینئر استاد و کمپیوٹر سائنس داں پروفیسر محمد سلیم انجینئر جو کہ جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل بھی ہیں،کا کہنا ہے کہ موجودہ ریاستی حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے یہ فرقہ وارانہ ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے اور اپنی اس چال میں وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ ریاست کے ووٹرس ان چالوں کو خوب سمجھتے ہیں، وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ڈسٹرب نہیں ہونے دیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *